عقلمند کون؟
پیشِ عرض
ان معروضات کو کتاب سمجھ کر نہ پڑھیے بلکہ گلشن مودت ومعرفت کے مختلف گوشوں سے چنے ہوئے پھول اور کلیوں پر مشتمل ایک مختصر گلدستہ سمجھ کر خوشبوئے حقیقت سے لے کر معرفتِ انسانیت وآدمیت کی راہ پر چلنے کی ایک معمولی سی کرن سمجھ کر پڑھنے کی زحمت گوارہ کیجئے ۔
اس حقیر کاوش کا مقصد صرف اور صرف اتنا ہے کہ فرمان معصوم ؑ ’’ہماری کوئی بھی حدیث جب تک باقی رہے اور اس پر عمل ہوتا رہے جب تک اس حدیث کے ایک لفظ کی بھی سیاہی باقی رہے گی حدیث لکھنے والے ،حدیث پڑھنے والے حدیث بیان کرنے والے کا نامہ اعمال میں نیکیاں لکھی جاتی رہینگی ۔‘‘
اس حقیر سی کوشش کو پایہ تکمیل تک پہچانے میں جن مہربانوں نے حوصلہ افزائی فرمائی ہے خداوندکریم تک ان کو دن دُگنی رات چوگنی ترقی عطاء فرمائے ۔ رب اکبر ہر ایک کو جزائے کثیر عطا فرمائے ۔
باحثیت ایک سچے مسلمان کے قرآن ِ مجید پر سب کا ایمان ہے کہ ’’ قرآن مجید کا ہر ایک حرف اﷲ تعالیٰ کا نازل کردہ ہے ۔ قرآن ِ مجید کی ہر ایک آیت حق ہے ۔ غلطی کااس میں کوئی امکان ہی نہیں ہے ۔ قرآن ِ مجید صرف اﷲ تعالیٰ کا مدبرانہ و حکیمانہ کلام ہی نہیں ہے بلکہ اولادِ آدم ؑ کی ہدایت و کامرانی کا لازوال وبے عیب دستور حیات بھی ہے ۔ قرآنِ مجید جہاں اﷲتعالیٰ کے اعلانِ قدرت کاملہ کا شاہکار ہے وہاں اﷲ تعالیٰ کے عبدِ اول اول ما خلق اﷲ نوریکہ اﷲ نے سب سے پہلے میرے محمدؐ نورکو خلق کیا کے مصداق کا قصیدہ اور معجزہ خداوندی بھی ہے‘‘اس کے بارے میں اﷲ تعالیٰ کاارشاد ہے ذ لک الکتاب لا ریب فیہ یہ وہ کتاب ہے کہ جس میں ذرہ بھر بھی شک نہیں ہے ھدی للمتقینجو متقین کے لیے ہدایت ہے ۔
اﷲ تعالیٰ وجود نہیں رکھتا اس لیے ضروری ہے کہ اپنی مخلوق کے ہدایت کے لیے ایسا معلم بھیجے جو اﷲتعالیٰ سے علم لے اور جن وانس میں سے جو بھی آئے ان کو علم کی خیرات بانٹے ۔ اﷲتعالیٰ نے انسانیت پر اپنا فضل وکرم کرتے ہوئے اپنے حبیبصلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کو معلم قرآن بنا کر بھیجا ۔
رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کو اس عارضی دنیا میں ھوالذی بعث فی الامیین رسول منھم یتلو ا علیہم آیتہ و یز کیھم و یعلمھم الکتاب والحکمۃ ۔ کے تاج سے مزین کرکے وما ارسلنک الا رحمت للعالمین کے پیکر میں ڈھال کرانسانیت کی ہدایت ورہبری کے لیے مبعوث فرمایا ۔
آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم جب عالم بالا کی طرف جانے لگے توبحکم پروردگار مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام کو امت کی ہدایت کے لیے مقرر فرما کر اور الحق مع علی وعلی مع الحق حق علی ؑ کے ساتھ ہے اور علی ؑ حق کے ساتھ ہیں ۔القرآن مع علی وعلی مع القرآنقرآن علی ؑ کے ساتھ ہے اور علی ؑ قرآن کے ساتھ ہیں ۔ ان علیامنی و انا منہ و ھو ولی کل مومن بعدی بے شک علی ؑ مجھ سے ہیں اور میں اس سے ہوں ۔ اور وہ میرے بعد ہر ایک کا حاکم اور ولی ہے ۔ من اذی علیا یبعثہ اﷲ یوم القیامۃ یھود یا او نصرانیا جو کوئی علی ؑ کو تکلیف پہنچائے اﷲ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن یہودی یا نصرانی اُٹھائے گا ۔ ( مسند احمد بن حنبل )
انا المنذ ر و علی الھادی وبک یا علی یھتدی المھتد ون میں خلائق کو ڈرانے والا ہوں اور علی ؑ ہادی ( ہدایت کرنے والا ہے ) ا ور اے علی ؑ تیرے سبب سے ہدایت پانیوالے لوگ ہدایت پائیں گے ۔ ( فردوس الاخبار ۔ مودات )
اعلم امتی علی ابن ابیطا لبمیری امت میں سب سے زیادہ عالم اور دانا
علی ابن ابیطالب ؑ ہے۔ انا میزان اعلم وعلی کفتاہ والحسن والحسین خیوطہ و فاطمۃ علاقتہ والا ئمۃ عمو دہ بو زن بہ اعمال المحبین والمبغصین لنا
میں (صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم) علم کی ترازو ہوں اور علی ؑ اسکے دو پلڑے ہیں ۔ اور حسن ؑ اور حسین ؑ اس کے ڈوڑے اور فاطمہؑ اس ترازو کا علاقہ ( لٹکانے کا ذریعہ ) اور باقی آئمہ ؑ اس کا ستون ہیں۔ اس ترازو میں ہمارے دوستوں اور دشمنوں کے اعمال تولے جاتے ہیں۔ (کوکب دری ۱۸۴ ) من احب علیا فقد احبنی و من ابغض علیا فقدابغضنی ومن اذی علیا فقداذانی ومن اذانی فقداذی اﷲجو شخص علی ؑ کو دوست رکھے وہ بے شک مجھ کو دوست رکھتا ہے ۔ اور کوئی علی ؑ کو دشمن رکھتا ہے وہ بے شک مجھ کو دشمن رکھتا ہے ۔ اور جو کوئی علی ؑ کو اذیت دیتا ہے وہ بے شک مجھ کو تکلیف دیتا ہے اور جو کوئی مجھ کو تکلیف دیتا ہے وہ بے شک اﷲعزوجل کو تکلیف دیتا ہے ۔
( مسندِ ابو یُعلے۔ مسند ِ بزاز ۔ صواعق محرقہ ۔ استعیاب )
مندرجہ بالا احادیث مبار کہ میں رسالت مآبصلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے مولا علی علیہ السلام کی اطاعت کو اپنی اطاعت ان کی نافرمانی کو اپنی نافرمانی سے منسلک کر کے ہر صاحب عقل کو میدانِ عمل میں آزاد چھوڑ دیا ہے ۔
اﷲ تعالیٰ کی طرف سے جہاں اتنے کریمانہ انتظامات ہوئے وہیں دشمن حق دشمن خدا وند کریم جس نے جزوی خلافت کا پہلا تاج سجانے والے آدم ؑ کی خلافت کو قبول نہ کرنے کا جرم عظیم کرکے ابلیس بنا اس ملعون نے جب اپنی نافرمانی کی وجہ سے لعنت ابدی کا طوق اپنے گلے میں سجا لیا تو اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ نکل جا ۔
تو شیطان ملعون نے اپنی کی ہوئی عبادات کا صلہ مانگ کر یہ چیلنج کردیا کہ اس آدم ؑ کی وجہ سے تو مجھے نکال رہا ہے میں صراط مستقیم سے اس کی اولاد کو اغوا کروں گا ۔ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ جا تو جو کرنا چاہتا ہے کرلے جو میرے ہونگے وہ میرے رہیں گے ا ور جو تیرے کہنے پہ چلیں گے وہ تیرے ہی ہونگے ۔ اس دن سے لے کر آج تک شیطان ملعون ا پنی کوششوں میں مصروف عمل ہے ۔ اس نے ایک لمحہ بھی خالی نہیں جانے دیا کہ جس سے اولاد آدم ؑ سکون کا سانس لے سکے ۔
کہیں دہشتگری سے تو کہیں بے حجابی سے کہیں شراب خوری سے تو کہیں جوا بازی اور سودخوری سے توکہیں رشوت خوری سے کہیں والدین کی نافرمانی سے تو کہیں اﷲتعالیٰ اور چہاردہ معصومین ؑ کے احکامات کی کھلم کھلا خلاف ورزی سے اولاد آدم ؑ کو اپنے شکنجے میں کس رہا ہے ۔ اور شومئی قسمت اس پر بجائے ندامت محسوس کرنے کے اولادآدم ؑ فخرمحسوس کر رہی ہے ۔ کسی کو شیطان ملعون اپنے فرائض جاننے اور انہیں ادا کرنے کے بجائے حصول حقوق کے لیے سب کچھ جائیز ہے کی پالیسی اپنا کر پیمانہ عدل ِ خداوندی کو فراموش کراکے دوسروں کے حالات سے عبرت حاصل کرنے کی بجائے خود نمونہ عبرت بننے کے لیے تنہا چھوڑ کر چل بستا ہے ۔ تو کسی کو جاہ و حشم کی سلطنت پہ بٹھا کے لوگوں پر عدل و انصاف کی بجائے اپنے ظلم وستم سے لوگوں پر مسلط ہونا اور جبری اطاعت کرانا اپنا حق تصور کراکے آخرت برباد کرارہاہے ۔ شیطان کی اس سازش میں جہاں بے علمی اور ھٹ دھرمی کا دخل ہے وہاں نیکی اور بُرائی میں تمیز کر لینے والوں مگر اپنی بزدلی یا مصلحت کی چادر میں اپنا منہ چھپا لینے والوں کا بھی حصہ ہے ۔
والدین کی مہنگائی کے طوفان سے مصروف جنگ رہنے اور اپنی اولاد کو فروعِ دین کی زبانی تبلیغ کرتے ہوئے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے سبق تو پڑھانا یاد رہتا ہے مگر عملی طور فریضہ انجام دینے کا وقت ہے نہیں نکال پاتے ۔ اور جب کمسن بچے حدود ِ شباب میں داخل ہوتے ہیں اور اپنی محفلوں میں سے اپنی معصومیت کو تار تار کردینے والے خیالات سے اپنے ذہنوں کو مسموم کر لیتے ہیں تو پھر والدین کی دعائیں بھی انہیں غلط کاموںسے بھی نہیں روک پاتی ہے
اس حقیر کاوش کا مقصد صرف اور صرف اتنا ہے کہ فرمان معصوم ؑ ’’ہماری کوئی بھی حدیث جب تک باقی رہے اور اس پر عمل ہوتا رہے جب تک اس حدیث کے ایک لفظ کی بھی سیاہی باقی رہے گی حدیث لکھنے والے ،حدیث پڑھنے والے حدیث بیان کرنے والے کا نامہ اعمال میں نیکیاں لکھی جاتی رہینگی ۔‘‘
اس حقیر سی کوشش کو پایہ تکمیل تک پہچانے میں جن مہربانوں نے حوصلہ افزائی فرمائی ہے خداوندکریم تک ان کو دن دُگنی رات چوگنی ترقی عطاء فرمائے ۔ رب اکبر ہر ایک کو جزائے کثیر عطا فرمائے ۔
باحثیت ایک سچے مسلمان کے قرآن ِ مجید پر سب کا ایمان ہے کہ ’’ قرآن مجید کا ہر ایک حرف اﷲ تعالیٰ کا نازل کردہ ہے ۔ قرآن ِ مجید کی ہر ایک آیت حق ہے ۔ غلطی کااس میں کوئی امکان ہی نہیں ہے ۔ قرآن ِ مجید صرف اﷲ تعالیٰ کا مدبرانہ و حکیمانہ کلام ہی نہیں ہے بلکہ اولادِ آدم ؑ کی ہدایت و کامرانی کا لازوال وبے عیب دستور حیات بھی ہے ۔ قرآنِ مجید جہاں اﷲتعالیٰ کے اعلانِ قدرت کاملہ کا شاہکار ہے وہاں اﷲ تعالیٰ کے عبدِ اول اول ما خلق اﷲ نوریکہ اﷲ نے سب سے پہلے میرے محمدؐ نورکو خلق کیا کے مصداق کا قصیدہ اور معجزہ خداوندی بھی ہے‘‘اس کے بارے میں اﷲ تعالیٰ کاارشاد ہے ذ لک الکتاب لا ریب فیہ یہ وہ کتاب ہے کہ جس میں ذرہ بھر بھی شک نہیں ہے ھدی للمتقینجو متقین کے لیے ہدایت ہے ۔
اﷲ تعالیٰ وجود نہیں رکھتا اس لیے ضروری ہے کہ اپنی مخلوق کے ہدایت کے لیے ایسا معلم بھیجے جو اﷲتعالیٰ سے علم لے اور جن وانس میں سے جو بھی آئے ان کو علم کی خیرات بانٹے ۔ اﷲتعالیٰ نے انسانیت پر اپنا فضل وکرم کرتے ہوئے اپنے حبیبصلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کو معلم قرآن بنا کر بھیجا ۔
رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کو اس عارضی دنیا میں ھوالذی بعث فی الامیین رسول منھم یتلو ا علیہم آیتہ و یز کیھم و یعلمھم الکتاب والحکمۃ ۔ کے تاج سے مزین کرکے وما ارسلنک الا رحمت للعالمین کے پیکر میں ڈھال کرانسانیت کی ہدایت ورہبری کے لیے مبعوث فرمایا ۔
آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم جب عالم بالا کی طرف جانے لگے توبحکم پروردگار مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام کو امت کی ہدایت کے لیے مقرر فرما کر اور الحق مع علی وعلی مع الحق حق علی ؑ کے ساتھ ہے اور علی ؑ حق کے ساتھ ہیں ۔القرآن مع علی وعلی مع القرآنقرآن علی ؑ کے ساتھ ہے اور علی ؑ قرآن کے ساتھ ہیں ۔ ان علیامنی و انا منہ و ھو ولی کل مومن بعدی بے شک علی ؑ مجھ سے ہیں اور میں اس سے ہوں ۔ اور وہ میرے بعد ہر ایک کا حاکم اور ولی ہے ۔ من اذی علیا یبعثہ اﷲ یوم القیامۃ یھود یا او نصرانیا جو کوئی علی ؑ کو تکلیف پہنچائے اﷲ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن یہودی یا نصرانی اُٹھائے گا ۔ ( مسند احمد بن حنبل )
انا المنذ ر و علی الھادی وبک یا علی یھتدی المھتد ون میں خلائق کو ڈرانے والا ہوں اور علی ؑ ہادی ( ہدایت کرنے والا ہے ) ا ور اے علی ؑ تیرے سبب سے ہدایت پانیوالے لوگ ہدایت پائیں گے ۔ ( فردوس الاخبار ۔ مودات )
اعلم امتی علی ابن ابیطا لبمیری امت میں سب سے زیادہ عالم اور دانا
علی ابن ابیطالب ؑ ہے۔ انا میزان اعلم وعلی کفتاہ والحسن والحسین خیوطہ و فاطمۃ علاقتہ والا ئمۃ عمو دہ بو زن بہ اعمال المحبین والمبغصین لنا
میں (صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم) علم کی ترازو ہوں اور علی ؑ اسکے دو پلڑے ہیں ۔ اور حسن ؑ اور حسین ؑ اس کے ڈوڑے اور فاطمہؑ اس ترازو کا علاقہ ( لٹکانے کا ذریعہ ) اور باقی آئمہ ؑ اس کا ستون ہیں۔ اس ترازو میں ہمارے دوستوں اور دشمنوں کے اعمال تولے جاتے ہیں۔ (کوکب دری ۱۸۴ ) من احب علیا فقد احبنی و من ابغض علیا فقدابغضنی ومن اذی علیا فقداذانی ومن اذانی فقداذی اﷲجو شخص علی ؑ کو دوست رکھے وہ بے شک مجھ کو دوست رکھتا ہے ۔ اور کوئی علی ؑ کو دشمن رکھتا ہے وہ بے شک مجھ کو دشمن رکھتا ہے ۔ اور جو کوئی علی ؑ کو اذیت دیتا ہے وہ بے شک مجھ کو تکلیف دیتا ہے اور جو کوئی مجھ کو تکلیف دیتا ہے وہ بے شک اﷲعزوجل کو تکلیف دیتا ہے ۔
( مسندِ ابو یُعلے۔ مسند ِ بزاز ۔ صواعق محرقہ ۔ استعیاب )
مندرجہ بالا احادیث مبار کہ میں رسالت مآبصلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے مولا علی علیہ السلام کی اطاعت کو اپنی اطاعت ان کی نافرمانی کو اپنی نافرمانی سے منسلک کر کے ہر صاحب عقل کو میدانِ عمل میں آزاد چھوڑ دیا ہے ۔
اﷲ تعالیٰ کی طرف سے جہاں اتنے کریمانہ انتظامات ہوئے وہیں دشمن حق دشمن خدا وند کریم جس نے جزوی خلافت کا پہلا تاج سجانے والے آدم ؑ کی خلافت کو قبول نہ کرنے کا جرم عظیم کرکے ابلیس بنا اس ملعون نے جب اپنی نافرمانی کی وجہ سے لعنت ابدی کا طوق اپنے گلے میں سجا لیا تو اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ نکل جا ۔
تو شیطان ملعون نے اپنی کی ہوئی عبادات کا صلہ مانگ کر یہ چیلنج کردیا کہ اس آدم ؑ کی وجہ سے تو مجھے نکال رہا ہے میں صراط مستقیم سے اس کی اولاد کو اغوا کروں گا ۔ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ جا تو جو کرنا چاہتا ہے کرلے جو میرے ہونگے وہ میرے رہیں گے ا ور جو تیرے کہنے پہ چلیں گے وہ تیرے ہی ہونگے ۔ اس دن سے لے کر آج تک شیطان ملعون ا پنی کوششوں میں مصروف عمل ہے ۔ اس نے ایک لمحہ بھی خالی نہیں جانے دیا کہ جس سے اولاد آدم ؑ سکون کا سانس لے سکے ۔
کہیں دہشتگری سے تو کہیں بے حجابی سے کہیں شراب خوری سے تو کہیں جوا بازی اور سودخوری سے توکہیں رشوت خوری سے کہیں والدین کی نافرمانی سے تو کہیں اﷲتعالیٰ اور چہاردہ معصومین ؑ کے احکامات کی کھلم کھلا خلاف ورزی سے اولاد آدم ؑ کو اپنے شکنجے میں کس رہا ہے ۔ اور شومئی قسمت اس پر بجائے ندامت محسوس کرنے کے اولادآدم ؑ فخرمحسوس کر رہی ہے ۔ کسی کو شیطان ملعون اپنے فرائض جاننے اور انہیں ادا کرنے کے بجائے حصول حقوق کے لیے سب کچھ جائیز ہے کی پالیسی اپنا کر پیمانہ عدل ِ خداوندی کو فراموش کراکے دوسروں کے حالات سے عبرت حاصل کرنے کی بجائے خود نمونہ عبرت بننے کے لیے تنہا چھوڑ کر چل بستا ہے ۔ تو کسی کو جاہ و حشم کی سلطنت پہ بٹھا کے لوگوں پر عدل و انصاف کی بجائے اپنے ظلم وستم سے لوگوں پر مسلط ہونا اور جبری اطاعت کرانا اپنا حق تصور کراکے آخرت برباد کرارہاہے ۔ شیطان کی اس سازش میں جہاں بے علمی اور ھٹ دھرمی کا دخل ہے وہاں نیکی اور بُرائی میں تمیز کر لینے والوں مگر اپنی بزدلی یا مصلحت کی چادر میں اپنا منہ چھپا لینے والوں کا بھی حصہ ہے ۔
والدین کی مہنگائی کے طوفان سے مصروف جنگ رہنے اور اپنی اولاد کو فروعِ دین کی زبانی تبلیغ کرتے ہوئے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے سبق تو پڑھانا یاد رہتا ہے مگر عملی طور فریضہ انجام دینے کا وقت ہے نہیں نکال پاتے ۔ اور جب کمسن بچے حدود ِ شباب میں داخل ہوتے ہیں اور اپنی محفلوں میں سے اپنی معصومیت کو تار تار کردینے والے خیالات سے اپنے ذہنوں کو مسموم کر لیتے ہیں تو پھر والدین کی دعائیں بھی انہیں غلط کاموںسے بھی نہیں روک پاتی ہے
آج کے دور کے نوجوان کا اپنے آپ کو گناہوں سے بچانا جُوئے شیر لانے سے کم نہیں ہے ۔ اچھائی کے کام انجام دینا مشکل نظرآتا ہے اور بُرائی کے کام انجام دینا بہت ہی آسان نظر آتا ہے ۔جواری جوا کھیلنے والے کی مدد کرنا اچھا سمجھتا ہے نمازی نمازی کو اپنے سے بھی زیادہ گناہگار سمجھتا ہے ۔ فرامین چہاردہ معصومین ؑ سننے اور سننانے میں مزہ دیتے ہیں ان پر عمل کرنا بالکل اچھا نہیں لگتا ۔ اپنی عزت کو عزت سمجھنے میں ہی غیرت سمجھی جاتی ہے ۔ دوسروں کی عزت کو مالِ مفت دلِ بے رحم کے مترادف سمجھا جا رہا ہے ۔ گناہ کرتے وقت ایک بچے کا خوف رہتا ہے کہ کہیں یہ دوسروں کو بتا نہ دے۔ مگر اﷲتعالیٰ کا بالکل ہی خوف نہیں ہوتا ۔
حصول خواہشاتِ نفسانی میں مدد کرنے والوں سے کیے ہوئے وعدے یاد رہتے ہیں۔ مگر اﷲ تعالیٰ سے کیا ہوا وعدہ یاد نہیں رہتا ۔ لوگوں کی نظروں میں بے وفا نہ کہلاؤں یہ فکر رہتی ہے مگر اﷲتعالیٰ اور چہاردہ معصومین ؑ سے عہد وفا یاد نہیں رہتا ۔ ان خامیوں کی طرف متوجہ کرنے اور خوابِ غفلت سے جگانے کے لیے چند صفحات آپ کے حضور پیشِ خدمت ہیں ان کو رسول اکرم صلی اﷲعلیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کی روشنی میں کہ یہ نہ د یکھو کہ کون کہہ رہا ہے بلکہ یہ دیکھو کیا کہہ رہا ہے ۔ پڑھنے کی زحمت گوارہ فرما لیجیے شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات ۔
اس حقیر سی کاوش کا مقصد صرف اور صرف خوشنودی چہاردہ معصومین ؑ اور رضائے حصول پروردگار ہے نہ کہ کسی فردِ واحد کی کردار کشی ۔ اگر کسی کی دل شکنی ہو بھی جائے تو وہ یہ سمجھ کر کہ اس نے میرے مرض کی نشاندہی کی ہے اس پہ ناراض ہونے کا کوئی فاہدہ نہیں ہے ۔ اگر یہ امراض مجھ میں واقعی پائے جاتے ہیں تو انکے علاج کی طرف توجہ دینے میں ہی عقلمندی ہے ۔
صبح کا بُھولا شام کو گھر واپس آجائے تو اسے بُھولا نہیں کہتے کے مصداق جتنا جلدی ممکن ہو دربارِ خداوندی کی طرف حقیقی عبد بن کر لوٹنے کی کوشش کیجیے ۔ ستار العیوب اور غافر الذنوب مولا اپنے پیاروں کے صدقے میں ہماری غلطیوں کی ہماری خطاؤں کی ہماری لغزشوں کی سزا ء دینے کی بجائے سایہ عفو وکرم سے نوازے گا ۔ اور ہر دشمن حق سے چاہے وہ جس روپ میں بھی آنے کی کوشش کرے اس سے ٹکرانے کی ہمیں طاقت و نصرت عطا فرمائے گا ۔(آمین)ان معروضات کو گلدستے کی شکل دینے میں جن کتب سے مدد لی گئی ہے ۔ قرآن ِ مجید ۔ نہج البلاغہ ۔ نہج الاسرار ۔ معراج السعادہ ۔ روح الحیات ۔ آرزوئے جبرئیل۔ ہدیۃالشیعہ۔ کوکب دری ۔ دارلاآخرۃ ۔ خطبۃالواعظین ۔ خود سازی ۔
احقر العباد ابو محمد علی نقوی
سید علی ذوالقرنین نقویجانووالا احمد پو رشرقیہ ضلع بہاول پور
حصول خواہشاتِ نفسانی میں مدد کرنے والوں سے کیے ہوئے وعدے یاد رہتے ہیں۔ مگر اﷲ تعالیٰ سے کیا ہوا وعدہ یاد نہیں رہتا ۔ لوگوں کی نظروں میں بے وفا نہ کہلاؤں یہ فکر رہتی ہے مگر اﷲتعالیٰ اور چہاردہ معصومین ؑ سے عہد وفا یاد نہیں رہتا ۔ ان خامیوں کی طرف متوجہ کرنے اور خوابِ غفلت سے جگانے کے لیے چند صفحات آپ کے حضور پیشِ خدمت ہیں ان کو رسول اکرم صلی اﷲعلیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کی روشنی میں کہ یہ نہ د یکھو کہ کون کہہ رہا ہے بلکہ یہ دیکھو کیا کہہ رہا ہے ۔ پڑھنے کی زحمت گوارہ فرما لیجیے شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات ۔
اس حقیر سی کاوش کا مقصد صرف اور صرف خوشنودی چہاردہ معصومین ؑ اور رضائے حصول پروردگار ہے نہ کہ کسی فردِ واحد کی کردار کشی ۔ اگر کسی کی دل شکنی ہو بھی جائے تو وہ یہ سمجھ کر کہ اس نے میرے مرض کی نشاندہی کی ہے اس پہ ناراض ہونے کا کوئی فاہدہ نہیں ہے ۔ اگر یہ امراض مجھ میں واقعی پائے جاتے ہیں تو انکے علاج کی طرف توجہ دینے میں ہی عقلمندی ہے ۔
صبح کا بُھولا شام کو گھر واپس آجائے تو اسے بُھولا نہیں کہتے کے مصداق جتنا جلدی ممکن ہو دربارِ خداوندی کی طرف حقیقی عبد بن کر لوٹنے کی کوشش کیجیے ۔ ستار العیوب اور غافر الذنوب مولا اپنے پیاروں کے صدقے میں ہماری غلطیوں کی ہماری خطاؤں کی ہماری لغزشوں کی سزا ء دینے کی بجائے سایہ عفو وکرم سے نوازے گا ۔ اور ہر دشمن حق سے چاہے وہ جس روپ میں بھی آنے کی کوشش کرے اس سے ٹکرانے کی ہمیں طاقت و نصرت عطا فرمائے گا ۔(آمین)ان معروضات کو گلدستے کی شکل دینے میں جن کتب سے مدد لی گئی ہے ۔ قرآن ِ مجید ۔ نہج البلاغہ ۔ نہج الاسرار ۔ معراج السعادہ ۔ روح الحیات ۔ آرزوئے جبرئیل۔ ہدیۃالشیعہ۔ کوکب دری ۔ دارلاآخرۃ ۔ خطبۃالواعظین ۔ خود سازی ۔
احقر العباد ابو محمد علی نقوی
سید علی ذوالقرنین نقویجانووالا احمد پو رشرقیہ ضلع بہاول پور
ہما ری بُھو ل
اس دارلا ابتلاء ( امتحان کے گھر ) میں اس عارضی اور فنا ہو جانے والی دنیا میں ہم جو بھی کام انجام دے چکے ہیں یا دے رہے ہیں ۔ چاہے وہ انفرادی ہوں یا اجتماعی کچھ عرصہ بعد ان تمام کاموں کو حرف غلط کی طرح فراموش کر دیتے ہیں۔ مگر اگر تم نے ذرہ بھر بھی بُرائی کی تو ہم اس کی سزاء د ینگے ۔ ( زلزال ) کا اعلان کرنے والے عادل حقیقی کی طرف سے انہیں لکھ دیا جاتا ہے ۔ و وجدوا ما عملوا حاضرا اورجو کچھ ان لوگوں نے دنیا میں کیا وہ سب لکھا ہوا موجود پائیں گے ۔ (کہف ۴۹ )
جب نامہ اعمال ان کے ہاتھوں میں دیا جائے گا تو وہ اسے پڑھ کر کہیں گے۔
یو یلتنا مال ھذا الکتاب لا یغاد ر صغیرۃ ولا کبیرۃ الا احصھا
ہائے ہماری شامت یہ کیسی کتاب ہے کہ نہ چھوٹے گناہ کو قلمبند کیے بغیر چھوڑتی ہے نہ بڑے گناہ کو ۔
رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلمکی حدیث مبارکہ ہے کہ روز حساب جب گناہگار اپنے گناہ کو دیکھے گا تو فرطِ غم وملال سے پیپ اور خون کے آنسو روئے گا ۔ ( بحار الانوار ج ۱۷ ص ۴۲ ) مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام ارشادفرماتے ہیں جو کام کرنا چاہتے ہو یا جو بات کہنا چاہتے ہو ایسی ہو کہ کل( یوم حساب کے دن ) اسے پڑھنے میں تمہیں شرمندگی نہ اُٹھانی پڑے ۔ ( نہج البلاغہ )
باپ کی بیٹے کو نصحیت
ایک صالح انسان نے اپنے بیٹے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں تم سے ایک گذارش کرنا چاہتا ہوں بیٹے نے کہا آپ جو بھی حکم کرینگے میں تعمیل کروں گا ۔ باپ نے کہا جب تم رات کو گھر لوٹ کر آؤ تو گھر سے باہر اپنے کیے ہوئے تمام کاموں کے بارے میں مجھے آگاہ کرنا ۔ بیٹے نے باپ کی بات کو قبول کرلیا اور جب رات کو گھر لوٹا تو اپنے والد کو اپنے تمام کیے گئے کاموں کے بارے میں آگاہ کرنا شروع کیا۔ جب نا زیبا کاموں کے بتانے کی باری آئی تو اپنے والد کے سامنے بیان کرنے کی ہمت نہ ہوئی ۔اس نے آبدیدہ ہوکر اپنے والد کی طرف دیکھا اور کہا بابا مجھے بتاتے ہوئے شرمند گی ہوتی ہے ۔ باپ نے آگے بڑھ کر کہا میرے پیارے بیٹے میں ایک ضعیف اور عاجز بندہ ہوں تجھے مجھ سے تو شرم آتی ہے لیکن کل جب یہی اعمال نامہ اﷲتعالیٰ کے دربار میں اس کے رسول ؐ اور اس کی آل اطہار ؑ کے سامنے تجھے دیا جائے گا اور تیرے سب دوست دشمن بھی موجود ہونگے تب تم کیاکروگے ۔ ؟
رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم اور صحا بہ
ایک مرتبہرسول اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو ساتھ لیا اور ایک صحرا میں لائے اور کہا جاؤ لکڑیاں ڈھونڈ کر لاؤ ۔ کچھ سنتے ہی چل پڑے اور کچھ نے کہا آقا لکڑیاں تو جنگل میں ہوتی ہیں ۔ آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا میں نہیں جانتا ؟ کچھ د یر بعد صحابہ واپس آئے تو کسی کے پاس زیادہ تو کسی کے پاس کم لکڑیاں موجود تھیں کوئی بھی صحابی خالی نہ لوٹاتھا ۔ آپ نے سب سے کہا کہ ایک ہی جگہ پر ڈال دو جب سب نے رکھ دیں تو ایک ٹیلے کے برابر ہو گئیں ۔ شفیع المذنبین رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا انہیں جلا دو حکم کی تعمیل ہوئی لکڑیاں جل کر راکھ میں تبدیل ہو گئیں ۔ اتنے میں ہوا کا ایک جھونکا آیا اور اس راکھ کا بھی کوئی نام و نشان نہ رہا۔ تب آپ ؐ نے ارشادفرمایااپنی گذاری ہوئی زندگی پر مطمعن ہونے کی بجائے جب بستر پر سونے لگو تو اپنی سوچوں کے پرندوں کو زندگی کے صحراء میں دوڑاؤ اور انہیں کہو کہ تمہاری غلطیوں کوتاہیوں کے معمولی سے معمولی تنکے بھی جہاں سے ملیں لے آؤ ۔ جب وہ اکٹھے ہو جائیں تو انہیں توبہ سے جلا ڈالو ۔
جب نامہ اعمال ان کے ہاتھوں میں دیا جائے گا تو وہ اسے پڑھ کر کہیں گے۔
یو یلتنا مال ھذا الکتاب لا یغاد ر صغیرۃ ولا کبیرۃ الا احصھا
ہائے ہماری شامت یہ کیسی کتاب ہے کہ نہ چھوٹے گناہ کو قلمبند کیے بغیر چھوڑتی ہے نہ بڑے گناہ کو ۔
رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلمکی حدیث مبارکہ ہے کہ روز حساب جب گناہگار اپنے گناہ کو دیکھے گا تو فرطِ غم وملال سے پیپ اور خون کے آنسو روئے گا ۔ ( بحار الانوار ج ۱۷ ص ۴۲ ) مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام ارشادفرماتے ہیں جو کام کرنا چاہتے ہو یا جو بات کہنا چاہتے ہو ایسی ہو کہ کل( یوم حساب کے دن ) اسے پڑھنے میں تمہیں شرمندگی نہ اُٹھانی پڑے ۔ ( نہج البلاغہ )
باپ کی بیٹے کو نصحیت
ایک صالح انسان نے اپنے بیٹے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں تم سے ایک گذارش کرنا چاہتا ہوں بیٹے نے کہا آپ جو بھی حکم کرینگے میں تعمیل کروں گا ۔ باپ نے کہا جب تم رات کو گھر لوٹ کر آؤ تو گھر سے باہر اپنے کیے ہوئے تمام کاموں کے بارے میں مجھے آگاہ کرنا ۔ بیٹے نے باپ کی بات کو قبول کرلیا اور جب رات کو گھر لوٹا تو اپنے والد کو اپنے تمام کیے گئے کاموں کے بارے میں آگاہ کرنا شروع کیا۔ جب نا زیبا کاموں کے بتانے کی باری آئی تو اپنے والد کے سامنے بیان کرنے کی ہمت نہ ہوئی ۔اس نے آبدیدہ ہوکر اپنے والد کی طرف دیکھا اور کہا بابا مجھے بتاتے ہوئے شرمند گی ہوتی ہے ۔ باپ نے آگے بڑھ کر کہا میرے پیارے بیٹے میں ایک ضعیف اور عاجز بندہ ہوں تجھے مجھ سے تو شرم آتی ہے لیکن کل جب یہی اعمال نامہ اﷲتعالیٰ کے دربار میں اس کے رسول ؐ اور اس کی آل اطہار ؑ کے سامنے تجھے دیا جائے گا اور تیرے سب دوست دشمن بھی موجود ہونگے تب تم کیاکروگے ۔ ؟
رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم اور صحا بہ
ایک مرتبہرسول اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو ساتھ لیا اور ایک صحرا میں لائے اور کہا جاؤ لکڑیاں ڈھونڈ کر لاؤ ۔ کچھ سنتے ہی چل پڑے اور کچھ نے کہا آقا لکڑیاں تو جنگل میں ہوتی ہیں ۔ آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا میں نہیں جانتا ؟ کچھ د یر بعد صحابہ واپس آئے تو کسی کے پاس زیادہ تو کسی کے پاس کم لکڑیاں موجود تھیں کوئی بھی صحابی خالی نہ لوٹاتھا ۔ آپ نے سب سے کہا کہ ایک ہی جگہ پر ڈال دو جب سب نے رکھ دیں تو ایک ٹیلے کے برابر ہو گئیں ۔ شفیع المذنبین رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا انہیں جلا دو حکم کی تعمیل ہوئی لکڑیاں جل کر راکھ میں تبدیل ہو گئیں ۔ اتنے میں ہوا کا ایک جھونکا آیا اور اس راکھ کا بھی کوئی نام و نشان نہ رہا۔ تب آپ ؐ نے ارشادفرمایااپنی گذاری ہوئی زندگی پر مطمعن ہونے کی بجائے جب بستر پر سونے لگو تو اپنی سوچوں کے پرندوں کو زندگی کے صحراء میں دوڑاؤ اور انہیں کہو کہ تمہاری غلطیوں کوتاہیوں کے معمولی سے معمولی تنکے بھی جہاں سے ملیں لے آؤ ۔ جب وہ اکٹھے ہو جائیں تو انہیں توبہ سے جلا ڈالو ۔
وعدہ خد اوندی
ا نما یرید اﷲ لیذ ھب عنکم ا لرجس ا ھل ا لبیت و یطھرکم تطھیر
آئے اہلبیت محمد (صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم )میر ا ( اﷲ ) یہ ارادہ ہے کہ تم سے رجس کو اتنا دور رکھوں جتنادور رکھنے کا حق ہے ۔
آئے اہلبیت محمد (صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم )میر ا ( اﷲ ) یہ ارادہ ہے کہ تم سے رجس کو اتنا دور رکھوں جتنادور رکھنے کا حق ہے ۔
رجس ہے کیا ؟
ہر وہ شئے اور ہر وہ شخص رجس ہے جو اہلبیت ؑ سے دور ہے ۔ جیسے کافر یہودی مجوسی مقصر شراب غیبت جھوٹ منافقت ظلم اور تمام افعالِ شیطانی رجس ہیں ۔ یہ تمام کے تمام رجس اہلبیت محمد صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہی نہیں جا سکتے ۔ نجس جگہ پر عبادت شرعا حرام ہے اور اگر کوئی ہٹ دھرمی کی وجہ سے پڑھ بھی لے تو وہ عبادت شرف قبولیت کھودیتی ہے ۔ وہ جگہ جو چند لمحوں کی عبادت کے لیے تو باعث خوشنودی خداوند کریم کا مقام نہیں رکھتی تو جو دل ہی گناہوں کی وجہ سے سیاہ اور نجس بن چکے ہوں وہاں اﷲ کی محبت ( چہاردہ معصومین ؑ کی محبت ) داخل ہوگی ؟ ہرگز نہیں تو ایک لمحے کے لیے سوچیے کہ اس عارضی اور مٹ جانے والی دنیا کی رنگینیوں اور چند لمحوں کی لذت کی خاطر ہمیشہ کی آرام و سکون کی زندگی برباد کرنا کون سی عقلمندی ہے ؟
ہر وہ شئے اور ہر وہ شخص رجس ہے جو اہلبیت ؑ سے دور ہے ۔ جیسے کافر یہودی مجوسی مقصر شراب غیبت جھوٹ منافقت ظلم اور تمام افعالِ شیطانی رجس ہیں ۔ یہ تمام کے تمام رجس اہلبیت محمد صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہی نہیں جا سکتے ۔ نجس جگہ پر عبادت شرعا حرام ہے اور اگر کوئی ہٹ دھرمی کی وجہ سے پڑھ بھی لے تو وہ عبادت شرف قبولیت کھودیتی ہے ۔ وہ جگہ جو چند لمحوں کی عبادت کے لیے تو باعث خوشنودی خداوند کریم کا مقام نہیں رکھتی تو جو دل ہی گناہوں کی وجہ سے سیاہ اور نجس بن چکے ہوں وہاں اﷲ کی محبت ( چہاردہ معصومین ؑ کی محبت ) داخل ہوگی ؟ ہرگز نہیں تو ایک لمحے کے لیے سوچیے کہ اس عارضی اور مٹ جانے والی دنیا کی رنگینیوں اور چند لمحوں کی لذت کی خاطر ہمیشہ کی آرام و سکون کی زندگی برباد کرنا کون سی عقلمندی ہے ؟
رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم اور جناب ابوذر غفاریؒ
رسول اکرم ؐ نے جناب ابو ذر غفاری ؒ سے فرمایا ۔ آئے ابوذر پانچ چیزوں کو غنیمت سمجھ
اور ان کی قدر کرو جو پانچ چیزوں سے قبل آتی ہیں۔
۱ ۔ جوانی کی قدر بڑھاپے سے پہلے کر کیونکہ بڑھاپے میں لطف بندگی نہیں ہے ۔
۲۔ تندرستی کی قدر بیماری سے پہلے کر تاکہ تندرستی میں حق بندگی ادا ہو سکے ۔
۳ ۔ تونگری کی قدر فقیری سے پہلے کر تاکہ جو کچھ تو چاہے راہِ خدا میں دے سکے ۔
۴ ۔ فرصت کی قدر عدیم الفرصتی سے پہلے کر تاکہ عبادت کو بسکون قلب ادا کرسکے ۔
۵ ۔ زندگی کی قدر موت سے پہلے کر کیونکہ موت کے بعد تو کچھ بھی نہ کر سکے گا ۔
پھر ارشادفرمایا اے ابو ذر نیکی کے کاموں میں تاخیر نہ کیا کرو ۔ جس نیک کام کا ارادہ کرو اسی کو اسی وقت انجام دے دیا کرو کیا معلوم کل کو تم زندہ بھی رہو یا نہ ۔ اے ابوذر بہت سے ایسے لوگ تھے جنہوں نے بہت سے کام کل پر رکھ چھوڑے تھے مگر افسوس کل نہ ہونے پائی تھی کہ وہ خود بے کل ہو گئے ۔ اے ابو ذر اگر تجھے معلوم ہو جائے کہ موت کاگھوڑا کس تیزی سے دوڑ رہا ہے اور تجھے تیزی سے موت کی طرف لے جا رہا ہے تو تو یقیناًلمبی چوڑی آرزووں سے گریز کر لے گا ۔
پہلے نبییوں ؑ کے دور میں اور آج سے تیس چالیس برس پہلے تک بھی لوگوں کی عمریں لمبی ہوا کرتی تھیں ۔ مگر آج کے دور کی اوسطا عمر ۵۰ سے ۶۰ برس کے درمیان ہی ہے ؟ جس میں سے ۱۴ برس سن ِ بلوعت کے نکال دیں تو ۴۶ برس بچ جاتے ہیں ۔ اب آپ زندگی کی جتنی بہاریں اﷲتعالیٰ کی اطاعت میں اور جتنی دشمن ِ خدا کی اطاعت میں بسرکر چکے ہیں وہ نکال کر حساب کریں کہ کتنے برس آپ نے آباد کیے ہیں اور کتنے برس برباد کیے ہیں ۔ کتنے برس اہلبیت ؑ کی محبت میں ( جو حقیقت میں اﷲ ہی کی محبت ہے ) گذارے ہیں اور کتنے برس انکے دشمنوں کی اطاعت میں ( جو حقیقت میں شیطان کی عبادت ہے ) گذارے ہیں ۔ جب یہ معلوم ہو جائے تو پھر خود سے ہی سوال کریں کہ اتنی مختصر سی زندگی کو لغو اور جھوٹی لذتوں میں گذارنا کہاں کی عقلمندی ہے ؟
ایک وقت میں ایک ہی جگہ پر آگ اور پانی کا اکٹھے ہونا خیر اور شر کا نیکی اور بُرائی کا فائدے اور نقصان کا اکٹھے ہونا ناممکن ہے ۔ جسطرح دو کشتیوں کا سوار کبھی بھی نجات نہیں پا سکتا تو اطاعت ابلیس اور نافرمانی خداوندِ کریم کرنے والا نجات کیسے پا سکتا ہے ؟ اﷲتعالیٰ نے آپ کو علم سے نوازہ ہے ایک لمحے کے لیے غور فرمائیں کہ آپ علم کو کیسے استعمال کررہے ہیں ؟ صاحب ِ سیمائے فرازنگان نے علم کی تمثیل ایک تیز دھار چاقو سے دیتے ہوئے لکھا ہے ’ ’ اگر یہ کسی ماہر سرجن کے ہاتھ میں آجائے تو ہزاروں جانیں بچا لے گا۔ اگر کسی جاہل کے ہاتھ میں آجائے تو ہزاروں جانیں برباد کردے گا ۔
رسول اکرمؐ نے فرمایا میں اپنی امت کے لیے نہ تو مومن سے ڈرتاہوں اور نہ ہی مشرک سے ڈرتاہوں۔ کیونکہ مومن کا ایمان اس کو گمراہی سے بچا لے گا اور مشرک کو اس کا شرک تباہ کردیگا ۔ البتہ میں اپنی امت کے سلسلے میں اس منافق سے ڈرتا ہوں جس کی زبان علم کا مظہر نظرآئے جو بات تو نیکی کی کرتا ہے اورعمل بُرائی کے کرتا ہے ۔ ( ہدیۃا لشیعہ ۶۵ )
اور ان کی قدر کرو جو پانچ چیزوں سے قبل آتی ہیں۔
۱ ۔ جوانی کی قدر بڑھاپے سے پہلے کر کیونکہ بڑھاپے میں لطف بندگی نہیں ہے ۔
۲۔ تندرستی کی قدر بیماری سے پہلے کر تاکہ تندرستی میں حق بندگی ادا ہو سکے ۔
۳ ۔ تونگری کی قدر فقیری سے پہلے کر تاکہ جو کچھ تو چاہے راہِ خدا میں دے سکے ۔
۴ ۔ فرصت کی قدر عدیم الفرصتی سے پہلے کر تاکہ عبادت کو بسکون قلب ادا کرسکے ۔
۵ ۔ زندگی کی قدر موت سے پہلے کر کیونکہ موت کے بعد تو کچھ بھی نہ کر سکے گا ۔
پھر ارشادفرمایا اے ابو ذر نیکی کے کاموں میں تاخیر نہ کیا کرو ۔ جس نیک کام کا ارادہ کرو اسی کو اسی وقت انجام دے دیا کرو کیا معلوم کل کو تم زندہ بھی رہو یا نہ ۔ اے ابوذر بہت سے ایسے لوگ تھے جنہوں نے بہت سے کام کل پر رکھ چھوڑے تھے مگر افسوس کل نہ ہونے پائی تھی کہ وہ خود بے کل ہو گئے ۔ اے ابو ذر اگر تجھے معلوم ہو جائے کہ موت کاگھوڑا کس تیزی سے دوڑ رہا ہے اور تجھے تیزی سے موت کی طرف لے جا رہا ہے تو تو یقیناًلمبی چوڑی آرزووں سے گریز کر لے گا ۔
پہلے نبییوں ؑ کے دور میں اور آج سے تیس چالیس برس پہلے تک بھی لوگوں کی عمریں لمبی ہوا کرتی تھیں ۔ مگر آج کے دور کی اوسطا عمر ۵۰ سے ۶۰ برس کے درمیان ہی ہے ؟ جس میں سے ۱۴ برس سن ِ بلوعت کے نکال دیں تو ۴۶ برس بچ جاتے ہیں ۔ اب آپ زندگی کی جتنی بہاریں اﷲتعالیٰ کی اطاعت میں اور جتنی دشمن ِ خدا کی اطاعت میں بسرکر چکے ہیں وہ نکال کر حساب کریں کہ کتنے برس آپ نے آباد کیے ہیں اور کتنے برس برباد کیے ہیں ۔ کتنے برس اہلبیت ؑ کی محبت میں ( جو حقیقت میں اﷲ ہی کی محبت ہے ) گذارے ہیں اور کتنے برس انکے دشمنوں کی اطاعت میں ( جو حقیقت میں شیطان کی عبادت ہے ) گذارے ہیں ۔ جب یہ معلوم ہو جائے تو پھر خود سے ہی سوال کریں کہ اتنی مختصر سی زندگی کو لغو اور جھوٹی لذتوں میں گذارنا کہاں کی عقلمندی ہے ؟
ایک وقت میں ایک ہی جگہ پر آگ اور پانی کا اکٹھے ہونا خیر اور شر کا نیکی اور بُرائی کا فائدے اور نقصان کا اکٹھے ہونا ناممکن ہے ۔ جسطرح دو کشتیوں کا سوار کبھی بھی نجات نہیں پا سکتا تو اطاعت ابلیس اور نافرمانی خداوندِ کریم کرنے والا نجات کیسے پا سکتا ہے ؟ اﷲتعالیٰ نے آپ کو علم سے نوازہ ہے ایک لمحے کے لیے غور فرمائیں کہ آپ علم کو کیسے استعمال کررہے ہیں ؟ صاحب ِ سیمائے فرازنگان نے علم کی تمثیل ایک تیز دھار چاقو سے دیتے ہوئے لکھا ہے ’ ’ اگر یہ کسی ماہر سرجن کے ہاتھ میں آجائے تو ہزاروں جانیں بچا لے گا۔ اگر کسی جاہل کے ہاتھ میں آجائے تو ہزاروں جانیں برباد کردے گا ۔
رسول اکرمؐ نے فرمایا میں اپنی امت کے لیے نہ تو مومن سے ڈرتاہوں اور نہ ہی مشرک سے ڈرتاہوں۔ کیونکہ مومن کا ایمان اس کو گمراہی سے بچا لے گا اور مشرک کو اس کا شرک تباہ کردیگا ۔ البتہ میں اپنی امت کے سلسلے میں اس منافق سے ڈرتا ہوں جس کی زبان علم کا مظہر نظرآئے جو بات تو نیکی کی کرتا ہے اورعمل بُرائی کے کرتا ہے ۔ ( ہدیۃا لشیعہ ۶۵ )
اب فیصلہ کرنا کوئی مشکل تو نہیں ہے کہ اگر ہمارا شمار اہل علم میں ہوتا ہے تو کیا ہم اہل عمل میں سے بھی ہیں ؟ اگر ہمارا شمار دوسروں سے لینے والوں میں ہوتا ہے تو کبھی یہ سوچنے کی زحمت گوارہ کی ہے کہ ہم جن سے علم لے رہے ہیں کیا وہ خود بھی عمل پیرا ہونے میں ہی کامیابی سمجھتے ہیں یا نہیں ؟ ان کے قول و فعل میں تضاد تو نہیں ہے ؟
جلدی کریں
اگر ایسا ہے تو پھر دیر نہ کریں اپنا قبلہ درست کرنے میں جتنی جلدی کریں گے اتنا ہی آپ کا فائدہ ہے ۔آج کو ہی غنیمت جانیے ماضی کی ناکامیوں اور خامیوں کو توبہ سے دھو ڈالیے اور فرمانِ خداوندی سارعوا الی المغفرۃ توبہ کے لیے دوڑ کر آؤ پر عمل کریں اور بقیہ لمحات زندگی کو احسن اعمال سے خوبصورت بنا کر اپنا مقدر سنہری لفظوں سے رقم کر لیں ۔
جس طرح آوارہ کتوں کو گھر میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے دروازہ بند کرنا ضروری ہوتاہے ۔ اسی طرح ہر وہ محفل جس کی وجہ سے آپ بے عملی کے شکار ہوتے ہیں ان تمام محفلوں کے دروازوں کو اپنے اوپر بند کردیں ۔ اپنے حواسِ خمسہ کو اعمالِ حسنہ کا پابند بنانے کے لیے اﷲ سے مدد طلب کرتے رہیں ۔ ایک عقلمند فقیر کی طرح جو کتوں کے بھونکنے کی پرواہ کیے بغیر اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہوتا ہے اور اپنا مقصد پا لیتا ہے ۔ آپ بھی لوگوں کی باتوں کی پرواہ نہ کریں اور صراط مستقیم پر چلنے کی فوری کوشش کریں اﷲتعالیٰ آپ کے حامی وناصر ہو نگے ۔
اگر آپ شادی شدہ ہیں تو سب سے پہلے گھر کا ماحول پاکیزہ بنانے کے لیے فرمانِ خداوندی واستعینوا با لصبر والصلواۃ ۔ اور مدد مانگو نماز اور صبر سے ۔ پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اور تلاوتِ قرآن مجید سے کام لیں ۔ پھر بچوں کو نماز اور قرآن کی تلاوت کا عادی بنائیں ۔ اگر دنیاوی تعلیم کے لیے بچوں کے نا چاہنے کے باوجود سکول بھیجنے میں آپ کوتاہی کرناناقابل تلافی نقصان سمجھتے ہیں ۔ تو دینی تعلیم سے روشناس کرانے میں بھی کوتاہی کو آنے والی نسلو ں کے لیے تباہی کا سبب سمجھیے۔
اپنی اور اپنی آنے والی نسلوں کی بہتری کے لیے چاہے سختی بھی کرنی پڑے تو ضرور کریں ۔ ممکن ہے کہ آپ کو کہا جائے کہ قرآن میں ہے کہ لا اکراہ فی ا لد یندین میں جبر نہیں ہے ۔ تو آپ کیوں سختی کررہے ہیں
اگر ایسا ہے تو پھر دیر نہ کریں اپنا قبلہ درست کرنے میں جتنی جلدی کریں گے اتنا ہی آپ کا فائدہ ہے ۔آج کو ہی غنیمت جانیے ماضی کی ناکامیوں اور خامیوں کو توبہ سے دھو ڈالیے اور فرمانِ خداوندی سارعوا الی المغفرۃ توبہ کے لیے دوڑ کر آؤ پر عمل کریں اور بقیہ لمحات زندگی کو احسن اعمال سے خوبصورت بنا کر اپنا مقدر سنہری لفظوں سے رقم کر لیں ۔
جس طرح آوارہ کتوں کو گھر میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے دروازہ بند کرنا ضروری ہوتاہے ۔ اسی طرح ہر وہ محفل جس کی وجہ سے آپ بے عملی کے شکار ہوتے ہیں ان تمام محفلوں کے دروازوں کو اپنے اوپر بند کردیں ۔ اپنے حواسِ خمسہ کو اعمالِ حسنہ کا پابند بنانے کے لیے اﷲ سے مدد طلب کرتے رہیں ۔ ایک عقلمند فقیر کی طرح جو کتوں کے بھونکنے کی پرواہ کیے بغیر اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہوتا ہے اور اپنا مقصد پا لیتا ہے ۔ آپ بھی لوگوں کی باتوں کی پرواہ نہ کریں اور صراط مستقیم پر چلنے کی فوری کوشش کریں اﷲتعالیٰ آپ کے حامی وناصر ہو نگے ۔
اگر آپ شادی شدہ ہیں تو سب سے پہلے گھر کا ماحول پاکیزہ بنانے کے لیے فرمانِ خداوندی واستعینوا با لصبر والصلواۃ ۔ اور مدد مانگو نماز اور صبر سے ۔ پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اور تلاوتِ قرآن مجید سے کام لیں ۔ پھر بچوں کو نماز اور قرآن کی تلاوت کا عادی بنائیں ۔ اگر دنیاوی تعلیم کے لیے بچوں کے نا چاہنے کے باوجود سکول بھیجنے میں آپ کوتاہی کرناناقابل تلافی نقصان سمجھتے ہیں ۔ تو دینی تعلیم سے روشناس کرانے میں بھی کوتاہی کو آنے والی نسلو ں کے لیے تباہی کا سبب سمجھیے۔
اپنی اور اپنی آنے والی نسلوں کی بہتری کے لیے چاہے سختی بھی کرنی پڑے تو ضرور کریں ۔ ممکن ہے کہ آپ کو کہا جائے کہ قرآن میں ہے کہ لا اکراہ فی ا لد یندین میں جبر نہیں ہے ۔ تو آپ کیوں سختی کررہے ہیں
؟ ان کو بتائیے کہ اس سے مراد تو یہ ہے کہ کسی غیر مسلم کو کسی غیر عقیدہ کو آپ کلمہ اسلام یا کسی منکر ولایت ِ علی ابن ابیطالب ؑ کو زبردستی اقرار ولایت نہیں کراسکتے ۔
نافرمانی رسول اکرم صلی اللہ علیہ واآلہ وسلم اور نافرمانی خداوندِ کریم کرنے کی سزاؤں کے اعلانات سے قرآن مجیداور کتب احادیث بھری پڑیں ہیں ۔ اہل علم سے پوچھیے کہ کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ واآلہ وسلم نے بچے کو جب ۷ برس کا ہو جائے تو نماز کی ترغیب دلانے اور ۱۱ برس کی عمر میں سختی سے پڑھانے کا حکم جاری نہیں کیا ؟ رسول اکرم صلی اللہ علیہ واآلہ وسلم نے ہمسائے کے گھر میں نظر بد یا عورت کے بالوں یا جسم پر بُری نظر ڈالنے والے کو منافقین کے ساتھ جہنم میں ڈالنے کا فرمان نہیں سنایا ۔ ؟ رسول اکرم صلی اللہ علیہ واآلہ وسلم نے بُرے ارادے سے کسی غیر عورت کے جسم پر ہاتھ لگانے اور بغیر توبہ کیے مرجانے والے کے بارے میں نہیں بتایا کہ جب یہ شخص قیامت کے دن اٹھے گا تو اس کا ہاتھ گردن میں بندھا ہوگا۔ ؟ رسول اکرم صلی اللہ علیہ واآلہ وسلم نے جس نے کسی نا محرم ( جس سے شرعی نکاح ہو سکتاہو ) پر بُری نگاہ سے دیکھا ہوگا تو روز قیامت اس کی آنکھوں میں اس وقت تک کہ جب تک تمام مخلوق ِ خدا حساب دے کر فارغ نہ ہو جائے آگ کی میخیں لگائی جائیں گی ۔ کے لفظوں سے اعلان سزاء نہیں فرمایا ؟ ( روح الحیات ص ۴۷۴ علامہ باقر مجلسی علیہ الرحمہ )
نافرمانی رسول اکرم صلی اللہ علیہ واآلہ وسلم اور نافرمانی خداوندِ کریم کرنے کی سزاؤں کے اعلانات سے قرآن مجیداور کتب احادیث بھری پڑیں ہیں ۔ اہل علم سے پوچھیے کہ کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ واآلہ وسلم نے بچے کو جب ۷ برس کا ہو جائے تو نماز کی ترغیب دلانے اور ۱۱ برس کی عمر میں سختی سے پڑھانے کا حکم جاری نہیں کیا ؟ رسول اکرم صلی اللہ علیہ واآلہ وسلم نے ہمسائے کے گھر میں نظر بد یا عورت کے بالوں یا جسم پر بُری نظر ڈالنے والے کو منافقین کے ساتھ جہنم میں ڈالنے کا فرمان نہیں سنایا ۔ ؟ رسول اکرم صلی اللہ علیہ واآلہ وسلم نے بُرے ارادے سے کسی غیر عورت کے جسم پر ہاتھ لگانے اور بغیر توبہ کیے مرجانے والے کے بارے میں نہیں بتایا کہ جب یہ شخص قیامت کے دن اٹھے گا تو اس کا ہاتھ گردن میں بندھا ہوگا۔ ؟ رسول اکرم صلی اللہ علیہ واآلہ وسلم نے جس نے کسی نا محرم ( جس سے شرعی نکاح ہو سکتاہو ) پر بُری نگاہ سے دیکھا ہوگا تو روز قیامت اس کی آنکھوں میں اس وقت تک کہ جب تک تمام مخلوق ِ خدا حساب دے کر فارغ نہ ہو جائے آگ کی میخیں لگائی جائیں گی ۔ کے لفظوں سے اعلان سزاء نہیں فرمایا ؟ ( روح الحیات ص ۴۷۴ علامہ باقر مجلسی علیہ الرحمہ )
حفاظتِ چشماعضائے انسانی میں سب سے خطرناک عضوء آنکھ ہے ۔ گناہوں کی طرف پہل اس کے ذریعہ سے ہوتی ہے ۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ بُری نگاہ ِ انسانی ایک زہر آلودہ تیر ہے جو شیطان اپنے ترکش سے چھوڑتا ہے ۔ معصوم ؑ فرماتے ہیں کہ جو شخص حفاظتِ چشم نہیں کرتا وہ کتنا ہی عابد وزاہد ہو اس کی دعا قبول نہیں ہوتی ۔ ہر فرد جو اپنے آپ کو محمد ؐوآل محمد ؐ کا غلام سمجھتاہے اس پر فرض ہے کہ وہ اپنی آنکھوں کی حفاظت جان کی طرح کرے ۔ اپنی آنکھوں پر فرامین خداوندی کے پہرے بٹھائے کیونکہ ابلیس ملعون خوبصورتی کے سُراب دکھاکر آپ کے قلب سلیم کو قلب ذمیم میں تبدیل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا ۔ آپ کے جذبات کو اس طرح ابھارے گا کہ آپ نہ چاہتے ہوئے بھی ان آنکھوں کوکہ جن سے قرآن کی اور فرامین معصومین ؑ کی تلاوت کرتے ہونگے اپنے انداز فریبانہ اور اپنی مخصوص اداوءں سے شکار کرے گا کہ آپ نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی خوبصورتی پر مرمٹیں گے اور وہ اپنے ہونٹوں سے جام معصیت اس طرح پلائیگا کہ آپ اپنی عبادتوں میں بھی اسے شریک کر لیں گے ۔ اگر اﷲتعالیٰ کا کرم شامل حال ہوجائے اورنعمت ِ توبہ میسر آجائے اور آپ کو اپنی عزت کا خیا ل آجائے اور آپ وہاں سے فرار ہوجائیں تو بچنا ممکن ہے ورنہ تباہی کے سواء دوسرا کوئی راستہ بھی نہیں رہتا ۔ لہذا اپنی آنکھوں سے شرم وحیا کے پردے کبھی نہ گرنے دیں ایسا مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں ہے ۔
نورانی صورتیں اور بد شکلیں
حضرت آدم علیہ السلام جب زمین پر تشریف لائے تو انہوں نے ۶ شکلیں دیکھیں ۔ جن میں سے تین دائیں طرف اور تین بائیں طرف تھیں جو دائیں طرف تھیں وہ انتہائی خوبصورت تھیں اور جو بائیں تھیں وہ انتہائی بدشکل تھیں ۔ آپ نے داہنی طرف کی پہلی شکل کو بلایا اور پوچھا کہ تمہارا نام کیا ہے اور تم کہاں رہتی ہو ؟ اس نے جواب دیا کہ میرا نام عقل ہے اور میں انسانی دماغ میں رہتی ہوں ۔ دوسری شکل نے کہا کہ میرا نام شرم و حیا ء ہے اور میں انسانی آنکھوں میں رہتی ہوں ۔ تیسری شکل نے کہا میرا نام پیار محبت ہے اور میں انسان کے دل میں رہتی ہوں ۔
بائیں طرف کی پہلی شکل کو بلایا اور پوچھا کہ تمہارا نام کیا ہے اور تم کہاں رہتے ہو ؟ اس نے جواب دیا میرا نام غصہ ہے میں انسان کے دماغ میں رہتا ہوں ۔ آپ ؑ نے پوچھا وہاں عقل نہیں رہتی ؟ جواب ملا جب میں آجاؤں تو عقل چلی جاتی ہے ۔ دوسری شکل نے اپنا تعارف یوں کرایا کہ میرا نام بے شرمی بے غیرتی ہے اور میں انسان کی آنکھوں میں رہتی ہوں ۔آپ ؑ نے پوچھا کہ کیا وہا ں شرم وحیا نہیں رہتی ؟ جواب یہ ملا جب میں آجاؤں تو شرم وحیا بھی چلی جاتی ہے ۔ تیسری شکل نے کہا میرانام ظلم ہے اور میں انسان کے دل میں رہتا ہوں ۔آپ ؑ نے پوچھا کیا پیار محبت نہیں رہتا ؟ جواب یہ ملا جب میں آجاؤں تو محبت کو جانا پڑتاہے ۔ ( گفتار ِ انبیاء )
حضرت آدم علیہ السلام جب زمین پر تشریف لائے تو انہوں نے ۶ شکلیں دیکھیں ۔ جن میں سے تین دائیں طرف اور تین بائیں طرف تھیں جو دائیں طرف تھیں وہ انتہائی خوبصورت تھیں اور جو بائیں تھیں وہ انتہائی بدشکل تھیں ۔ آپ نے داہنی طرف کی پہلی شکل کو بلایا اور پوچھا کہ تمہارا نام کیا ہے اور تم کہاں رہتی ہو ؟ اس نے جواب دیا کہ میرا نام عقل ہے اور میں انسانی دماغ میں رہتی ہوں ۔ دوسری شکل نے کہا کہ میرا نام شرم و حیا ء ہے اور میں انسانی آنکھوں میں رہتی ہوں ۔ تیسری شکل نے کہا میرا نام پیار محبت ہے اور میں انسان کے دل میں رہتی ہوں ۔
بائیں طرف کی پہلی شکل کو بلایا اور پوچھا کہ تمہارا نام کیا ہے اور تم کہاں رہتے ہو ؟ اس نے جواب دیا میرا نام غصہ ہے میں انسان کے دماغ میں رہتا ہوں ۔ آپ ؑ نے پوچھا وہاں عقل نہیں رہتی ؟ جواب ملا جب میں آجاؤں تو عقل چلی جاتی ہے ۔ دوسری شکل نے اپنا تعارف یوں کرایا کہ میرا نام بے شرمی بے غیرتی ہے اور میں انسان کی آنکھوں میں رہتی ہوں ۔آپ ؑ نے پوچھا کہ کیا وہا ں شرم وحیا نہیں رہتی ؟ جواب یہ ملا جب میں آجاؤں تو شرم وحیا بھی چلی جاتی ہے ۔ تیسری شکل نے کہا میرانام ظلم ہے اور میں انسان کے دل میں رہتا ہوں ۔آپ ؑ نے پوچھا کیا پیار محبت نہیں رہتا ؟ جواب یہ ملا جب میں آجاؤں تو محبت کو جانا پڑتاہے ۔ ( گفتار ِ انبیاء )
مندرجہ بالا واقعہ سے باآسانی معلوم کیا جاسکتا ہے کہ ہمارے وجود میں عقل شرم و حیاء اور محبت کی نعمتوں کا بسیرا ہے یا خدانخواستہ پسندیدہ افعال شیطانی کا ٹھکانہ ہے ۔ ہماری آنکھیں اپنا مقام کھو تو نہیں چکی ہیں ؟
آئے عزادرانِ مظلوم کربلا تمہیں سوچنا چاہیے کہ تمہاری آنکھیں معمولی نہیں ہیں ان آنکھوں کو صرف اپنی ملکیت نہ سمجھو بلکہ انہیں بنتِ پیمبرصلی اللہ علیہ واآلہ وسلم کی امانت سمجھو جناب سیدہ ؑ نے اﷲتعالیٰ سے تمہاری آنکھیں اس لیے مانگی ہیں کہ ان سے راہِ خدا میں تین دن کے پیاسے اور لاتعداد زخموں سے مجروح بے جُرم وخطا بے کفن بیٹے کے زخموں کا مرہم مطلوب ہے ۔ بی بی ؑ کے زخمی شکستہ پہلو کو رونے والو بی بی کو ظالموں نے تو خالی لوٹایا ہے مگر تم تو خالی نہ لوٹاؤ ۔ خدارا شیطان کی اسیری کی زنجیروں کو توڑ ڈالو ورنہ مخدومہ مظلومہ محرومہ بی بی ؑ اپنے زخمی بیٹے کے زخموں کے لیے مرحم لیے بغیر چلی گئیں تو ہمارے دامن میں بھی سوائے حسرت و ناکامی کے کچھ نہ ہوگا ۔
جب شہد کی مکھی نجس اور حرام غذا سے رس نہیں لیتی توانما یرید ا ﷲ لیذ ھب عنکم الرجس
ا ھل ا لبیت و یطھرکم تطھیراکی مصداق بی بی ؑ غیر محرموں کے جسموں سے مقاصدِ شیطانی کو انجام دینے والی زہریلی اور نجس آنکھوں سے بہنے والے آنسوکیسے لے لیں گی ۔ ؟
خدارا جتنا جلدی ہوسکے اپنی آنکھوں کو توبہ کے پانی سے رو رو کر اتنا غسل دے دو کہ تمام شیطانی مقاصد آنکھوں کے پانی کی شکل میں نکل جائیں اور اس پر غم امام حسین ؑ کا اتنا پہرہ بٹھا دو کہ دوبارہ ابلیسی مقاصد کاایک ذرہ بھی قریب نہ آسکے ۔
جب آپ کے وجود کی سلطنت مقاصدِشیطانی سے پاک ہو جائے تو پھر اپنی اولاد کی تربیت کی طرف توجہ دیں ۔ بالخصوص قوم کی ماؤں کو اس کا خصوصی خیال رکھنا ہوگا ۔ ماں ہی معاشرے کو صحیح تربیت یافتہ اولاد دے سکتی ہے ۔ فرانس کے مشہور بادشاہ نپولین بوناپاٹ کا قول ہے کہ آپ مجھے اچھی مائیں دیں میں آپ کو بہترین قوم دو ں گا ۔انقلاب ایران سے واقفیت رکھنے والے جانتے ہیں کہ رہبرِ انقلاب خمینی علیہ الرحمہ کی لازوال و بے مثال قیادت کی کامیابی میں قوم کی ماؤں کی تربیت کا ریڑھ کی ہڈی کے مترادف مقام رہا ہے ۔ جب ہر خاتون نے جنابِ سیدہ ؑ کی سیرت طیبہ پر چلتے ہوئے اپنی اولاد کی تربیت کی تو اﷲ تعالیٰ نے ان نوجوانوں کے دلوں میں شبابِ شہزادہ علی اکبرؑ کی اسلام پر قربان ہوجانے کی تڑپ پیدا کردی اور پھر دنیا نے دیکھا کہ سر زمینِ ایران میں سے ہر ابلیسی سوچ رکھنے والا شیطان منہ چھپانے پر مجبور ہوگیا۔ ایسا تب ہی ممکن ہواجب ہر ماں نے اپنا فریضہ سمجھا اور اسے بر وقت اداکیا تو اﷲتعا لیٰ نے بھی ان کو کامیابی سے نوازہ ۔
دوسروں کی تربیت وہی کرسکتا ہے جو اس کے غراض و مقاصد جانتا ہو ۔ اس کے آداب و فرائض سے بھی واقف ہو ۔ ان تمام لوازات کے لیے تعلیم کا ہونا اور پھر اس کے مطابق عمل کرنا نہایت ضروری ہے ۔ بچیوں کے لیے دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم کا جاننا بھی بہت ضروری ہے ۔ تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دلانے والے رسول ؐ نے اس کی حدود بحکم پروردگار بھی بتائیں ہیں ۔
آئے عزادرانِ مظلوم کربلا تمہیں سوچنا چاہیے کہ تمہاری آنکھیں معمولی نہیں ہیں ان آنکھوں کو صرف اپنی ملکیت نہ سمجھو بلکہ انہیں بنتِ پیمبرصلی اللہ علیہ واآلہ وسلم کی امانت سمجھو جناب سیدہ ؑ نے اﷲتعالیٰ سے تمہاری آنکھیں اس لیے مانگی ہیں کہ ان سے راہِ خدا میں تین دن کے پیاسے اور لاتعداد زخموں سے مجروح بے جُرم وخطا بے کفن بیٹے کے زخموں کا مرہم مطلوب ہے ۔ بی بی ؑ کے زخمی شکستہ پہلو کو رونے والو بی بی کو ظالموں نے تو خالی لوٹایا ہے مگر تم تو خالی نہ لوٹاؤ ۔ خدارا شیطان کی اسیری کی زنجیروں کو توڑ ڈالو ورنہ مخدومہ مظلومہ محرومہ بی بی ؑ اپنے زخمی بیٹے کے زخموں کے لیے مرحم لیے بغیر چلی گئیں تو ہمارے دامن میں بھی سوائے حسرت و ناکامی کے کچھ نہ ہوگا ۔
جب شہد کی مکھی نجس اور حرام غذا سے رس نہیں لیتی توانما یرید ا ﷲ لیذ ھب عنکم الرجس
ا ھل ا لبیت و یطھرکم تطھیراکی مصداق بی بی ؑ غیر محرموں کے جسموں سے مقاصدِ شیطانی کو انجام دینے والی زہریلی اور نجس آنکھوں سے بہنے والے آنسوکیسے لے لیں گی ۔ ؟
خدارا جتنا جلدی ہوسکے اپنی آنکھوں کو توبہ کے پانی سے رو رو کر اتنا غسل دے دو کہ تمام شیطانی مقاصد آنکھوں کے پانی کی شکل میں نکل جائیں اور اس پر غم امام حسین ؑ کا اتنا پہرہ بٹھا دو کہ دوبارہ ابلیسی مقاصد کاایک ذرہ بھی قریب نہ آسکے ۔
جب آپ کے وجود کی سلطنت مقاصدِشیطانی سے پاک ہو جائے تو پھر اپنی اولاد کی تربیت کی طرف توجہ دیں ۔ بالخصوص قوم کی ماؤں کو اس کا خصوصی خیال رکھنا ہوگا ۔ ماں ہی معاشرے کو صحیح تربیت یافتہ اولاد دے سکتی ہے ۔ فرانس کے مشہور بادشاہ نپولین بوناپاٹ کا قول ہے کہ آپ مجھے اچھی مائیں دیں میں آپ کو بہترین قوم دو ں گا ۔انقلاب ایران سے واقفیت رکھنے والے جانتے ہیں کہ رہبرِ انقلاب خمینی علیہ الرحمہ کی لازوال و بے مثال قیادت کی کامیابی میں قوم کی ماؤں کی تربیت کا ریڑھ کی ہڈی کے مترادف مقام رہا ہے ۔ جب ہر خاتون نے جنابِ سیدہ ؑ کی سیرت طیبہ پر چلتے ہوئے اپنی اولاد کی تربیت کی تو اﷲ تعالیٰ نے ان نوجوانوں کے دلوں میں شبابِ شہزادہ علی اکبرؑ کی اسلام پر قربان ہوجانے کی تڑپ پیدا کردی اور پھر دنیا نے دیکھا کہ سر زمینِ ایران میں سے ہر ابلیسی سوچ رکھنے والا شیطان منہ چھپانے پر مجبور ہوگیا۔ ایسا تب ہی ممکن ہواجب ہر ماں نے اپنا فریضہ سمجھا اور اسے بر وقت اداکیا تو اﷲتعا لیٰ نے بھی ان کو کامیابی سے نوازہ ۔
دوسروں کی تربیت وہی کرسکتا ہے جو اس کے غراض و مقاصد جانتا ہو ۔ اس کے آداب و فرائض سے بھی واقف ہو ۔ ان تمام لوازات کے لیے تعلیم کا ہونا اور پھر اس کے مطابق عمل کرنا نہایت ضروری ہے ۔ بچیوں کے لیے دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم کا جاننا بھی بہت ضروری ہے ۔ تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دلانے والے رسول ؐ نے اس کی حدود بحکم پروردگار بھی بتائیں ہیں ۔
حجاب سورہ احزاب کی آیت ۵۹ میں ارشادپرور دگار ہورہا ہے ۔
آئے رسول(صلی اللہ علیہ واآلہ وسلم ) اپنی ازواج اور بیٹیوں اور مومنین کی عورتوں سے کہہ د یجیے۔ کہ اپنی چاد ر میں رہا کریں تاکہ عفت و پاکدامنی کے ساتھ پہچا نی جائیں ۔ اور بدکاروں کی نگا ہوں سے محفوظ رہیں اور انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچے ۔
حجاب عورت کے مفہوم ( مستور ) کا عکاس ہے ۔ حجاب والدین شوہر بھائی اور بیٹے کی غیرت کا بھی ترجمان ہے ۔ مولائے کائنات ؑ کا فرمان ہے کہ ’’عورت کی بے پردگی مرد کی بے غیرتی کی علامت ہے ‘‘۔ رسول اکرم ؐ نے پردے کی اہمیت کو اُجاگر کرنے کے لیے اپنی صدیقہ طاہرہ عالمہ غیر معلمہ جناب سیدہ فاطمۃ الزہرا ؑ بی بی سے دریافت کیا ’’ بیٹاآپ کے نزدیک بہترین عورت کون ہے ؟ آپ ؑ نے فرمایا باباجان وہ سب سے بہترین عورت ہے جو نہ کسی غیر محرم کو دیکھے وار نہ کوئی غیر محرم اسے دیکھے‘‘۔
خدارا فیشن کی دوڑ میں یا ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی غرض سے اﷲ تعالیٰ کے اور چہاردہ معصومین ؑ کے مجرم تو نہ بنیں۔آپ حجاب کو دقیانوسی خیالات سے تعبیرکرنے سے پہلے مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلامکا یہ فرمان غور سے پڑھ لیں۔ آپ ؑ نے ارشادفرمایا ’’آخری زمانے میں کچھ عورتیں نکلیں گی جو بے پردہ ضروری لباس سے بے نیاز فیشن کی دلدادہ ہونگی وہ دین حقہ سے خارج ہو ں گی اور فتنوں اور شہوتوں میں غرق حصول ِ لذات کی طرف برق رفتاری سے بڑھنے والی حرامِ خدا کو حلال سمجھنے والی اورجہنم میں داخل ہونے والی ہونگی‘‘ ۔ ( وسائل الشیعہ ج ۱۴ ص ۱۹ )
آئے رسول(صلی اللہ علیہ واآلہ وسلم ) اپنی ازواج اور بیٹیوں اور مومنین کی عورتوں سے کہہ د یجیے۔ کہ اپنی چاد ر میں رہا کریں تاکہ عفت و پاکدامنی کے ساتھ پہچا نی جائیں ۔ اور بدکاروں کی نگا ہوں سے محفوظ رہیں اور انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچے ۔
حجاب عورت کے مفہوم ( مستور ) کا عکاس ہے ۔ حجاب والدین شوہر بھائی اور بیٹے کی غیرت کا بھی ترجمان ہے ۔ مولائے کائنات ؑ کا فرمان ہے کہ ’’عورت کی بے پردگی مرد کی بے غیرتی کی علامت ہے ‘‘۔ رسول اکرم ؐ نے پردے کی اہمیت کو اُجاگر کرنے کے لیے اپنی صدیقہ طاہرہ عالمہ غیر معلمہ جناب سیدہ فاطمۃ الزہرا ؑ بی بی سے دریافت کیا ’’ بیٹاآپ کے نزدیک بہترین عورت کون ہے ؟ آپ ؑ نے فرمایا باباجان وہ سب سے بہترین عورت ہے جو نہ کسی غیر محرم کو دیکھے وار نہ کوئی غیر محرم اسے دیکھے‘‘۔
خدارا فیشن کی دوڑ میں یا ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی غرض سے اﷲ تعالیٰ کے اور چہاردہ معصومین ؑ کے مجرم تو نہ بنیں۔آپ حجاب کو دقیانوسی خیالات سے تعبیرکرنے سے پہلے مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلامکا یہ فرمان غور سے پڑھ لیں۔ آپ ؑ نے ارشادفرمایا ’’آخری زمانے میں کچھ عورتیں نکلیں گی جو بے پردہ ضروری لباس سے بے نیاز فیشن کی دلدادہ ہونگی وہ دین حقہ سے خارج ہو ں گی اور فتنوں اور شہوتوں میں غرق حصول ِ لذات کی طرف برق رفتاری سے بڑھنے والی حرامِ خدا کو حلال سمجھنے والی اورجہنم میں داخل ہونے والی ہونگی‘‘ ۔ ( وسائل الشیعہ ج ۱۴ ص ۱۹ )
لوہا طاقتورہونے کے با وجود بھی مقنا طیس کی موافق سمت کی کشش سے خود کو نہیں روک سکتا ۔ تو حرام چیزوں کے استعمال کرنے سے روحیں شیطانی کاموں کی طرف
کیوں نہیں جا سکتیں ؟ غلط سوسائٹی کے افراد سے اپنی ا ولاد کے مراسم پھلتے پھولتے دیکھ کر خاموش رہ جانا یا غفلت برتنا کسی خیر خواہ کی اطلاع کو طنز سمجھ کر نظر انداز کر دینا کونسی عقلمندی ہے ؟ جن چیزوں کو جن کاموں کو شریعت حرام قرار دیتی ہے ۔ انہیں چیزوں اور کاموں کو اپنی اولاد کی موجودگی میں استعمال کرنا اور یہ فراموش کر دینا کہ انہیں کاموں سے اولاد بھی متاثر ہوسکتی ہے کونسی عقلمندی ہے ؟ حرام مال صرف وہی نہیں ہوتا جو چوری کا ہو رشوت کا ہو سود کا ہو بلکہ یتیموں کا مال بہن بھائیوں کا حق قرض خواہوں کا حق مساجد وامام بارگاہوں کے زکوۃٰ اور خمس کے حج واجب ہوچکا ہو ا ور نہ پڑھنے جوان اولاد کی شادی نہ کرنے کی صورت میں اکٹھی کی جانے والی دولت بھی حرام ہوتی ہے ۔ کیونکہ ان میں سے اکثریت کا تعلق حقوق العباد سے ہے ۔
اور یہ ہر کوئی جانتا ہے کہ اﷲتعالیٰ چاہے تو اپنے حقوق معاف کردے گامگر اپنے بندوں کے حقوق اس وقت تک معاف نہ کرے گا جبتک بندے خود معاف نہ کریں ۔ تو حق سیدہ ؑ چاہے فدک ہو یا خمس تمام غصب کرنے والوں کو اﷲ بھی نہ بخشے گا ۔
امانت میں خیانت ؟
آج جو کچھ بھی ہمارے پاس ہے۔ مال ودولت ہو یا علم و عزت خاندانی شرافت ہویا جاہ وجلال خوبصورتی ہویا خوب سیرتی سب اﷲ تعالیٰ کی عطاکردہ ہیں ۔ وافر مقدارمیں نعمتیں عطاکرتے ہوئے منعم حقیقی نے ان سب کے استعمال کے قواعد وضوابط بھی ہمیں بتا دیے ہیں یا نہیں ؟ اﷲتعالیٰ کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق استعمال کرنا نعمتوں میں اضافے کا سبب بھی بنتا ہے اور باعث عبادت بھی بنتا ہے اورآ خرت میں انعام کا حقدار بھی بناتا ہے ۔ حرام اور حلال میں فرق بھی تو اﷲتعالیٰ کی اطاعت ونا فرمانی کا ہے ۔ سچ بول کر تجارت کی جائے تو حلال بھی ہے اور باعث ثواب بھی ہے ا ور جھوٹ بول کر تجارت کی جائے تو حرام بھی ہے اور قابل سزاء جرم بھی ہے ۔
اﷲتعالیٰ نے ہم کو یہ تمام نعمتیں امانت دے کر انہیں بقدر ضرورت اپنے جائز کاموں میں استعمال کرنے اور بقیہ تمام نعمتوں کو اس کی ( اﷲ کی راہ ) میں خرچ کرنے کا حکم دیاہے اب جو بھی اس کی اطاعت کرے گا وہ اﷲ سے اجر عظیم کا مستحق ہو گا اور جس نے اﷲ کی نافرمانیوں میں خرچ کی اسے تمام نعمتوں کا حساب بھی دینا ہوگا اور نافرمانی کی سزاء بھی بُھگتنی پڑے گی ۔ لہذا ضروری ہے کہ اﷲ کی امانتوں کو اس کے بتائے ہوئے راستے پر خرچ کریں اور خیانت کے جُرم عظیم سے بچ جائیں اسی میں ہماری کامیابی وکامرانی ہے ۔
اﷲتعالیٰ نے ہم کو یہ تمام نعمتیں امانت دے کر انہیں بقدر ضرورت اپنے جائز کاموں میں استعمال کرنے اور بقیہ تمام نعمتوں کو اس کی ( اﷲ کی راہ ) میں خرچ کرنے کا حکم دیاہے اب جو بھی اس کی اطاعت کرے گا وہ اﷲ سے اجر عظیم کا مستحق ہو گا اور جس نے اﷲ کی نافرمانیوں میں خرچ کی اسے تمام نعمتوں کا حساب بھی دینا ہوگا اور نافرمانی کی سزاء بھی بُھگتنی پڑے گی ۔ لہذا ضروری ہے کہ اﷲ کی امانتوں کو اس کے بتائے ہوئے راستے پر خرچ کریں اور خیانت کے جُرم عظیم سے بچ جائیں اسی میں ہماری کامیابی وکامرانی ہے ۔
یہودی کے دس ۱۰ روپے
نجف اشرف میں ایک عطار تھا جو لوگوں میں متقی مشہور تھا۔وہ ہر روز نماز ظہر کے بعد اپنی دوکان پر لوگوں کو وعظ کیاکرتاتھ ا اورلوگوں کا جمِ غفیر ہوجاتا تھا ۔ہر دوسرا آدمی اس کے وعظ کو سن کر متاثرہو جاتا تھا ۔
ایک ہندی شہزادہ جو نجف میں ہی مقیم تھا ۔ اسے اچانک سفر درپیش ہوا اس نے اپنے جواہرات اور تمام قیمتی اشیاء اسی عطار کے پاس امانت رکھ دیں ۔ جب شہزادہ سفر سے واپس آیااور اس نے عطار سے اپنی امانت طلب کی مگر عطار نے امانت دینے سے انکار کر دیا ۔ یہ سن کر شہزادہ پہلے تو بہت پریشان ہوا اچانک اس کے دل میں خیال آیا کہ مولائے کائنات ؑ کے روضے پر جاکر اپنی مشکل بتاتاہوں ۔
روضے کے قریب آکر اس نے روروکر عرض کی آقا آپؑ کے شہر میں اپنا مقدر سنوارنے آیا تھا آپؑ کے شہر کے عالم نماظالم نے میری ساری جمع پونجی لوٹ لی ہی ہے ۔ اور میرے پاس آپ ؑ کے اور اﷲتعالی ٰ کے سواء کوئی گواہ بھی نہیں ہے میری مشکل کشائی کیجیے ۔ یہ کہتا کہتا شہزادہ سو گیا۔
مولا علی علیہ السلامنے خواب میں اسے کہا صبح جب شہر کے دروازے کھل جائیں تم باہر نکلنا اور جو شخص بھی پہلے ملے اس سے کہنا میری امانت مجھے دلا دے ۔ صبح ہوتے ہی شہزادہ شہر سے باہر نکلا تو اسے ایک بُوڑھا شخص ملا شہزادے نے سارا واقعہ بیان کیا تو اس بوڑھے نے کہا کہ نماز ظہر کے بعد اس کی د وکان پر آجانا ۔ نماز ظہر کے بعد جب تمام لو گ اس کی دوکان پر جمع ہوگئے تو
ایک ہندی شہزادہ جو نجف میں ہی مقیم تھا ۔ اسے اچانک سفر درپیش ہوا اس نے اپنے جواہرات اور تمام قیمتی اشیاء اسی عطار کے پاس امانت رکھ دیں ۔ جب شہزادہ سفر سے واپس آیااور اس نے عطار سے اپنی امانت طلب کی مگر عطار نے امانت دینے سے انکار کر دیا ۔ یہ سن کر شہزادہ پہلے تو بہت پریشان ہوا اچانک اس کے دل میں خیال آیا کہ مولائے کائنات ؑ کے روضے پر جاکر اپنی مشکل بتاتاہوں ۔
روضے کے قریب آکر اس نے روروکر عرض کی آقا آپؑ کے شہر میں اپنا مقدر سنوارنے آیا تھا آپؑ کے شہر کے عالم نماظالم نے میری ساری جمع پونجی لوٹ لی ہی ہے ۔ اور میرے پاس آپ ؑ کے اور اﷲتعالی ٰ کے سواء کوئی گواہ بھی نہیں ہے میری مشکل کشائی کیجیے ۔ یہ کہتا کہتا شہزادہ سو گیا۔
مولا علی علیہ السلامنے خواب میں اسے کہا صبح جب شہر کے دروازے کھل جائیں تم باہر نکلنا اور جو شخص بھی پہلے ملے اس سے کہنا میری امانت مجھے دلا دے ۔ صبح ہوتے ہی شہزادہ شہر سے باہر نکلا تو اسے ایک بُوڑھا شخص ملا شہزادے نے سارا واقعہ بیان کیا تو اس بوڑھے نے کہا کہ نماز ظہر کے بعد اس کی د وکان پر آجانا ۔ نماز ظہر کے بعد جب تمام لو گ اس کی دوکان پر جمع ہوگئے تو
وہی بُوڑھا شخص نےآگے
بڑھکر اس عطار کو کہا کیا آج آپ مجھے ان لوگوں سے کچھ کہنے کا موقعہ
دینگے ؟
عطار نے بخوشی اجازت دے دی اس بزرگ نے اسی کی جگہ پر جاکر کہا لوگو میں فلاں کا بیٹا فلاں ہوں اور حقوق الناس سے بہت خوف زدہ ہوں ۔ دنیا کے مال کی دوستی میرے دل میں نہیں ہے ۔ میں اہل قناعت میں سے ہوں اور گوشہ نشینی کے دن کاٹ رہا ہوں ۔ اور اس کا ایک حقیقی واقعہ جو میرے ساتھ پیش آیا ہے اس کے متعلق تمہیں بتانا چاہتاہوں ۔ تاکہ تمہیں عذابِ الہیٰ کی سختی اور آتش جہنم سے بچاسکوں اور روزِ جزاء کی بعض گذارشات تم تک پہنچانا چاہتا ہوں تاکہ تم اپنا مقدر سنوار سکو ۔
واقعہ یہ ہے کہ ’’میں ایک روز قرض کا محتاج ہوا اور ایک یہودی سے دس۱۰روپے قرض اس شرط پہ لیے کہ ہر روز نصف روپیہ اسے واپس کرتا رہوں گا۔ جب میں وعدہ کے مطابق نصف روپیہ دینے کی غرض سے گیا تو وہ مجھے نہ ملا ۔ لوگوں سے پوچھا تو معلوم یہ ہوا کہ وہ تو بغداد چلا گیا ہے ۔ چند دنوں بعد میں نے خواب دیکھا کہ قیامت برپا ہے مجھے اور دوسرے لوگوں کو حساب کے لیے بلایا گیا ۔ میں حساب سے فارغ ہوکر جنتیوں کے ساتھ جنت میں جانے لگا جونہی پُلِ صراط پہ پہنچا جہنم سے ا یک آواز سنی ٹھہرو میں ٹھہرگیا ۔ میں حیرانگی سے سوچ ہی رہا تھا کہ جہنم سے ایک آگ کا شعلہ باہر نکلا اور میرے راستے میں حائل ہوگیا ۔ اس نے کہا مجھے پہنچانتے ہو؟ میں نے کہا کیوں نہیں تم وہی ہو جس سے میں نے دس روپے قرض لیے تھے ۔ یہ سن کر اس نے کہا پھر میرا قرض لوٹاؤ ۔ میں نے کہا کہ میں نے تجھے بہت ڈھونڈا مگر تم نہیں ملے ۔ اگر تم مل جاتے تو ضرور دیتا اس نے کہا تو اب دے دو میں نے کہا اب میں کہاں سے دوں ؟ اس نے کہا یہ تمہارا معاملا ہے میں تمہیں اس وقت تک نہیں جانے دوں گا جب تک میرا مطالبہ پورا نہیں کروگے میں نے کہا میرے پاس توکچھ بھی نہیں ہے ۔ اس نے کہا مجھے اپنے جسم پر ایک انگلی گاڑنے دے پھر چلے جانا ۔
میں نے اسے اجازت دے د ی اس نے اپنی انگلی میرے سینے میں گاڑدی جس کی جلن سے میری چیخ نکل گئی اور میں فریاد کرتا ہوا اٹھ بیٹھا ۔ دیکھا تو جس جگہ اس نے انگلی گاڑی تھی وہاں پر زخم ہو چکا تھا۔ آج تک جو بھی دوائی کی ہے کارگر نہیں ہوئی ۔ یہ کہہ کر اس نے اپنا سینہ کھول کر دکھایالوگوں کی نگاہ پڑی تو چیخ اُٹھے ۔ یہ دیکھ کر وہ عطار بھی کانپ اُٹھا اس نے ہندی شہزادے سے معافی مانگی اور اس کی تمام امانت واپس کردی ۔ ( معاد ۔دارالسلام تالیف سید ہاشم بحرانی )
امانت میں خیانت کرنا ناقابل معافی جرم ہے ۔ اﷲ تبارک و تعا لیٰ ہر محب محمد ؐو آل ِ محمدؐ کو اس جرم عظیم سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ( آمین )یہ زندگی ہمارے پاس اﷲتعالیٰ کی امانت ہے یا نہیں ؟ اس کریم مطلق نے نعمت حیات و وجود عطا کرتے ہوئے ہمیں کوئی پیغام بھی دیا ہے یا نہیں؟۔ اس خالق اکبر نے ہماری تخلیق کا مقصد بھی متعین فرمایا ہے کہ نہیں؟
واقعہ یہ ہے کہ ’’میں ایک روز قرض کا محتاج ہوا اور ایک یہودی سے دس۱۰روپے قرض اس شرط پہ لیے کہ ہر روز نصف روپیہ اسے واپس کرتا رہوں گا۔ جب میں وعدہ کے مطابق نصف روپیہ دینے کی غرض سے گیا تو وہ مجھے نہ ملا ۔ لوگوں سے پوچھا تو معلوم یہ ہوا کہ وہ تو بغداد چلا گیا ہے ۔ چند دنوں بعد میں نے خواب دیکھا کہ قیامت برپا ہے مجھے اور دوسرے لوگوں کو حساب کے لیے بلایا گیا ۔ میں حساب سے فارغ ہوکر جنتیوں کے ساتھ جنت میں جانے لگا جونہی پُلِ صراط پہ پہنچا جہنم سے ا یک آواز سنی ٹھہرو میں ٹھہرگیا ۔ میں حیرانگی سے سوچ ہی رہا تھا کہ جہنم سے ایک آگ کا شعلہ باہر نکلا اور میرے راستے میں حائل ہوگیا ۔ اس نے کہا مجھے پہنچانتے ہو؟ میں نے کہا کیوں نہیں تم وہی ہو جس سے میں نے دس روپے قرض لیے تھے ۔ یہ سن کر اس نے کہا پھر میرا قرض لوٹاؤ ۔ میں نے کہا کہ میں نے تجھے بہت ڈھونڈا مگر تم نہیں ملے ۔ اگر تم مل جاتے تو ضرور دیتا اس نے کہا تو اب دے دو میں نے کہا اب میں کہاں سے دوں ؟ اس نے کہا یہ تمہارا معاملا ہے میں تمہیں اس وقت تک نہیں جانے دوں گا جب تک میرا مطالبہ پورا نہیں کروگے میں نے کہا میرے پاس توکچھ بھی نہیں ہے ۔ اس نے کہا مجھے اپنے جسم پر ایک انگلی گاڑنے دے پھر چلے جانا ۔
میں نے اسے اجازت دے د ی اس نے اپنی انگلی میرے سینے میں گاڑدی جس کی جلن سے میری چیخ نکل گئی اور میں فریاد کرتا ہوا اٹھ بیٹھا ۔ دیکھا تو جس جگہ اس نے انگلی گاڑی تھی وہاں پر زخم ہو چکا تھا۔ آج تک جو بھی دوائی کی ہے کارگر نہیں ہوئی ۔ یہ کہہ کر اس نے اپنا سینہ کھول کر دکھایالوگوں کی نگاہ پڑی تو چیخ اُٹھے ۔ یہ دیکھ کر وہ عطار بھی کانپ اُٹھا اس نے ہندی شہزادے سے معافی مانگی اور اس کی تمام امانت واپس کردی ۔ ( معاد ۔دارالسلام تالیف سید ہاشم بحرانی )
امانت میں خیانت کرنا ناقابل معافی جرم ہے ۔ اﷲ تبارک و تعا لیٰ ہر محب محمد ؐو آل ِ محمدؐ کو اس جرم عظیم سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ( آمین )یہ زندگی ہمارے پاس اﷲتعالیٰ کی امانت ہے یا نہیں ؟ اس کریم مطلق نے نعمت حیات و وجود عطا کرتے ہوئے ہمیں کوئی پیغام بھی دیا ہے یا نہیں؟۔ اس خالق اکبر نے ہماری تخلیق کا مقصد بھی متعین فرمایا ہے کہ نہیں؟
راز زند گی
خالق کائنات نے قیامت تک کی انسانیت کی ہدایت کے لیے اپنی بے مثال اور لازوال کتاب میں ارشاد فرمایا ہے کہ ’’ آئے انسان تم نے کیوں گمان کر لیا ہے کہ تجھے ہم نے بغیر کسی مقصد کے پیدا کیا ہے ؟ تم نے کیو ں یہ بُھلادیا ہے کہ تم نے میری طرف پلٹنا بھی ہے ۔ تو نے اس عارضی اورفنا ہوجانے والی دنیا کی رنیگنیوں میں خودکواس طرح اسیربنا لیا ہے کہ جس سے رہائی تمہیں اچھی تصور نہیں ہوتی ۔ یہ دنیا تو میں نے تیری خاطر بنائی اس لیے تھی کہ اس عمل کی دنیامیں جاکر میری عطاکردہ نعمتوں کو میرے بتائے ہوئے راستے پر استعمال کرکے میرا قُرب حاصل کر مگر تو ابلیسی سازش کا شکاربن کر مقصدِ حقیقی کو فراموش کر چکا ہے ۔
اب بھی وقت ہے اپنے آپ کو پہچاننے کی کوشش کر یقیناًتُو مجھے بھی پہچان لے گا ۔ اور تجھے معلوم ہو جائیگا کہ اس فنا ہوجانے والی دنیا میں اچھے عمل کیسے کرنے ہیں ؟کن ہستیوں کی اطاعت میری اطاعت ہے ۔ کن ہستیوں سے دوری حقیقت میں مجھ سے دوری ہے ۔ اس دلفریب دنیا کی چمک دمک کو ہی کامیابی کا ذریعہ مت سمجھ بلکہ مجھ تک پہنچنے کے لیے میرے بنائے ہوئے وسیلوں کو تلاش کر ان تک رسائی اگر تو نے پالی تو سمجھ لے کہ تو نے مجھے پالیا ۔
یاد رکھنا کہ میرے عدل کا پیمانہ ( جزاء و سزا ) ان کی دوستی اور ان کی دشمنی سے مربوط ہے ۔ میں نے قرآن میں یہ اعلان کردیا ہے کہ جو میرا رسول(صلی اللہ علیہ واآلہ وسلم ) دے وہ لے لو اور جس سے روکے رک جاو جس نے میرے رسول (صلی اللہ علیہ واآلہ وسلم )کی اطاعت کی اس نے گویا میری اطاعت کی جس نے میرے رسول کی نافرمانی کی اس نے گویا میری نافرمانی کی
انسانیت کی نجات کے لیے میں نے اپنے نبی نوح ؑ سے اپنی وحی سے کشتی بنوائی تھی اور نوح ؑ کے بیٹے کنعان نے اس کشتی کا انکار کیا تو میں نے اسے اس کی آل ؑ سے ہمیشہ کے لیے نکال کر ہر صاحب عقل کے لیے نشانی بنا دی کہ جس نے بھی میرے رسول ؐ کا یا اس کے فرمان کا انکا ر کیاتو اسے یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ( مثل اہلبیتی کمثل سفینہ نوح من رکب فنجی ومن تخلف عنھا فغرق ھوی میری اہلبیت ؑ کی مثال کشتی نوح ؑ کی طرح ہے جو اس پر سوار ہو گیا وہ نجات پاگیا جس نے منہ موڑا وہ غرق ہو گیا ) تو اُسے اپنے حبیب (صلی اللہ علیہ واآلہ وسلم )کی امت سے اور اپنی بندگی سے خارج کر دونگا ۔
آئے میرے بندے اب بھی وقت ہے کہ میری اور میرے رسول (صلی اللہ علیہ واآلہ وسلم )کی نافرمانی سے بچ جا تو اتنا کمزور ہے کہ چندمہینے گرمی کے تجھ سے برداشت نہیں ہوتے پھر محشر کی گرمی کیسے برداشت کر سکے گا ؟
اس دن سے تجھے ڈرکیوں نہیں لگتا کہ جو آج کے پچاس ہزار برس کے برابر کا ہوگا نفسا نفسی کا عالم ہوگا ہر نافرمان کو آگ برساتا سورج صرف سوانیزے کی بلندی پر محسوس ہوگا باپ بیٹے کا واقف نہ بنے گا۔
ماں بیٹی کو نہ پہچانے گی۔ پیاس کی شدت سے گلے میں کانٹے چُبھ رہے ہوں گے۔ زمین تانبے کی طرح سرخ ہوچکی ہوگی۔ ہر نافرمان رسول (صلی اللہ علیہ واآلہ وسلم ) کی گردن اپنے ہی اعمالِ بد کی وجہ سے کندھوں پر مثلِ پہاڑ محسوس ہوگی ۔ بے بسی کا عالم ہوگا ہر مجرم اپنے اپنے پسینہ ندامت میں گردن تک ڈوب رہا ہوگا ۔
اس عار ضی دنیا میں کوئی عقلمندخسارہ چاہتاہے ؟ نہیں چاہتاتو پھر تو آخرت کے خسارے سے کیوں نہیں بچنا چاہتا ؟ مولائے کائنات ؑ ارشادفرماتے ہیں وہ شخص خسارے میں ہے جو دنیا میں مشغول رہے ا ور آخروی فوائد کو اپنے ہاتھ سے چھوڑدے۔ ( غررالحکم جلد۱ ص ۸۸ )
معمولی سے معمولی چیز بھی بغیر قیمت دئیے نہیں ملتی کیا جنت مل جائے گی ؟ مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام ’’ ارشادفرماتے ہیں کہ ان لوگوں میں شمار نہ ہونا جو عمل کے بغیر ثوابِ آخر ت کی اُمید رکھتے ہیں۔ امیدوں کوطول دے کر توبہ کو تاخیر میں ڈال دیتے ہیں ۔ گناہگاروں سے دشمنی رکھتے ہیں مگر خود بھی گناہگار ہیں دوسروں کو ذرہ ذرہ سے گناہوں کی سزاء سے ڈراتے ہیں اور خود اپنے عمل سے بھی زیادہ جزاء کی اُمید رکھتے ہیں ۔ ( نہج البلاغہ )
جو دکاندار باربار خراب سامان دیتا ہو عقلمند شخص اس سے خریداری کرنا چھوڑدیتاہے ۔ لیکن شیطان جیسے دشمن کو جانتے ہوئے بھی اس کے خراب اور گندے سامانکی طرف لپک لپک کر جاتے ہیں ۔ بے عزت ہوکر بھی اس سے تعلق قائم رکھتے ہیں ۔ مولانا روم ؒ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی چمگاڈر نجاستوں میں غرق ہوتو مجھے تعجب نہیں مجھے حیرانگی اُس باز شاہی پر ہے جس نے سلطان کو دیکھا ہو اہو اُس ظالم کو کیا ہوگیاہے کہ وہ چمگاڈر بن کر نجاستوں کی طرف جا رہا ہے ۔
جن کو آلِ محمدصلی اللہ علیہ واآلہ وسلم کی محبت مل گئی ہو اور جن کو آیہ تطہیر کے مصداق شخصیتوں کی مودت نصیب ہو۔ان کا گناہوں کی طرف متوجہ ہونا با لکل اسی عقاب کی طرح ہے کہ جو آندھیوں کا مقابلہ کرنے کی بجائے غلاظت کے ڈھیر پر اس لیے ٹوٹ
خالق کائنات نے قیامت تک کی انسانیت کی ہدایت کے لیے اپنی بے مثال اور لازوال کتاب میں ارشاد فرمایا ہے کہ ’’ آئے انسان تم نے کیوں گمان کر لیا ہے کہ تجھے ہم نے بغیر کسی مقصد کے پیدا کیا ہے ؟ تم نے کیو ں یہ بُھلادیا ہے کہ تم نے میری طرف پلٹنا بھی ہے ۔ تو نے اس عارضی اورفنا ہوجانے والی دنیا کی رنیگنیوں میں خودکواس طرح اسیربنا لیا ہے کہ جس سے رہائی تمہیں اچھی تصور نہیں ہوتی ۔ یہ دنیا تو میں نے تیری خاطر بنائی اس لیے تھی کہ اس عمل کی دنیامیں جاکر میری عطاکردہ نعمتوں کو میرے بتائے ہوئے راستے پر استعمال کرکے میرا قُرب حاصل کر مگر تو ابلیسی سازش کا شکاربن کر مقصدِ حقیقی کو فراموش کر چکا ہے ۔
اب بھی وقت ہے اپنے آپ کو پہچاننے کی کوشش کر یقیناًتُو مجھے بھی پہچان لے گا ۔ اور تجھے معلوم ہو جائیگا کہ اس فنا ہوجانے والی دنیا میں اچھے عمل کیسے کرنے ہیں ؟کن ہستیوں کی اطاعت میری اطاعت ہے ۔ کن ہستیوں سے دوری حقیقت میں مجھ سے دوری ہے ۔ اس دلفریب دنیا کی چمک دمک کو ہی کامیابی کا ذریعہ مت سمجھ بلکہ مجھ تک پہنچنے کے لیے میرے بنائے ہوئے وسیلوں کو تلاش کر ان تک رسائی اگر تو نے پالی تو سمجھ لے کہ تو نے مجھے پالیا ۔
یاد رکھنا کہ میرے عدل کا پیمانہ ( جزاء و سزا ) ان کی دوستی اور ان کی دشمنی سے مربوط ہے ۔ میں نے قرآن میں یہ اعلان کردیا ہے کہ جو میرا رسول(صلی اللہ علیہ واآلہ وسلم ) دے وہ لے لو اور جس سے روکے رک جاو جس نے میرے رسول (صلی اللہ علیہ واآلہ وسلم )کی اطاعت کی اس نے گویا میری اطاعت کی جس نے میرے رسول کی نافرمانی کی اس نے گویا میری نافرمانی کی
انسانیت کی نجات کے لیے میں نے اپنے نبی نوح ؑ سے اپنی وحی سے کشتی بنوائی تھی اور نوح ؑ کے بیٹے کنعان نے اس کشتی کا انکار کیا تو میں نے اسے اس کی آل ؑ سے ہمیشہ کے لیے نکال کر ہر صاحب عقل کے لیے نشانی بنا دی کہ جس نے بھی میرے رسول ؐ کا یا اس کے فرمان کا انکا ر کیاتو اسے یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ( مثل اہلبیتی کمثل سفینہ نوح من رکب فنجی ومن تخلف عنھا فغرق ھوی میری اہلبیت ؑ کی مثال کشتی نوح ؑ کی طرح ہے جو اس پر سوار ہو گیا وہ نجات پاگیا جس نے منہ موڑا وہ غرق ہو گیا ) تو اُسے اپنے حبیب (صلی اللہ علیہ واآلہ وسلم )کی امت سے اور اپنی بندگی سے خارج کر دونگا ۔
آئے میرے بندے اب بھی وقت ہے کہ میری اور میرے رسول (صلی اللہ علیہ واآلہ وسلم )کی نافرمانی سے بچ جا تو اتنا کمزور ہے کہ چندمہینے گرمی کے تجھ سے برداشت نہیں ہوتے پھر محشر کی گرمی کیسے برداشت کر سکے گا ؟
اس دن سے تجھے ڈرکیوں نہیں لگتا کہ جو آج کے پچاس ہزار برس کے برابر کا ہوگا نفسا نفسی کا عالم ہوگا ہر نافرمان کو آگ برساتا سورج صرف سوانیزے کی بلندی پر محسوس ہوگا باپ بیٹے کا واقف نہ بنے گا۔
ماں بیٹی کو نہ پہچانے گی۔ پیاس کی شدت سے گلے میں کانٹے چُبھ رہے ہوں گے۔ زمین تانبے کی طرح سرخ ہوچکی ہوگی۔ ہر نافرمان رسول (صلی اللہ علیہ واآلہ وسلم ) کی گردن اپنے ہی اعمالِ بد کی وجہ سے کندھوں پر مثلِ پہاڑ محسوس ہوگی ۔ بے بسی کا عالم ہوگا ہر مجرم اپنے اپنے پسینہ ندامت میں گردن تک ڈوب رہا ہوگا ۔
اس عار ضی دنیا میں کوئی عقلمندخسارہ چاہتاہے ؟ نہیں چاہتاتو پھر تو آخرت کے خسارے سے کیوں نہیں بچنا چاہتا ؟ مولائے کائنات ؑ ارشادفرماتے ہیں وہ شخص خسارے میں ہے جو دنیا میں مشغول رہے ا ور آخروی فوائد کو اپنے ہاتھ سے چھوڑدے۔ ( غررالحکم جلد۱ ص ۸۸ )
معمولی سے معمولی چیز بھی بغیر قیمت دئیے نہیں ملتی کیا جنت مل جائے گی ؟ مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام ’’ ارشادفرماتے ہیں کہ ان لوگوں میں شمار نہ ہونا جو عمل کے بغیر ثوابِ آخر ت کی اُمید رکھتے ہیں۔ امیدوں کوطول دے کر توبہ کو تاخیر میں ڈال دیتے ہیں ۔ گناہگاروں سے دشمنی رکھتے ہیں مگر خود بھی گناہگار ہیں دوسروں کو ذرہ ذرہ سے گناہوں کی سزاء سے ڈراتے ہیں اور خود اپنے عمل سے بھی زیادہ جزاء کی اُمید رکھتے ہیں ۔ ( نہج البلاغہ )
جو دکاندار باربار خراب سامان دیتا ہو عقلمند شخص اس سے خریداری کرنا چھوڑدیتاہے ۔ لیکن شیطان جیسے دشمن کو جانتے ہوئے بھی اس کے خراب اور گندے سامانکی طرف لپک لپک کر جاتے ہیں ۔ بے عزت ہوکر بھی اس سے تعلق قائم رکھتے ہیں ۔ مولانا روم ؒ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی چمگاڈر نجاستوں میں غرق ہوتو مجھے تعجب نہیں مجھے حیرانگی اُس باز شاہی پر ہے جس نے سلطان کو دیکھا ہو اہو اُس ظالم کو کیا ہوگیاہے کہ وہ چمگاڈر بن کر نجاستوں کی طرف جا رہا ہے ۔
جن کو آلِ محمدصلی اللہ علیہ واآلہ وسلم کی محبت مل گئی ہو اور جن کو آیہ تطہیر کے مصداق شخصیتوں کی مودت نصیب ہو۔ان کا گناہوں کی طرف متوجہ ہونا با لکل اسی عقاب کی طرح ہے کہ جو آندھیوں کا مقابلہ کرنے کی بجائے غلاظت کے ڈھیر پر اس لیے ٹوٹ
پڑا کہ اسے محنت نہیں کرنی پڑے گی ۔
شیطان کے حملوں میں سے ایک حملہ یہ بھی ہے کہ جسے وہ شکار کرنا چاہے اس کے ذہن میں یہ خیال ڈال دیتا ہے کہ ہمارا عمل ہی خراب ہے مگر ہمارا عقیدہ تودرست ہے ۔ رسول اکرم ؐ کا ارشادگرامی ہے اور ہماے آئمہ ؑ نے بھی فرمایا ہے کہ ہماری طرف منسوب بات تم تک پہنچے توتم اُسے یوں ہی تسلیم نہ کرلو بلکہ پہلے قرآن سے مطابقت کرکے دیکھو اگرقرآن اس کی تائید کررہا ہے تو سمجھوکہ ناطق قرآن نے کہا ہے ۔ اگر مخالفت قرآن پائی جائے تو اُسے دیوار پر دے مارو کیونکہ وہ ہمارا کلام ہو ہی نہیں سکتا جو قرآن سے ٹکرا ئے ۔
اب اس خیال کو کہ ہمارے اعمال خراب ہیں عقیدہ تو ٹھیک ہے کو قرآن مجید کی ان تین آیات پر پرکھیئے اگر قرآن کہہ دے کہ یہ نظریہ ٹھیک ہے تو ہم کو مان لینا چاہیئے اور اگرقرآن اس کی تردید کردے تو ہم کو اپنی غلط فہمی دور کر لینا چاہیئے۔
اﷲ جس کو ہدایت نہ کرنا چاہے پوری دنیا مل کر بھی اس کی ہدایت نہیں کر سکتی ۔ ارشاد خداوندی ہے ان اﷲ لا یھدی القوم ا لفسقین ۔ اﷲ فاسقوں اور بدکاروں کی ہدایت نہیں کرتا۔ جہاں بدکاری ہوگی جہاں فسق و فجور ہوگا۔وہاں اﷲ کی طرف سے ہدایت اور راہنمائی ملنے کا تو امکان ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ واﷲ لا یھدی القوم ا لظا لمین ۔ اﷲ ظلم کرنے والوں کی ہدایت نہیں کرتا ظلم دو طرح کا ہوتا ہے ۔ انسان اپنے نفس پر ظلم کرتا ہے ۔ انسان اولاد پر اپنی بیوی پر ظلم کرتا ہے انسان اپنے دشمنوں پر ظلم کرتا ہے ۔ بچوں کو تعلیم سے دور کیا یا وقت پر شادی نہیں کی گویا آپ نے بچوں پر ظلم کیا ۔ اسلام میں جہیز کا ایسا تصور کہاں ہے جس کی وجہ سے کئی بچیوں کی شادی نہیں ہورہی ہے ۔ اتنا بڑا ظلم ہورہا ہے اور ہم سب کبوتر کی طرح آنکھ بند کیئے ہوئے ہیں ۔آخر کب تک ؟ (آج اس غلط رسم ورواج کی بنا پر جب بچے غلطیاں
اب اس خیال کو کہ ہمارے اعمال خراب ہیں عقیدہ تو ٹھیک ہے کو قرآن مجید کی ان تین آیات پر پرکھیئے اگر قرآن کہہ دے کہ یہ نظریہ ٹھیک ہے تو ہم کو مان لینا چاہیئے اور اگرقرآن اس کی تردید کردے تو ہم کو اپنی غلط فہمی دور کر لینا چاہیئے۔
اﷲ جس کو ہدایت نہ کرنا چاہے پوری دنیا مل کر بھی اس کی ہدایت نہیں کر سکتی ۔ ارشاد خداوندی ہے ان اﷲ لا یھدی القوم ا لفسقین ۔ اﷲ فاسقوں اور بدکاروں کی ہدایت نہیں کرتا۔ جہاں بدکاری ہوگی جہاں فسق و فجور ہوگا۔وہاں اﷲ کی طرف سے ہدایت اور راہنمائی ملنے کا تو امکان ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ واﷲ لا یھدی القوم ا لظا لمین ۔ اﷲ ظلم کرنے والوں کی ہدایت نہیں کرتا ظلم دو طرح کا ہوتا ہے ۔ انسان اپنے نفس پر ظلم کرتا ہے ۔ انسان اولاد پر اپنی بیوی پر ظلم کرتا ہے انسان اپنے دشمنوں پر ظلم کرتا ہے ۔ بچوں کو تعلیم سے دور کیا یا وقت پر شادی نہیں کی گویا آپ نے بچوں پر ظلم کیا ۔ اسلام میں جہیز کا ایسا تصور کہاں ہے جس کی وجہ سے کئی بچیوں کی شادی نہیں ہورہی ہے ۔ اتنا بڑا ظلم ہورہا ہے اور ہم سب کبوتر کی طرح آنکھ بند کیئے ہوئے ہیں ۔آخر کب تک ؟ (آج اس غلط رسم ورواج کی بنا پر جب بچے غلطیاں
علاماتِ امرا ضِ روحانیہ
۱۔ اللہ تعالی کے احکامات کی خلاف ورزی کرنے اور دیکھنے میں بھی طبعییت پُرسکون رہتی ہے ۔
۲۔ کم عمر یا کم مرتبہ لوگوں کو سلام کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس ہوتی ہے۔ ۳۔ تنہائی کی نسبت لوگوں کے درمیان دینداری زیادہ ظاہر ہوتی ہے ۔
۴۔ موت اور آخرت سے متعلق گفتگوسننا بالکل پسند نہیں کرتے ۔ ۵۔ دل چاہتا ہے کہ ہماری دینی کاوشوں کا سب لوگوں کوعلم ہوجائے ۔
۲۔ کم عمر یا کم مرتبہ لوگوں کو سلام کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس ہوتی ہے۔ ۳۔ تنہائی کی نسبت لوگوں کے درمیان دینداری زیادہ ظاہر ہوتی ہے ۔
۴۔ موت اور آخرت سے متعلق گفتگوسننا بالکل پسند نہیں کرتے ۔ ۵۔ دل چاہتا ہے کہ ہماری دینی کاوشوں کا سب لوگوں کوعلم ہوجائے ۔
۶۔ ہمیشہ نہیں تواکثرگانابجانایاموسیقی سن لیتے ہیں۔ ۷ ۔ نماز با جماعت کے لیے کبھی کبھار جانا ہوتا ہے اور اگر چلے جائیں تو وہاں سے جلدی نکلنے کو دل
چاہتاہے ۔
۸ ۔ گناہوں کو دیکھنے کے باوجود امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرنے سے رک جاتے
ہیں ۔
۹ ۔ غیبت کرنے اور سننے میں مزہ آتا ہے ۔ ۱۰ ۔ اگر کوئی ہمیں ہماری غلطی پر ٹوکے تو ہمیں غصہ آجاتا ہے ۔
۱۱ ۔ جھوٹ بولنے میں شرمندگی محسوس نہیں کرتے ۔
۱۲ ۔ دینی کتابوں خصوصا اخلاقیات سنوارنے والی کتابوں کے مطالعہ کی ضرورت ہی محسوس نہیں
ہوتی ۔
۱۳ ۔ لوگوں کے عیب تلاش کرنا اچھا لگتا ہے ۔ کوئی دوسرا ہمارے عیب تلاش کرے تو بالکل اچھا
نہیں لگتا ۔
۱۴ ۔ دینی تبلیغات کے کام کرنے والوں سے تعاون نہیں کرتے ۔
۱۵ ۔ اللہ تعالی کی رحمانییت و رحمییت کی بناء پر اور چہاردہ معصومین ؑ کی شفاعت کی بناء پر
گناہوں کو انجام دے دیتے ہیں ۔
۱۶ ۔ واجب و حرام احکاماتِ خداوندی کی پابندی طبعیعت پر بوجھ محسوس ہوتی ہے ۔
۱۷ ۔ گھر والوں کی بجائے باہر والوں سے زیادہ اخلاق سے ملتے ہیں ۔
۱۸۔ اپنی غلطی کے باوجود دوسروں سے غلطی کی معافی مانگنے سے اجتناب کرتے ہیں ۔
۱۹
چاہتاہے ۔
۸ ۔ گناہوں کو دیکھنے کے باوجود امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرنے سے رک جاتے
ہیں ۔
۹ ۔ غیبت کرنے اور سننے میں مزہ آتا ہے ۔ ۱۰ ۔ اگر کوئی ہمیں ہماری غلطی پر ٹوکے تو ہمیں غصہ آجاتا ہے ۔
۱۱ ۔ جھوٹ بولنے میں شرمندگی محسوس نہیں کرتے ۔
۱۲ ۔ دینی کتابوں خصوصا اخلاقیات سنوارنے والی کتابوں کے مطالعہ کی ضرورت ہی محسوس نہیں
ہوتی ۔
۱۳ ۔ لوگوں کے عیب تلاش کرنا اچھا لگتا ہے ۔ کوئی دوسرا ہمارے عیب تلاش کرے تو بالکل اچھا
نہیں لگتا ۔
۱۴ ۔ دینی تبلیغات کے کام کرنے والوں سے تعاون نہیں کرتے ۔
۱۵ ۔ اللہ تعالی کی رحمانییت و رحمییت کی بناء پر اور چہاردہ معصومین ؑ کی شفاعت کی بناء پر
گناہوں کو انجام دے دیتے ہیں ۔
۱۶ ۔ واجب و حرام احکاماتِ خداوندی کی پابندی طبعیعت پر بوجھ محسوس ہوتی ہے ۔
۱۷ ۔ گھر والوں کی بجائے باہر والوں سے زیادہ اخلاق سے ملتے ہیں ۔
۱۸۔ اپنی غلطی کے باوجود دوسروں سے غلطی کی معافی مانگنے سے اجتناب کرتے ہیں ۔
۱۹
۔ دوسروں کو گناہوں سے بچنے کی نصیحت کرتے ہیں مگر خود وہی عمل انجام دے دیتے ہیں۔ ۲۰
۔ اپنے تعلقات مقام و مرتبہ علم ودولت خاندان پر فخر محسوس کرتے ہیں ۔
۲۱ ۔ دوسروس کے مقام ومرتبہ یا تعلقات دیکھ کر جلن محسوس ہوتی ہے ۔
۲۲ ۔ اخلاق خراب کرنے والی فلمیں ڈرامے بھی دیکھتے ہیں ۔
۲۳۔ دنیاوی کام آج اور ابھی اور دینی کاموں کو کل پر ٹال دیتے ہیں ۔
۲۴۔ نماز فجر اکثر قضاء ہوجاتی ہے ۔
۲۵۔ تلاوت قرآن کرنے کو دل ہی نہیں چاہتا ۔ ۲۶ ۔ داڑھی منڈوانا اچھا محسوس ہوتا ہے ۔
۲۷۔ بن ٹھن کر بے پردہ گھر سے نکلنا اچھا لگتا ہے ۔
۲۸ ۔ ماں باپ سے اجازت لینے کی بجائے اطلاع دینا بہتر محسوس ہوتا ہے ۔
۲۹ ۔ شوہر سے اجازت لینا بالکل اچھا نہیں لگتا ۔
۳۰ ۔ جب غصہ آتا ہے تو زبان پر کنٹرول کرنا بہت مشکل ہوجاتاہے ۔ اب جب تشخیص حقیقی کے نتیجے میں صرف بیمار ہی نہیں بلکہ قابل آپریشن ہوچکے ہیں تو پھر زیادہ تاخیر نقصاندہ ہی ہے ۔
مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام کا ارشاد مقدس ہے کہ ’’ اہل عقل کی صحبت دلوں کو آباد رکھتی ہے ۔ ‘‘ اس پرعمل کرتے ہوئے پہلی کوشش یہ کریں نیکی کوعملی طورپر پسند کرنے والوں سے دوستانہ مخلصانہ تعلقات بنائیں ۔
حضرت لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے کہا ’’ آئے بیٹا اہل علم سے دوستی کرو اور ان کے نزدیک رہو ان کے پاس آیا جایا کرو تاکہ ان جیسے ہو جاؤ اور آخرت میں ان کے ساتھ رہو ۔‘‘
فرامین ا لہیہٰ اور فرامین وارثانِ قرآن کی خلاف ورزی کو کبیرہ صغیرہ کے ترازو پر مت تولیے بلکہ معصوم ؑ کے فرمان پر ’’ کسی نیکی کو معمولی سمجھ کر نظر انداز مت کرو ممکن ہے اﷲ تعالیٰ کے نزدیک وہی پسندیدہ عمل ہو اور کسی بُرائی کو معمولی سمجھ کر انجام نہ دو ممکن ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے نزدیک وہی عذاب کے قابل ہو ۔ ‘‘ عمل کر کے اپنی بد بختی کو خوش بختی میں تبدیل کر لیں
قدرتِ خدا وندِ کریمکتب تاریخ میں ہے کہ ’’ ایک شخض اپنی بیوی کے ساتھ بیٹھا کھانا کھا رہا تھا باہر سے ایک فقیر نے صدا دی ۔ اس نے فقیر کو نہ صرف خالی لوٹایا بلکہ اُسے جھڑک بھی دیا۔ فقیر نے اُس کی طرف دیکھا اور ٹھنڈی آہ بھر کر چل پڑاتھوڑے ہی عرصہ گذرا کہ اس جھڑکنے والا امیر اپنے کاروبار تباہ ہوجانے کی وجہ سے اپنی بیوی کا نان نفقہ برداشت کرنے کی طاقت بھی کھو بیٹھاجس سے تنگ آکراس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ۔
بیوی نے کسی اور دولت مند سے شادی کر لی ۔ ایک مرتبہ وہی عورت اپنے دوسرے شوہر کے ساتھ بیٹھی کھاناکھا رہی تھی۔ کہ دروازے پہ ایک فقیر نے صدا دی ۔ شوہر نے بیوی سے کہا اسے پہلے خیرات دے دو باقی کھانا بعد میں کھا لیں گے ۔ بیوی نے دروازے کی طرف قدم بڑھائے اور جب لوٹی تو رو رہی تھی ۔
شوہر نے رونے کا سبب پوچھا بیوی نے کہا وہ فقیر کوئی اور نہ تھا بلکہ میرا پہلا شوہر تھا ۔ اس نے کہا کیا تو نے اُسے چھوڑاتھا یا اُس نے تمہیں طلاق دی تھی تو کیوں ؟ بیوی نے سائل کو جھڑکنے کا واقعہ بیان کیا تو اس شخص نے آبدیدہ ہو کر کہا پھر تم نے مجھے نہیں پہچانا میں وہی فقیر ہوں جسے اُس متکبر نے جھڑکا تھا اُس کریم مطلق کا کرم دیکھو کہ اُس نے مجھے دولت بھی دی اور اس کی بیوی بھی دی ۔
بیوی نے حیران ہوکر پُوچھا اگر آپ سچ کہہ رہے ہیں تو پھر آپ کو یہ دولت کیسے ملی ہے ؟ شوہر نے کہا یہ اُس سے بھی زیادہ حیرت کی بات ہے کہ جب اُس شخص نے مجھے جھڑکا میں اس سے تو مایوس ہواتھا مگر
۲۱ ۔ دوسروس کے مقام ومرتبہ یا تعلقات دیکھ کر جلن محسوس ہوتی ہے ۔
۲۲ ۔ اخلاق خراب کرنے والی فلمیں ڈرامے بھی دیکھتے ہیں ۔
۲۳۔ دنیاوی کام آج اور ابھی اور دینی کاموں کو کل پر ٹال دیتے ہیں ۔
۲۴۔ نماز فجر اکثر قضاء ہوجاتی ہے ۔
۲۵۔ تلاوت قرآن کرنے کو دل ہی نہیں چاہتا ۔ ۲۶ ۔ داڑھی منڈوانا اچھا محسوس ہوتا ہے ۔
۲۷۔ بن ٹھن کر بے پردہ گھر سے نکلنا اچھا لگتا ہے ۔
۲۸ ۔ ماں باپ سے اجازت لینے کی بجائے اطلاع دینا بہتر محسوس ہوتا ہے ۔
۲۹ ۔ شوہر سے اجازت لینا بالکل اچھا نہیں لگتا ۔
۳۰ ۔ جب غصہ آتا ہے تو زبان پر کنٹرول کرنا بہت مشکل ہوجاتاہے ۔ اب جب تشخیص حقیقی کے نتیجے میں صرف بیمار ہی نہیں بلکہ قابل آپریشن ہوچکے ہیں تو پھر زیادہ تاخیر نقصاندہ ہی ہے ۔
مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام کا ارشاد مقدس ہے کہ ’’ اہل عقل کی صحبت دلوں کو آباد رکھتی ہے ۔ ‘‘ اس پرعمل کرتے ہوئے پہلی کوشش یہ کریں نیکی کوعملی طورپر پسند کرنے والوں سے دوستانہ مخلصانہ تعلقات بنائیں ۔
حضرت لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے کہا ’’ آئے بیٹا اہل علم سے دوستی کرو اور ان کے نزدیک رہو ان کے پاس آیا جایا کرو تاکہ ان جیسے ہو جاؤ اور آخرت میں ان کے ساتھ رہو ۔‘‘
فرامین ا لہیہٰ اور فرامین وارثانِ قرآن کی خلاف ورزی کو کبیرہ صغیرہ کے ترازو پر مت تولیے بلکہ معصوم ؑ کے فرمان پر ’’ کسی نیکی کو معمولی سمجھ کر نظر انداز مت کرو ممکن ہے اﷲ تعالیٰ کے نزدیک وہی پسندیدہ عمل ہو اور کسی بُرائی کو معمولی سمجھ کر انجام نہ دو ممکن ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے نزدیک وہی عذاب کے قابل ہو ۔ ‘‘ عمل کر کے اپنی بد بختی کو خوش بختی میں تبدیل کر لیں
قدرتِ خدا وندِ کریمکتب تاریخ میں ہے کہ ’’ ایک شخض اپنی بیوی کے ساتھ بیٹھا کھانا کھا رہا تھا باہر سے ایک فقیر نے صدا دی ۔ اس نے فقیر کو نہ صرف خالی لوٹایا بلکہ اُسے جھڑک بھی دیا۔ فقیر نے اُس کی طرف دیکھا اور ٹھنڈی آہ بھر کر چل پڑاتھوڑے ہی عرصہ گذرا کہ اس جھڑکنے والا امیر اپنے کاروبار تباہ ہوجانے کی وجہ سے اپنی بیوی کا نان نفقہ برداشت کرنے کی طاقت بھی کھو بیٹھاجس سے تنگ آکراس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ۔
بیوی نے کسی اور دولت مند سے شادی کر لی ۔ ایک مرتبہ وہی عورت اپنے دوسرے شوہر کے ساتھ بیٹھی کھاناکھا رہی تھی۔ کہ دروازے پہ ایک فقیر نے صدا دی ۔ شوہر نے بیوی سے کہا اسے پہلے خیرات دے دو باقی کھانا بعد میں کھا لیں گے ۔ بیوی نے دروازے کی طرف قدم بڑھائے اور جب لوٹی تو رو رہی تھی ۔
شوہر نے رونے کا سبب پوچھا بیوی نے کہا وہ فقیر کوئی اور نہ تھا بلکہ میرا پہلا شوہر تھا ۔ اس نے کہا کیا تو نے اُسے چھوڑاتھا یا اُس نے تمہیں طلاق دی تھی تو کیوں ؟ بیوی نے سائل کو جھڑکنے کا واقعہ بیان کیا تو اس شخص نے آبدیدہ ہو کر کہا پھر تم نے مجھے نہیں پہچانا میں وہی فقیر ہوں جسے اُس متکبر نے جھڑکا تھا اُس کریم مطلق کا کرم دیکھو کہ اُس نے مجھے دولت بھی دی اور اس کی بیوی بھی دی ۔
بیوی نے حیران ہوکر پُوچھا اگر آپ سچ کہہ رہے ہیں تو پھر آپ کو یہ دولت کیسے ملی ہے ؟ شوہر نے کہا یہ اُس سے بھی زیادہ حیرت کی بات ہے کہ جب اُس شخص نے مجھے جھڑکا میں اس سے تو مایوس ہواتھا مگر
اپنے خالق سے تو پُراُمید تھا ۔ کہ کیا ہوا اس نے خالی لوٹایاہے کوئی سخی اُس کے دیئے ہوئے سے دے دیگا ۔ میں اسی سوچوں میں گھرا جا رہا تھا کہ میرے ذہن میں خیال آیا کہ ساری زندگی میں لیتا ہی رہا ہوں کبھی میں نے اللہ کے نام پہ دینے کی کوشش کیوں نہیں کی ۔؟
اس خیال کا آنا تھا کہ میں نے پختہ ارادہ کر لیا کہ آج چاہے میں بُھوکا رہوں اللہ کے نام پہ آج میں نے ضرور کسی کو کھلانا ہے ۔ اب میں نے اپنی غرض کے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے صد ا لگائی تو کائنات کو درس سخاوت دینے والوں کے ماننے والے ایک سخی نے مجھے آواز دے کر کہا وہیں پہ رکنا میں آرہا ہوں یہ سن کر میں نے کہا واہ مالک تیرے کیا کہنے جب اپنے لیے مانگا دروازے پہ جانے کے باوجود نہ ملا جب دوسروں کیلیے مانگا تو جانا بھی نہ پڑا دینے والا خود دینے آرہا ہے ۔
ابھی میں یہ دل ہی دل میں کہہ رہا تھا کہ اتنے میں میں نے دیکھا کہ ایک نہایت ہی خوبصورت جوان ہاتھ میں طشت اُٹھائے میری طرف آرہا ہے۔ جب وہ قریب آیا تو میں نے دیکھاکہ اس طشت سے خوشنماء اشتہا ء انگیز ( بھوک بڑھانے والی ) خوشبو میرے مشام سے ٹکرائی میں نے سوچا جس کھانے کی خوشبو اتنی پیاری ہے اللہ جانے کھانا کتنا لذیذ ہوگا ۔
ادھر میں نے یہ سوچا ادھر اس جوان نے کھانا مجھے دے کر کہا امانت لے لو اور چاہو تو ا سے ہی ا پنا مقدر بنا لو ۔ میں نے سوچا آج کیا ہورہا ہے ۔ ؟ آج اُس نے مجھے جھڑکا کیوں ؟ میرے ذہن میں لینے کی بجائے دینے کا خیال کیوں آیا ؟ کھانا دینے والے نے امانت کیوں کہا ؟
اگر کسی کی امانت ہے تو کس کی ہے ؟ مقدر سنوارنا چاہوں تو اس کھانے کی وجہ سے کیسے سنوار سکتا ہوں ؟ اتنے میں میرے ذہن میں خیال آیا کہ یہ کھانا میرا مقدر ہے تو اللہ تعالی نے اس کے دل میں رحم ڈالاہے تو اس نے مجھے روک کر دیا ہے ۔ سچ ہے دانے دانے پہ لکھا ہے کھانے والے کا نام پھر خیال آیا اگر ایسا ہے تو اس نے امانت کیوں کہا تھا ؟
بس میرے خالق نے اپنے پیاروں کے صدقے میں مجھ پر کرم کیا میرے ذہن میں اپنی کہی ہوئی بات یاد آئی کہ آج اللہ کے نام پہ میں بھی دونگا اس بات کا یاد آنا تھا کہ میرے دل میں سکون کی ایسی لہر دوڑی کہ جس کی لذت سے میں بالکل نا آشنا تھا۔
اس کے بعد میں نے خود کے لیے مانگنے کی بجائے کھانا پہچانے کی جستجو میں مصروف ہوگیا ۔ کافی دیر کے بعد ایک کمسن بچہ ملا جس نے بوسیدہ کپڑے پہنے ہوئے تھے ۔ اس نے کھانے کی طرف دیکھا میں خود بھوک کی کیفیت سے واقف تھا سمجھ گیا یہ بچہ بُھوکا ہے ۔ میں نے اسے کہا آمیرے ساتھ کھانا کھا لے اس نے کہا میں تیرے ساتھ نہیں کھاؤں گا اگر تو دینا بھی چاہتا ہے تو مجھے دے دے میں گھر لے جاؤنگا ہم سب مل کر کھائینگے ۔ میں نے پُوچھا تم کون ہو تمہارا باپ کون ہے ؟ اور کہاں ہے ؟
اس نے کہا میں سید ہوں ۔ اگر میرا باپ زندہ ہوتا تو ہم دوسروں کے رحم وکرم کے محتاج ہوتے ؟
یہ سن کر میں نے وہ تمام کھانا اُسی سید زادے کو دے دیا اور انہی قدموں پر واپس چلا آیا ۔
جہاں سے مجھے کھانا ملا تھا جب اسی جگہ پر پہنچا تو زمین پر ایک تھیلی پڑی تھی میں نے دائیں بائیں دیکھا کوئی بھی نظر نہ آیا میں نے پریشانی کے عالم میں وہ تھیلی اُٹھائی اور گھر چلا آیا ۔ میں حیرانگی کے عالم میں سوچتاسوچتا سوگیا ۔ نیند کی حالت میں میں نے دیکھا کہ نہایت ہی خوبصورت بزرگ ہیں جن کے چہرے سے نور ٹپک رہا ہے انہوں نے مجھے اشارے سے بُلایا اور پھر نوکر کی طرف دیکھ کر کہا اس کا حق اسے دے دیا گیا ہے یا نہیں ؟ اس نوکر نے عرض کی آقا حکم کی تعمیل ہوچکی ہے ۔
انہوں نے میری طرف دیکھ کر کہا کہ تم نے میری آل پر رحم کیا ہے جس کا صلہ تمہیں اس دنیامیں میں نے دے دیا ہے اور آخرت میں میرا مولا تجھے اپنی قدرت کے مطابق عطاکرے گا۔ اس رقم سے اب کاروبار کرنا اللہ تعالی تمہارے کاروبار میں برکت نازل کرے گا ۔
جب میری آنکھ کھلی تو میں نے دیکھا کہ حالتِ خواب میں دکھائی گئی تھیلی اور راستے سے ملنے والی تھیلی میں کوئی فرق نہ تھا میں نے اللہ تعالی کا شکریہ ادا کیا کہ جس نے مجھ پر ایک یتیم سید زادے کی وجہ سے کرم کیا ۔ پھر مجھے یہ بات بھی سمجھ آگئی کہ وہ کھانا اس یتیم کا حق تھا جسے میں نے اللہ کے کرم سے پہنچایا تو اس کا صلہ یہ ملا کہ آج میں سب سے بڑاتاجر ہوں میرا مقدر اس طرح سنورا کہ تم جیسی بیوی اس دنیا میں مجھے ملی ہے ۔
کتنے خوش نصیب ہونگے وہ جو یتیموں کا حق ان کے مانگے بغیر ان کودے کر اجرِ عظیم کے مستحق بنیں گے اور کتنے بد بخت ہونگے وہ جان بُوجھ کر یتیموں کا حق مانگنے پر بھی ادا نہ کرکے اپنے پیٹ میں جہنم کے انگارے بھر رہے ہونگے ۔
مندرجہ بالا واقعہ سے ثابت یہ ہو اکہ دولت پہ غرور کرنا غربت اور ذلت کو آواز دینا ہے ۔ فقیروں کو جھڑکنا خود کو ذلت کا نشانہ بنانا ہے ۔ اللہ تعالی پر توکل کرنا نزولِ نعمت کا سبب ہے ۔ یتیم کا حق دے دینا باعث ِ اجر خداوندِکریم ہے ۔ اللہ تعالی کے احکامات پر عمل کرنا ثروتمندی کی دلیل ہے ۔
اگر کوئی عبرت حاصل کرنا چاہے تو عبرت خیز واقعہ بھی ہے ۔ اللہ تعالی کی قدرت بڑی عظیم اور عجیب ہے مگر اس سے عبرت وہی حاصل کرسکتا ہے جسے اللہ تعالی کا فضل و کرم حاصل ہو ۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشادفرمایا ’’ اللہ جب کسی کو دوست بنانا چاہے تو اس کے دل پر اپنی فکر کو اور زبان پر ذکر کو جاری کردیتاہے ۔ ‘‘ جب ایسا ہونا ہوتا ہے تو انسان ایسے مومنین جو علمِ دین بقدر ضرورت رکھتے ہوں یا علماء دین کی صحبت سے مستفید ہوکر امربالمعروف اور نہی عن المنکرکرتے ہوں ان سے تعلق خاطر پیدا کر لیں تو گناہوں سے نفرت اور نیکیوں سے رغبت بڑھ جاتی ہے ۔
جس طرح چراغ سے چراغ کو ملایاجائے تو روشن چراغ کی وجہ سے بے نور چراغ بھی روشن ہوجاتاہے ۔ چراغ کا برتن چاہے سونے کا ہو چاہے کروڑوں کے ہیرے کیوں نہ جڑے ہوئے ہوں جب تک کسی روشن چراغ کی ( چاہے وہ ظاہری طور پر بے مول ہی کیوں نہ ہو ) لو سے مس نہ کیا جائے اس کے بغیر نہ تو خود روشن ہوگا اور نہ ہی کسی دوسرے چراغ کو روشن کر سکے گا۔
اگر دو تالاب ہوں اور ایک تالاب مچھلیوں سے محروم ہو اگر مچھلیوں سے خالی تالاب اپنی سرحدیں بھرے ہوئے تالاب کے لیے کھول دے تو اس سے مچھلیاں خالی تالاب میں آئیں گی یا نہیں ؟ سوچوں سے بھی زیادہ آجائینگی ۔ مٹھائی والے سے مٹھائی مل سکتی ہے تو کیا اللہ والوں سے اللہ نہیں مل سکتا ؟
اگر اللہ والے بھی ( نحن ابواب اللہ ۔ ہم اللہ تک پہنچنے کا دروازہ ہیں )
( انا مدینۃالعلم و علی بابھا میں علم کا شہر ہوں اور علی ؑ دروازہ ہیں )
( انا دارالحکمت و علی بابھا ۔ میں حکمت کا شہر ہوں اور علی ؑ دروازہ ہیں )
( القرآن مع علی و علی مع القرآن قرآن علی ؑ کے ساتھ ہے اور علی ؑ قرآن کے سا تھ
ہیں ) ( الحق مع علی وعلی مع الحق حق علی ؑ کے ساتھ ہے ا ورعلی ؑ حق کے ساتھ ہیں ) کے فرامین مصطفوی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلمکے مطابق منارہ ہدایت ہوں تو ان کی صحبت سے یقیناًہدایت کی روشنی ضرور مل جائے گی ۔
گناہ کرنے اور مسلسل گناہ کرنے سے شہوت کی آگ نہ بُجھے گی ۔ آپ کے دل کو سکون صرف اور صرف اﷲ تعالیٰ کے ذکر پاک سے حا صل ہوگا۔ پرہیز گاروں کی صحبت سے جو ذکرپاک کا نورآپ کے دل
اس خیال کا آنا تھا کہ میں نے پختہ ارادہ کر لیا کہ آج چاہے میں بُھوکا رہوں اللہ کے نام پہ آج میں نے ضرور کسی کو کھلانا ہے ۔ اب میں نے اپنی غرض کے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے صد ا لگائی تو کائنات کو درس سخاوت دینے والوں کے ماننے والے ایک سخی نے مجھے آواز دے کر کہا وہیں پہ رکنا میں آرہا ہوں یہ سن کر میں نے کہا واہ مالک تیرے کیا کہنے جب اپنے لیے مانگا دروازے پہ جانے کے باوجود نہ ملا جب دوسروں کیلیے مانگا تو جانا بھی نہ پڑا دینے والا خود دینے آرہا ہے ۔
ابھی میں یہ دل ہی دل میں کہہ رہا تھا کہ اتنے میں میں نے دیکھا کہ ایک نہایت ہی خوبصورت جوان ہاتھ میں طشت اُٹھائے میری طرف آرہا ہے۔ جب وہ قریب آیا تو میں نے دیکھاکہ اس طشت سے خوشنماء اشتہا ء انگیز ( بھوک بڑھانے والی ) خوشبو میرے مشام سے ٹکرائی میں نے سوچا جس کھانے کی خوشبو اتنی پیاری ہے اللہ جانے کھانا کتنا لذیذ ہوگا ۔
ادھر میں نے یہ سوچا ادھر اس جوان نے کھانا مجھے دے کر کہا امانت لے لو اور چاہو تو ا سے ہی ا پنا مقدر بنا لو ۔ میں نے سوچا آج کیا ہورہا ہے ۔ ؟ آج اُس نے مجھے جھڑکا کیوں ؟ میرے ذہن میں لینے کی بجائے دینے کا خیال کیوں آیا ؟ کھانا دینے والے نے امانت کیوں کہا ؟
اگر کسی کی امانت ہے تو کس کی ہے ؟ مقدر سنوارنا چاہوں تو اس کھانے کی وجہ سے کیسے سنوار سکتا ہوں ؟ اتنے میں میرے ذہن میں خیال آیا کہ یہ کھانا میرا مقدر ہے تو اللہ تعالی نے اس کے دل میں رحم ڈالاہے تو اس نے مجھے روک کر دیا ہے ۔ سچ ہے دانے دانے پہ لکھا ہے کھانے والے کا نام پھر خیال آیا اگر ایسا ہے تو اس نے امانت کیوں کہا تھا ؟
بس میرے خالق نے اپنے پیاروں کے صدقے میں مجھ پر کرم کیا میرے ذہن میں اپنی کہی ہوئی بات یاد آئی کہ آج اللہ کے نام پہ میں بھی دونگا اس بات کا یاد آنا تھا کہ میرے دل میں سکون کی ایسی لہر دوڑی کہ جس کی لذت سے میں بالکل نا آشنا تھا۔
اس کے بعد میں نے خود کے لیے مانگنے کی بجائے کھانا پہچانے کی جستجو میں مصروف ہوگیا ۔ کافی دیر کے بعد ایک کمسن بچہ ملا جس نے بوسیدہ کپڑے پہنے ہوئے تھے ۔ اس نے کھانے کی طرف دیکھا میں خود بھوک کی کیفیت سے واقف تھا سمجھ گیا یہ بچہ بُھوکا ہے ۔ میں نے اسے کہا آمیرے ساتھ کھانا کھا لے اس نے کہا میں تیرے ساتھ نہیں کھاؤں گا اگر تو دینا بھی چاہتا ہے تو مجھے دے دے میں گھر لے جاؤنگا ہم سب مل کر کھائینگے ۔ میں نے پُوچھا تم کون ہو تمہارا باپ کون ہے ؟ اور کہاں ہے ؟
اس نے کہا میں سید ہوں ۔ اگر میرا باپ زندہ ہوتا تو ہم دوسروں کے رحم وکرم کے محتاج ہوتے ؟
یہ سن کر میں نے وہ تمام کھانا اُسی سید زادے کو دے دیا اور انہی قدموں پر واپس چلا آیا ۔
جہاں سے مجھے کھانا ملا تھا جب اسی جگہ پر پہنچا تو زمین پر ایک تھیلی پڑی تھی میں نے دائیں بائیں دیکھا کوئی بھی نظر نہ آیا میں نے پریشانی کے عالم میں وہ تھیلی اُٹھائی اور گھر چلا آیا ۔ میں حیرانگی کے عالم میں سوچتاسوچتا سوگیا ۔ نیند کی حالت میں میں نے دیکھا کہ نہایت ہی خوبصورت بزرگ ہیں جن کے چہرے سے نور ٹپک رہا ہے انہوں نے مجھے اشارے سے بُلایا اور پھر نوکر کی طرف دیکھ کر کہا اس کا حق اسے دے دیا گیا ہے یا نہیں ؟ اس نوکر نے عرض کی آقا حکم کی تعمیل ہوچکی ہے ۔
انہوں نے میری طرف دیکھ کر کہا کہ تم نے میری آل پر رحم کیا ہے جس کا صلہ تمہیں اس دنیامیں میں نے دے دیا ہے اور آخرت میں میرا مولا تجھے اپنی قدرت کے مطابق عطاکرے گا۔ اس رقم سے اب کاروبار کرنا اللہ تعالی تمہارے کاروبار میں برکت نازل کرے گا ۔
جب میری آنکھ کھلی تو میں نے دیکھا کہ حالتِ خواب میں دکھائی گئی تھیلی اور راستے سے ملنے والی تھیلی میں کوئی فرق نہ تھا میں نے اللہ تعالی کا شکریہ ادا کیا کہ جس نے مجھ پر ایک یتیم سید زادے کی وجہ سے کرم کیا ۔ پھر مجھے یہ بات بھی سمجھ آگئی کہ وہ کھانا اس یتیم کا حق تھا جسے میں نے اللہ کے کرم سے پہنچایا تو اس کا صلہ یہ ملا کہ آج میں سب سے بڑاتاجر ہوں میرا مقدر اس طرح سنورا کہ تم جیسی بیوی اس دنیا میں مجھے ملی ہے ۔
کتنے خوش نصیب ہونگے وہ جو یتیموں کا حق ان کے مانگے بغیر ان کودے کر اجرِ عظیم کے مستحق بنیں گے اور کتنے بد بخت ہونگے وہ جان بُوجھ کر یتیموں کا حق مانگنے پر بھی ادا نہ کرکے اپنے پیٹ میں جہنم کے انگارے بھر رہے ہونگے ۔
مندرجہ بالا واقعہ سے ثابت یہ ہو اکہ دولت پہ غرور کرنا غربت اور ذلت کو آواز دینا ہے ۔ فقیروں کو جھڑکنا خود کو ذلت کا نشانہ بنانا ہے ۔ اللہ تعالی پر توکل کرنا نزولِ نعمت کا سبب ہے ۔ یتیم کا حق دے دینا باعث ِ اجر خداوندِکریم ہے ۔ اللہ تعالی کے احکامات پر عمل کرنا ثروتمندی کی دلیل ہے ۔
اگر کوئی عبرت حاصل کرنا چاہے تو عبرت خیز واقعہ بھی ہے ۔ اللہ تعالی کی قدرت بڑی عظیم اور عجیب ہے مگر اس سے عبرت وہی حاصل کرسکتا ہے جسے اللہ تعالی کا فضل و کرم حاصل ہو ۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشادفرمایا ’’ اللہ جب کسی کو دوست بنانا چاہے تو اس کے دل پر اپنی فکر کو اور زبان پر ذکر کو جاری کردیتاہے ۔ ‘‘ جب ایسا ہونا ہوتا ہے تو انسان ایسے مومنین جو علمِ دین بقدر ضرورت رکھتے ہوں یا علماء دین کی صحبت سے مستفید ہوکر امربالمعروف اور نہی عن المنکرکرتے ہوں ان سے تعلق خاطر پیدا کر لیں تو گناہوں سے نفرت اور نیکیوں سے رغبت بڑھ جاتی ہے ۔
جس طرح چراغ سے چراغ کو ملایاجائے تو روشن چراغ کی وجہ سے بے نور چراغ بھی روشن ہوجاتاہے ۔ چراغ کا برتن چاہے سونے کا ہو چاہے کروڑوں کے ہیرے کیوں نہ جڑے ہوئے ہوں جب تک کسی روشن چراغ کی ( چاہے وہ ظاہری طور پر بے مول ہی کیوں نہ ہو ) لو سے مس نہ کیا جائے اس کے بغیر نہ تو خود روشن ہوگا اور نہ ہی کسی دوسرے چراغ کو روشن کر سکے گا۔
اگر دو تالاب ہوں اور ایک تالاب مچھلیوں سے محروم ہو اگر مچھلیوں سے خالی تالاب اپنی سرحدیں بھرے ہوئے تالاب کے لیے کھول دے تو اس سے مچھلیاں خالی تالاب میں آئیں گی یا نہیں ؟ سوچوں سے بھی زیادہ آجائینگی ۔ مٹھائی والے سے مٹھائی مل سکتی ہے تو کیا اللہ والوں سے اللہ نہیں مل سکتا ؟
اگر اللہ والے بھی ( نحن ابواب اللہ ۔ ہم اللہ تک پہنچنے کا دروازہ ہیں )
( انا مدینۃالعلم و علی بابھا میں علم کا شہر ہوں اور علی ؑ دروازہ ہیں )
( انا دارالحکمت و علی بابھا ۔ میں حکمت کا شہر ہوں اور علی ؑ دروازہ ہیں )
( القرآن مع علی و علی مع القرآن قرآن علی ؑ کے ساتھ ہے اور علی ؑ قرآن کے سا تھ
ہیں ) ( الحق مع علی وعلی مع الحق حق علی ؑ کے ساتھ ہے ا ورعلی ؑ حق کے ساتھ ہیں ) کے فرامین مصطفوی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلمکے مطابق منارہ ہدایت ہوں تو ان کی صحبت سے یقیناًہدایت کی روشنی ضرور مل جائے گی ۔
گناہ کرنے اور مسلسل گناہ کرنے سے شہوت کی آگ نہ بُجھے گی ۔ آپ کے دل کو سکون صرف اور صرف اﷲ تعالیٰ کے ذکر پاک سے حا صل ہوگا۔ پرہیز گاروں کی صحبت سے جو ذکرپاک کا نورآپ کے دل
میں داخل ہوگا اس کی وجہ سے گناہوں کے تقاضے مغلوب ہوجائیں گے ۔ ممکن ہے کہ ابلیں آپ کے دل میں یہ خیال پیدا کرے کہ ان میں متقین کی صفات تو ملتی نہیں ہیں ۔ مومن کی صفات کا بھی فقدان ہے ۔ اس کی صفات کیا فاہدہ دیں گی ۔ جب کوئی حقیقی متقی ملے گا تب اس کی صحبت بھی حاصل کرلیں گے ۔ اس خیالِ باطلہ کو مولائے کائنات ؑ کے اس فرمان سے رد کردیجیے کہ ’’بے عیب عالم کی تلاش مت کیجیئے ورنہ ہدایت سے خالی رہ جاؤگے ۔ بے عیب دوست مت ڈھونڈھیے ورنہ تنہا رہ جاؤ گے ۔ ‘‘
ایک ہی خیال رکھیے کہ جس سے فائدہ اُٹھانا چاہتے ہیں کیا وہ آپ سے زیادہ جانتا ہے یا نہیں ؟ اس کا ا ہلبیتِ اطہار ؑ کیساتھ تعلق ہے یا نہیں ؟ اگر ہے تو مت گھبرائیے اس کے ساتھ صحبت اختیار کر لیجیئے ممکن ہے آپ دونوں مل کر ابلیس ملعون کامقابلہ کرلیں ۔یہ بھی ممکن ہے کہ خناس یہ وسوسہ پیدا کرے کہ حقیقت عبادت سے تو کوسوں دور ہیں پھر ظاہری عبادت کرنے کا کیا فاہدہ ہے ؟
اس خیالِ بد کو اس بات سے رد کردیجیے کہ حضرت موسیٰ ؑ جب فرعون کے بلائے ہوئے جادوگروں سے مقابلے کے لیے تشریف لے گئے تو مقابلے کے بعد جادوگر تو مسلمان ہو گئے لیکن فرعون مسلمان نہ ہوا تب حضرت موسیٰ ؑ نے اﷲسے اس کا سبب پوچھا تو جواب ملا ساحرانِ فرعون نے اس وقت تمہارے لباس جیسا لباس پہنا ہواتھا ہماری رحمت نے گوارہ نہ کیا کہ تمہارے ہم لباس دوزخ میں جائیں ۔ اس لیے ہم نے ان کو ایمان کی توفیق دے دی اور فرعون اپنی فرعونیت کی وجہ سے محروم رہا ۔
اسی لیے تو اسلام نے خواتین کو بنتِ حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم جناب سیدہِ عالمہ غیر معلمہ صد یقۃالکبریٰ شفعیہ روزجزاء سیدۃالنساء العالمین بی بی کی سیرت پر چلتے ہوئے باپردہ رہنے کا حکم دیاہے تاکہ و ہ گناہانِ کبیرہ وصغیرہ سے بچ جائیں ۔
مرد حضرات اگر یہ سوچ کر ہی سہی کہ میں پاک رسول ؐ کا امتی ہوں مجھے ان کی سیرت پر عمل کرنا چاہیےے۔ میں مولا علیؑ کی غلامی کا دعویدارِ ہوں مجھے عملاان کی سیرت پر عمل کرنا چاہییے ۔ مجھے شہزادہ علی اکبر ؑ سے عشق ہے ان کی سیرت کا عکاس بن کر مجھے داڑھی رکھنی چاہیے۔ کم سے کم اتنی تو رکھ لیجیے جو ۷۰ گز کی دوری سے نظر آ جائے ۔
یاد رکھیے کہ یہ ایسا قبیح جرم ہے جو چھپ ہی نہیں سکتا ۔ نماز اگر آپ کو کوئی پڑھتے ہوئے نہ بھی دیکھے یقین سے وہ بھی نہیں کہے گا کہ یہ نمازی نہیں ہے ۔اگر ماہ رمضان میں آپ جب تک لوگوں کے سامنے عملی طورپرخود انکار نہ کریں تب تک وہ آپ کو روزہ دار ہی تصور کریں گے ۔ کوئی بھی آپ کو
ا ﷲ رسول ؐ اور امام ؑ کا مجرم نہیں مانے گا ۔
مگر داڑھی منڈوانا ایسا جرم ہے جو اﷲ رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم اور امام زمانہ ؑ کے حکم کی خلاف ورزی کا اشتہار ہے۔ دوسروں کو سیرت محمدؐ و آلِ محمد ؐ پر عمل نہ کرنے پر تو قابل سزاسمجھتے ہیں لیکن خود کھلم کھلا خلاف ورزی کرکے بھی قابلِ ِ جزاء سمجھتے ہیں گویا آپ کے لیے اﷲ تعا لیٰ نے قانون ہی او ر بنایاہو ؟
خدا کے لیے اب بھی وقت ہے اپنے آپ پر اور دوسروں پر رحم کریں جس عمل کو آپ اہمیت نہیں دے رہے ہیں وہ عمل ( داڑھی رکھنا ) اﷲتعالیٰ کے نزدیک اتنا مقبول ہے کہ ایک پورا معاشرہ جو قابل عذاب ہو اﷲسفید ریش بزرگوں کی وجہ سے آیا ہوا عذاب ٹال دیتا ہے ۔ اتنی اہمیت رکھنے والی نعمت صرف ابلیں کے اُکسانے پر تو ضائع کی جا سکتی ہے ؟ کیا اﷲر سولؐاور اہلبیتِ رسول ؑ کی خوشنودی کے لیے اطاعت ِ خداوندی کے طور پر رکھی نہیں جاسکتی ؟ کیا آپ حضرات نے نہیں پڑھا یا سنا کہ ختمی مرتبت ؐ نے ارشاد فرمایا کہ اپنے آپ کو گناہوں سے بچا لینا بھی ایک نیکی ہے ۔ کیا آپ حضرات کو نیکیوں کی ضرورت نہیں رہی ؟ خدارا آپ داڑھی رکھ کر تو دیکھیں کچھ عرصہ بعد آپ خود دیکھیں گے آپ کے اندرکتنی تبدیلی آچکی ہے ۔ اطاعت معصومین ؑ کا نور آپ کے دل کو کس طرح روشن کررہاہے اپنا ظاہر شریعت کے مطابق بنا لیناآدمی کو اپنے اندربدعملی کی وجہ سے شرمساری محسوس کرتاہے ۔ جس کی وجہ سے وہ آہستہ آہستہ گناہوں سے دور ہوجاتا ہے ۔
خودبھی گناہوں سے بچنے کی کوشش میں مصروف عمل ہو جائیں اور دوسروں کو بھی نیکی کا حکم دیں ۔ کیونکہ جب آپ دوسروں کو گناہوں سے روکیں گے تو آپ کا ضمیر آپ کو خود وہ گناہ چھوڑنے پر اُکسائے گا اس طرح آپ خود بھی گناہوں سے رک جائینگے ۔ جس طرح کپڑے دھونے والے کے ہاتھ خود بخود صاف ہو جاتے ہیں اسی طرح دوسروں کو نیکی کا مشورہ دینے والا بھی فطری طور پرکوشش کرتاہے کہ وہ بھی نیک کام کرے جس کی وہ دوسروں کو تلقین کرتا ہے ۔
ممکن ہے آپ کی نصحیت دوسروں پر اثر نہ کرے لیکن گناہوں سے منع کرکے آپ گناہگار سے اس گناہ کی لذت چھینِ لینگے ممکن ہے کہ عارضی لذت کے چھن جانے کی وجہ سے وہ گناہ کرنے سے باز آجائے
ایک گاڑی جو مخالف سمت میں آرہی ہو دوسری تمام گاڑی والوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ ہارن بجا کر اور رات ہو تو لائٹس جلا کر اسے خبردار کریں کہ وہ غلط راستے پہ آ رہا ہے۔ اگر کسی نے خاموش رہنے کی حماقت کی تو ممکن ہے اس کی خاموشی اسے ہی لے ڈوبے ۔ بالکل اگر آپ نے آج دوسروں کے گناہوں پر خاموشی اختیار کر لی تو ممکن ہے اس کی خمیازہ آپ کو یا آپ کی آنے والی نسلوں
کو بُھگتناپڑے ۔ اُس وقت کا پچھتا نا کسی کام نہ آئے گا پچھتا نا ہے تو اپنے گذارے ہوئے غفلت کے دنوں پر پچھتائیے شاید یہی پچھتا نا ہی توبہ کا سبب بن جائے ۔
کوئی شخص قیمتی قالین آپ کو تحفہ دے اور وہی آپ کو گندگی سے لتھڑے جوتوں کے ساتھ قالین پر چلتے دیکھ لے تو کیا وہ آپ سے راضی ہوگا ؟ اُس کریم خالق نے چودہ کی محبت عطا کر کے ہم پر خصوصی کرم کیا ہے ۔ آج ہم اس کی عطا کو بُرے کاموں کی غلاظت سے آلودہ کرکے اور اس نورِ خدا کی روشنی کو پھیلانے میں عملی طورپر روکاوٹ کا باعث بن جائیں تو اﷲ تعالیٰ ہم سے راضی ہو گا ؟ ہم نے اپنی جہالت وغفلت وبدبختی سے اس طرح ناقدری کی ان کے دشمنوں کی سیرت پر عمل کرنے کو کامیابی سمجھی اور خاصان ِ خداوندِکریم کی سیرت پر عمل کرنے کوناکامی تصور کی ۔
ا فسوس صد افسوس کہ اس پر شرمندگی محسوس کرنے کی بجائے ہم نے فخر بھی کیا ۔ایسا کیوں ہو ا ؟
صرف اس لیے کہ ہم سب نے اپنے حقوق تو یاد رکھے مگر اپنے فرائض بُھلا دیے ۔ دوسروں کے حقوق دینا تو ایک طرف رہا تسلیم کرنا بھی مناسب نہ سمجھا ۔ حالانکہ ہم سب یہ جانتے ہیں کہ مرسل اعظم ؐ نے ارشاد فرمایا کہ بہترین مومن وہ ہے جو خودکے لیے پسند کرے وہی دوسروں کے لیے بھی پسند کرے ۔ مگر ہم سب نے اس کے برعکس زندگی گذارنے کو کامیابی سمجھا ۔ رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے مومن کو دوسرے مومن کے لیے تو آئینہ قراردیاہے ہم نے ایک دوسرے کو کیامقام دیا ؟ یہ تو صفاتِ آئینہ پڑھ کر فیصلہ کرہی لیں ۔
صفاتِ آئینہ
۱ ۔ آئینہ صاف اور پاک جذبے سے اگر عیب ہوں تو عیب بیان کرتا ہے انتقام یا کسی اور
غرض سے بیان نہیں کرتا۔
۲ ۔ آئینہ اس وقت عیب کی نشاندہی کرتا ہے جب خود گردوغبار سے پاک ہو ۔
۳ ۔ آئینہ سامنے کھڑے شخص کے مقام و منزلت کا لحاظ نہیں کرتا ۔
۴ ۔ آئینہ ویسا ہی دکھاتا ہے جیسا سامنے والا ہو اُسے بڑھا چڑھا کر بیان نہیں کرتا ۔
ایک ہی خیال رکھیے کہ جس سے فائدہ اُٹھانا چاہتے ہیں کیا وہ آپ سے زیادہ جانتا ہے یا نہیں ؟ اس کا ا ہلبیتِ اطہار ؑ کیساتھ تعلق ہے یا نہیں ؟ اگر ہے تو مت گھبرائیے اس کے ساتھ صحبت اختیار کر لیجیئے ممکن ہے آپ دونوں مل کر ابلیس ملعون کامقابلہ کرلیں ۔یہ بھی ممکن ہے کہ خناس یہ وسوسہ پیدا کرے کہ حقیقت عبادت سے تو کوسوں دور ہیں پھر ظاہری عبادت کرنے کا کیا فاہدہ ہے ؟
اس خیالِ بد کو اس بات سے رد کردیجیے کہ حضرت موسیٰ ؑ جب فرعون کے بلائے ہوئے جادوگروں سے مقابلے کے لیے تشریف لے گئے تو مقابلے کے بعد جادوگر تو مسلمان ہو گئے لیکن فرعون مسلمان نہ ہوا تب حضرت موسیٰ ؑ نے اﷲسے اس کا سبب پوچھا تو جواب ملا ساحرانِ فرعون نے اس وقت تمہارے لباس جیسا لباس پہنا ہواتھا ہماری رحمت نے گوارہ نہ کیا کہ تمہارے ہم لباس دوزخ میں جائیں ۔ اس لیے ہم نے ان کو ایمان کی توفیق دے دی اور فرعون اپنی فرعونیت کی وجہ سے محروم رہا ۔
اسی لیے تو اسلام نے خواتین کو بنتِ حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم جناب سیدہِ عالمہ غیر معلمہ صد یقۃالکبریٰ شفعیہ روزجزاء سیدۃالنساء العالمین بی بی کی سیرت پر چلتے ہوئے باپردہ رہنے کا حکم دیاہے تاکہ و ہ گناہانِ کبیرہ وصغیرہ سے بچ جائیں ۔
مرد حضرات اگر یہ سوچ کر ہی سہی کہ میں پاک رسول ؐ کا امتی ہوں مجھے ان کی سیرت پر عمل کرنا چاہیےے۔ میں مولا علیؑ کی غلامی کا دعویدارِ ہوں مجھے عملاان کی سیرت پر عمل کرنا چاہییے ۔ مجھے شہزادہ علی اکبر ؑ سے عشق ہے ان کی سیرت کا عکاس بن کر مجھے داڑھی رکھنی چاہیے۔ کم سے کم اتنی تو رکھ لیجیے جو ۷۰ گز کی دوری سے نظر آ جائے ۔
یاد رکھیے کہ یہ ایسا قبیح جرم ہے جو چھپ ہی نہیں سکتا ۔ نماز اگر آپ کو کوئی پڑھتے ہوئے نہ بھی دیکھے یقین سے وہ بھی نہیں کہے گا کہ یہ نمازی نہیں ہے ۔اگر ماہ رمضان میں آپ جب تک لوگوں کے سامنے عملی طورپرخود انکار نہ کریں تب تک وہ آپ کو روزہ دار ہی تصور کریں گے ۔ کوئی بھی آپ کو
ا ﷲ رسول ؐ اور امام ؑ کا مجرم نہیں مانے گا ۔
مگر داڑھی منڈوانا ایسا جرم ہے جو اﷲ رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم اور امام زمانہ ؑ کے حکم کی خلاف ورزی کا اشتہار ہے۔ دوسروں کو سیرت محمدؐ و آلِ محمد ؐ پر عمل نہ کرنے پر تو قابل سزاسمجھتے ہیں لیکن خود کھلم کھلا خلاف ورزی کرکے بھی قابلِ ِ جزاء سمجھتے ہیں گویا آپ کے لیے اﷲ تعا لیٰ نے قانون ہی او ر بنایاہو ؟
خدا کے لیے اب بھی وقت ہے اپنے آپ پر اور دوسروں پر رحم کریں جس عمل کو آپ اہمیت نہیں دے رہے ہیں وہ عمل ( داڑھی رکھنا ) اﷲتعالیٰ کے نزدیک اتنا مقبول ہے کہ ایک پورا معاشرہ جو قابل عذاب ہو اﷲسفید ریش بزرگوں کی وجہ سے آیا ہوا عذاب ٹال دیتا ہے ۔ اتنی اہمیت رکھنے والی نعمت صرف ابلیں کے اُکسانے پر تو ضائع کی جا سکتی ہے ؟ کیا اﷲر سولؐاور اہلبیتِ رسول ؑ کی خوشنودی کے لیے اطاعت ِ خداوندی کے طور پر رکھی نہیں جاسکتی ؟ کیا آپ حضرات نے نہیں پڑھا یا سنا کہ ختمی مرتبت ؐ نے ارشاد فرمایا کہ اپنے آپ کو گناہوں سے بچا لینا بھی ایک نیکی ہے ۔ کیا آپ حضرات کو نیکیوں کی ضرورت نہیں رہی ؟ خدارا آپ داڑھی رکھ کر تو دیکھیں کچھ عرصہ بعد آپ خود دیکھیں گے آپ کے اندرکتنی تبدیلی آچکی ہے ۔ اطاعت معصومین ؑ کا نور آپ کے دل کو کس طرح روشن کررہاہے اپنا ظاہر شریعت کے مطابق بنا لیناآدمی کو اپنے اندربدعملی کی وجہ سے شرمساری محسوس کرتاہے ۔ جس کی وجہ سے وہ آہستہ آہستہ گناہوں سے دور ہوجاتا ہے ۔
خودبھی گناہوں سے بچنے کی کوشش میں مصروف عمل ہو جائیں اور دوسروں کو بھی نیکی کا حکم دیں ۔ کیونکہ جب آپ دوسروں کو گناہوں سے روکیں گے تو آپ کا ضمیر آپ کو خود وہ گناہ چھوڑنے پر اُکسائے گا اس طرح آپ خود بھی گناہوں سے رک جائینگے ۔ جس طرح کپڑے دھونے والے کے ہاتھ خود بخود صاف ہو جاتے ہیں اسی طرح دوسروں کو نیکی کا مشورہ دینے والا بھی فطری طور پرکوشش کرتاہے کہ وہ بھی نیک کام کرے جس کی وہ دوسروں کو تلقین کرتا ہے ۔
ممکن ہے آپ کی نصحیت دوسروں پر اثر نہ کرے لیکن گناہوں سے منع کرکے آپ گناہگار سے اس گناہ کی لذت چھینِ لینگے ممکن ہے کہ عارضی لذت کے چھن جانے کی وجہ سے وہ گناہ کرنے سے باز آجائے
ایک گاڑی جو مخالف سمت میں آرہی ہو دوسری تمام گاڑی والوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ ہارن بجا کر اور رات ہو تو لائٹس جلا کر اسے خبردار کریں کہ وہ غلط راستے پہ آ رہا ہے۔ اگر کسی نے خاموش رہنے کی حماقت کی تو ممکن ہے اس کی خاموشی اسے ہی لے ڈوبے ۔ بالکل اگر آپ نے آج دوسروں کے گناہوں پر خاموشی اختیار کر لی تو ممکن ہے اس کی خمیازہ آپ کو یا آپ کی آنے والی نسلوں
کو بُھگتناپڑے ۔ اُس وقت کا پچھتا نا کسی کام نہ آئے گا پچھتا نا ہے تو اپنے گذارے ہوئے غفلت کے دنوں پر پچھتائیے شاید یہی پچھتا نا ہی توبہ کا سبب بن جائے ۔
کوئی شخص قیمتی قالین آپ کو تحفہ دے اور وہی آپ کو گندگی سے لتھڑے جوتوں کے ساتھ قالین پر چلتے دیکھ لے تو کیا وہ آپ سے راضی ہوگا ؟ اُس کریم خالق نے چودہ کی محبت عطا کر کے ہم پر خصوصی کرم کیا ہے ۔ آج ہم اس کی عطا کو بُرے کاموں کی غلاظت سے آلودہ کرکے اور اس نورِ خدا کی روشنی کو پھیلانے میں عملی طورپر روکاوٹ کا باعث بن جائیں تو اﷲ تعالیٰ ہم سے راضی ہو گا ؟ ہم نے اپنی جہالت وغفلت وبدبختی سے اس طرح ناقدری کی ان کے دشمنوں کی سیرت پر عمل کرنے کو کامیابی سمجھی اور خاصان ِ خداوندِکریم کی سیرت پر عمل کرنے کوناکامی تصور کی ۔
ا فسوس صد افسوس کہ اس پر شرمندگی محسوس کرنے کی بجائے ہم نے فخر بھی کیا ۔ایسا کیوں ہو ا ؟
صرف اس لیے کہ ہم سب نے اپنے حقوق تو یاد رکھے مگر اپنے فرائض بُھلا دیے ۔ دوسروں کے حقوق دینا تو ایک طرف رہا تسلیم کرنا بھی مناسب نہ سمجھا ۔ حالانکہ ہم سب یہ جانتے ہیں کہ مرسل اعظم ؐ نے ارشاد فرمایا کہ بہترین مومن وہ ہے جو خودکے لیے پسند کرے وہی دوسروں کے لیے بھی پسند کرے ۔ مگر ہم سب نے اس کے برعکس زندگی گذارنے کو کامیابی سمجھا ۔ رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے مومن کو دوسرے مومن کے لیے تو آئینہ قراردیاہے ہم نے ایک دوسرے کو کیامقام دیا ؟ یہ تو صفاتِ آئینہ پڑھ کر فیصلہ کرہی لیں ۔
صفاتِ آئینہ
۱ ۔ آئینہ صاف اور پاک جذبے سے اگر عیب ہوں تو عیب بیان کرتا ہے انتقام یا کسی اور
غرض سے بیان نہیں کرتا۔
۲ ۔ آئینہ اس وقت عیب کی نشاندہی کرتا ہے جب خود گردوغبار سے پاک ہو ۔
۳ ۔ آئینہ سامنے کھڑے شخص کے مقام و منزلت کا لحاظ نہیں کرتا ۔
۴ ۔ آئینہ ویسا ہی دکھاتا ہے جیسا سامنے والا ہو اُسے بڑھا چڑھا کر بیان نہیں کرتا ۔
۵ ۔ آئینہ عیب دکھانے کے ساتھ ساتھ سامنے کھڑے ہوئے کی خوبصورتی بھی دکھاتا ہے ۔ ۶ ۔ آئینہ کسی کی پیٹھ پیچھے عیب بیانی نہیں کرتا ۔
۷ ۔ آئینہ خاموشی کے ساتھ عیب اگر ہوں تو بیان کرتا ہے دوسروں کو نہیں بتاتا ۔
۸ ۔ آئینہ کی سچائی بیان کرنے کی وجہ سے گر کوئی اسے توڑبھی دے تو ایک ایک ٹکڑا پھر بھی
سچائی کا مظہر ہوتا ہے ۔
۹ ۔ آئینہ سامنے والے کے عیبوں کو جمع نہیں کرتا بلکہ جونہی سامنے والا ہٹتا ہے
اسکے عیب بھی آئینہ زائل کردیتا ہے ۔
۱۰ ۔ آئینہ چھوٹا ہویا بڑا اس کی صفات کبھی بھی تبدیل نہیں ہوتے ۔
مندرجہ بالا صفات ایک مرتبہ پھر غور سے پڑھ کر فیصلہ کریں کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے تھا اور ہم نے اب تک کیا کیاہے ؟ اب خود ہی غور کریں کہ ہم میں کتنے عیب ہیں ۔ خود سے سوال کریں کہ کہیں ہم دوسروں کے اعمال نامے کا اشتہار بنے ہوئے تو نہیں ہیں ؟ اگر ایسا ہے تو یہ دوسروں کا عیب نہیں ہے بلکہ ہمارا ہی ہے ۔
رسول اکرم صلی اﷲعلیہ وآلہ وسلمنے ارشادفرمایا کہ ’’ کیا میں تمہیں عقلمندوں کا عقلمند اور احمقوں کا احمق نہ بتادوں ؟ صحابہ نے عرض کی ارشاد فرمائیے ۔آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
’’ سب سے عقلمند انسان وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور مرنے کے بعد کے لیے نیک اعمال بجالائے اور سب سے احمق وہ ہے جو خواہشاتِ نفس کی پیروی کرے اوران کے حصول میں سر گرم رہے ۔ ‘‘
مولائے متقیان حضرت علی علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں ’’ جو شخص اپنے نفس کا حساب کرے وہ اپنے عیبوں سے آگاہ ہوجاتاہے اور اپنے گناہوں کوجان لیتا ہے اور انسے توبہ کرتا ہے اور اپنے عیبوں کی اصلاح کرتا ہے ‘‘۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشادفرمایا کہ ’’ اس سے پہلے کہ قیامت کے دن تمہارے حساب لیا جائے تم اس دنیا میں اپنا حساب خود کرلو کیونکہ قیامت کے دن پچاس ۵۰ مقامات پر بندوں کا حساب لیا جائے گا اور ایک مقام میں ہزار سال تک اس کا حساب لیا جاتا رہے گا ‘‘ اب کیا کریں؟
مولا ئے کائنات ؑ نے ارشاد فرمایا ’’ ایک زمانہ ایسا آئے گا جس میں بُرائیاں بہت بڑھ جائینگی جب تم اس زمانے کو پاؤ تو باوضو رہو ۔ ‘‘ پاکیزہ اور صاف ماحول میں ہی پاکیزہ افراد پروان چڑھتے ہیں ۔ بُرائی کے ماحول میں بہت مشکل ہے کہ نیک انسان پروان چڑھ سکیں ۔ خواہ تعلیمات کتنی ہی طاقتور اور موثرہوں ۔ جسطرح بارش کے قطرات بنجر زمین پرچاہے مسلسل ہی کیوں نہ برستے رہیں وہاں پھولوں کے اُگنے کی خواہش کرنا فضول ہوتی ہے ۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ جس گھر میں ٹی ۔ وی چینلز شُترِبے مہار کی طرح چل رہے ہوں وہاں پہ پلنے والے بچے صالح بن جائیں ضروری ہے کہ جو چینلز اخلاقی اقدار وکردار کے لیے خطرناک ہوں ان پر لاک سسٹم کے ذریعے بند باندھا جائے ۔ صرف اتنا کافی نہیں ہے بلکہ گھر میں مجالس عزاء کی سیڈیز چلائی جائیں ۔ دعائے توسل ’ دعائے کمیل ’ حدیثِ کساء کی پاکیزہ محافل برپا کیں جائیں ۔
اگر ایسا نہ کیا گیا تو یاد رکھیے ماحول کی بُرائی اور گناہوں کا باربار مشاہدہ اسکی برائی کو نگاہ میں کم کر دیتاہے اور آہستہ آہستہ سے ایک عام چیز بنادیتا ہے ۔ جیسے بے پردگی ایک عام سی بن کر رہ گئی ہے جبکہ معصومین ؑ نے بے پردہ عورت کو شیطان کے ہراول دستے میں شمارکیا ہے ۔
مولا علی علیہ السلامنے نہج البلاغہ میں ارشادفرمایا ہے کہ بچپن کی تعلیم پتھر کی لکیر ہوتی ہے ۔ بچہ اچھی یا بری صفات گھریلو ماحول ماں باپ بھائی بہنوں سے سیکھتا ہے اس طرح گناہ جھوٹ خیانت بے حیائی بد اخلاقی جیسی برائیاں بھی بچے بڑوں کو دیکھ کر سیکھتے ہیں ۔ ‘‘ لہذا وہ صاحبان جو اپنے بچوں کا مستقبل سنوارنا چاہتے ہیں ان کو خصوصی خیال کرنا پڑے گا ۔ سب سے بہتر تو یہ ہوگا کہ وہ خود بھی گناہ انجام نہ دیں اگر خدانخواستہ سرزد ہو بھی جائیں تو فوری طور پر توبہ کریں اور اس کے ازالے کے لیے کوئی نہ کوئی نیکی کا کام بھی انجام ضرور دیں۔ اگر غیر اﷲ نہیں چھوڑ سکتے تو اﷲ کو بھی تو مت چھوڑئیے ۔
گناہانِ کبیرہ و صغیرہ سے بچنا تب ہی ممکن ہے جب ان کے بارے میں معلومات ہونگی ۔ ان کے نقصانات کی معلومات حاصل کرنے کے لیے ’’ قرآن مجید نہج البلاغہ تہذیب السلام ’ قلب سلیم ’ ’خود سازی الانسان الکامل ’’معراج السعادہ ’’روح الحیات ’’ حق الیقین ’’ہدیۃالشیعہ ’’ نصائح ’ ’صحیفہ کاملہ ’ اور صحیفہ سجادیہ جیسی کتب کا مطالعہ کرنے سے گوہر مقصود حاصل ہو سکتا ہے۔ گناہوں کی تلافی کے لیے اور اپنی آخرت کی فلاح کے لیے نماز کے ذریعے سے اﷲ رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم اور آئمہ طاہرین ؑ کی خوشنودی حاصل کیجیئے ۔
انشاء اﷲ بہت جلد آپ کا دل قلبِ ذمیم سے قلب سلیم میں بدل جائے گا ۔ اور آپ اﷲ کے فضل و کرم سے یوم لا ینفع مال و بنون الا من اتی اﷲ بقلب سلیم کے مصداق بن کر قرب معصومین ؑ میں رہنے کے مستحق بن جائینگے ۔ اور یہی انسانیت کی معراج ہے ۔
نماز کی اہمیت اور فواہد سے تو کوئی بدبخت ہی انکار کرسکتا ہے ۔ یہ اﷲ تعالی ٰ کی نعمتوں میں سے وہ نعمت ہے جسے ہر عبادت کی سردار کہا گیا ہے ۔ اگر نماز پر کسی نعمت الہیہٰ کوفوقیت حاصل ہے
تو وہ ولایت حضرت علی ابن ابیطالب علیہ السلام ہے ۔ جسے ہر عبادت کی روح کہا گیا ہے ۔
نماز کے متعلقہ تمام سوالات کے لیے ہر مقلد اپنے اپنے مجتہد کی طرف رجوع کرے ۔ یا قریب ترین عالم دین سے یا علم دوست شخصیتوں سے رابطہ کرے ۔ ہمارا مقصد فروعی اختلافات پر بحث کرنا نہیں ہے بلکہ ان باتوں کی طرف توجہات مبذول کرانا ہے جن پر اکثریت نے غور کرنا مناسب ہی نہیں سمجھا۔
ہرامر کی انجام دہی اور تکمیل کے لیے کچھ شرائط ہوا کرتی ہیں ۔جن کی تکمیل کے بغیر مقصد کا پورا ہونا ممکن ہی نہیں ۔ اسی طرح نمازکی تکمیل کے لیے بھی کچھ شرائط ہیں۔ جب تک وہ شرطیں پوری نہ ہوں نمازکامل نہیں ہوسکتی اورجب نمازکامل ہی نہ ہو تو اس کے فوائد کیسے حاصل ہوسکتے ہیں ۔ ؟
شرائطِ نما ز
نماز کی سب سے پہلی شرط صحتِ طہارت ہے اور طہارت کی دوقسمیں ہیں ۔
۱ ۔ طہارت ظا ھریہ ۲ ۔ طہارت با طنیہ
۱۔ طہارت ظا ہریہ یہ ہے کہ نما ز گذار کا لبا س اور جسم پاک ہو ۔ طہارت باطنیہ یہ ہے کہ دل نور اسلام و ایمان سے روشن ہو ۔ عاداتِ رذیلہ وخیالاتِ فاسدہ سے پاک ہو ۔ یہ فکر ضرور ہونی چاہیے کہ جو غذا استعمال کی جا رہی ہے ا س میں کسی یتیم ’ بیوہ’ محتاج ’ فقیر اور مسکین کا حق توشامل نہیں ہے ؟ رشوت’ سُود یا چوری کا روپیہ تو اس خوراک میں نہیں ملا ہو ا ؟ ا گرکسی قسم کا ناجا ئز روپیہ خوراک میں شامل ہے تواس خوراک سے بننے والا گوشت ا ور خون نجس ہے یا پاک ؟ اس کا فیصلہ خود ہی کر لیں اگر اس قسم کی چیزوں سے آپ کی غذا پاک ہے اورآپکے خون میں حبِ آل محمدؑ بھی ہے اورآپ عقیدہ ِ صحیح کی دولت سے بھی مالامال ہیں تو پھر حق الیقین
۷ ۔ آئینہ خاموشی کے ساتھ عیب اگر ہوں تو بیان کرتا ہے دوسروں کو نہیں بتاتا ۔
۸ ۔ آئینہ کی سچائی بیان کرنے کی وجہ سے گر کوئی اسے توڑبھی دے تو ایک ایک ٹکڑا پھر بھی
سچائی کا مظہر ہوتا ہے ۔
۹ ۔ آئینہ سامنے والے کے عیبوں کو جمع نہیں کرتا بلکہ جونہی سامنے والا ہٹتا ہے
اسکے عیب بھی آئینہ زائل کردیتا ہے ۔
۱۰ ۔ آئینہ چھوٹا ہویا بڑا اس کی صفات کبھی بھی تبدیل نہیں ہوتے ۔
مندرجہ بالا صفات ایک مرتبہ پھر غور سے پڑھ کر فیصلہ کریں کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے تھا اور ہم نے اب تک کیا کیاہے ؟ اب خود ہی غور کریں کہ ہم میں کتنے عیب ہیں ۔ خود سے سوال کریں کہ کہیں ہم دوسروں کے اعمال نامے کا اشتہار بنے ہوئے تو نہیں ہیں ؟ اگر ایسا ہے تو یہ دوسروں کا عیب نہیں ہے بلکہ ہمارا ہی ہے ۔
رسول اکرم صلی اﷲعلیہ وآلہ وسلمنے ارشادفرمایا کہ ’’ کیا میں تمہیں عقلمندوں کا عقلمند اور احمقوں کا احمق نہ بتادوں ؟ صحابہ نے عرض کی ارشاد فرمائیے ۔آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
’’ سب سے عقلمند انسان وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور مرنے کے بعد کے لیے نیک اعمال بجالائے اور سب سے احمق وہ ہے جو خواہشاتِ نفس کی پیروی کرے اوران کے حصول میں سر گرم رہے ۔ ‘‘
مولائے متقیان حضرت علی علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں ’’ جو شخص اپنے نفس کا حساب کرے وہ اپنے عیبوں سے آگاہ ہوجاتاہے اور اپنے گناہوں کوجان لیتا ہے اور انسے توبہ کرتا ہے اور اپنے عیبوں کی اصلاح کرتا ہے ‘‘۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشادفرمایا کہ ’’ اس سے پہلے کہ قیامت کے دن تمہارے حساب لیا جائے تم اس دنیا میں اپنا حساب خود کرلو کیونکہ قیامت کے دن پچاس ۵۰ مقامات پر بندوں کا حساب لیا جائے گا اور ایک مقام میں ہزار سال تک اس کا حساب لیا جاتا رہے گا ‘‘ اب کیا کریں؟
مولا ئے کائنات ؑ نے ارشاد فرمایا ’’ ایک زمانہ ایسا آئے گا جس میں بُرائیاں بہت بڑھ جائینگی جب تم اس زمانے کو پاؤ تو باوضو رہو ۔ ‘‘ پاکیزہ اور صاف ماحول میں ہی پاکیزہ افراد پروان چڑھتے ہیں ۔ بُرائی کے ماحول میں بہت مشکل ہے کہ نیک انسان پروان چڑھ سکیں ۔ خواہ تعلیمات کتنی ہی طاقتور اور موثرہوں ۔ جسطرح بارش کے قطرات بنجر زمین پرچاہے مسلسل ہی کیوں نہ برستے رہیں وہاں پھولوں کے اُگنے کی خواہش کرنا فضول ہوتی ہے ۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ جس گھر میں ٹی ۔ وی چینلز شُترِبے مہار کی طرح چل رہے ہوں وہاں پہ پلنے والے بچے صالح بن جائیں ضروری ہے کہ جو چینلز اخلاقی اقدار وکردار کے لیے خطرناک ہوں ان پر لاک سسٹم کے ذریعے بند باندھا جائے ۔ صرف اتنا کافی نہیں ہے بلکہ گھر میں مجالس عزاء کی سیڈیز چلائی جائیں ۔ دعائے توسل ’ دعائے کمیل ’ حدیثِ کساء کی پاکیزہ محافل برپا کیں جائیں ۔
اگر ایسا نہ کیا گیا تو یاد رکھیے ماحول کی بُرائی اور گناہوں کا باربار مشاہدہ اسکی برائی کو نگاہ میں کم کر دیتاہے اور آہستہ آہستہ سے ایک عام چیز بنادیتا ہے ۔ جیسے بے پردگی ایک عام سی بن کر رہ گئی ہے جبکہ معصومین ؑ نے بے پردہ عورت کو شیطان کے ہراول دستے میں شمارکیا ہے ۔
مولا علی علیہ السلامنے نہج البلاغہ میں ارشادفرمایا ہے کہ بچپن کی تعلیم پتھر کی لکیر ہوتی ہے ۔ بچہ اچھی یا بری صفات گھریلو ماحول ماں باپ بھائی بہنوں سے سیکھتا ہے اس طرح گناہ جھوٹ خیانت بے حیائی بد اخلاقی جیسی برائیاں بھی بچے بڑوں کو دیکھ کر سیکھتے ہیں ۔ ‘‘ لہذا وہ صاحبان جو اپنے بچوں کا مستقبل سنوارنا چاہتے ہیں ان کو خصوصی خیال کرنا پڑے گا ۔ سب سے بہتر تو یہ ہوگا کہ وہ خود بھی گناہ انجام نہ دیں اگر خدانخواستہ سرزد ہو بھی جائیں تو فوری طور پر توبہ کریں اور اس کے ازالے کے لیے کوئی نہ کوئی نیکی کا کام بھی انجام ضرور دیں۔ اگر غیر اﷲ نہیں چھوڑ سکتے تو اﷲ کو بھی تو مت چھوڑئیے ۔
گناہانِ کبیرہ و صغیرہ سے بچنا تب ہی ممکن ہے جب ان کے بارے میں معلومات ہونگی ۔ ان کے نقصانات کی معلومات حاصل کرنے کے لیے ’’ قرآن مجید نہج البلاغہ تہذیب السلام ’ قلب سلیم ’ ’خود سازی الانسان الکامل ’’معراج السعادہ ’’روح الحیات ’’ حق الیقین ’’ہدیۃالشیعہ ’’ نصائح ’ ’صحیفہ کاملہ ’ اور صحیفہ سجادیہ جیسی کتب کا مطالعہ کرنے سے گوہر مقصود حاصل ہو سکتا ہے۔ گناہوں کی تلافی کے لیے اور اپنی آخرت کی فلاح کے لیے نماز کے ذریعے سے اﷲ رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم اور آئمہ طاہرین ؑ کی خوشنودی حاصل کیجیئے ۔
انشاء اﷲ بہت جلد آپ کا دل قلبِ ذمیم سے قلب سلیم میں بدل جائے گا ۔ اور آپ اﷲ کے فضل و کرم سے یوم لا ینفع مال و بنون الا من اتی اﷲ بقلب سلیم کے مصداق بن کر قرب معصومین ؑ میں رہنے کے مستحق بن جائینگے ۔ اور یہی انسانیت کی معراج ہے ۔
نماز کی اہمیت اور فواہد سے تو کوئی بدبخت ہی انکار کرسکتا ہے ۔ یہ اﷲ تعالی ٰ کی نعمتوں میں سے وہ نعمت ہے جسے ہر عبادت کی سردار کہا گیا ہے ۔ اگر نماز پر کسی نعمت الہیہٰ کوفوقیت حاصل ہے
تو وہ ولایت حضرت علی ابن ابیطالب علیہ السلام ہے ۔ جسے ہر عبادت کی روح کہا گیا ہے ۔
نماز کے متعلقہ تمام سوالات کے لیے ہر مقلد اپنے اپنے مجتہد کی طرف رجوع کرے ۔ یا قریب ترین عالم دین سے یا علم دوست شخصیتوں سے رابطہ کرے ۔ ہمارا مقصد فروعی اختلافات پر بحث کرنا نہیں ہے بلکہ ان باتوں کی طرف توجہات مبذول کرانا ہے جن پر اکثریت نے غور کرنا مناسب ہی نہیں سمجھا۔
ہرامر کی انجام دہی اور تکمیل کے لیے کچھ شرائط ہوا کرتی ہیں ۔جن کی تکمیل کے بغیر مقصد کا پورا ہونا ممکن ہی نہیں ۔ اسی طرح نمازکی تکمیل کے لیے بھی کچھ شرائط ہیں۔ جب تک وہ شرطیں پوری نہ ہوں نمازکامل نہیں ہوسکتی اورجب نمازکامل ہی نہ ہو تو اس کے فوائد کیسے حاصل ہوسکتے ہیں ۔ ؟
شرائطِ نما ز
نماز کی سب سے پہلی شرط صحتِ طہارت ہے اور طہارت کی دوقسمیں ہیں ۔
۱ ۔ طہارت ظا ھریہ ۲ ۔ طہارت با طنیہ
۱۔ طہارت ظا ہریہ یہ ہے کہ نما ز گذار کا لبا س اور جسم پاک ہو ۔ طہارت باطنیہ یہ ہے کہ دل نور اسلام و ایمان سے روشن ہو ۔ عاداتِ رذیلہ وخیالاتِ فاسدہ سے پاک ہو ۔ یہ فکر ضرور ہونی چاہیے کہ جو غذا استعمال کی جا رہی ہے ا س میں کسی یتیم ’ بیوہ’ محتاج ’ فقیر اور مسکین کا حق توشامل نہیں ہے ؟ رشوت’ سُود یا چوری کا روپیہ تو اس خوراک میں نہیں ملا ہو ا ؟ ا گرکسی قسم کا ناجا ئز روپیہ خوراک میں شامل ہے تواس خوراک سے بننے والا گوشت ا ور خون نجس ہے یا پاک ؟ اس کا فیصلہ خود ہی کر لیں اگر اس قسم کی چیزوں سے آپ کی غذا پاک ہے اورآپکے خون میں حبِ آل محمدؑ بھی ہے اورآپ عقیدہ ِ صحیح کی دولت سے بھی مالامال ہیں تو پھر حق الیقین
کی کمی آپ دورکرلیجیے ۔ پھر جو بھی جائز دعا مانگیں گے اس کا تعلق چاہے مشروطی سے ہو یا حتمی سے اﷲ تعالی ضرورمستجاب فرمائینگے ۔
اﷲ تعالی کے عدل سے یہ بعید ہے کہ وہ ’’ مجھ سے مانگومیں عطا کروں گا ‘‘ کا حکم بھی دے اور پھر قبول نہ کرے۔ دعا نہ مانگنے کو گناہ قراردے۔اور خالی بھی لوٹا دے ۔(جامع صغیر حدیث ۶۶۳۳۔ ۲۵ )
اُس حکیم مطلق نے اپنے بندوں سے قبولیت ِ دعا کا وعدہ فرمایا ہے۔ مگر بعض اوقات دعائیں قبول ہوتی نظر نہیں آتیں ۔ اس کی چند وجوہات ہیں ۔
۱ ۔ اﷲ تعالی ٰ کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے اگر اس کی مصلحت اجازت دیتی ہے تو دعا شرف قبولیت پاتی ہے ۔ ۲ ۔ دعا کی قبولیت کی کچھ شرائط ہیں ۔ جیسے اگر کہا جائے کہ نماز پڑھنے سے نمازی کی بخشش و مغفرت ہوتی ہے ۔ اس میں کوئی شک تو نہیں ہے مگرنماز کے بھی کچھ شرائط ہیں ۔ اگر نماز بغیر وضو کیے پڑھ لی جائے تو کافی نہ ہوگی ۔ اسی طرح دعا کے لیے بھی کچھ شرائط ہیں ۔جب تک وہ شرائط عجز وانکساری گریہ و زاری معرفعت عبادت ترک معاصی اکل ِ حلال صدق مقال وغیرہ کا فقدان ہوگادعا مانگنے کا ثواب تو ضرور مل جائے گا مگر مقام استجابت نہ پا سکے گا ۔
۳ ۔ دعاگو بندے کی آواز اﷲ تعالیٰ کو پسند ہونے کی وجہ سے تاخیر کا سبب بننا ۔ احمد بن ابی نصر نے جناب امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں عرض کی ۔ آقاکتنے ہی سال گذر گئے ہیں دعا مانگتے ہوئے مگر میری دعا قبول ہی نہیں ہو رہی ہے ۔ اس تاخیر سے میرے دل میں شبہ پیدا ہوگیا ہے ۔ آپؑ نے فرمایا اے احمد اپنے دل کو شیطانی وسوسے سے پاک رکھ ۔ وہی تجھے اﷲ کی رحمت سے مایوس کر رہا ہے ۔ میرے جدِ بزرگوارامام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا مومن کو لازم ہے کہ جس طرح تکلیف ومصیبت کے وقت دعا کرتا ہے آرام و راحت کے وقت بھی اسی طرح دعا کرتا رہے۔ جب اُمید بر آئے دعا کوکم نہ کرے اُکتا نہ جائے کیونکہ اﷲ کے نزدیک دعا کا مرتبہ بہت بزرگ ہے ۔ تجھے لازم ہے کہ تنگی اور بلاء کے وقت صبر کرے ۔ حلال شے اﷲسے طلب کرے صلہ رحم میں کوتاہی نہ کرے لوگوں کے لڑائی جھگڑے اورعداوت سے پرہیز کرے بتحقیق ہم اہلِ بیت ؑ ملاپ رکھتے ہیں اس شخص سے جو تم سے قطع تعلق کرنا چاہے ۔ اور جو ہمارے ساتھ بدی کرے ہم اس کے عوض نیکی کرتے ہیں ۔ قسم ہے خدا کی اس کا انجام ہم اچھا دیکھتے ہیں ۔ تجھ کو معلوم ہو کہ اگر کوئی دولت مند کسی کو کچھ دے تو اس محتاج کو اس کا بہت خیال ہوجائے گا تاکہ اورزیادہ دے ۔بلکہ اس کے خیال میں اﷲ کو بھول جائے گا ۔
ا ﷲتعالیٰ جس بندے کو نعمتیں عطا فرمائے ضرور اس کا خیا ل ہونا چاہیے ۔ کیونکہ ان نعمتوں کے ساتھ بہت سے حقوق اﷲ تعالی ٰ نے اس پر واجب کر دیے ہیں ۔ اگرخیال نہ کرے گا تو اندیشہ ہے کہ حقوق ادا نہ کرنے سے غرور اور سرکشی میں گرفتارہو جائے ۔ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا کہ کبھی بندہِ مومن کی دعا تاخیر سے اس لیے بھی قبول ہوتی ہے کہ اﷲ تعالی ٰ اپنے مخلص بندے کی آواز بار بار سننا چاہتا ہے ۔
امام ؑ نے ایک شخص سے فرمایا کہ میں تم سے اگر کسی چیز کا وعدہ کروں تو تم اعتبار کرلوگے ؟ اس نے عرض کیا یاابن رسول ؐاﷲ بھلا آپ کا اعتبار کیسے نہ کروں گا ؟ آپ ؑ نے فرمایا کہ ایک بندے کا تو تم اعتبار کر لوگے اور خدا نے جو تم سے وعدہ فرمایا ہے اس کا اعتبار نہیں کرتے ۔
فرمایا پس لازم ہے کہ اﷲ تعالی ٰ کے وعدے پر سب سے زیادہ یقین رکھ ۔ اﷲ نے تجھ سے وعدہ کیاہے ۔ اپنے دل میں اور کسی خیال کو جگہ نہ دو تاکہ تمہارے گناہ بخشے جائیں ۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے آپ ؑ نے فرمایا بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ دعا قبول فرما لیتا ہے مگر اس کو عطا کرنے میں دیر کرتا ہے ۔ اﷲ تعالیٰ ان فرشتوں سے جو اس پر موکل ہیں ارشاد فرماتا ہے کہ میں نے اس کی دعا قبول فرمالی ہے مگر اس کا مطلوب اُسے ابھی نہ دو تاکہ یہ اور دعا مانگے مجھے اس کی آواز پسند ہے ۔ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ اﷲتعالی ٰ ارشادفرماتا ہے اس کی حاجت جلدی پوری کرو کیونکہ میں اس کی آواز پسند نہیں کرتا ۔
ایک وجہ یہ ہے کہ اگر اﷲ تعالیٰ بندے کی دعا قبول نہیں فرماتا تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اس مطلوبہ چیز کی طلب میں اس کا نقصان دیکھ کر اﷲ تعالیٰ اس سے بہتر وعمدہ چیز عطا کرنا چاہتا ہے ۔آداب و اسباب استجابت دعا
حضرت امام محمد باقر علیہ ا لسلام ارشادفرماتے ہیں کہ اگر مذکورہ شرائط پر عمل کرکے دعا مانگی جائے تو اس کی دعا ضرور قبول ہوگی۔
۱۔ با وضوہو کر دعا کرے ۔ ۲۔ رو بقبلہ ہو کر دعاکرے ۔ ۳۔ا ول و آخر درودشریف پڑھے ۔
۴ ۔حضور قلب کے ساتھ دعا کرے ۔ ۵ ۔ دعا سے پہلے صدقہ دے ۔ ۶۔ گڑگڑاکردعاکرے۔ ۷ ۔ ہمیشہ اپنی دعا وں میں دوسرے مومنین کو بھی شا مل رکھے ۔ ۸ ۔ اجتماعی طور پر دعا کرے ۔
۹ ۔ حضرت امام جعفر صاد ق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں کہ جس جگہ چالیس مومنین جمع ہوکر دعا کریں گے تو وہ دعا ضرور قبول ہوگی ۔ پھر فرمایاکہ چالیس ممکن نہ ہو تو چا رآدمی دس۱۰ مرتبہ دعا کریں اور یہ بھی ممکن نہ ہو تو ایک آدمی چالیس مرتبہ دعا کرے ۔ ایک طریقہ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایک أدمی دعا کرے اور باقی لوگ آمین کہیں ۔ دعا کرنے والا اور آمین کہنے والا دونوں شریک دعا سمجھے جاتے ہیں ۔ ۰ ۱ ۔ جب دعا کرنا ہوتو پہلے اوصاف الہی بیان کرو پھرصلوات پڑھو گریہ کروچاہے ایک ہی آنسو ہو۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں کہ بندے کے تقرب کا بہترین وقت وہ ہوتا ہے جب وہ سجدہ میں گریہ و زاری کررہاہوتا ہے ۔اﷲ تعالی ٰکے نزدیک تاریکیِ شب میں قطرہ اشک سے زیادہ محبوب کوئی شئے نہیں ہے ۔
اﷲ تعالی کے عدل سے یہ بعید ہے کہ وہ ’’ مجھ سے مانگومیں عطا کروں گا ‘‘ کا حکم بھی دے اور پھر قبول نہ کرے۔ دعا نہ مانگنے کو گناہ قراردے۔اور خالی بھی لوٹا دے ۔(جامع صغیر حدیث ۶۶۳۳۔ ۲۵ )
اُس حکیم مطلق نے اپنے بندوں سے قبولیت ِ دعا کا وعدہ فرمایا ہے۔ مگر بعض اوقات دعائیں قبول ہوتی نظر نہیں آتیں ۔ اس کی چند وجوہات ہیں ۔
۱ ۔ اﷲ تعالی ٰ کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے اگر اس کی مصلحت اجازت دیتی ہے تو دعا شرف قبولیت پاتی ہے ۔ ۲ ۔ دعا کی قبولیت کی کچھ شرائط ہیں ۔ جیسے اگر کہا جائے کہ نماز پڑھنے سے نمازی کی بخشش و مغفرت ہوتی ہے ۔ اس میں کوئی شک تو نہیں ہے مگرنماز کے بھی کچھ شرائط ہیں ۔ اگر نماز بغیر وضو کیے پڑھ لی جائے تو کافی نہ ہوگی ۔ اسی طرح دعا کے لیے بھی کچھ شرائط ہیں ۔جب تک وہ شرائط عجز وانکساری گریہ و زاری معرفعت عبادت ترک معاصی اکل ِ حلال صدق مقال وغیرہ کا فقدان ہوگادعا مانگنے کا ثواب تو ضرور مل جائے گا مگر مقام استجابت نہ پا سکے گا ۔
۳ ۔ دعاگو بندے کی آواز اﷲ تعالیٰ کو پسند ہونے کی وجہ سے تاخیر کا سبب بننا ۔ احمد بن ابی نصر نے جناب امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں عرض کی ۔ آقاکتنے ہی سال گذر گئے ہیں دعا مانگتے ہوئے مگر میری دعا قبول ہی نہیں ہو رہی ہے ۔ اس تاخیر سے میرے دل میں شبہ پیدا ہوگیا ہے ۔ آپؑ نے فرمایا اے احمد اپنے دل کو شیطانی وسوسے سے پاک رکھ ۔ وہی تجھے اﷲ کی رحمت سے مایوس کر رہا ہے ۔ میرے جدِ بزرگوارامام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا مومن کو لازم ہے کہ جس طرح تکلیف ومصیبت کے وقت دعا کرتا ہے آرام و راحت کے وقت بھی اسی طرح دعا کرتا رہے۔ جب اُمید بر آئے دعا کوکم نہ کرے اُکتا نہ جائے کیونکہ اﷲ کے نزدیک دعا کا مرتبہ بہت بزرگ ہے ۔ تجھے لازم ہے کہ تنگی اور بلاء کے وقت صبر کرے ۔ حلال شے اﷲسے طلب کرے صلہ رحم میں کوتاہی نہ کرے لوگوں کے لڑائی جھگڑے اورعداوت سے پرہیز کرے بتحقیق ہم اہلِ بیت ؑ ملاپ رکھتے ہیں اس شخص سے جو تم سے قطع تعلق کرنا چاہے ۔ اور جو ہمارے ساتھ بدی کرے ہم اس کے عوض نیکی کرتے ہیں ۔ قسم ہے خدا کی اس کا انجام ہم اچھا دیکھتے ہیں ۔ تجھ کو معلوم ہو کہ اگر کوئی دولت مند کسی کو کچھ دے تو اس محتاج کو اس کا بہت خیال ہوجائے گا تاکہ اورزیادہ دے ۔بلکہ اس کے خیال میں اﷲ کو بھول جائے گا ۔
ا ﷲتعالیٰ جس بندے کو نعمتیں عطا فرمائے ضرور اس کا خیا ل ہونا چاہیے ۔ کیونکہ ان نعمتوں کے ساتھ بہت سے حقوق اﷲ تعالی ٰ نے اس پر واجب کر دیے ہیں ۔ اگرخیال نہ کرے گا تو اندیشہ ہے کہ حقوق ادا نہ کرنے سے غرور اور سرکشی میں گرفتارہو جائے ۔ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا کہ کبھی بندہِ مومن کی دعا تاخیر سے اس لیے بھی قبول ہوتی ہے کہ اﷲ تعالی ٰ اپنے مخلص بندے کی آواز بار بار سننا چاہتا ہے ۔
امام ؑ نے ایک شخص سے فرمایا کہ میں تم سے اگر کسی چیز کا وعدہ کروں تو تم اعتبار کرلوگے ؟ اس نے عرض کیا یاابن رسول ؐاﷲ بھلا آپ کا اعتبار کیسے نہ کروں گا ؟ آپ ؑ نے فرمایا کہ ایک بندے کا تو تم اعتبار کر لوگے اور خدا نے جو تم سے وعدہ فرمایا ہے اس کا اعتبار نہیں کرتے ۔
فرمایا پس لازم ہے کہ اﷲ تعالی ٰ کے وعدے پر سب سے زیادہ یقین رکھ ۔ اﷲ نے تجھ سے وعدہ کیاہے ۔ اپنے دل میں اور کسی خیال کو جگہ نہ دو تاکہ تمہارے گناہ بخشے جائیں ۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے آپ ؑ نے فرمایا بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ دعا قبول فرما لیتا ہے مگر اس کو عطا کرنے میں دیر کرتا ہے ۔ اﷲ تعالیٰ ان فرشتوں سے جو اس پر موکل ہیں ارشاد فرماتا ہے کہ میں نے اس کی دعا قبول فرمالی ہے مگر اس کا مطلوب اُسے ابھی نہ دو تاکہ یہ اور دعا مانگے مجھے اس کی آواز پسند ہے ۔ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ اﷲتعالی ٰ ارشادفرماتا ہے اس کی حاجت جلدی پوری کرو کیونکہ میں اس کی آواز پسند نہیں کرتا ۔
ایک وجہ یہ ہے کہ اگر اﷲ تعالیٰ بندے کی دعا قبول نہیں فرماتا تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اس مطلوبہ چیز کی طلب میں اس کا نقصان دیکھ کر اﷲ تعالیٰ اس سے بہتر وعمدہ چیز عطا کرنا چاہتا ہے ۔آداب و اسباب استجابت دعا
حضرت امام محمد باقر علیہ ا لسلام ارشادفرماتے ہیں کہ اگر مذکورہ شرائط پر عمل کرکے دعا مانگی جائے تو اس کی دعا ضرور قبول ہوگی۔
۱۔ با وضوہو کر دعا کرے ۔ ۲۔ رو بقبلہ ہو کر دعاکرے ۔ ۳۔ا ول و آخر درودشریف پڑھے ۔
۴ ۔حضور قلب کے ساتھ دعا کرے ۔ ۵ ۔ دعا سے پہلے صدقہ دے ۔ ۶۔ گڑگڑاکردعاکرے۔ ۷ ۔ ہمیشہ اپنی دعا وں میں دوسرے مومنین کو بھی شا مل رکھے ۔ ۸ ۔ اجتماعی طور پر دعا کرے ۔
۹ ۔ حضرت امام جعفر صاد ق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں کہ جس جگہ چالیس مومنین جمع ہوکر دعا کریں گے تو وہ دعا ضرور قبول ہوگی ۔ پھر فرمایاکہ چالیس ممکن نہ ہو تو چا رآدمی دس۱۰ مرتبہ دعا کریں اور یہ بھی ممکن نہ ہو تو ایک آدمی چالیس مرتبہ دعا کرے ۔ ایک طریقہ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایک أدمی دعا کرے اور باقی لوگ آمین کہیں ۔ دعا کرنے والا اور آمین کہنے والا دونوں شریک دعا سمجھے جاتے ہیں ۔ ۰ ۱ ۔ جب دعا کرنا ہوتو پہلے اوصاف الہی بیان کرو پھرصلوات پڑھو گریہ کروچاہے ایک ہی آنسو ہو۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں کہ بندے کے تقرب کا بہترین وقت وہ ہوتا ہے جب وہ سجدہ میں گریہ و زاری کررہاہوتا ہے ۔اﷲ تعالی ٰکے نزدیک تاریکیِ شب میں قطرہ اشک سے زیادہ محبوب کوئی شئے نہیں ہے ۔
اوقاتِ دُ عا
۱ ۔ فجر نماز کے بعد ۔ ۲ ۔ آذان اور اقامت کے درمیان ۔ ۳ ۔ نماز تہجد کے وقت ۔ ۴ ۔ بارش کے وقت ۔ ۵ ۔ حلال سفر کے دوران ۔ ۶ ۔ بعد خطبہ جمعہ اور نما زجمعہ سے قبل ۔
۷ ۔ شبِ قدر میں ۔ ۸ ۔ وقت ِ افطار۔ ۹۔زم زم کا پانی پیتے وقت ۱۰۔ میدان ِ عرفات میں۔ ۱۱ ۔ بیت اﷲ پہ پہلی نظر ڈالتے وقت ۔ ۱۲ ۔ حرمِ معصو مین ؑ میں۔ ۱۳ ۔ مسجدِ نبوی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم میں ۔ ۱۴ ۔ حجر ِ اسود کے سامنے۔ ۱۵ ۔تلاوت قرآن مجید کے وقت ۔ ۱۶ ۔ بیمار کی عیادت کے وقت۔ ۱۷۔صدقہ وخیرات دیتے وقت۔ ۱۸ ۔غمِ امام حسین ؑ میں چشمِ ترکے وقت ۱۹ ۔ والدین کی اولاد کے حق میں کی جانے والی دعا کے وقت۔ ۲۰۔یتیم کی داد رسی کے وقت۔ ۲۱ ۔ نکاح کے وقت ۔۲۲۔نمازباجماعت کے وقت۔ ۲۳ ۔ قبرستان میں وقتِ دفن ۔ ۲۴۔ وقت ابتلاء صبر کرنے پر ۔
قابل توجہ جو دوسری چیز ہے وہ ریاء اور عجب ہے ۔
۷ ۔ شبِ قدر میں ۔ ۸ ۔ وقت ِ افطار۔ ۹۔زم زم کا پانی پیتے وقت ۱۰۔ میدان ِ عرفات میں۔ ۱۱ ۔ بیت اﷲ پہ پہلی نظر ڈالتے وقت ۔ ۱۲ ۔ حرمِ معصو مین ؑ میں۔ ۱۳ ۔ مسجدِ نبوی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم میں ۔ ۱۴ ۔ حجر ِ اسود کے سامنے۔ ۱۵ ۔تلاوت قرآن مجید کے وقت ۔ ۱۶ ۔ بیمار کی عیادت کے وقت۔ ۱۷۔صدقہ وخیرات دیتے وقت۔ ۱۸ ۔غمِ امام حسین ؑ میں چشمِ ترکے وقت ۱۹ ۔ والدین کی اولاد کے حق میں کی جانے والی دعا کے وقت۔ ۲۰۔یتیم کی داد رسی کے وقت۔ ۲۱ ۔ نکاح کے وقت ۔۲۲۔نمازباجماعت کے وقت۔ ۲۳ ۔ قبرستان میں وقتِ دفن ۔ ۲۴۔ وقت ابتلاء صبر کرنے پر ۔
قابل توجہ جو دوسری چیز ہے وہ ریاء اور عجب ہے ۔
یہ اتنی خطرناک روحانی بیماری ہے کہ فرمان رسالت ؐہے کہ کل ریاء شرک ہر ریا شرک ہے ۔ لہذا اس کا خیال کرنا نہایت ضروری ہے ۔ کہ کہیں ریا ء و عجب کا دخل ہوگیا تو تمام کوششیں بے کار ہو جائیں گی
۔ کیونکہ اس کی بعض صورتیں ایسی ہیں جوغیر شعوری طور پر شرک خفی تک پہنچا دیتی ھیں ۔ ریا کی دو قسمیں ہیں ۔ ۱۔ ر یا ء خالص ۲۔ ریاء مخلوط
۱۔ ریا ء خالص ریاء خالص کے معنی یہ ہے کہ عمل خوشنودی خدا کے لیے نہ ہو بلکہ غیراﷲ کی رضا مطلوب ہو ۔ یا دنیاوی فوائد کی نیت سے کیا جائے ۔ مثلا نماز اس لیے پڑھے کہ لوگ اس کی عزت کریں یا سخا وت اس لیے کرے کہ حاتم طائی مشہور ہو جائے ۔ یا جہاد اس نیت سے کرے کہ وہ رستم کہلائے یا جہاد کی آڑ میں کوئی ذاتی غرض شامل کر لے ۔
۲۔ ریا ء مخلوط عمل کا مقصد رضائے الہیٰ کے ساتھ ساتھ غیراﷲ کی رضا بھی مطلوب ہو ۔ ان دونوں قسموں کے ریاء سے عمل باطل ہوجا تے ہیں ۔ قسم ا ول کی برائی تو ظاہر ہے اور اﷲ والے تو کبھی بھول کر بھی قریب نہیں جاتے ۔ لیکن دوسری قسم نہایت ہی خطرناک ہے کیونکہ یہ ایسا جال ہے جس میں بہت سے حضرات پھنس جاتے ہیں ۔ یہ عمل کو بیکار ہی نہیں کرتا بلکہ مصیبت بھی بنا دیتا ہے۔
اسباب ریاء
نہایت خلوص نیت سے نماز شروع کی اس اثنا میں کوئی شخص آتا ہے اور ذہن میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ نماز اس طرح ادا کروں کہ یہ شخص مجھ کو نہایت پر خلوص اور با معرفعت نمازی سمجھے ۔ پورا عمل محض تقرب و خلوص سے ختم کرے لیکن بعد میں خود ستائی اور خود نمائی کے لیے اس کو دوسروں سے بیان کرے ۔
حضرت امام جعفر صادق ؑ سے منقول ہے جو شخص پوشیدہ طور سے عمل کرتا ہے ۔ اسے عمل سرِِِ لکھا جاتا ہے جب وہ اس کا اظہار کر دیتا ہے تو یہ تحریر مٹا کر عمل جہر لکھ دیا جاتا ہے ۔اس کے بعد جب پھر اس کا اظہار کیا جاتا ہے توعمل ریاء لکھ لیا جاتا ہے ۔
نوٹیہ یاد رہے کہ اگر اعلان اشتہار یا ذکر و تذکرہ قربۃ الی اﷲ اور عوا م کی ہدایت کے لیے ہو تو یہ عمل خیر میں شمار ہوتا ہے ۔
محمد ابن مسلم نے امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ اگر تمیں اپنے بھائی کے فائدے کاخیال ہے تو اسے آمادہ کرنے کے لیے اپنے عمل خیر کا ذکر کر سکتے ہو ۔ اگر کوئی تم سے پوچھے تم نے نماز شب پڑھی ہے ؟ تم نے روزہ رکھا ہے ؟ تو جو عمل تم نے کیا ہے وہ بیان کردوکیونکہ اﷲ تعالیٰ نے یہ عمل خیر تم کو نصیب کیا ہے ۔ اور نہیں کیا تو مت کہو اس لیے کہ جھوٹ بولنا حرام ہے ۔ ایک مرتبہ جھوٹ بولنے سے چالیس روز تک دعا قبول نہیں ہوتی ۔ اور اگرتوبہ نہ کرے تو اس پر اﷲ کی لعنت ہوتی ہے ۔
ریاء کی مذمت میں ارشاد پروردگار ہوتا ہے کہ فمن کان یرید ثواب الدنیا فعندا ﷲ ثواب الدنیا والاخرۃ ہاں اگر کسی کو ثواب دنیا حاصل کرنا ہے تو کیااسے معلوم نہیں کہ دنیا و آخرت کے ثواب کا مالک صرف اﷲ ہی ہے ۔
ارشاد رسالتماب ؐہے ان اﷲ لیعطی الد نیا بعمل الاخرۃ ولا یعطی الاخرۃ بعمل الدنیا اس میں ذرا بھی شک نہیں کہ اﷲ تعالی عمل اخروی کی برکت سے تو دنیا مرحمت فرما دیتا ہے لیکن عمل دنیا سے آخرت مرحمت نہیں فرماتا ۔
پھر ارشاد فرمایا ۔ بروز قیامت ریا کار چار ۴ ناموں سے پکارے جائیں گے۔
۱۔ آئے کافر ۲۔ آئے بدکار ۳۔ آئے بے وفا ۴۔ آئے نقصان یافتہ ۔
تیری کو شش بیکار ہو گئی اور تیرا اجر ضائع ہو گیا اب تجھ کو خالق کی حمایت حاصل نہیں ہے ۔
آئے دھوکہ دینے والے اپنا اجر اس سے مانگ جس کے لیے یہ سب کچھ کیا ہے ۔
عجب
جس طرح ریاء تمام اعمال حسنہ کو بیکار کردیتا ہے اور کیے کرائے پر پانی پھیر دیتا ہے اسی طرح عجب ( خود پسندی ) بھی اعمال خیر کو برباد کر دیتا ہے ۔ آنحضرتؐنے فرمایا انسان کو تین چیزیں ہلا ک کرتی ہیں ۔ ۱۔ لالچ کا پیچھا کرنا ۔ ۲ ۔ خواہشات کی پیروی کرنا ۔ ۳ ۔ خود پسندی۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشادفرمایا ۔ عجب کے درجے ہیں جن میں ایک یہ ہے کہ انسان اپنے کام کو اچھا سمجھے ۔ اپنی نیکیوں پر نازاں ہو ۔ یہ ایک ایسی عادت
ہے جو بڑھتے بڑھتے ا س حد تک پہنچ جاتی ہے کہ پھر یہ شخص اپنی برائی کو بھی نیکی سمجھنے لگتا ہے ۔
حضرت امام جعفرصادق علیہ السلامنے ارشادفرمایاکبھی ایک ساتھ دو۲ شخص مسجد میں جاتے ہیں جن میں ایک صدیق دوسرا فاسق ہوتاہے لیکن جب نکلتے ہیں تو صدیق فاسق اورفاسق صدیق ہو جاتا ہے ۔ صرف ا س لیے کہ فاسق توبہ کرتاہے اور صدیق اپنے عمل پر عجب کرتا ہے ۔
یہ یاد رہے کہ اپنے عمل و اطاعت پر خوش ہونا ممدوح اس وقت ہے جب یہ سمجھ کر خوش ہوا جائے کہ معبود حقیقی نے توفیق عمل دی ہے تو شایدقبول بھی فرما لے ۔ یا یہ کہ اﷲتعالی نے اپنے فضل وکرم سے عبادت میں عزاداری میں مہمانداری صلہ رحمی میں حق گوئی میں مشہور کردیا ہے جبکہ میں اس کا اہل نہیں اور ممکن ہے کہ جس طرح اﷲ نے اپنے فضل سے مجھے نوازہ ہے اسی طرح مغفرت بھی فرمائے گا ۔
عجب کی روحانی بیماری سے شفاء یاب ہونے کے لیے آئمہ معصومین ؑ کی سیرتِ طیبہ بہترین نمونہ عمل تو ہے ہی ۔ صحیفہ کاملہ صحیفہ سجادیہ کا اور ہدیۃ الشیعہ کا مطالعہ بھی بہترین علاج ہے۔
۱۔ ریا ء خالص ریاء خالص کے معنی یہ ہے کہ عمل خوشنودی خدا کے لیے نہ ہو بلکہ غیراﷲ کی رضا مطلوب ہو ۔ یا دنیاوی فوائد کی نیت سے کیا جائے ۔ مثلا نماز اس لیے پڑھے کہ لوگ اس کی عزت کریں یا سخا وت اس لیے کرے کہ حاتم طائی مشہور ہو جائے ۔ یا جہاد اس نیت سے کرے کہ وہ رستم کہلائے یا جہاد کی آڑ میں کوئی ذاتی غرض شامل کر لے ۔
۲۔ ریا ء مخلوط عمل کا مقصد رضائے الہیٰ کے ساتھ ساتھ غیراﷲ کی رضا بھی مطلوب ہو ۔ ان دونوں قسموں کے ریاء سے عمل باطل ہوجا تے ہیں ۔ قسم ا ول کی برائی تو ظاہر ہے اور اﷲ والے تو کبھی بھول کر بھی قریب نہیں جاتے ۔ لیکن دوسری قسم نہایت ہی خطرناک ہے کیونکہ یہ ایسا جال ہے جس میں بہت سے حضرات پھنس جاتے ہیں ۔ یہ عمل کو بیکار ہی نہیں کرتا بلکہ مصیبت بھی بنا دیتا ہے۔
اسباب ریاء
نہایت خلوص نیت سے نماز شروع کی اس اثنا میں کوئی شخص آتا ہے اور ذہن میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ نماز اس طرح ادا کروں کہ یہ شخص مجھ کو نہایت پر خلوص اور با معرفعت نمازی سمجھے ۔ پورا عمل محض تقرب و خلوص سے ختم کرے لیکن بعد میں خود ستائی اور خود نمائی کے لیے اس کو دوسروں سے بیان کرے ۔
حضرت امام جعفر صادق ؑ سے منقول ہے جو شخص پوشیدہ طور سے عمل کرتا ہے ۔ اسے عمل سرِِِ لکھا جاتا ہے جب وہ اس کا اظہار کر دیتا ہے تو یہ تحریر مٹا کر عمل جہر لکھ دیا جاتا ہے ۔اس کے بعد جب پھر اس کا اظہار کیا جاتا ہے توعمل ریاء لکھ لیا جاتا ہے ۔
نوٹیہ یاد رہے کہ اگر اعلان اشتہار یا ذکر و تذکرہ قربۃ الی اﷲ اور عوا م کی ہدایت کے لیے ہو تو یہ عمل خیر میں شمار ہوتا ہے ۔
محمد ابن مسلم نے امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ اگر تمیں اپنے بھائی کے فائدے کاخیال ہے تو اسے آمادہ کرنے کے لیے اپنے عمل خیر کا ذکر کر سکتے ہو ۔ اگر کوئی تم سے پوچھے تم نے نماز شب پڑھی ہے ؟ تم نے روزہ رکھا ہے ؟ تو جو عمل تم نے کیا ہے وہ بیان کردوکیونکہ اﷲ تعالیٰ نے یہ عمل خیر تم کو نصیب کیا ہے ۔ اور نہیں کیا تو مت کہو اس لیے کہ جھوٹ بولنا حرام ہے ۔ ایک مرتبہ جھوٹ بولنے سے چالیس روز تک دعا قبول نہیں ہوتی ۔ اور اگرتوبہ نہ کرے تو اس پر اﷲ کی لعنت ہوتی ہے ۔
ریاء کی مذمت میں ارشاد پروردگار ہوتا ہے کہ فمن کان یرید ثواب الدنیا فعندا ﷲ ثواب الدنیا والاخرۃ ہاں اگر کسی کو ثواب دنیا حاصل کرنا ہے تو کیااسے معلوم نہیں کہ دنیا و آخرت کے ثواب کا مالک صرف اﷲ ہی ہے ۔
ارشاد رسالتماب ؐہے ان اﷲ لیعطی الد نیا بعمل الاخرۃ ولا یعطی الاخرۃ بعمل الدنیا اس میں ذرا بھی شک نہیں کہ اﷲ تعالی عمل اخروی کی برکت سے تو دنیا مرحمت فرما دیتا ہے لیکن عمل دنیا سے آخرت مرحمت نہیں فرماتا ۔
پھر ارشاد فرمایا ۔ بروز قیامت ریا کار چار ۴ ناموں سے پکارے جائیں گے۔
۱۔ آئے کافر ۲۔ آئے بدکار ۳۔ آئے بے وفا ۴۔ آئے نقصان یافتہ ۔
تیری کو شش بیکار ہو گئی اور تیرا اجر ضائع ہو گیا اب تجھ کو خالق کی حمایت حاصل نہیں ہے ۔
آئے دھوکہ دینے والے اپنا اجر اس سے مانگ جس کے لیے یہ سب کچھ کیا ہے ۔
عجب
جس طرح ریاء تمام اعمال حسنہ کو بیکار کردیتا ہے اور کیے کرائے پر پانی پھیر دیتا ہے اسی طرح عجب ( خود پسندی ) بھی اعمال خیر کو برباد کر دیتا ہے ۔ آنحضرتؐنے فرمایا انسان کو تین چیزیں ہلا ک کرتی ہیں ۔ ۱۔ لالچ کا پیچھا کرنا ۔ ۲ ۔ خواہشات کی پیروی کرنا ۔ ۳ ۔ خود پسندی۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشادفرمایا ۔ عجب کے درجے ہیں جن میں ایک یہ ہے کہ انسان اپنے کام کو اچھا سمجھے ۔ اپنی نیکیوں پر نازاں ہو ۔ یہ ایک ایسی عادت
ہے جو بڑھتے بڑھتے ا س حد تک پہنچ جاتی ہے کہ پھر یہ شخص اپنی برائی کو بھی نیکی سمجھنے لگتا ہے ۔
حضرت امام جعفرصادق علیہ السلامنے ارشادفرمایاکبھی ایک ساتھ دو۲ شخص مسجد میں جاتے ہیں جن میں ایک صدیق دوسرا فاسق ہوتاہے لیکن جب نکلتے ہیں تو صدیق فاسق اورفاسق صدیق ہو جاتا ہے ۔ صرف ا س لیے کہ فاسق توبہ کرتاہے اور صدیق اپنے عمل پر عجب کرتا ہے ۔
یہ یاد رہے کہ اپنے عمل و اطاعت پر خوش ہونا ممدوح اس وقت ہے جب یہ سمجھ کر خوش ہوا جائے کہ معبود حقیقی نے توفیق عمل دی ہے تو شایدقبول بھی فرما لے ۔ یا یہ کہ اﷲتعالی نے اپنے فضل وکرم سے عبادت میں عزاداری میں مہمانداری صلہ رحمی میں حق گوئی میں مشہور کردیا ہے جبکہ میں اس کا اہل نہیں اور ممکن ہے کہ جس طرح اﷲ نے اپنے فضل سے مجھے نوازہ ہے اسی طرح مغفرت بھی فرمائے گا ۔
عجب کی روحانی بیماری سے شفاء یاب ہونے کے لیے آئمہ معصومین ؑ کی سیرتِ طیبہ بہترین نمونہ عمل تو ہے ہی ۔ صحیفہ کاملہ صحیفہ سجادیہ کا اور ہدیۃ الشیعہ کا مطالعہ بھی بہترین علاج ہے۔
خلوص
جس کام میں جس قدر خلوص ہوتا ہے اتنا ہی وہ کامیابی کی منزل کے قریب ہوتا ہے ۔ اسی لیے مندرجہ بالا امور کے علاوہ نماز میں جس قدر خلوص ہوگا ۔اسی قدر نما زدرجہ قبولیت پر پہنچے گی ۔ اسی وجہ سے ہر نمازی کا فرض ہے کہ دلی توجہ سے اس فرض کو انجام دے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے ۔ کہ کامل خلوص ایک دم تو پیدا ہونا مشکل ہوتا ہے ۔ البتہ رفتہ رفتہ مشق کرنے سے کچھ عرصہ کے بعد کامل خلوص ممکن ہے ۔ کامل خلوص کے ظہور کے لیے قوت لوامہ کو بیدار کرنا اور اس سے کام لینا ضروری ہے کیونکہ یہی وہ قوت ہے جو دل کومختلف طریقوں کی طرف متوجہ کرتی ہے اور کہتی ہے ۔
الف ۔ آئے دل وجوب نماز کا تعلق تم سے ہے کیونکہ نیت کا تعلق تم سے ہے نہ کہ زبان سے اسلیے تم کو کامل خلوص سے نماز ادا کرنی چاھیے اور خیالات دنیوی کی طرف ملتفت ہوناخلوص سے ہاتھ دھونا ہے
ب ۔کبھی دل سے اس طرح خطاب کرتا ہے۔ آئے دل تو سلطان السلاطین کے دربار میں حاظرہے اور شہنشاہ حقیقی کے دربار میں کھڑا ہوا ہے۔ تمام آداب شاہی کو ملحوظ رکھ ۔ اوریہ یقین کر لے کہ اگرچہ تو اس کو نہیں دیکھ رہا لیکن وہ ضرور تجھ کو دیکھ رھا ہے ۔ جب یہ یقین ہو جائے گا تو بے قاعدہ ہاتھوں کی جنبش نہ ہو گی ۔ نہ پیر بے قاعدہ حرکت نہ کانوں کی توجہ کسی اور طرف مبذول ہوگی اور آنکھیں بھی اسی کی جانب متوجہ اور اس کے اشارہ کی منتظر رہیں گی ۔
ج ۔ کبھی کہتا ہے اے دل تم نماز میں کہنے کو تو نعبد ( ہم تیری عبادت کرتے ہیں )کہتے ہو مگر ایک دنیاوی حاکم کے برابر بھی تمہارے دل میں اس کا وقار عظمت نہیں ہے۔جب آپ دنیوی حاکم کے سامنے کوئی غرض لے
جس کام میں جس قدر خلوص ہوتا ہے اتنا ہی وہ کامیابی کی منزل کے قریب ہوتا ہے ۔ اسی لیے مندرجہ بالا امور کے علاوہ نماز میں جس قدر خلوص ہوگا ۔اسی قدر نما زدرجہ قبولیت پر پہنچے گی ۔ اسی وجہ سے ہر نمازی کا فرض ہے کہ دلی توجہ سے اس فرض کو انجام دے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے ۔ کہ کامل خلوص ایک دم تو پیدا ہونا مشکل ہوتا ہے ۔ البتہ رفتہ رفتہ مشق کرنے سے کچھ عرصہ کے بعد کامل خلوص ممکن ہے ۔ کامل خلوص کے ظہور کے لیے قوت لوامہ کو بیدار کرنا اور اس سے کام لینا ضروری ہے کیونکہ یہی وہ قوت ہے جو دل کومختلف طریقوں کی طرف متوجہ کرتی ہے اور کہتی ہے ۔
الف ۔ آئے دل وجوب نماز کا تعلق تم سے ہے کیونکہ نیت کا تعلق تم سے ہے نہ کہ زبان سے اسلیے تم کو کامل خلوص سے نماز ادا کرنی چاھیے اور خیالات دنیوی کی طرف ملتفت ہوناخلوص سے ہاتھ دھونا ہے
ب ۔کبھی دل سے اس طرح خطاب کرتا ہے۔ آئے دل تو سلطان السلاطین کے دربار میں حاظرہے اور شہنشاہ حقیقی کے دربار میں کھڑا ہوا ہے۔ تمام آداب شاہی کو ملحوظ رکھ ۔ اوریہ یقین کر لے کہ اگرچہ تو اس کو نہیں دیکھ رہا لیکن وہ ضرور تجھ کو دیکھ رھا ہے ۔ جب یہ یقین ہو جائے گا تو بے قاعدہ ہاتھوں کی جنبش نہ ہو گی ۔ نہ پیر بے قاعدہ حرکت نہ کانوں کی توجہ کسی اور طرف مبذول ہوگی اور آنکھیں بھی اسی کی جانب متوجہ اور اس کے اشارہ کی منتظر رہیں گی ۔
ج ۔ کبھی کہتا ہے اے دل تم نماز میں کہنے کو تو نعبد ( ہم تیری عبادت کرتے ہیں )کہتے ہو مگر ایک دنیاوی حاکم کے برابر بھی تمہارے دل میں اس کا وقار عظمت نہیں ہے۔جب آپ دنیوی حاکم کے سامنے کوئی غرض لے
کر جاتے ہو تو اس وقت کوئی خیال دل میں نہیں آتا خواہ کتنی دیر کھڑا رہنا پڑے تو پھر حاکمِ حقیقی کے دربارمیں حاضری کے وقت دنیا بھر کے بھولے ہوئے خیالات کیوں ؟
د ۔ اے دل کبھی تو غور کر لے کہ اﷲکریم مطلق نے اپنا مسکن تجھے قرار دیا ہے ۔ اور مہمان کی خوشنودی کے لیے کامل خلوص کا اظہار ضروری ہوتا ہے ۔ تو جب تو نماز میں ایاک نعبد بھی کہتا ہے اور خلوص کامل کا بھی اظہار نہ ہو یا خشوع و خضوع سے نماز نہ پڑھی گئی تو جھوٹ کے جرم عظیم کے بھی مرتکب ہو جاؤگے۔
یہ خلوص آخر پیدا کیسے ہو گا ؟
سب سے پہلے قابل غور بات یہ ہے کہ نماز کی اہمیت کوجانا جائے حضرت امام باقر علیہ السلام نے فرمایا نماز نام ہے خلوص کے ثابت رکھنے اور تکبر سے دور رہنے کا ( بحار الانوارکتاب الصلواۃ باب ۱ حدیث ۱۹ ) فرمان نبویؐ ہے کہ ہر چیز کا ایک چہرہ ہوتا ہے اور تمہارے دین کا چہرہ نماز ہے ۔ ( وسائل الشیعہ ۱۶۴۴۔ ۱۷ )
نماز کی اہمیت بتاتے ہوئے حضرت امام علی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ جب انسان نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو شیطان اس کی طرف حاسدانہ نگاہوں سے دیکھتا ہے کیونکہ نمازی کو اﷲ کی رحمت اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے جبکہ شیطان اﷲ کی رحمت سے محروم ہوکر راندہ درگاہ ہو گیا تھا ۔( تحف ا لعقول ۱۲۲ )
بنت ِ سیدالمرسلین شافعہِ روز جزاء والدہ حسنین ؑ کریمین ؑ نے ارشاد فرمایا کہ اس رحمان و رحیم نے انسانوں کو تکبر سے بچانے کے لیے نماز کو فرض کیا ہے ۔ ( من لا یحضرہ الفقہیہ ۴۹۴۰ )
نماز کی حقیقت جب پوچھی گئی تو حضر ت امام علی زین العابدین نے ارشاد فرمایا ( نماز ) ہماری ولایت اور دشمنوں سے دوری ہے۔ ( مستدرک االوسائل۔ ۴۲۶۳ )
آیۃ العظمیٰ سید احمد مستبط علیہ الرحمہ ’’ کتاب القطرہ ‘‘ علامہ بحرانی ’’ تفسیر بُرھان ‘‘ میں آیۃ اﷲالعظمیٰ سیدخمینی علیہ الرحمہ ’’ پروازِ ملکوت ‘‘ میں ارشاد فرماتے ہی ۔
د ۔ اے دل کبھی تو غور کر لے کہ اﷲکریم مطلق نے اپنا مسکن تجھے قرار دیا ہے ۔ اور مہمان کی خوشنودی کے لیے کامل خلوص کا اظہار ضروری ہوتا ہے ۔ تو جب تو نماز میں ایاک نعبد بھی کہتا ہے اور خلوص کامل کا بھی اظہار نہ ہو یا خشوع و خضوع سے نماز نہ پڑھی گئی تو جھوٹ کے جرم عظیم کے بھی مرتکب ہو جاؤگے۔
یہ خلوص آخر پیدا کیسے ہو گا ؟
سب سے پہلے قابل غور بات یہ ہے کہ نماز کی اہمیت کوجانا جائے حضرت امام باقر علیہ السلام نے فرمایا نماز نام ہے خلوص کے ثابت رکھنے اور تکبر سے دور رہنے کا ( بحار الانوارکتاب الصلواۃ باب ۱ حدیث ۱۹ ) فرمان نبویؐ ہے کہ ہر چیز کا ایک چہرہ ہوتا ہے اور تمہارے دین کا چہرہ نماز ہے ۔ ( وسائل الشیعہ ۱۶۴۴۔ ۱۷ )
نماز کی اہمیت بتاتے ہوئے حضرت امام علی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ جب انسان نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو شیطان اس کی طرف حاسدانہ نگاہوں سے دیکھتا ہے کیونکہ نمازی کو اﷲ کی رحمت اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے جبکہ شیطان اﷲ کی رحمت سے محروم ہوکر راندہ درگاہ ہو گیا تھا ۔( تحف ا لعقول ۱۲۲ )
بنت ِ سیدالمرسلین شافعہِ روز جزاء والدہ حسنین ؑ کریمین ؑ نے ارشاد فرمایا کہ اس رحمان و رحیم نے انسانوں کو تکبر سے بچانے کے لیے نماز کو فرض کیا ہے ۔ ( من لا یحضرہ الفقہیہ ۴۹۴۰ )
نماز کی حقیقت جب پوچھی گئی تو حضر ت امام علی زین العابدین نے ارشاد فرمایا ( نماز ) ہماری ولایت اور دشمنوں سے دوری ہے۔ ( مستدرک االوسائل۔ ۴۲۶۳ )
آیۃ العظمیٰ سید احمد مستبط علیہ الرحمہ ’’ کتاب القطرہ ‘‘ علامہ بحرانی ’’ تفسیر بُرھان ‘‘ میں آیۃ اﷲالعظمیٰ سیدخمینی علیہ الرحمہ ’’ پروازِ ملکوت ‘‘ میں ارشاد فرماتے ہی ۔
فرامینِ معصوم ہے کہ
( نحن صلوۃالمومنین۔ ہم چودہ مومنین کی نماز ہیں ) ( نحن کعبۃ اﷲ۔ ہم ہی کعبۃ اﷲ ہیں ) ( نحن قبلۃ اﷲ ہم ہی قبلۃ اﷲ ہیں ) ( نحن بیت اﷲ ہم ہی بیت اﷲ ہیں ) ( نحن مساجد اﷲ ہم ہی اﷲ کی مساجد ہیں )
( نحن صیام المومنین ہم ہی مومنین کے روزے ہیں ۔ )
عالم ربانی حافظ رجب البرسی نوراﷲ مرقدہ نے کتاب مشارق انوار الیقین فی اسرار امیرالمومنین کے صفحہ ۲۴ پر نماز کے باطنی نام ان لفظوں میں لکھ کر اہلِ فکرکو دعوتِ دی ہے۔
( صلوۃ الفجر ھو الحسین علیہ السلام نماز فجر حسین علیہ السلام ہیں )
( صلوۃ الظہر ھو رسول اﷲ نماز ظہر سرکار رسالت مآب ؐ صلی اﷲعلیہ وآ لہ و سلم ہیں ) ( صلوۃ العصر امیرالمومنین علیہ السلام نماز عصر امیرالمومنین علیہ السلام ہیں ) ( صلوۃ المغرب ھی فاطمۃ الزھرآ ء نماز مغرب جناب فاطمہ ؑ ہیں ) ( صلوۃ العشاء ھو حسن علیہ السلام نماز عشاء امام حسن علیہ السلام ہیں ۔)
خطبۃ البیان میں مولائے کائنات ؑ ارشاد فرماتے ہیں ۔ ( انا الکعبۃ و بیت الحرام و البیت العتیق کما قال اﷲ تعا لی فلیعبدوا رب ھذاالبیت ۔میں ہوں کعبہ اور بیت الحرام اوربیت العتیق جیسا کہ اﷲ نے فرمایا ہے کہ پس اس گھر ( بیت ) کے رب کی عبادت کرو )
اس عبادت کی وضاحت رسول اکرمؐ کی اس حدیث مبارکہ سے ہوجاتی ہی ۔
( زینوا مجالسکم بذکر علی ابن ابیطا لب لا نہ ذکرہ ذکری وذکراﷲ العبا دہ
اپنی مجالس کو علی ابن ابیطالب علیہ السلام کے ذکر سے زینت دو کیونکہ علی ؑ کا ذکر مجھ محمد ؐ کا دکر ہے اور میرا ؐ ذکر اﷲ کا ذکر ہے اور اﷲ کاذکر ہی تو عبادت ہے ۔ )
جب عبادات کی حقیقی اہمیت ہمیں علم ہوگی تو پھر یقیناًہم غافل ہو کر نماز ادا نہیں کرینگے ۔ اور اگر نماز کی حقیقی معرفعت نہ ہوگی تو پھر ہم اسے پڑھیں گے تو ذہنوں میں طرح طرح کے خیالات کے ساتھ ادا کریں گے۔ جب نماز کی حقیقت کا ہمیں علم ہو جائے گا تو یکسوئی خود بخود پیدا ہو جائے گی اور خلوص میں بھی اضافہ پیدا ہو جائے گا ۔
خیالات آنے کی وجوہات کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ نمازی اگر ایسی جگہ نماز پڑھ رھا ہے جس کے قریب عام گذرگاہ ہے اور اسوجہ سے خلوص میں فرق آتا ہے تو ایسی جگہ کو چھوڑدے اور نماز کے لیے ایسے مقام کو اختیار کرے جہاں نہ ریڈیو کی آوازآئے اورنہ ہی دوسری متوجہ کرنے والی آواز ۔
غرض جو سبب خلو ص میں باعث خلل ہو اس کی اصلاح کرے ۔ جس قدر الفاظ نماز میں پڑھے جاتے ہیں نمازی انکے معانی پر غور کرتا رہے تو انشاء اﷲ خلوص پیدا ہوجائیگا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ خلوص فوری پیدا نہیں ہوگا مگر مسلسل ریاضت سے ضرور مراد پوری ہوگی ۔ جب ایسا ہو جائے گا توپھر ظلمت کے پردے آنکھوں کے سامنے سے دور ہو جائیں گے اور علم ومعرفعت سے سینہ معمور ہو جائے گا ۔
( نحن صیام المومنین ہم ہی مومنین کے روزے ہیں ۔ )
عالم ربانی حافظ رجب البرسی نوراﷲ مرقدہ نے کتاب مشارق انوار الیقین فی اسرار امیرالمومنین کے صفحہ ۲۴ پر نماز کے باطنی نام ان لفظوں میں لکھ کر اہلِ فکرکو دعوتِ دی ہے۔
( صلوۃ الفجر ھو الحسین علیہ السلام نماز فجر حسین علیہ السلام ہیں )
( صلوۃ الظہر ھو رسول اﷲ نماز ظہر سرکار رسالت مآب ؐ صلی اﷲعلیہ وآ لہ و سلم ہیں ) ( صلوۃ العصر امیرالمومنین علیہ السلام نماز عصر امیرالمومنین علیہ السلام ہیں ) ( صلوۃ المغرب ھی فاطمۃ الزھرآ ء نماز مغرب جناب فاطمہ ؑ ہیں ) ( صلوۃ العشاء ھو حسن علیہ السلام نماز عشاء امام حسن علیہ السلام ہیں ۔)
خطبۃ البیان میں مولائے کائنات ؑ ارشاد فرماتے ہیں ۔ ( انا الکعبۃ و بیت الحرام و البیت العتیق کما قال اﷲ تعا لی فلیعبدوا رب ھذاالبیت ۔میں ہوں کعبہ اور بیت الحرام اوربیت العتیق جیسا کہ اﷲ نے فرمایا ہے کہ پس اس گھر ( بیت ) کے رب کی عبادت کرو )
اس عبادت کی وضاحت رسول اکرمؐ کی اس حدیث مبارکہ سے ہوجاتی ہی ۔
( زینوا مجالسکم بذکر علی ابن ابیطا لب لا نہ ذکرہ ذکری وذکراﷲ العبا دہ
اپنی مجالس کو علی ابن ابیطالب علیہ السلام کے ذکر سے زینت دو کیونکہ علی ؑ کا ذکر مجھ محمد ؐ کا دکر ہے اور میرا ؐ ذکر اﷲ کا ذکر ہے اور اﷲ کاذکر ہی تو عبادت ہے ۔ )
جب عبادات کی حقیقی اہمیت ہمیں علم ہوگی تو پھر یقیناًہم غافل ہو کر نماز ادا نہیں کرینگے ۔ اور اگر نماز کی حقیقی معرفعت نہ ہوگی تو پھر ہم اسے پڑھیں گے تو ذہنوں میں طرح طرح کے خیالات کے ساتھ ادا کریں گے۔ جب نماز کی حقیقت کا ہمیں علم ہو جائے گا تو یکسوئی خود بخود پیدا ہو جائے گی اور خلوص میں بھی اضافہ پیدا ہو جائے گا ۔
خیالات آنے کی وجوہات کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ نمازی اگر ایسی جگہ نماز پڑھ رھا ہے جس کے قریب عام گذرگاہ ہے اور اسوجہ سے خلوص میں فرق آتا ہے تو ایسی جگہ کو چھوڑدے اور نماز کے لیے ایسے مقام کو اختیار کرے جہاں نہ ریڈیو کی آوازآئے اورنہ ہی دوسری متوجہ کرنے والی آواز ۔
غرض جو سبب خلو ص میں باعث خلل ہو اس کی اصلاح کرے ۔ جس قدر الفاظ نماز میں پڑھے جاتے ہیں نمازی انکے معانی پر غور کرتا رہے تو انشاء اﷲ خلوص پیدا ہوجائیگا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ خلوص فوری پیدا نہیں ہوگا مگر مسلسل ریاضت سے ضرور مراد پوری ہوگی ۔ جب ایسا ہو جائے گا توپھر ظلمت کے پردے آنکھوں کے سامنے سے دور ہو جائیں گے اور علم ومعرفعت سے سینہ معمور ہو جائے گا ۔
علاماتِ خلوص
اس بات کا خیال رہے کہ جب تک دل میں خلوص پیدا نہ ہو تب تک عبادت میں لطف نہیں آتا اور جب عبادت میں لطف آنے لگے اور دل کیف و سرور محسوس کرنے لگے تو سمجھ لیجیے کہ آپ کا دل عرش الہی بن گیا ہے ۔
یہ یاد رہے کہ جب دل عرش الہی بن جاتا ہے تو صفات الہیہٰ جلوہ گر ہونے لگتی ہیں اور انسان صفات الہٰ کا مظہر ہو جاتا ہے ۔ مسلسل ریاضت کی بنا پر وہ معراج کمال پر پہنچ جاتا ہے اور پھر محبوب خدا بن جاتاہے اور موجودات عالم میں کوئی ایسا نہیں ہوتا جو اس کا دم نہ بھرتا ہویا اس کا تابع فرمان نہ ہو ۔
منقول ہے کہ جب اﷲ تعالی کسی کو دوست بنا لیتا ہے تو اس کی دوستی تمام پانی پر لکھ دیتا ہے تاکہ جو موجود بھی پانی پیئے وہ اس کا محبوب بن جائے ۔
اس امر کا خیال کرنا بہت ضروری ہے کہ مندرجہ بالا مراتب کو طے کر لینا ہی صرف کافی نہیں ہے بلکہ چند مقامات ایسے بھی ہیں کہ اگر ان کو ذہن نشین نہ رکھا جائے اور ان سے دوری اختیار نہ کی جائے تو تمام نیکیاں ضائع ہو جاتی ہیں ۔ لہذا ان کا خیال رکھنابہت ضروری ہے۔
مواقع حبط اعمال
فرمان معصوم ؑ ہے کہ جو شخص پانچ ۵ مقامات پر دنیا وی باتیں کرے گا تو اﷲ تعالی اس کی ستر ۷۰ سال کی نیکیاں بے کار کر دے گا ۔ ۱۔ مسجد میں ۲ ۔ تلاوت قرآن مجید کے وقت ۳ ۔ مشایعت جنازہ کے وقت ۴ ۔ قبرستان میں ۵ ۔ اذان کے وقت ۔
مسجد * مسجد میں سوائے عبادت الہیہ کے دنیا کے بارے میں گفتگوکرنا ممنوع ہے اگر اس پر عمل نہ کیا جائے تو غیبت عجب حب جاہ حسد کینہ پروری جیسے روحانی امراض کے پھیلنے کے خدشات قوی سے قوی تر ہو جاتے ہیں ۔ صرف اتنا ہی نہیں ہوتا بلکہ احترام مسجد بھی پائمال ہوجاتاہے ۔ یہ بھی یاد رہے کہ مسجد میں تھوکنا مسجد میں سونا مسجد میں شور کرنا مسجد میں دنیا وی کاروبار یا کسی گمشدہ چیزوں یا جانوروں کے
بارے اعلان کرنا بھی اسی طرح حرام ہے جس طرح مسجد کی وقف کی گئی چیزوں کا باہر لے جانا۔
قرآن مجیدقرآن مجید کا پڑھنا سنت ہے جبکہ سننا واجب ہے اس وقت اگر کوئی شخص دنیوی باتیں کرے اور تلاوت قرآن مجید کو بغور نہ سنے یا خود تلاوت کررہا ہو اور خیالات دوسری طرف ہوں تو ایسے شخص کے بھی تمام اعمال خیر ضائع ہو جائینگے ۔
تشیع جنازہ تشیع جنازہ کے لیے ضروری ہے کہ میت کے لیے کوئی عمل خیر کرے یا موت کویاد کرکے اپنے اعمال کا جائزہ لے اگروہ دنیوی باتوں میں مصروف عمل ہو جائے تو ایسے شخص کے بھی اعمال خیربرباد ہوجاتے ہیں ۔
قبرستان مشایعت جنازہ کے بعد جب قبرستان پہنچے تو دفن میت تک وہ اپنے اعمال کا محاسبہ کرتا رہے اور اہل قبور کے لیے دعائے خیر یا تلاو ت قرآن کرتا رہے ۔ اہل قبور کی مغفرت و بخشش کے لیے دعا کرتا رہے ۔ اگر ایسا کرنے کی بجائے وہ دنیوی باتوں میں ہی وقت گذارتا ہے تو اس کے اعمال بھی ختم ہو جاتے ہیں ۔
اذان حکم معصوم ؑ ہے کہ جسوقت اذان ہو رہی ہو تو ضروری ہے کہ ہمہ تن گوش ہو جائے اور موذن کے ساتھ ساتھ اذان دہراتا رہے۔ آپ خود فیصلہ کریں کہ اگر کوئی آپ کو پکار رہا ہو اور آپ اس کی پکار سن بھی رہے ہوں لیکن آپ اس کی طرف توجہ نہ دیں تو کیا پکارنے والا راضی ہوگا یا ناراض ؟ پھر سوچیے کہ جب اﷲ کی طرف سے آپ کو پکارا جا رہاہوتاہے تو آپ لبیک کہتے ہیں یا ؟
رسول اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بوقت اذان و اقامت کلمات دھرانے
کی بجائے گفتگوکرنے والے کو بوقت موت سکرات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ ( حدیث قدسی)
اس دنیا میں بھیجنے والے نے خود ساختہ زندگی گذارنے اورخداساختہ زندگی گذارنے پر جزاء و سزا کا بھی اعلان قرآن میں کر کے ہمیں دعوت فکرو عمل دی ہے ۔ کہ جب ہم نے سورہ ملک کی آیت مبارکہ میں
( ا لذی خلق الموت والحیوۃ لیبلو کم ایکم احسن عمل اﷲ وہ ہے کہ جس نے موت و حیات کو خلق کیا ہے تاکہ یہ دیکھ لے کہ تم میں سے بہترین عمل کرنے والا کون ہے ؟ ) ا ور سورہ زلزال میں اعلان کردیا ہے کہ ( فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ و من یعمل مثقال ذرۃ شرایرہ جس نے ذرہ بھر برائی کی اس کی اسے سزاء ملے گی اور جس نے ذرہ بھر اچھائی کی اس کی اسے جزاء ملے گی ) لہذا اس فانی دنیا کی بُھول بھلیوں میں اپنا مقصد نہ بُھولیں ۔
انجام خیر و بد کی فصل اسی دنیا میں بونے میں ہم مجبور نہیں ہیں بلکہ آزادہیں۔ ماضی کو بھی ہم واپس نہیں لا سکتے مستقبل بھی جن کے نصیبوں میں ہوگاوہی اس سے ضرور مستفید ہونے کی کوشش کریں گے ۔ مگر آج تو ہمارے پاس ہے اسے بھی اگر ہم نے سوچنے میں گذار دیا تو ہمارا کیا بنے گا ۔؟
اب بھی وقت ہے مولائے کائنات ؑ کے اس فرمان اقدس پر عمل کرکے مقدر سنوار سکتے ہیں ۔ اپنا احتساب کیجیئے قبل اس کے کہ تمہارا احتساب کیا جائے۔ جب عمل احتساب سے گذر رہے ہوں تو جس بہادری سے نافرمانی خداوند کریم کرتے وقت ہر نصحیت کرنے والے کی نصیحت پہ ہم نے کان نہیں دھرے تھے ۔ بالکل اسی طرح آج شیطان کے ہر وسوسے پر بھی کان نہیں دھرنے اور نہ ہی ابلیسی سوچ کہ کل توبہ کرلوں گا پر ارادے کو کمزور کرنا ہے ۔بلکہ عرصہ زند گی کونہایت ہی قلیل سمجھتے ہوئے اور گناہوں کی کثرت کو دیکھتے ہوئے فوری عمل پیرا ہو جاناہے ۔
اور اُس کریم کے اعلان کریمانہ لا تقنطوا من رحمۃ اﷲ اﷲ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں بلکہ اس رحمان و رحیم کے دریاِ رحمت سے سیراب ہو کر اپنا نامہ اعمال نئے سرے سے رقم کریں ۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ اﷲ نے ہمیں ایسے راہبر عطا کیے ہیں جو صفاتِ پروردگار کے اور قدرت الہیہ کے مظہر ہیں ۔ ان کے فرامین پر عمل کرکے اپنی گذشتہ زندگی کا ازالہ کرنیکی بھر پورکوشش کریں۔ مشکلات اور روکاوٹوں کو محنت میں عظمت ہے کے سنہر ی قو ل سے رد کردیں ۔
گناھوں کی معافی کا ذریعہ
حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی کے گھر میں گرم پانی کا چشمہ ہو اور صاحبِ خانہ اس میں پانچ مرتبہ غسل کرے تو کیا اس کے بدن پر کوئی میل کچیل باقی رہے گا ۔؟ صحابہ نے عرض کیا بالکل نہیں ۔ تو آپ ؐنے فرمایا تو پھر غور سے سنو جو گناہ گار پانچ مرتبہ نماز ( آداب و شرائط کے ساتھ ) پڑھتا رہے تو اس کے ذمہ بھی کوئی گناہ باقی نہیں رہ جاتا ۔
حضرت امام علی ابن موسی الرضا علیہ السلامنے ارشاد فرمایا نماز اقرار ہے خدا کی ربوبیت کا ۔ نما ز اﷲ سبحانہ کے سامنے اظہار ہے اپنی کم مائیگی اور ذلت کا ۔ نماز ذریعہ ہے اپنے گناھوں کی معافی طلب کرنے کا ۔ نماز زمین پر پیشانی رکھ کر عہد ہے اﷲ کی ہر قسم کی بالا دستی کو تسلیم کرنے کا ۔ نما ز انسان کی کردار سازی میں سب سے ا ہم کرداراداکرتی ہے ۔
ایک جسمانی مریض کو معالج وقت پر دوائیاں استعمال کرنے کی ہدایت بھی کرتا ہے اور پرہیز کرنے کا بھی مشورہ دیتا ہے ۔ تو جو صحت کا طالب ہوتا ہے اس کا جی چاہے یا نہ چاہے اسے دوائی کا ذائقہ اچھا لگے یا نہ لگے دوائی استعمال کرنی ہی پڑتی ہے ۔ اگر مریض غفلت کا مظاہرہ کرے تو اس سے محبتِ حقیقی کرنے والے چاہے انہیں زبردستی ہی کیوں نہ کرنی پڑے اسے دوائی استعمال کراتے ہیں اور وہ تمام چیزیں جن سے ڈاکٹر نے پرہیز کرنے کا مشورہ دیا ہوتا ہے مریض کو چاہے جتنی بھی پیا ری کیوں نہ لگے ۔ نہ صرف اسے استعمال سے روکتے ہیں بلکہ ضرورت پڑنے پر وہ چیز چھپا بھی لی جاتی ہے ۔ مریض کے عزیز واقارب ایسا کرنے میں ہی کامیا بی سمجھتے ہیں ۔
مولائے متقیان امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں جسمانی صحت کا طالب تو معالج کے کہنے پر چاہے وہ غیر مسلم ( غیر عقیدہ ) ہی کیوں نہ ہو اﷲ کی حلال کردہ چیزیں ترک کر دیتا ہے ۔ مگر افسوس راہ نجات (آخرت) کا طالب اپنے منعمِ حقیقی کے فرمان پر حرام ( شیطان کی پسندیدہ ) چیزوں سے بھی پرہیز نہیں کرتا ۔؟
غور طلب بات ہے کہ ایک معالج جسمانی کے کہنے پر دوائی استعمال کرنے کے اوقات تو یاد رہتے ہیں۔ مگر معالج روحانی چاہے وہ پاک رسول ؑ ہوں یا مولا علی ؑ ہوں ۔ ان کے بتائے ہوئے اوقات عبادات یاد کیوں نہیں رہتے ۔؟ دوائی تاخیر سے استعمال کرنا تو جسم کے لیے نقصاندہ سمجھتے ہیں ۔ مگر عبادات کی تاخیر کو کمال انسانی کا نقصان نہیں سمجھتے ۔
جسمانی معالج سے تو پہلے سے وقت مانگ کر جاتے ہیں بھاری بھاری فیسیں ادا کرتے ہیں ۔ ہزاروں روپوں کے ٹیسٹ کرانے میں عقلمندی سمجھی جاتی ہے ۔ مگر روحانی ارتقاء کے لیے چاہے فریضہ واجب ہی کیوں نہ ہو چکا ہو حج نہیں کرتے ۔ ناک اونچی رکھنے کے لیے ہزاروں کا خرچ گوارہ ہو جاتاہے مگر خوشنودی خداوندِ کریم و چہاردہ معصومین ؑ کے لیے نہ ہی زکواۃ اور خمس ادا کرنااچھا لگتا ہے ۔ آوٹنگ کے لیے سرسبز علاقوں میں جانا گوارہ ہوتا ہے ۔ مگرجہاں لاتعداد فرشتے زائرین کی خدمت اور ان کے لیے استغفار کرنے کی خاطر آتے رہتے ہیں روضہ معصومین ؑ پرجانے کی کوشش ہی نہیں کرتے ۔
کاش اﷲ تعالی کے ان فرامین سے لیس للانسان الا ما سعیانسان کو وہ ضرور ملے گا جس کی وہ کوشش کرے گا۔ اور لا اضیع عمل اجراکہ کسی بھی عمل کرنے والے کا اجر ضائع نہیں ہوتا۔ ہمارے ذہن روشن ہوتے تاکہ صراطِ مستقیم پر گامز نہوجاتے۔
قرآن مجیدقرآن مجید کا پڑھنا سنت ہے جبکہ سننا واجب ہے اس وقت اگر کوئی شخص دنیوی باتیں کرے اور تلاوت قرآن مجید کو بغور نہ سنے یا خود تلاوت کررہا ہو اور خیالات دوسری طرف ہوں تو ایسے شخص کے بھی تمام اعمال خیر ضائع ہو جائینگے ۔
تشیع جنازہ تشیع جنازہ کے لیے ضروری ہے کہ میت کے لیے کوئی عمل خیر کرے یا موت کویاد کرکے اپنے اعمال کا جائزہ لے اگروہ دنیوی باتوں میں مصروف عمل ہو جائے تو ایسے شخص کے بھی اعمال خیربرباد ہوجاتے ہیں ۔
قبرستان مشایعت جنازہ کے بعد جب قبرستان پہنچے تو دفن میت تک وہ اپنے اعمال کا محاسبہ کرتا رہے اور اہل قبور کے لیے دعائے خیر یا تلاو ت قرآن کرتا رہے ۔ اہل قبور کی مغفرت و بخشش کے لیے دعا کرتا رہے ۔ اگر ایسا کرنے کی بجائے وہ دنیوی باتوں میں ہی وقت گذارتا ہے تو اس کے اعمال بھی ختم ہو جاتے ہیں ۔
اذان حکم معصوم ؑ ہے کہ جسوقت اذان ہو رہی ہو تو ضروری ہے کہ ہمہ تن گوش ہو جائے اور موذن کے ساتھ ساتھ اذان دہراتا رہے۔ آپ خود فیصلہ کریں کہ اگر کوئی آپ کو پکار رہا ہو اور آپ اس کی پکار سن بھی رہے ہوں لیکن آپ اس کی طرف توجہ نہ دیں تو کیا پکارنے والا راضی ہوگا یا ناراض ؟ پھر سوچیے کہ جب اﷲ کی طرف سے آپ کو پکارا جا رہاہوتاہے تو آپ لبیک کہتے ہیں یا ؟
رسول اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بوقت اذان و اقامت کلمات دھرانے
کی بجائے گفتگوکرنے والے کو بوقت موت سکرات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ ( حدیث قدسی)
اس دنیا میں بھیجنے والے نے خود ساختہ زندگی گذارنے اورخداساختہ زندگی گذارنے پر جزاء و سزا کا بھی اعلان قرآن میں کر کے ہمیں دعوت فکرو عمل دی ہے ۔ کہ جب ہم نے سورہ ملک کی آیت مبارکہ میں
( ا لذی خلق الموت والحیوۃ لیبلو کم ایکم احسن عمل اﷲ وہ ہے کہ جس نے موت و حیات کو خلق کیا ہے تاکہ یہ دیکھ لے کہ تم میں سے بہترین عمل کرنے والا کون ہے ؟ ) ا ور سورہ زلزال میں اعلان کردیا ہے کہ ( فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ و من یعمل مثقال ذرۃ شرایرہ جس نے ذرہ بھر برائی کی اس کی اسے سزاء ملے گی اور جس نے ذرہ بھر اچھائی کی اس کی اسے جزاء ملے گی ) لہذا اس فانی دنیا کی بُھول بھلیوں میں اپنا مقصد نہ بُھولیں ۔
انجام خیر و بد کی فصل اسی دنیا میں بونے میں ہم مجبور نہیں ہیں بلکہ آزادہیں۔ ماضی کو بھی ہم واپس نہیں لا سکتے مستقبل بھی جن کے نصیبوں میں ہوگاوہی اس سے ضرور مستفید ہونے کی کوشش کریں گے ۔ مگر آج تو ہمارے پاس ہے اسے بھی اگر ہم نے سوچنے میں گذار دیا تو ہمارا کیا بنے گا ۔؟
اب بھی وقت ہے مولائے کائنات ؑ کے اس فرمان اقدس پر عمل کرکے مقدر سنوار سکتے ہیں ۔ اپنا احتساب کیجیئے قبل اس کے کہ تمہارا احتساب کیا جائے۔ جب عمل احتساب سے گذر رہے ہوں تو جس بہادری سے نافرمانی خداوند کریم کرتے وقت ہر نصحیت کرنے والے کی نصیحت پہ ہم نے کان نہیں دھرے تھے ۔ بالکل اسی طرح آج شیطان کے ہر وسوسے پر بھی کان نہیں دھرنے اور نہ ہی ابلیسی سوچ کہ کل توبہ کرلوں گا پر ارادے کو کمزور کرنا ہے ۔بلکہ عرصہ زند گی کونہایت ہی قلیل سمجھتے ہوئے اور گناہوں کی کثرت کو دیکھتے ہوئے فوری عمل پیرا ہو جاناہے ۔
اور اُس کریم کے اعلان کریمانہ لا تقنطوا من رحمۃ اﷲ اﷲ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں بلکہ اس رحمان و رحیم کے دریاِ رحمت سے سیراب ہو کر اپنا نامہ اعمال نئے سرے سے رقم کریں ۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ اﷲ نے ہمیں ایسے راہبر عطا کیے ہیں جو صفاتِ پروردگار کے اور قدرت الہیہ کے مظہر ہیں ۔ ان کے فرامین پر عمل کرکے اپنی گذشتہ زندگی کا ازالہ کرنیکی بھر پورکوشش کریں۔ مشکلات اور روکاوٹوں کو محنت میں عظمت ہے کے سنہر ی قو ل سے رد کردیں ۔
گناھوں کی معافی کا ذریعہ
حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی کے گھر میں گرم پانی کا چشمہ ہو اور صاحبِ خانہ اس میں پانچ مرتبہ غسل کرے تو کیا اس کے بدن پر کوئی میل کچیل باقی رہے گا ۔؟ صحابہ نے عرض کیا بالکل نہیں ۔ تو آپ ؐنے فرمایا تو پھر غور سے سنو جو گناہ گار پانچ مرتبہ نماز ( آداب و شرائط کے ساتھ ) پڑھتا رہے تو اس کے ذمہ بھی کوئی گناہ باقی نہیں رہ جاتا ۔
حضرت امام علی ابن موسی الرضا علیہ السلامنے ارشاد فرمایا نماز اقرار ہے خدا کی ربوبیت کا ۔ نما ز اﷲ سبحانہ کے سامنے اظہار ہے اپنی کم مائیگی اور ذلت کا ۔ نماز ذریعہ ہے اپنے گناھوں کی معافی طلب کرنے کا ۔ نماز زمین پر پیشانی رکھ کر عہد ہے اﷲ کی ہر قسم کی بالا دستی کو تسلیم کرنے کا ۔ نما ز انسان کی کردار سازی میں سب سے ا ہم کرداراداکرتی ہے ۔
ایک جسمانی مریض کو معالج وقت پر دوائیاں استعمال کرنے کی ہدایت بھی کرتا ہے اور پرہیز کرنے کا بھی مشورہ دیتا ہے ۔ تو جو صحت کا طالب ہوتا ہے اس کا جی چاہے یا نہ چاہے اسے دوائی کا ذائقہ اچھا لگے یا نہ لگے دوائی استعمال کرنی ہی پڑتی ہے ۔ اگر مریض غفلت کا مظاہرہ کرے تو اس سے محبتِ حقیقی کرنے والے چاہے انہیں زبردستی ہی کیوں نہ کرنی پڑے اسے دوائی استعمال کراتے ہیں اور وہ تمام چیزیں جن سے ڈاکٹر نے پرہیز کرنے کا مشورہ دیا ہوتا ہے مریض کو چاہے جتنی بھی پیا ری کیوں نہ لگے ۔ نہ صرف اسے استعمال سے روکتے ہیں بلکہ ضرورت پڑنے پر وہ چیز چھپا بھی لی جاتی ہے ۔ مریض کے عزیز واقارب ایسا کرنے میں ہی کامیا بی سمجھتے ہیں ۔
مولائے متقیان امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں جسمانی صحت کا طالب تو معالج کے کہنے پر چاہے وہ غیر مسلم ( غیر عقیدہ ) ہی کیوں نہ ہو اﷲ کی حلال کردہ چیزیں ترک کر دیتا ہے ۔ مگر افسوس راہ نجات (آخرت) کا طالب اپنے منعمِ حقیقی کے فرمان پر حرام ( شیطان کی پسندیدہ ) چیزوں سے بھی پرہیز نہیں کرتا ۔؟
غور طلب بات ہے کہ ایک معالج جسمانی کے کہنے پر دوائی استعمال کرنے کے اوقات تو یاد رہتے ہیں۔ مگر معالج روحانی چاہے وہ پاک رسول ؑ ہوں یا مولا علی ؑ ہوں ۔ ان کے بتائے ہوئے اوقات عبادات یاد کیوں نہیں رہتے ۔؟ دوائی تاخیر سے استعمال کرنا تو جسم کے لیے نقصاندہ سمجھتے ہیں ۔ مگر عبادات کی تاخیر کو کمال انسانی کا نقصان نہیں سمجھتے ۔
جسمانی معالج سے تو پہلے سے وقت مانگ کر جاتے ہیں بھاری بھاری فیسیں ادا کرتے ہیں ۔ ہزاروں روپوں کے ٹیسٹ کرانے میں عقلمندی سمجھی جاتی ہے ۔ مگر روحانی ارتقاء کے لیے چاہے فریضہ واجب ہی کیوں نہ ہو چکا ہو حج نہیں کرتے ۔ ناک اونچی رکھنے کے لیے ہزاروں کا خرچ گوارہ ہو جاتاہے مگر خوشنودی خداوندِ کریم و چہاردہ معصومین ؑ کے لیے نہ ہی زکواۃ اور خمس ادا کرنااچھا لگتا ہے ۔ آوٹنگ کے لیے سرسبز علاقوں میں جانا گوارہ ہوتا ہے ۔ مگرجہاں لاتعداد فرشتے زائرین کی خدمت اور ان کے لیے استغفار کرنے کی خاطر آتے رہتے ہیں روضہ معصومین ؑ پرجانے کی کوشش ہی نہیں کرتے ۔
کاش اﷲ تعالی کے ان فرامین سے لیس للانسان الا ما سعیانسان کو وہ ضرور ملے گا جس کی وہ کوشش کرے گا۔ اور لا اضیع عمل اجراکہ کسی بھی عمل کرنے والے کا اجر ضائع نہیں ہوتا۔ ہمارے ذہن روشن ہوتے تاکہ صراطِ مستقیم پر گامز نہوجاتے۔
اب بھی وقت ہے کہ نماز کو ادا کرنے سے قبل رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد گرامی ضرور سمجھ کر اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں ۔ اگر نماز کو اس کے تمام شرائط کے ساتھ صحیح ادا کیا جائے تو نماز ایک نورانی شکل اختیار کرلیتی ہے ا ور آسمانوں کی طرف پرواز کرتی ہے۔ آسمانوں کے دروازے اس کے لیے کھول دیے جاتے ہیں ۔ اورنماز یہ کہتی ہوئی اوپر جاتی ہے کہ آئے عبدِ خدا تو نے میرا خیال رکھا خدا تیری حفاظت کرے ۔ ا س وقت وہاں کے تمام فرشتے اس نمازی پر سلام اور رحمتِ خدا کاتحفہ ارسال کرتے ہیں۔
اگر نمازی نے واجباتِ نماز صحیح طورپرادا نہ کیے ہوں تو نماز اﷲ کے دربار میں جانے کی کوشش تو کرتی ہے مگر آسمانوں کے در اس پر بند ہو جاتے ہیں تو نماز مایوس ہوکر یہ کہتی ہے کہ تو نے مجھے ضائع کیا خدا تجھے ضائع کرے پھریہی نماز اسی کے منہ پر مار دی جاتی ہے ۔
حدیث رسول ؐ مقبول براویت حضرت علیعلیہ السلام کہ نماز ادا کرنے سے پہلے یہ دیکھو کہ کس چیز سے اور کس چیز پرنماز پڑھ رہے ہو اگر یہ چیزیں صحیح اور حلال طریقے سے حاصل نہیں ہوئی ہیں تونماز قبول نہیں ۔ ( تحف العقول۱۷۴)
پھر ارشاد فرمایا فکر و تدبر کی دو رکعتیں پوری رات کی عبادت سے بہتر ہیں ۔ ( وسائل الشیعہ ۷۱۰۸ ۔ ۱۵ )اول وقت اور معصومین علیہم السلام
معصومین ؑ ہمیشہ نماز کو اول وقت میں ادا کرتے تھے ۔ اور سخت ترین حالات میں بھی اس عمل کو ترک نہیں کرتے تھے ۔ جنگ صفین میں مولا علی علیہ السلام کا یہ عمل لمحہ فکروتدبر ہی نہیں بلکہ دعوت عمل بھی ہے ۔ جنگ اپنے زوروں پہ ہے مولا علی ؑ آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں ۔ ابنِِ عباس نے پوچھا مولا ؑ آسمان کی طرف کیوں دیکھ رہے ہیں ؟
آپ ؑ نے فرمایا میں زوال آفتاب کو دیکھ رہا ہوں تاکہ نماز اول وقت پر ادا کر سکوں ۔ ابنِ عباس نے حیران ہو کر کہا مولا ؑ اس عالم میں ؟ آپ ؑ نے فرمایا ہماری جنگ ان لوگوں سے تو اسی
نمازِ حقیقی کے قائم کرنے کے لیے ہی تو ہے۔
میدانِ کربلاء میں روز عاشورحضرت امام حسین علیہ السلام نے سخت ترین ماحول میں بھی اول وقت میں نماز ادا کرکے ہر حسینی کو دعوت عمل دی ہے ۔کیا ہی بات ہوگی کہ شبابِِ علی اکبر ؑ قاسم ؑ و عونؑ ومحمد ؑ کے مقروض جوان ماتمی وعزادار جلوس میں شرکت کرنے کے ساتھ ساتھ سیرتِ امام حسین ؑ کے اول وقت میں نماز پڑھنے کے بھی عکاس بن جائیں ۔
عزادرانِ مظلوم کربلاء اﷲ تعالی آپکی یہ عظیم عبادت منظور ومقبول فرمائے ۔ اگر آپ صرف گھر میں ہی ماتم کریں اور جلوس میں شرکت نہ کریں تو کیا آپ نے مقصدِ ماتم امام حسین ؑ ترویج کا حصہ بن رہے ہوں گے یا مقصدِ ماتم کی اشاعت کی کمی کا سبب بنے رہے ہو نگے ؟ جس طرح جلوس میں شرکت نہ کرنے کی وجہ سے آپ گناہگارر بن رہے ہیں بالکل اسی طرح چاہے آپ نماز گھرمیں ادا کرتے ہی ہوں مگر نماز باجماعت ادا نہ کر کے نہ صرف گناہگار بن رہے بلکہ ایک بہت بڑے نقصان سے بھی دوچار ہو رہے ہیں ۔
حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری شفاعت اس شخص کو نہیں ملے گی جو نماز کا وقت ہونے پر اس میں تاخیر کرتا ہے یہانتک کہ اس کا وقت گذر جائے ۔ پھر ارشاد فرمایااگر کوئی شخص اپنی نمازوں کی حفاظت کرتا ہے توشیطان اس سے خوفزدہ ہو جاتا ہے اور اس کے نزدیک نہیں جاتا لیکن جب وہ اپنی نمازوں کو ضائع کرتا ہے توشیطان کو اس پر حملہ کرنے کی جراأ پیدا ہو جاتی ہے اور وہ اسے گناھانِ کبیرہ میں مبتلاء کردیتا ہے۔ حضرت علی علیہ السلام نے محمد بن ابی بکر کو جب خط لکھا تو اس میں یہ بھی لکھا کہ ’’ اوقاتِ نماز کا خیال رکھا کرو نماز کو وقت پر اداکیا کرو فراغت وقت کی حالت میں جلدی سے نماز کو وقت سے پہلے ادا نہ کرو اور مصروفیت کی حالت میں اسے تاخیر سے نہ پڑھو۔
( وسائل الشیعہ حدیث ۴۸۰۱ )
اگر نمازی نے واجباتِ نماز صحیح طورپرادا نہ کیے ہوں تو نماز اﷲ کے دربار میں جانے کی کوشش تو کرتی ہے مگر آسمانوں کے در اس پر بند ہو جاتے ہیں تو نماز مایوس ہوکر یہ کہتی ہے کہ تو نے مجھے ضائع کیا خدا تجھے ضائع کرے پھریہی نماز اسی کے منہ پر مار دی جاتی ہے ۔
حدیث رسول ؐ مقبول براویت حضرت علیعلیہ السلام کہ نماز ادا کرنے سے پہلے یہ دیکھو کہ کس چیز سے اور کس چیز پرنماز پڑھ رہے ہو اگر یہ چیزیں صحیح اور حلال طریقے سے حاصل نہیں ہوئی ہیں تونماز قبول نہیں ۔ ( تحف العقول۱۷۴)
پھر ارشاد فرمایا فکر و تدبر کی دو رکعتیں پوری رات کی عبادت سے بہتر ہیں ۔ ( وسائل الشیعہ ۷۱۰۸ ۔ ۱۵ )اول وقت اور معصومین علیہم السلام
معصومین ؑ ہمیشہ نماز کو اول وقت میں ادا کرتے تھے ۔ اور سخت ترین حالات میں بھی اس عمل کو ترک نہیں کرتے تھے ۔ جنگ صفین میں مولا علی علیہ السلام کا یہ عمل لمحہ فکروتدبر ہی نہیں بلکہ دعوت عمل بھی ہے ۔ جنگ اپنے زوروں پہ ہے مولا علی ؑ آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں ۔ ابنِِ عباس نے پوچھا مولا ؑ آسمان کی طرف کیوں دیکھ رہے ہیں ؟
آپ ؑ نے فرمایا میں زوال آفتاب کو دیکھ رہا ہوں تاکہ نماز اول وقت پر ادا کر سکوں ۔ ابنِ عباس نے حیران ہو کر کہا مولا ؑ اس عالم میں ؟ آپ ؑ نے فرمایا ہماری جنگ ان لوگوں سے تو اسی
نمازِ حقیقی کے قائم کرنے کے لیے ہی تو ہے۔
میدانِ کربلاء میں روز عاشورحضرت امام حسین علیہ السلام نے سخت ترین ماحول میں بھی اول وقت میں نماز ادا کرکے ہر حسینی کو دعوت عمل دی ہے ۔کیا ہی بات ہوگی کہ شبابِِ علی اکبر ؑ قاسم ؑ و عونؑ ومحمد ؑ کے مقروض جوان ماتمی وعزادار جلوس میں شرکت کرنے کے ساتھ ساتھ سیرتِ امام حسین ؑ کے اول وقت میں نماز پڑھنے کے بھی عکاس بن جائیں ۔
عزادرانِ مظلوم کربلاء اﷲ تعالی آپکی یہ عظیم عبادت منظور ومقبول فرمائے ۔ اگر آپ صرف گھر میں ہی ماتم کریں اور جلوس میں شرکت نہ کریں تو کیا آپ نے مقصدِ ماتم امام حسین ؑ ترویج کا حصہ بن رہے ہوں گے یا مقصدِ ماتم کی اشاعت کی کمی کا سبب بنے رہے ہو نگے ؟ جس طرح جلوس میں شرکت نہ کرنے کی وجہ سے آپ گناہگارر بن رہے ہیں بالکل اسی طرح چاہے آپ نماز گھرمیں ادا کرتے ہی ہوں مگر نماز باجماعت ادا نہ کر کے نہ صرف گناہگار بن رہے بلکہ ایک بہت بڑے نقصان سے بھی دوچار ہو رہے ہیں ۔
حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری شفاعت اس شخص کو نہیں ملے گی جو نماز کا وقت ہونے پر اس میں تاخیر کرتا ہے یہانتک کہ اس کا وقت گذر جائے ۔ پھر ارشاد فرمایااگر کوئی شخص اپنی نمازوں کی حفاظت کرتا ہے توشیطان اس سے خوفزدہ ہو جاتا ہے اور اس کے نزدیک نہیں جاتا لیکن جب وہ اپنی نمازوں کو ضائع کرتا ہے توشیطان کو اس پر حملہ کرنے کی جراأ پیدا ہو جاتی ہے اور وہ اسے گناھانِ کبیرہ میں مبتلاء کردیتا ہے۔ حضرت علی علیہ السلام نے محمد بن ابی بکر کو جب خط لکھا تو اس میں یہ بھی لکھا کہ ’’ اوقاتِ نماز کا خیال رکھا کرو نماز کو وقت پر اداکیا کرو فراغت وقت کی حالت میں جلدی سے نماز کو وقت سے پہلے ادا نہ کرو اور مصروفیت کی حالت میں اسے تاخیر سے نہ پڑھو۔
( وسائل الشیعہ حدیث ۴۸۰۱ )
غفلت کے اسباب
نماز کو اول وقت میں نہ پڑھنا ۔ نماز کو صحیح قرِأت سے نہ پڑھنا ۔ نماز کو تیز اور جلدی پڑھنا ۔ ایسے لباس میں پڑھنا جو پاک اور حلال نہ ہو ۔ نماز کو کاروباری جگہوں پر( جب لوگ کاروباری باتوں میں مصروف ہوں ) پڑھنا ۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا ا ور نماز میں مشغول ہوگیا اس نے رکوع اور سجودمیں ذکرِ واجب صحیح طور پر انجام نہ دیا اس کو دیکھ کر اﷲ کے رسول ؐنے ارشادفرمایا یہ شخص اپنے سر کو سجدہ میں ایسے زمین پر مارتا ہے جیسے کوا اپنی چونچ کو زمین پر دانہ اٹھانے کے لیے مارتا ہے ۔ اگر یہ شخص اسی حالتِ نماز میں مرجائے تو یہ میرے دین پر نہیں مرے گا ۔
پیغمبر اکرم ؐنے فرمایا چوری کرنے والابُرا ہے مگر سب سے بڑا چور وہ ہے جو نماز میں سے چوری کرتاہے۔ پوچھا گیا آقا وہ کیسے ؟ تو آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو رکوع و سجود کو صحیح طور پر انجام نہ دے ۔
اہل عقول کے لیے قابل فکر ہے یہ فرمانِ معصوم ؑ کہ جو نماز کو دیر سے ادا کرتے ہیں یا نمازخفیف
( ہلکا سمجھنا )غیر اہم سجھتے ہیں۔ یا جو اس کے قائم کرنے میں سُستی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ ارشاد ہوا نماز میں سستی کرنے والے کو اﷲتعالی پندرہ قسم کی سزائیں دے گا ۔ جس میں سے چھ سزائیں اس دنیا میں تین سزائیں مرنے کے وقت تین سزائیں قبر میں اور تین سزائیں روزِ قیامت دی جائیں گی ۔ دنیا میں ملنے والی سزائیں
۱ ۔ اﷲ تعالی اس کی عمر سے برکت ختم کردے گا ۔ ۲ ۔ اﷲ تعالی اس کی روزی سے برکت ختم کر دیگا۔۳۔اس کے چہرے کی رونق ختم کر دی جائے گی ۔ ۴ ۔ اگر اس نے کوئی نیکی کا کام کیاہو گا تو قبول نہیں کیا جائے گا ۔ ۵ ۔ اس کی دعا کو قبول نہیں کیا جائے گا ۔ ۶ ۔ نیک لوگوں کی دعائیں بھی اس کو فائدہ نہیں پہنچا سکیں گی۔
مرنے کے وقت کی سزائیں
۱ ۔ دنیا میں ذلیل ہوکر مرے گا ۔ ۲ ۔ دنیا سے پیاسا ہو کر مرے گا اگرچہ دنیا کی تمام نہریں بھی پی لے تو سیراب نہیں ہوگا۔ ۳ ۔ دنیا سے بھوک کی حالت میں جائے گا ۔
قبر میں ملنے والی سزائیں
نماز کو اول وقت میں نہ پڑھنا ۔ نماز کو صحیح قرِأت سے نہ پڑھنا ۔ نماز کو تیز اور جلدی پڑھنا ۔ ایسے لباس میں پڑھنا جو پاک اور حلال نہ ہو ۔ نماز کو کاروباری جگہوں پر( جب لوگ کاروباری باتوں میں مصروف ہوں ) پڑھنا ۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا ا ور نماز میں مشغول ہوگیا اس نے رکوع اور سجودمیں ذکرِ واجب صحیح طور پر انجام نہ دیا اس کو دیکھ کر اﷲ کے رسول ؐنے ارشادفرمایا یہ شخص اپنے سر کو سجدہ میں ایسے زمین پر مارتا ہے جیسے کوا اپنی چونچ کو زمین پر دانہ اٹھانے کے لیے مارتا ہے ۔ اگر یہ شخص اسی حالتِ نماز میں مرجائے تو یہ میرے دین پر نہیں مرے گا ۔
پیغمبر اکرم ؐنے فرمایا چوری کرنے والابُرا ہے مگر سب سے بڑا چور وہ ہے جو نماز میں سے چوری کرتاہے۔ پوچھا گیا آقا وہ کیسے ؟ تو آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو رکوع و سجود کو صحیح طور پر انجام نہ دے ۔
اہل عقول کے لیے قابل فکر ہے یہ فرمانِ معصوم ؑ کہ جو نماز کو دیر سے ادا کرتے ہیں یا نمازخفیف
( ہلکا سمجھنا )غیر اہم سجھتے ہیں۔ یا جو اس کے قائم کرنے میں سُستی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ ارشاد ہوا نماز میں سستی کرنے والے کو اﷲتعالی پندرہ قسم کی سزائیں دے گا ۔ جس میں سے چھ سزائیں اس دنیا میں تین سزائیں مرنے کے وقت تین سزائیں قبر میں اور تین سزائیں روزِ قیامت دی جائیں گی ۔ دنیا میں ملنے والی سزائیں
۱ ۔ اﷲ تعالی اس کی عمر سے برکت ختم کردے گا ۔ ۲ ۔ اﷲ تعالی اس کی روزی سے برکت ختم کر دیگا۔۳۔اس کے چہرے کی رونق ختم کر دی جائے گی ۔ ۴ ۔ اگر اس نے کوئی نیکی کا کام کیاہو گا تو قبول نہیں کیا جائے گا ۔ ۵ ۔ اس کی دعا کو قبول نہیں کیا جائے گا ۔ ۶ ۔ نیک لوگوں کی دعائیں بھی اس کو فائدہ نہیں پہنچا سکیں گی۔
مرنے کے وقت کی سزائیں
۱ ۔ دنیا میں ذلیل ہوکر مرے گا ۔ ۲ ۔ دنیا سے پیاسا ہو کر مرے گا اگرچہ دنیا کی تمام نہریں بھی پی لے تو سیراب نہیں ہوگا۔ ۳ ۔ دنیا سے بھوک کی حالت میں جائے گا ۔
قبر میں ملنے والی سزائیں
۱۔ اس کی قبر تاریک رہے گی ۔ ۲ ۔ اس کے لیے قبر کو تنگ کر دیا جائے گا ۔ ۳ ۔ قبر میں فرشتے اسے شکنجے میں جکڑ دیں گے اور عذاب دیں گے ۔
قیامت میں ملنے والی سزائیں
۱ ۔ فرشتے اسے چہرے سے پکڑ کر لے جائیں گے ۔ ۲ ۔ حساب کے وقت سختی برتی جائے گی ۔ ۳ ۔ اﷲ تعالی اس پر رحمت نہیں کرے گا اور اسے گناہوں سے پاک نہیں کرے گا۔ اس کے لیے دردناک عذاب تیار کیا جائے گا ۔
نماز با جماعت کی فضیلت
رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے مولا علی علیہ السلام سے فرمایا ۔ یا علی ؑ جبرائیل نے مجھ سے کہا آئے محبوب خدا کاش میں بھی بشر ہوتا اور باقی انسانوں کیساتھ مل کر نماز با جماعت ادا کرتا۔ پیغمبر اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایک روز جبرائیل ستر ہزار فرشتوں کے ہمراہ میرے پاس آئے اور کہا آئے محبوب خدا اﷲ تعالیٰ نے آپ ؑ پر درود وسلام بھیجا ہے ا ور ساتھ دو۲ تحفے بھی ارسال فرمائے ہیں جو آج سے پہلے کسی نبی ؑ یا رسول ؑ کی طرف نہیں بھیجے ۔
پہلا تحفہ نمازِ شب ( آٹھ ۸ رکعت نما زِ شب دو ۲ رکعت نماز شفع اور ایک رکعت نماز وتر ) دوسرا تحفہ پانچ وقت کی نما ز با جماعت ۔ جبرائیل نے کہا یا رسول اﷲ آپکی امت سے دو ۲ افراد نما ز با جماعت کے لیے کھڑے ہونگے تو اﷲ تعالی ان کو ہر رکعت کے بدلے ۳۰۰ فرادیٰ نمازوں کا ثواب عطا کرے گا ۔ ۳افراد نماز باجماعت پڑھیں گے تو ہر رکعت کے بدلے میں ۶۰۰ نمازوں کا ثواب عطا کرے گا۔ ۴افراد نماز با جماعت پڑھیں گے تو ہر رکعت کے بدلے میں ۱۲۰۰ رکعت کا ثواب عطا کرے گا۔ ۵ افرادنمازباجماعت پڑھیں گے تو ہر رکعت کے بدلے میں۲۴۰۰ رکعت کاثواب عطا کرے گا۔ ۶افراد نماز باجماعت پڑھیں گے تو ہر رکعت کے بدلے میں ۴۸۰۰رکعت کاثواب عطاکرے گا۔ ۷ افرادنماز باجماعت پڑھیں گے تو ہر رکعت کے بدلے میں ۹۶۰۰رکعت کاثواب عطا کرے گا۔ ۸افراد نماز باجماعت پڑھیں گے تو ہر رکعت کے بدلے میں ۱۹۲۰۰ رکعت کا ثواب عطا کرے گا ۔ ۹ افراد نماز باجماعت پڑھیں گے تو ہر رکعت کے بدلے میں ۳۸۴۰۰رکعت کا ثواب عطا کرے گا۔ دس ۱۰ افراد نماز با جماعت پڑھیں گے تو ہر رکعت کے بدلے ۷۶۸۰۰ نمازوں کا ثواب عطا کرے گا۔
فرمان نبوی ؐ ہے کہ جو شخص مسجد کی طرف نماز باجماعت ادا کرنے کی نیت سے چلے تو اسکے ہر قدم کے بدلے اﷲ تعالیٰ اس کو ۷۰۰۰۰ سترہزار نیکیاں عطا کرے گا ۔ اور اس کو ستر ہزار درجے عطا کرے گا ۔ اگر وہ اس حالت میں مر جائے تو اﷲتعالےٰ اس کے لیے سترہزار فرشتے پیدا کرے گا جو اس کے لیے قیامت کے دن تک تسبیح پڑہتے رہیں گے ۔ اور قبر میں اس کی مغفرت طلب کرتے رہینگے اور اُس نمازی کے تنہا ئی میں مونس و ساتھی ہوں گے ۔
مفضل بن عمر امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ جو شخص اذان و اقامت کے ساتھ نماز ادا کرے گا تو اس کے پیچھے فرشتوں کی دو۲ صفیں بھی نمازادا کر ر ہی ہوں گی اور ان کی ایک ایک صف کم از کم مشرق سے مغرب تک اور زیادہ سے زیادہ زمین و آسمان کے درمیان تک کی ہوگی ۔
ابوالعلاء حفاف امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ جوکوئی نما ز مغرب کے بعد بغیر کلام کیے د و ۲ رکعت نماز نافلہ ادا کرے گا تو اس کا درجہ بہشت کے مقام اعلی ٰ علیین میں لکھا جائے گا ۔ ا گر چار رکعت (دو ۲ کر کے ) ادا کرے گا تو ایک حج مقبول کا ثواب دیا جائے گا۔
حضرت محمد مصطفیٰ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مسجدکے ہمسائے کی مسجد کے علاوہ نماز قبول نہیں ۔ شیخ طوسی کہتے ہیں کہ اس حدیث سے مرادیہ ہے کہ بغیرعذر شرعی مسجد کا ہمسایہ اگر گھر میں نما ز پڑھے گا تو اس کو یہ نما ز فائدہ نہیں پہنچائے گی ۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام اپنے جدِبزرگوار جنابحضرت علی ابن ابیطا لب علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ مسجد کی ہمسائیگی چاروں طرف چالیس گھروں تک ہے ۔
حضرت امام موسیٰ کا ظم علیہ السلام روایت کرتے ہیں کہ اگر کوئی شخص جمعرات کے دن یا شب جمعہ مسجد کی صفا ئی کرے اور وہاں سے گرد و غبار اگرچہ اس کی مقدار سرمہ چشم کے برابر ہی کیوں نہ ہو کو باہر نکال دے تو پرودگار عالم اس کے تمام گناھوں کو بخش دے گا ۔
جو شخص مسجد میں روشنی کا بندوبست کرے ساکنینِ عرش اور فرشتے اس شخص کی بخشش کے لیئے اس وقت تک دعا کرتے رہتے ہیں جب تک وہ روشنی رہتی ہے ۔ جو شخص مسجد تک پیدل چل کر جائے اس کے پا ؤں کے نیچے آنے والی زمین ( ساتویں تہہ تک کی ) اس شخص کے لیے پروردگار کی تسبیح کرتی رہتی ہے ۔
زندگی اپنے روپ اور بہروپ کے ساتھ ہر ذی روح کی شریک سفر ہے ۔ کہیں خوشی کاانبار لیے ہوئے ہے تو کہیں غموں کے اونچے اونچے پہاڑ جن کی چوٹیاں سرکرتے کرتے انسان موت کی اندھیری کھائی میں جا گرتا ہے ۔ کہیں محبت کا اظہار ہے تو کہیں نفرتوں کی یلغار ہے ۔ کہیں رشتوں کی چاہت ہے تو کہیں بیماری کی زحمت ہے ۔ کہیں جوانی کا نشہ ہے تو کہیں بڑھا پے کا رعشہ ہے۔ کہیں موت کی طلب ہو رہی ہے تو کہیں جینے کی دعائیں مانگی جا رہی ہیں ۔ کہیں نوٹوں کی ریل پیل ہے تو کہیں روٹی کی تلاش میں دھکم پیل ہے۔ کہیں اولاد کی پرورش ا ور ان کی بے جا فرمائشیں ہیں تو کہیں ماں باپ کی ترستی ہوئی نگائیں ۔ کہیں شوہر کی سرتابی تو کہیں جورو کی غلامی کہیں خون کی سفیدی تو کہیں جذبوں کی سر د مہری اپنا قصہ سنا رہی ہے۔ زندگی اور موت کے درمیان کا وقفہ کہیں پل دوپل تو کہیں صدیوں پر محیط زندگی کے لمحات حضرت انسان گذار چکا ہے ۔ تو کوئی گذارنے میں مصروف عمل ہے ۔
کوئی مثل جانور اپنے لمحات زیست کو صرف خواہشات نفسانی کے حصول میں گذارنے کو ہی کامیابی تصور کررہا ہے ۔ کہیں انسان بھلائی کرنے والے جانور کو فراموش کردینا انسانیت کی توہین سمجھ رہا ہے تو کہیں منعمِ حقیقی کے لاتعداد احسانات کو فراموش کرکے بھی مطمئن ہے ۔ کہیں انسان ایسے کام کررہاہے کہ فرشتے دم بخود ہیں تو کہیں افعالِ انسانی سے شیطان کا بھی سر شرمندگی کے باعث جھکنے پر مجبور ہوجاتاہے ۔
اور اولاد آدم ؑ ہے کہ تاج اشرف المخلوقات کا حامل ہوکر بھی ا ولئک کالا نعامکہ انکی مثال تو جانوروں کی سی ہے بل ھم اضل بلکہ جانوروں سے بھی بد تر ہے کا مصداق بن رہا ہے ۔ اور اس پر خوش بھی ہے ۔
حضرت انسان کو کائنات کی رنگینیوں سے مالامال اوردل کو موہ لینے والے منا ظر اور خواھشات نفسانی کے حصول کے وافر اسبا ب نفس اما رہ سے مغلوب جذبا ت کی دلدل میں غرق ہوکر یہ فراموش کر چکا ہے کہ ۱۔ اُ سکا مقصد تخلیق کیا ہے ؟ ۲ ۔ مقصدکی کامیا بی کے اسباب کیا ہیں ؟
۳۔ کامیابی کے حصول میں روکاوٹوں کو کیسے دورکرنا ہے ؟ ۴۔ کامیابی کی شاہراہ پر دوستوں اور دشمنوں کی پہچان کس نے کرا نی ہے ؟ ۵۔ کامیابی کی صورت میں کیا جزا ملے گی اور نا کامی کی صورت میں کیاسزا ملے گی ؟
اب صورتحال یہ نظر آرہی ہے کہ علم دین متروک کیا جا چکا ہے ۔ ارباب عالم نے آخرت کوپس پشت ڈال رکھا ہے ۔ مکرو فریب دغا بازی کا دور دورہ ہے ۔ لوگ ہوا و ہوس کے پیرو ہیں ۔ دنیاکے گوشے گوشے میں اقتدار کی لڑائی لڑی جارہی ہے ۔ عالم میں بدکاری شراب خوری عیب نہیں رہ گئی ہے ۔ چالاکی عیاری دھوکہ دہی وعدہ خلافی کامیابی کی ضمانت سمجھی جارہی ہے ۔ سچ شرافت
قیامت میں ملنے والی سزائیں
۱ ۔ فرشتے اسے چہرے سے پکڑ کر لے جائیں گے ۔ ۲ ۔ حساب کے وقت سختی برتی جائے گی ۔ ۳ ۔ اﷲ تعالی اس پر رحمت نہیں کرے گا اور اسے گناہوں سے پاک نہیں کرے گا۔ اس کے لیے دردناک عذاب تیار کیا جائے گا ۔
نماز با جماعت کی فضیلت
رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے مولا علی علیہ السلام سے فرمایا ۔ یا علی ؑ جبرائیل نے مجھ سے کہا آئے محبوب خدا کاش میں بھی بشر ہوتا اور باقی انسانوں کیساتھ مل کر نماز با جماعت ادا کرتا۔ پیغمبر اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایک روز جبرائیل ستر ہزار فرشتوں کے ہمراہ میرے پاس آئے اور کہا آئے محبوب خدا اﷲ تعالیٰ نے آپ ؑ پر درود وسلام بھیجا ہے ا ور ساتھ دو۲ تحفے بھی ارسال فرمائے ہیں جو آج سے پہلے کسی نبی ؑ یا رسول ؑ کی طرف نہیں بھیجے ۔
پہلا تحفہ نمازِ شب ( آٹھ ۸ رکعت نما زِ شب دو ۲ رکعت نماز شفع اور ایک رکعت نماز وتر ) دوسرا تحفہ پانچ وقت کی نما ز با جماعت ۔ جبرائیل نے کہا یا رسول اﷲ آپکی امت سے دو ۲ افراد نما ز با جماعت کے لیے کھڑے ہونگے تو اﷲ تعالی ان کو ہر رکعت کے بدلے ۳۰۰ فرادیٰ نمازوں کا ثواب عطا کرے گا ۔ ۳افراد نماز باجماعت پڑھیں گے تو ہر رکعت کے بدلے میں ۶۰۰ نمازوں کا ثواب عطا کرے گا۔ ۴افراد نماز با جماعت پڑھیں گے تو ہر رکعت کے بدلے میں ۱۲۰۰ رکعت کا ثواب عطا کرے گا۔ ۵ افرادنمازباجماعت پڑھیں گے تو ہر رکعت کے بدلے میں۲۴۰۰ رکعت کاثواب عطا کرے گا۔ ۶افراد نماز باجماعت پڑھیں گے تو ہر رکعت کے بدلے میں ۴۸۰۰رکعت کاثواب عطاکرے گا۔ ۷ افرادنماز باجماعت پڑھیں گے تو ہر رکعت کے بدلے میں ۹۶۰۰رکعت کاثواب عطا کرے گا۔ ۸افراد نماز باجماعت پڑھیں گے تو ہر رکعت کے بدلے میں ۱۹۲۰۰ رکعت کا ثواب عطا کرے گا ۔ ۹ افراد نماز باجماعت پڑھیں گے تو ہر رکعت کے بدلے میں ۳۸۴۰۰رکعت کا ثواب عطا کرے گا۔ دس ۱۰ افراد نماز با جماعت پڑھیں گے تو ہر رکعت کے بدلے ۷۶۸۰۰ نمازوں کا ثواب عطا کرے گا۔
فرمان نبوی ؐ ہے کہ جو شخص مسجد کی طرف نماز باجماعت ادا کرنے کی نیت سے چلے تو اسکے ہر قدم کے بدلے اﷲ تعالیٰ اس کو ۷۰۰۰۰ سترہزار نیکیاں عطا کرے گا ۔ اور اس کو ستر ہزار درجے عطا کرے گا ۔ اگر وہ اس حالت میں مر جائے تو اﷲتعالےٰ اس کے لیے سترہزار فرشتے پیدا کرے گا جو اس کے لیے قیامت کے دن تک تسبیح پڑہتے رہیں گے ۔ اور قبر میں اس کی مغفرت طلب کرتے رہینگے اور اُس نمازی کے تنہا ئی میں مونس و ساتھی ہوں گے ۔
مفضل بن عمر امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ جو شخص اذان و اقامت کے ساتھ نماز ادا کرے گا تو اس کے پیچھے فرشتوں کی دو۲ صفیں بھی نمازادا کر ر ہی ہوں گی اور ان کی ایک ایک صف کم از کم مشرق سے مغرب تک اور زیادہ سے زیادہ زمین و آسمان کے درمیان تک کی ہوگی ۔
ابوالعلاء حفاف امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ جوکوئی نما ز مغرب کے بعد بغیر کلام کیے د و ۲ رکعت نماز نافلہ ادا کرے گا تو اس کا درجہ بہشت کے مقام اعلی ٰ علیین میں لکھا جائے گا ۔ ا گر چار رکعت (دو ۲ کر کے ) ادا کرے گا تو ایک حج مقبول کا ثواب دیا جائے گا۔
حضرت محمد مصطفیٰ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مسجدکے ہمسائے کی مسجد کے علاوہ نماز قبول نہیں ۔ شیخ طوسی کہتے ہیں کہ اس حدیث سے مرادیہ ہے کہ بغیرعذر شرعی مسجد کا ہمسایہ اگر گھر میں نما ز پڑھے گا تو اس کو یہ نما ز فائدہ نہیں پہنچائے گی ۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام اپنے جدِبزرگوار جنابحضرت علی ابن ابیطا لب علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ مسجد کی ہمسائیگی چاروں طرف چالیس گھروں تک ہے ۔
حضرت امام موسیٰ کا ظم علیہ السلام روایت کرتے ہیں کہ اگر کوئی شخص جمعرات کے دن یا شب جمعہ مسجد کی صفا ئی کرے اور وہاں سے گرد و غبار اگرچہ اس کی مقدار سرمہ چشم کے برابر ہی کیوں نہ ہو کو باہر نکال دے تو پرودگار عالم اس کے تمام گناھوں کو بخش دے گا ۔
جو شخص مسجد میں روشنی کا بندوبست کرے ساکنینِ عرش اور فرشتے اس شخص کی بخشش کے لیئے اس وقت تک دعا کرتے رہتے ہیں جب تک وہ روشنی رہتی ہے ۔ جو شخص مسجد تک پیدل چل کر جائے اس کے پا ؤں کے نیچے آنے والی زمین ( ساتویں تہہ تک کی ) اس شخص کے لیے پروردگار کی تسبیح کرتی رہتی ہے ۔
زندگی اپنے روپ اور بہروپ کے ساتھ ہر ذی روح کی شریک سفر ہے ۔ کہیں خوشی کاانبار لیے ہوئے ہے تو کہیں غموں کے اونچے اونچے پہاڑ جن کی چوٹیاں سرکرتے کرتے انسان موت کی اندھیری کھائی میں جا گرتا ہے ۔ کہیں محبت کا اظہار ہے تو کہیں نفرتوں کی یلغار ہے ۔ کہیں رشتوں کی چاہت ہے تو کہیں بیماری کی زحمت ہے ۔ کہیں جوانی کا نشہ ہے تو کہیں بڑھا پے کا رعشہ ہے۔ کہیں موت کی طلب ہو رہی ہے تو کہیں جینے کی دعائیں مانگی جا رہی ہیں ۔ کہیں نوٹوں کی ریل پیل ہے تو کہیں روٹی کی تلاش میں دھکم پیل ہے۔ کہیں اولاد کی پرورش ا ور ان کی بے جا فرمائشیں ہیں تو کہیں ماں باپ کی ترستی ہوئی نگائیں ۔ کہیں شوہر کی سرتابی تو کہیں جورو کی غلامی کہیں خون کی سفیدی تو کہیں جذبوں کی سر د مہری اپنا قصہ سنا رہی ہے۔ زندگی اور موت کے درمیان کا وقفہ کہیں پل دوپل تو کہیں صدیوں پر محیط زندگی کے لمحات حضرت انسان گذار چکا ہے ۔ تو کوئی گذارنے میں مصروف عمل ہے ۔
کوئی مثل جانور اپنے لمحات زیست کو صرف خواہشات نفسانی کے حصول میں گذارنے کو ہی کامیابی تصور کررہا ہے ۔ کہیں انسان بھلائی کرنے والے جانور کو فراموش کردینا انسانیت کی توہین سمجھ رہا ہے تو کہیں منعمِ حقیقی کے لاتعداد احسانات کو فراموش کرکے بھی مطمئن ہے ۔ کہیں انسان ایسے کام کررہاہے کہ فرشتے دم بخود ہیں تو کہیں افعالِ انسانی سے شیطان کا بھی سر شرمندگی کے باعث جھکنے پر مجبور ہوجاتاہے ۔
اور اولاد آدم ؑ ہے کہ تاج اشرف المخلوقات کا حامل ہوکر بھی ا ولئک کالا نعامکہ انکی مثال تو جانوروں کی سی ہے بل ھم اضل بلکہ جانوروں سے بھی بد تر ہے کا مصداق بن رہا ہے ۔ اور اس پر خوش بھی ہے ۔
حضرت انسان کو کائنات کی رنگینیوں سے مالامال اوردل کو موہ لینے والے منا ظر اور خواھشات نفسانی کے حصول کے وافر اسبا ب نفس اما رہ سے مغلوب جذبا ت کی دلدل میں غرق ہوکر یہ فراموش کر چکا ہے کہ ۱۔ اُ سکا مقصد تخلیق کیا ہے ؟ ۲ ۔ مقصدکی کامیا بی کے اسباب کیا ہیں ؟
۳۔ کامیابی کے حصول میں روکاوٹوں کو کیسے دورکرنا ہے ؟ ۴۔ کامیابی کی شاہراہ پر دوستوں اور دشمنوں کی پہچان کس نے کرا نی ہے ؟ ۵۔ کامیابی کی صورت میں کیا جزا ملے گی اور نا کامی کی صورت میں کیاسزا ملے گی ؟
اب صورتحال یہ نظر آرہی ہے کہ علم دین متروک کیا جا چکا ہے ۔ ارباب عالم نے آخرت کوپس پشت ڈال رکھا ہے ۔ مکرو فریب دغا بازی کا دور دورہ ہے ۔ لوگ ہوا و ہوس کے پیرو ہیں ۔ دنیاکے گوشے گوشے میں اقتدار کی لڑائی لڑی جارہی ہے ۔ عالم میں بدکاری شراب خوری عیب نہیں رہ گئی ہے ۔ چالاکی عیاری دھوکہ دہی وعدہ خلافی کامیابی کی ضمانت سمجھی جارہی ہے ۔ سچ شرافت
د یانتداری اور سادگی کو حماقت و دورگذشتہ کی باقیات سمجھا جارہا ہے ۔
اس کیفیت سے نکلنے کے لیے مدبرِ کائنات نے سورہ حدید میں ان لفظوں سے دعوت فکر دی ہے کہ ’’ کیا صاحبان ایمان کے لیے ابھی وہ وقت نہیں آیاہے کہ ان کے دل ذکر خدا اور اس کی طرف سے نازل ہونے والے حق کے لیے نرم ہوجائیں اور وہ ان اہل کتاب کی طرح نہ ہو جائیں جنہیں کتاب دی گئی تو ایک عرصہ گزرنے کے بعد ان کے دل سخت ہوگئے اور ان کی اکثریت فاسق ہوگئی ‘‘
ان کے دلوں کے سخت ہوجانے کا سبب اﷲ تعالیٰ نے دنیا پرستی بتا یا ہے ۔ جبکہ وارثان قرآن نے بتایا ہے کہ دنیا ایک لعب ہے جو جان جوکھوں کا کام ہے اور بیکار ہے۔ دنیا ایک فضول چیز ہے جو انسان کو اپنے مقصد سے پیچھے دھکیل دیتی ہے ۔ فضول کاموں میں دل لگی مال یا نسب پر فخر کرنا تب قابل فخر ہوتا جب انسان ان کے حصول میں اﷲ تعالی ٰ کا بھی محتاج نہ ہوتا ۔ یہ تو اس کی مصلحت ہے جس کو جو دے دے ۔ پھر اس کی عطا پر شکر گزاری کرنے کی بجائے اس کی نافرمانی پر جسارت اور اُس پر نازاں بھی ہونا کتنی بڑی حماقت ہے ۔
جن کاموں پر ہم نے اپنی خوشیوں کی عمارتیں بلند کی ہوئی ہیں ۔ اور جن کاموں کو ہم نے صرف وقت کا ضیاع سمجھا ہوا ہے ۔ اُس کی وضاحت رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم ان لفظوں سے بیان فرماکردعوت غور و فکر دی ہے ۔ کہ تمہارے علم وتجربے میں دنیا اور اس کے حصول کے لیے ذکرِ الہیٰ سے دوری بہتر ہے تو تمہارے خالق و مالک کے نزدیک دنیا دار کی کیا حقیقت ہے ؟
اس کیفیت سے نکلنے کے لیے مدبرِ کائنات نے سورہ حدید میں ان لفظوں سے دعوت فکر دی ہے کہ ’’ کیا صاحبان ایمان کے لیے ابھی وہ وقت نہیں آیاہے کہ ان کے دل ذکر خدا اور اس کی طرف سے نازل ہونے والے حق کے لیے نرم ہوجائیں اور وہ ان اہل کتاب کی طرح نہ ہو جائیں جنہیں کتاب دی گئی تو ایک عرصہ گزرنے کے بعد ان کے دل سخت ہوگئے اور ان کی اکثریت فاسق ہوگئی ‘‘
ان کے دلوں کے سخت ہوجانے کا سبب اﷲ تعالیٰ نے دنیا پرستی بتا یا ہے ۔ جبکہ وارثان قرآن نے بتایا ہے کہ دنیا ایک لعب ہے جو جان جوکھوں کا کام ہے اور بیکار ہے۔ دنیا ایک فضول چیز ہے جو انسان کو اپنے مقصد سے پیچھے دھکیل دیتی ہے ۔ فضول کاموں میں دل لگی مال یا نسب پر فخر کرنا تب قابل فخر ہوتا جب انسان ان کے حصول میں اﷲ تعالی ٰ کا بھی محتاج نہ ہوتا ۔ یہ تو اس کی مصلحت ہے جس کو جو دے دے ۔ پھر اس کی عطا پر شکر گزاری کرنے کی بجائے اس کی نافرمانی پر جسارت اور اُس پر نازاں بھی ہونا کتنی بڑی حماقت ہے ۔
جن کاموں پر ہم نے اپنی خوشیوں کی عمارتیں بلند کی ہوئی ہیں ۔ اور جن کاموں کو ہم نے صرف وقت کا ضیاع سمجھا ہوا ہے ۔ اُس کی وضاحت رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم ان لفظوں سے بیان فرماکردعوت غور و فکر دی ہے ۔ کہ تمہارے علم وتجربے میں دنیا اور اس کے حصول کے لیے ذکرِ الہیٰ سے دوری بہتر ہے تو تمہارے خالق و مالک کے نزدیک دنیا دار کی کیا حقیقت ہے ؟
رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم جب معراج پہ گئے تو اﷲ نے ارشادفرمایا آے میرے محمد ؐجانتے ہو کہ کونسی زندگی عمدہ اور بہترین ہے۔ اور کونسی حیات جاودانی ہے ۔
آپ ؐنے کہا پالنے والے ارشاد ہو ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہوا بہترین انسان وہ ہے جو میرے ذکر میں سُستی نہ کرے ۔ میری نعمت کو نہ بھو لے میرے حق سے بے خبر نہ ہو ۔دن رات میری رضا کا متلاشی ہو ۔اور حیات جاودانی یہ ہے کہ انسان اپنے لیے ایسا عمل کرے کہ دنیا اس کی نظروں میں حقیر و ذلیل ہو ۔ اور آخرت سب سے بڑی چیز معلوم ہو۔ میری خواہشوں کو اپنی خواہشوں پر مقدم کرے میری رضا کاطالب ہو ۔ میری عظمت وبزرگی کا جو حق ہے وہ ادا کرے ۔ دن رات میری طرف نظر رکھے ۔ جسے میں پسند نہ کروں۔ اس سے نفرت کرے ۔ جن سے میں محبت کروں ان سے وہ پیار کرے ۔ جو انسان ایسا کریگا تو میں اس کے دل میں قیام کروں گا ۔ اس کواپنے لیے مخصوص کرلوں گا میں اسکے دل کی آنکھ اورکان کھول دوں گا تاکہ وہ اپنے دل کی آنکھوں اور کانوں سے میری عظمت و جلال کو دیکھے اور سنے ۔ پھر میں اسے ہیبت و عظمت سے آراستہ کروں گا جو میری رضا پر عمل کرے گا میں اس کے لیئے تین خصلتیں لازمی طور پرمخصوص کردوں گا ۔
۱۔ اسے ایسے شکر سے روشناس کردوں گا جسمیں جہالت نہ ہو گی ۔
۲۔ ایسا ذکر کرنے والا بنا دوں گا جس میں سہو و نسیان نہ ہو گا ۔
۳۔ ایسی محبت سے آگاہ کر دوں گاجس کے سبب سے میری محبت کے مقابلہ میں میری کسی بھی مخلوق کی محبت کو اختیار نہیں کرے گا۔ جب وہ مجھے دوست رکھے گا تو میں اسے دوست رکھوں گا ۔اس کے دیدہ دل کو اپنا جلال دیکھنے کے لیے کھول دوں گا ۔ اس سے اپنی مخصوص مخلوق کو نہیں چھپا وءں گا ۔ اپنے جن رازوں کو دنیا سے چھپا رکھا ہے اس سے باخبر کردوں گا ۔ میں اس کے دل کو بینا و بصیر بنا دوں گا ۔ جنت و جہنم کی کوئی چیز اس سے نہیں چھپا ؤں گا ۔ میں خود اسے اس کی قبر میں سلاؤں گا ۔ وہ موت کے رنج کو اورظلمت قبر و لحد کے خوف منزل کو بالکل نہ دیکھے گا ۔ اس کے نوشتہ کو اس کے دائیں ہاتھ میں دوں گا تاکہ وہ اسے کھلم کھلا پڑھے جو مجھ سے غافل ہوگا تو میں یہ پرواہ نہیں کرونگا کہ وہ کس وادی ہلاکت میں جا رہا ہے۔معراج میں رسول اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم کے مشاھداترسول اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں نے شبِ معراج ایسی جماعت سے ملاقات کی کہ جن کے سامنے دو دستر خوان بچھے ہوئے تھے ۔ ایک پر پاک و پاکیزہ غذا اور گوشت اوردوسرے پر خبیث گوشت رکھا ہوا تھا ۔ وہ لوگ پاک وپاکیزہ گوشت کو چھوڑکر نجس گوشت کھا رہے تھے ۔ میں نے سوال کیا یہ کون لوگ ہیں ؟ جواب ملا کہ آپصلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی امت سے وہ لوگ ہیں جو غذا ئے حلال کی بجاے غذائے حرام کھاتے تھے ۔
آپ ؐنے کہا پالنے والے ارشاد ہو ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہوا بہترین انسان وہ ہے جو میرے ذکر میں سُستی نہ کرے ۔ میری نعمت کو نہ بھو لے میرے حق سے بے خبر نہ ہو ۔دن رات میری رضا کا متلاشی ہو ۔اور حیات جاودانی یہ ہے کہ انسان اپنے لیے ایسا عمل کرے کہ دنیا اس کی نظروں میں حقیر و ذلیل ہو ۔ اور آخرت سب سے بڑی چیز معلوم ہو۔ میری خواہشوں کو اپنی خواہشوں پر مقدم کرے میری رضا کاطالب ہو ۔ میری عظمت وبزرگی کا جو حق ہے وہ ادا کرے ۔ دن رات میری طرف نظر رکھے ۔ جسے میں پسند نہ کروں۔ اس سے نفرت کرے ۔ جن سے میں محبت کروں ان سے وہ پیار کرے ۔ جو انسان ایسا کریگا تو میں اس کے دل میں قیام کروں گا ۔ اس کواپنے لیے مخصوص کرلوں گا میں اسکے دل کی آنکھ اورکان کھول دوں گا تاکہ وہ اپنے دل کی آنکھوں اور کانوں سے میری عظمت و جلال کو دیکھے اور سنے ۔ پھر میں اسے ہیبت و عظمت سے آراستہ کروں گا جو میری رضا پر عمل کرے گا میں اس کے لیئے تین خصلتیں لازمی طور پرمخصوص کردوں گا ۔
۱۔ اسے ایسے شکر سے روشناس کردوں گا جسمیں جہالت نہ ہو گی ۔
۲۔ ایسا ذکر کرنے والا بنا دوں گا جس میں سہو و نسیان نہ ہو گا ۔
۳۔ ایسی محبت سے آگاہ کر دوں گاجس کے سبب سے میری محبت کے مقابلہ میں میری کسی بھی مخلوق کی محبت کو اختیار نہیں کرے گا۔ جب وہ مجھے دوست رکھے گا تو میں اسے دوست رکھوں گا ۔اس کے دیدہ دل کو اپنا جلال دیکھنے کے لیے کھول دوں گا ۔ اس سے اپنی مخصوص مخلوق کو نہیں چھپا وءں گا ۔ اپنے جن رازوں کو دنیا سے چھپا رکھا ہے اس سے باخبر کردوں گا ۔ میں اس کے دل کو بینا و بصیر بنا دوں گا ۔ جنت و جہنم کی کوئی چیز اس سے نہیں چھپا ؤں گا ۔ میں خود اسے اس کی قبر میں سلاؤں گا ۔ وہ موت کے رنج کو اورظلمت قبر و لحد کے خوف منزل کو بالکل نہ دیکھے گا ۔ اس کے نوشتہ کو اس کے دائیں ہاتھ میں دوں گا تاکہ وہ اسے کھلم کھلا پڑھے جو مجھ سے غافل ہوگا تو میں یہ پرواہ نہیں کرونگا کہ وہ کس وادی ہلاکت میں جا رہا ہے۔معراج میں رسول اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم کے مشاھداترسول اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں نے شبِ معراج ایسی جماعت سے ملاقات کی کہ جن کے سامنے دو دستر خوان بچھے ہوئے تھے ۔ ایک پر پاک و پاکیزہ غذا اور گوشت اوردوسرے پر خبیث گوشت رکھا ہوا تھا ۔ وہ لوگ پاک وپاکیزہ گوشت کو چھوڑکر نجس گوشت کھا رہے تھے ۔ میں نے سوال کیا یہ کون لوگ ہیں ؟ جواب ملا کہ آپصلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی امت سے وہ لوگ ہیں جو غذا ئے حلال کی بجاے غذائے حرام کھاتے تھے ۔
پھر ایسے لوگوں سے ملاقات ہوئی جن کے ہونٹ اونٹوں کے ہونٹوں کی طرح کھردرے تھے اور وہ اپنے بدن کے گوشت کوکاٹ کاٹ کر کھا رہے تھے ۔ میں نے پوچھایہ کون لوگ ہیں ؟ جواب ملاکہ وہ لوگ ہیں جو زبان اور اشاروں کے ذریعے لوگوں کے عیب تلاش کرتے تھے ۔
پھر میں نے ایسے لوگوں کو دیکھا کہ جن کے چہروں اور سروں کو پتھروں سے کوٹا گیا تھا ۔ میں نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں ؟ جواب ملا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو نما ز عشاء ( بغیر عذر شرعی ) ترک کیا کرتے تھے ۔
پھر ایسے لوگ نظر آے کہ آگ جن کے منہ سے داخل ہو کر مقعد کی طرف سے نکل رہی تھی ۔ میں نے پوچھا یہ بدبخت کون ہیں ؟ تو جواب ملا کہ یہ و ہ لوگ ہیں کہ جو یتیموں کے مال کھاتے تھے یہ درحقیقت اپنے شکم میںآگ جمع کر رہے تھے ۔ اب یہ اسی آگ میں ہی جلتے رہیں گے ۔
پھر ایسے لوگوں سے گذر ہوا جن کے پیٹ بڑے ہوئے تھے وہ اٹھنا چاہتے تھے مگر اٹھ نہیں سکتے تھے ۔ میں نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں ؟ جواب ملا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو سود کھاتے تھے ۔ قیامت کے دن یہ لوگ پاگل بنا کراٹھائے جائیں گے ۔ اور یہ آل فرعون کی روش پر ہیں ۔
( بحوالہ تفسیر علی بن ابراہیم ص ۳۷۰ )
ایک لمحے کے لیے ہی سوچیے کہ مندرجہ بالا فرامین رسو ل خد ا صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے تحت ہم کامیابی کی طرف سفر کر رہے ہیں یا ناکامی کی طرف ۔ اگر ناکامی ہمارے سامنے منہ کھولے کھڑی ہے تو کیوں ؟ اب تک آپ نے زندگی کی کتنی بہاریں ابلیسی بادِ سموم سے زہر آلود کر کے اپنے آپ کو صراطِ مستقیم سے دور کرتے ہوئے ۔ مغضوب علیہھم کے راستوں پر چل کر تباہی وبربادی کی وادیوں میں خوابِ غفلت کی نیند سوکر لمحات زندگی کو بے کار کردیا ہے ۔
اطاعتِ پرودگار کی بجائے شیطان ملعون کی اطاعت کیوں کرتے رہے ؟ ایک لمحے کی عارضی لذت کے لیے اپنی عفت کو داؤ پر کیوں لگا دیا ؟ اﷲ تعالی ٰ کے عدل سے بھی ہم کیوں نہ کانپے ؟ دشمن خدا دشمن انبیاء دشمن حق و صراط مستقیم کے بہکانے پر تو بہک جاتے رہے مگر ہادی دو جہاں رحمت للعالمین ؐ کے فرمان پر ناصر انبیاء مدد خدا مولا علی ؑ کی محبت کے باوجود میدانِ حق و باطل کے فاتح اعظم محسنِ کائنات حضرت امام حسین ؑ کے استغاثہ ھل من ناصر ینصرنا کی صدائے حق کے باوجود بُرائیوں کے مقابلے پہ قدم کیوں نہیں اُٹھے ؟ اس کی وجوہات میں سے بنیادی وجہ صحیح تربیت کا نہ ہونا ہے ۔
پھر میں نے ایسے لوگوں کو دیکھا کہ جن کے چہروں اور سروں کو پتھروں سے کوٹا گیا تھا ۔ میں نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں ؟ جواب ملا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو نما ز عشاء ( بغیر عذر شرعی ) ترک کیا کرتے تھے ۔
پھر ایسے لوگ نظر آے کہ آگ جن کے منہ سے داخل ہو کر مقعد کی طرف سے نکل رہی تھی ۔ میں نے پوچھا یہ بدبخت کون ہیں ؟ تو جواب ملا کہ یہ و ہ لوگ ہیں کہ جو یتیموں کے مال کھاتے تھے یہ درحقیقت اپنے شکم میںآگ جمع کر رہے تھے ۔ اب یہ اسی آگ میں ہی جلتے رہیں گے ۔
پھر ایسے لوگوں سے گذر ہوا جن کے پیٹ بڑے ہوئے تھے وہ اٹھنا چاہتے تھے مگر اٹھ نہیں سکتے تھے ۔ میں نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں ؟ جواب ملا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو سود کھاتے تھے ۔ قیامت کے دن یہ لوگ پاگل بنا کراٹھائے جائیں گے ۔ اور یہ آل فرعون کی روش پر ہیں ۔
( بحوالہ تفسیر علی بن ابراہیم ص ۳۷۰ )
ایک لمحے کے لیے ہی سوچیے کہ مندرجہ بالا فرامین رسو ل خد ا صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے تحت ہم کامیابی کی طرف سفر کر رہے ہیں یا ناکامی کی طرف ۔ اگر ناکامی ہمارے سامنے منہ کھولے کھڑی ہے تو کیوں ؟ اب تک آپ نے زندگی کی کتنی بہاریں ابلیسی بادِ سموم سے زہر آلود کر کے اپنے آپ کو صراطِ مستقیم سے دور کرتے ہوئے ۔ مغضوب علیہھم کے راستوں پر چل کر تباہی وبربادی کی وادیوں میں خوابِ غفلت کی نیند سوکر لمحات زندگی کو بے کار کردیا ہے ۔
اطاعتِ پرودگار کی بجائے شیطان ملعون کی اطاعت کیوں کرتے رہے ؟ ایک لمحے کی عارضی لذت کے لیے اپنی عفت کو داؤ پر کیوں لگا دیا ؟ اﷲ تعالی ٰ کے عدل سے بھی ہم کیوں نہ کانپے ؟ دشمن خدا دشمن انبیاء دشمن حق و صراط مستقیم کے بہکانے پر تو بہک جاتے رہے مگر ہادی دو جہاں رحمت للعالمین ؐ کے فرمان پر ناصر انبیاء مدد خدا مولا علی ؑ کی محبت کے باوجود میدانِ حق و باطل کے فاتح اعظم محسنِ کائنات حضرت امام حسین ؑ کے استغاثہ ھل من ناصر ینصرنا کی صدائے حق کے باوجود بُرائیوں کے مقابلے پہ قدم کیوں نہیں اُٹھے ؟ اس کی وجوہات میں سے بنیادی وجہ صحیح تربیت کا نہ ہونا ہے ۔
جس عمارت کی بنیاد ہی کمزور ہو اس پر بننے والی عمارت دیر پا ہو ہی نہیں سکتی ۔
انسان کی تربیت کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہے ۔ تربیت کا دوسرا با اثر ادارہ سکول یا مدرسہ ہے ۔ پھر اسکے دوستوں کی صحبت اس کی زندگی پر اثر اندازہو تی ہے ۔
جن گھروں سے کبھی تلاوت قرآن مجید کی آوازیں آتی تھیں آج ان گھروں سے گانوں کی آوازیں بلند ہورہی ہیں ۔ جہاں پر السلام علیکم کے لفظوں سے ایک دوسرے کو دعا دی جاتی تھی اب ہائے ۔ ہیلو گڈ مارننگ کے لفظوں نے لے لی ہے ۔ جن گھروں میں بچوں کو کلمہ طیبہ اصولِ دین فروع دین بارہ امام یاد کرائے جاتے تھے آج انہی گھروں میں ڈراموں کے نام یاد کرائے جاتے ہیں ڈیڈی مما پپا کے لفظ ان کے ذہنوں میں ڈالنے کو کامیابی سمجھا جاتا ہے ۔
جب یہی بچے بڑے ہوتے ہیں تو والدین ان کاموں کا تقاضہ کرتے ہیں جن پر انہوں زحمت کرنامناسب ہی نہ سمجھا تھا ۔ جب بچہ ان کے زیر تربیت تھا تو دنیاوی مصروفیات کی وجہ سے تربیت کرنے میں سُستی برتی یا ضرورت ہی نہ سمجھی ۔ جب وہ سیکھنے کے عمل سے نکل کر عملی میدان میں قدم رکھا تو اُس نے والدین کی دنیاوی مصروفیت کا خوب فاہدہ اُٹھایا ۔ جو جوان بیس ۲۰ پچیس ۲۵ برس جس بھی کھیل میں وقت گذار چکا ہو وہ اس میں مہارت حاصل کر ہی لیتا ہے ۔ تو جو جوان دینی تعلیم سے اپنے حقوق و فرائض سے والدین کے حقوق و فرائض سے آگاہ ہی نہ ہو وہ دوسروں کے حقوق کی کیا پرواہ کرے گا ؟ بالکل نہیں ۔
اگر اپنی اولاد کو بے راہ روی سے بچانا چاہتے ہیں تو پھر اپنے آپ پر فرض کرلیں کہ اپنے بچوں کو ملکیت سمجھ کر نہیں بلکہ اﷲ تعالی ٰ کی امانت سمجھ کر خود کو ایک ٹیوٹر سمجھ ان کو حلال و حرام کی تعلیم دینے کی بھر پور کوشش کریں ۔ جو ٹیوٹر بچے کی تعلیم پر خصوصی توجہ دیتا ہے بچے کے والدین اس کی مراعات میں بھی اضافہ کرتے ہیں اور اس کی ہر مشکل گھڑی میں بھی ساتھ دیتے ہیں۔
آپ کی اولاد صرف اور صرف آپ کے پاس امانت ہے ۔حدیث مبارک ہے کہ میں ؐ او ر علی ؑ امت کے روحانی باپ ہیں ۔ ہماری ملکیت میں اور چہاردہ معصومین ؑ کی ملکیت میں اتنا فرق تو ضرور ہے۔جتنا جسم اور روح میں فرق ہے جسم کی مثال گندم کے اس خوشے کی ہے کہ جس کا کام زمین وآسمان میں اﷲ تعالیٰ کی نعمتوں سے اپنی استطاعت کے مطابق اثرات قبول کرتے ہوئے اپنے اندر اﷲ کی امانت( دانے کی) پرورش وحفاظت کرتا رہے ۔ جب مالک کی مرضی ہوتی ہے اس کے وجود میں سے اپنی امانت نکال لیتا ہے ۔ اس کے بعد انہی خوشوں کو جو بُھوسے کی شکل میں موجود ہوتے ہیں ایک بڑی سی قبر کی صورت میں کچھ عرصے کے لیے تبدیل کر دیا جاتا ہے ۔
بالکل اسی طرح روح کو جسم کے ساتھ کچھ عرصے کے لاز م وملزوم کردیا جاتا ہے تاکہ جسم کے ڈھانچے میں روح نیکی کے کاموں میں پروان چڑھ کر اپنے عالم بالا کی طرف لوٹ جائے اور خالق اکبر اپنے دشمن ابلیس کو دکھا دے کہ دیکھو اسے ہی تم نے گمراہ کرنے کی کوشش کی تھی ۔ ہم نے کس طرح اپنی رحمت کے سائے میں لے کر تاج شرافت کا حقدار بنا دیا ہے ۔ اور جسم اپنے اصل کی طرف تُراب کی طرف ترابی بن کر کامیابی کا سند لے کر کامیاب ہو جاتا ہے ۔
تربیت صحیح نہ ہونے کی وجہ سے اولاد آدم ؑ شیطان کے شکنجوں میں پھنس تو جاتی ہے مگر خوش نصیب ہوتے ہیں وہ جن کے وارث زندہ ہوں ۔ وہ اپنی اولاد کو تباہی کی طرف جاتے دیکھ کر اُسے بچا لیتے ہیں ۔ جس طرح لوہے کو زنگ لگ جائے تو وہ خراب ہو جاتاہے اور اُس زنگ کو دور نہ کیا جائے تو نا قابل تلافی نقصان سے دوچار ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے ۔ اسی طرح دل بھی محبت دنیاسے خراب ہو جاتے ہیں ۔ لہذااس کے زنگ کو بھی دورکرنے کے لیے اﷲ ہی کی باتوں کی ضرورت ہوگی ۔
رسول اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ دلوں کے زنگ کو قرآن کو پڑھ کر دورکیا کرو۔ اگر رسول اکرم ؑ کے فرمان پر عمل نہ کیا جائے اور دلوں سے زنگ دور نہ کیا جائے تو جو قرآن کا مقصدِ حقیقی ہے اس میں فروغ کی بجائے ظاہری تلاوت ہی مقصد بنا دیا جائے گا ۔ جب مقصد حقیقی ہی نہ سمجھا جائے تو اس کے آداب کا خیال کیسے کیا جا سکتا ہے ؟
اﷲ فرمائے کہ قرآن کو ٹھہر ٹھہر کرپڑھنا چاہیے ا ور ہر آیت پر غور کرنا چاہیے ۔ اگر آیت عذاب ہے تو اس عذاب سے پناہ مانگی جائے اور اگر آیت ثواب ہے تو اس کا طلبگار رہنا چاہیے۔ فر فر پڑھنے کی ممانعت ہے۔ کیونکہ انسان بوقت تلاوت آیت میں غور و فکر اور توجہ نہیں کر سکتا ۔ عذا ب کے تذکرے سے اپنے دل کی خوش فہمیوں کو مٹا ؤاور اپنے دل کو جو دنیا کی محبت میں گرفتار ہے اُسے محبت الہی کے جذبے سے بیدار کراؤ۔
جس چیز کی جب تک معرفعت حاصل نہ ہو اسکی قدرو منزلت کا علم ہو ہی نہیں سکتا اور جب کسی کے بارے میں علم ہی نہ ہو اس سے استفادہ حاصل کرنا ممکن ہی نہیں ہے وراثت کی حقیقت سے مالک ہی واقف ہوتا ہے ۔ ملکیت کا حدود اربعہ مالک ہی جانتا ہے۔
حضرت علی علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں ۔ قرآن کا ظاہر خوش نماء اور باطن گہرا ہے اور نہ اس کے عجائب مٹنے والے ہیں اور نہ اس کے لطائف ختم ہونے والے ہیں اور جہالت کے پردے اسی سے چاک کیے جاسکتے ہیں ۔ ( نہج البلاغہ)
مقصد قرآن کی وضاحت کرتے ہوئے مولائے کائنات ؑ ارشاد فرماتے ہیں قرآن سے روحانی بیماریوں کی شفاء چاہو اور اپنی مصیبتوں پر اس سے دعا مانگو ۔ قرآن میں کفرونفاق ضلالت و گمراہی جیسی بڑی بڑی بیماریوں کی شفاء پائی جاتی ہے ۔ بندوں کے لیے اﷲ کی طرف متوجہ ہونے کا قرآن جیسا کوئی اور ذریعہ نہیں ہے ۔ اس کے وسیلے سے اﷲ سے دوستی کرو اسے لوگوں سے مانگنے کاذریعہ نہ بنا ؤ ۔ قرآن حق وباطل میں ایسا فرق کرنے والا ہے جس کی دلیل کمزور نہیں پڑتی ۔ قرآن سے علم کے چشمے پھوٹتے ہیں اور علم کے دریا بہتے ہیں ۔
قرآن میں عدل کے حوض ہیں ۔ قرآن حق کی وادی اور اس کا میدان ہموار ہے ۔ قر آن ایسی منزل ہے کہ جس کی راہ میں کوئی مسافر بھی نہیں بھٹکتا ۔ جو بھی قرآن کو اپنا دستور العمل بنائیگا قرآن اس کے لیے تیز ترین سواری ہے ۔ تم جب بھی قرآن کے ساتھ بیٹھو گے تو یا تو تمہارے گناہوں میں کمی ہو گی یا نیکیوں میں اضافہ ہو گا ۔
قرآن میں اﷲ کی با تیں ہیں اور شیطان کی چالوں کا تذکرہ ہے لہذا جب بھی ایک انسان قرآن میں عقل استعمال کرے گا اور سمجھ کر پڑھے گا تو اس کو اﷲ کی باتیں اچھی لگیں گیں اور یہی باتیں جنت میں لے جانے والی ہیں۔
لہذا قرآن مجید کو سمجھنے والا ان باتوں کا شوقین ہوگا تو یقیناًا س میں اچھائی پیدا ہوگی یا نیکی میں اضافہ ہوگا ۔ شیطان کی چالوں اور جہنم کی باتوں کو پڑھے گا تو اس سے نفرت ہوگی ان سے بچے گا اس طرح اسکے گناھوں میں کمی آئے گی ۔ جو قرآن کی باتوں کوسمجھے گا ان میں غور وفکر کرے گا عمل پیرا ہو گا اور سر فراز ہوگا۔ قرآن دنیا اور آخرت میں انسان کی کامیابی کے لیے نازل ہوا ہے ۔ تاکہ انسان اس دنیا میں بھی ہدایت یافتہ اور کامیاب ہو۔ اور آخرت میں بھی کامیاب و خوش و خرم ہو۔ تاریخ اسلام کا مطالعہ کرنے والوں سے یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ مکے کے کافروں اور جاہلوں کے سامنے رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم قرآن کی تلاوت کرتے تھے تو مکے کے جاہل لوگ ظاہری عربی سنتے تھے اور سمجھتے تھے۔ قرآن کے ظاہری معانی کا ان کے دلوں پر اتنا اثر ہوا کہ ایک جنگ میں تین سو تیرہ ۳۱۳ مجاہدتھے جن میں ۲ یا ۳ گھوڑے سوار تھے ا ور باقی سب پیدل۔ چند کے پاس تلواریں تھیں ا و ر باقی خالی ہاتھ تھے مگر ان کے دل بدل چکے تھے ۔ قر آن کی معرفعت اور اسکے ترجمے کا اتنا اثر ہو ا کہ انہوں نے وہ جنگ جیتی بلکہ دس ۱۰ سال حضرت محمد مصطفےٰ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلمکی رہبری وقیادت میں اسی ۸۰ لڑائیاں لڑیں اور تمام عرب اور غیر عرب ممالک پر ان مسلمانوں کی ہیبت بیٹھ گئی تھی ۔
اس زمانے کی بڑی طاقتوں (روم اور ایران) کو ان غریب و فقیر مسلمانوں نے زبردست شکست دی اور بعد از رسول اکرمصلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم مسلمانوں نے کئی سو سال تک کی حکومت کی یہ کس چیز کا اثر تھا ؟ یہ
انسان کی تربیت کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہے ۔ تربیت کا دوسرا با اثر ادارہ سکول یا مدرسہ ہے ۔ پھر اسکے دوستوں کی صحبت اس کی زندگی پر اثر اندازہو تی ہے ۔
جن گھروں سے کبھی تلاوت قرآن مجید کی آوازیں آتی تھیں آج ان گھروں سے گانوں کی آوازیں بلند ہورہی ہیں ۔ جہاں پر السلام علیکم کے لفظوں سے ایک دوسرے کو دعا دی جاتی تھی اب ہائے ۔ ہیلو گڈ مارننگ کے لفظوں نے لے لی ہے ۔ جن گھروں میں بچوں کو کلمہ طیبہ اصولِ دین فروع دین بارہ امام یاد کرائے جاتے تھے آج انہی گھروں میں ڈراموں کے نام یاد کرائے جاتے ہیں ڈیڈی مما پپا کے لفظ ان کے ذہنوں میں ڈالنے کو کامیابی سمجھا جاتا ہے ۔
جب یہی بچے بڑے ہوتے ہیں تو والدین ان کاموں کا تقاضہ کرتے ہیں جن پر انہوں زحمت کرنامناسب ہی نہ سمجھا تھا ۔ جب بچہ ان کے زیر تربیت تھا تو دنیاوی مصروفیات کی وجہ سے تربیت کرنے میں سُستی برتی یا ضرورت ہی نہ سمجھی ۔ جب وہ سیکھنے کے عمل سے نکل کر عملی میدان میں قدم رکھا تو اُس نے والدین کی دنیاوی مصروفیت کا خوب فاہدہ اُٹھایا ۔ جو جوان بیس ۲۰ پچیس ۲۵ برس جس بھی کھیل میں وقت گذار چکا ہو وہ اس میں مہارت حاصل کر ہی لیتا ہے ۔ تو جو جوان دینی تعلیم سے اپنے حقوق و فرائض سے والدین کے حقوق و فرائض سے آگاہ ہی نہ ہو وہ دوسروں کے حقوق کی کیا پرواہ کرے گا ؟ بالکل نہیں ۔
اگر اپنی اولاد کو بے راہ روی سے بچانا چاہتے ہیں تو پھر اپنے آپ پر فرض کرلیں کہ اپنے بچوں کو ملکیت سمجھ کر نہیں بلکہ اﷲ تعالی ٰ کی امانت سمجھ کر خود کو ایک ٹیوٹر سمجھ ان کو حلال و حرام کی تعلیم دینے کی بھر پور کوشش کریں ۔ جو ٹیوٹر بچے کی تعلیم پر خصوصی توجہ دیتا ہے بچے کے والدین اس کی مراعات میں بھی اضافہ کرتے ہیں اور اس کی ہر مشکل گھڑی میں بھی ساتھ دیتے ہیں۔
آپ کی اولاد صرف اور صرف آپ کے پاس امانت ہے ۔حدیث مبارک ہے کہ میں ؐ او ر علی ؑ امت کے روحانی باپ ہیں ۔ ہماری ملکیت میں اور چہاردہ معصومین ؑ کی ملکیت میں اتنا فرق تو ضرور ہے۔جتنا جسم اور روح میں فرق ہے جسم کی مثال گندم کے اس خوشے کی ہے کہ جس کا کام زمین وآسمان میں اﷲ تعالیٰ کی نعمتوں سے اپنی استطاعت کے مطابق اثرات قبول کرتے ہوئے اپنے اندر اﷲ کی امانت( دانے کی) پرورش وحفاظت کرتا رہے ۔ جب مالک کی مرضی ہوتی ہے اس کے وجود میں سے اپنی امانت نکال لیتا ہے ۔ اس کے بعد انہی خوشوں کو جو بُھوسے کی شکل میں موجود ہوتے ہیں ایک بڑی سی قبر کی صورت میں کچھ عرصے کے لیے تبدیل کر دیا جاتا ہے ۔
بالکل اسی طرح روح کو جسم کے ساتھ کچھ عرصے کے لاز م وملزوم کردیا جاتا ہے تاکہ جسم کے ڈھانچے میں روح نیکی کے کاموں میں پروان چڑھ کر اپنے عالم بالا کی طرف لوٹ جائے اور خالق اکبر اپنے دشمن ابلیس کو دکھا دے کہ دیکھو اسے ہی تم نے گمراہ کرنے کی کوشش کی تھی ۔ ہم نے کس طرح اپنی رحمت کے سائے میں لے کر تاج شرافت کا حقدار بنا دیا ہے ۔ اور جسم اپنے اصل کی طرف تُراب کی طرف ترابی بن کر کامیابی کا سند لے کر کامیاب ہو جاتا ہے ۔
تربیت صحیح نہ ہونے کی وجہ سے اولاد آدم ؑ شیطان کے شکنجوں میں پھنس تو جاتی ہے مگر خوش نصیب ہوتے ہیں وہ جن کے وارث زندہ ہوں ۔ وہ اپنی اولاد کو تباہی کی طرف جاتے دیکھ کر اُسے بچا لیتے ہیں ۔ جس طرح لوہے کو زنگ لگ جائے تو وہ خراب ہو جاتاہے اور اُس زنگ کو دور نہ کیا جائے تو نا قابل تلافی نقصان سے دوچار ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے ۔ اسی طرح دل بھی محبت دنیاسے خراب ہو جاتے ہیں ۔ لہذااس کے زنگ کو بھی دورکرنے کے لیے اﷲ ہی کی باتوں کی ضرورت ہوگی ۔
رسول اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ دلوں کے زنگ کو قرآن کو پڑھ کر دورکیا کرو۔ اگر رسول اکرم ؑ کے فرمان پر عمل نہ کیا جائے اور دلوں سے زنگ دور نہ کیا جائے تو جو قرآن کا مقصدِ حقیقی ہے اس میں فروغ کی بجائے ظاہری تلاوت ہی مقصد بنا دیا جائے گا ۔ جب مقصد حقیقی ہی نہ سمجھا جائے تو اس کے آداب کا خیال کیسے کیا جا سکتا ہے ؟
اﷲ فرمائے کہ قرآن کو ٹھہر ٹھہر کرپڑھنا چاہیے ا ور ہر آیت پر غور کرنا چاہیے ۔ اگر آیت عذاب ہے تو اس عذاب سے پناہ مانگی جائے اور اگر آیت ثواب ہے تو اس کا طلبگار رہنا چاہیے۔ فر فر پڑھنے کی ممانعت ہے۔ کیونکہ انسان بوقت تلاوت آیت میں غور و فکر اور توجہ نہیں کر سکتا ۔ عذا ب کے تذکرے سے اپنے دل کی خوش فہمیوں کو مٹا ؤاور اپنے دل کو جو دنیا کی محبت میں گرفتار ہے اُسے محبت الہی کے جذبے سے بیدار کراؤ۔
جس چیز کی جب تک معرفعت حاصل نہ ہو اسکی قدرو منزلت کا علم ہو ہی نہیں سکتا اور جب کسی کے بارے میں علم ہی نہ ہو اس سے استفادہ حاصل کرنا ممکن ہی نہیں ہے وراثت کی حقیقت سے مالک ہی واقف ہوتا ہے ۔ ملکیت کا حدود اربعہ مالک ہی جانتا ہے۔
حضرت علی علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں ۔ قرآن کا ظاہر خوش نماء اور باطن گہرا ہے اور نہ اس کے عجائب مٹنے والے ہیں اور نہ اس کے لطائف ختم ہونے والے ہیں اور جہالت کے پردے اسی سے چاک کیے جاسکتے ہیں ۔ ( نہج البلاغہ)
مقصد قرآن کی وضاحت کرتے ہوئے مولائے کائنات ؑ ارشاد فرماتے ہیں قرآن سے روحانی بیماریوں کی شفاء چاہو اور اپنی مصیبتوں پر اس سے دعا مانگو ۔ قرآن میں کفرونفاق ضلالت و گمراہی جیسی بڑی بڑی بیماریوں کی شفاء پائی جاتی ہے ۔ بندوں کے لیے اﷲ کی طرف متوجہ ہونے کا قرآن جیسا کوئی اور ذریعہ نہیں ہے ۔ اس کے وسیلے سے اﷲ سے دوستی کرو اسے لوگوں سے مانگنے کاذریعہ نہ بنا ؤ ۔ قرآن حق وباطل میں ایسا فرق کرنے والا ہے جس کی دلیل کمزور نہیں پڑتی ۔ قرآن سے علم کے چشمے پھوٹتے ہیں اور علم کے دریا بہتے ہیں ۔
قرآن میں عدل کے حوض ہیں ۔ قرآن حق کی وادی اور اس کا میدان ہموار ہے ۔ قر آن ایسی منزل ہے کہ جس کی راہ میں کوئی مسافر بھی نہیں بھٹکتا ۔ جو بھی قرآن کو اپنا دستور العمل بنائیگا قرآن اس کے لیے تیز ترین سواری ہے ۔ تم جب بھی قرآن کے ساتھ بیٹھو گے تو یا تو تمہارے گناہوں میں کمی ہو گی یا نیکیوں میں اضافہ ہو گا ۔
قرآن میں اﷲ کی با تیں ہیں اور شیطان کی چالوں کا تذکرہ ہے لہذا جب بھی ایک انسان قرآن میں عقل استعمال کرے گا اور سمجھ کر پڑھے گا تو اس کو اﷲ کی باتیں اچھی لگیں گیں اور یہی باتیں جنت میں لے جانے والی ہیں۔
لہذا قرآن مجید کو سمجھنے والا ان باتوں کا شوقین ہوگا تو یقیناًا س میں اچھائی پیدا ہوگی یا نیکی میں اضافہ ہوگا ۔ شیطان کی چالوں اور جہنم کی باتوں کو پڑھے گا تو اس سے نفرت ہوگی ان سے بچے گا اس طرح اسکے گناھوں میں کمی آئے گی ۔ جو قرآن کی باتوں کوسمجھے گا ان میں غور وفکر کرے گا عمل پیرا ہو گا اور سر فراز ہوگا۔ قرآن دنیا اور آخرت میں انسان کی کامیابی کے لیے نازل ہوا ہے ۔ تاکہ انسان اس دنیا میں بھی ہدایت یافتہ اور کامیاب ہو۔ اور آخرت میں بھی کامیاب و خوش و خرم ہو۔ تاریخ اسلام کا مطالعہ کرنے والوں سے یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ مکے کے کافروں اور جاہلوں کے سامنے رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم قرآن کی تلاوت کرتے تھے تو مکے کے جاہل لوگ ظاہری عربی سنتے تھے اور سمجھتے تھے۔ قرآن کے ظاہری معانی کا ان کے دلوں پر اتنا اثر ہوا کہ ایک جنگ میں تین سو تیرہ ۳۱۳ مجاہدتھے جن میں ۲ یا ۳ گھوڑے سوار تھے ا ور باقی سب پیدل۔ چند کے پاس تلواریں تھیں ا و ر باقی خالی ہاتھ تھے مگر ان کے دل بدل چکے تھے ۔ قر آن کی معرفعت اور اسکے ترجمے کا اتنا اثر ہو ا کہ انہوں نے وہ جنگ جیتی بلکہ دس ۱۰ سال حضرت محمد مصطفےٰ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلمکی رہبری وقیادت میں اسی ۸۰ لڑائیاں لڑیں اور تمام عرب اور غیر عرب ممالک پر ان مسلمانوں کی ہیبت بیٹھ گئی تھی ۔
اس زمانے کی بڑی طاقتوں (روم اور ایران) کو ان غریب و فقیر مسلمانوں نے زبردست شکست دی اور بعد از رسول اکرمصلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم مسلمانوں نے کئی سو سال تک کی حکومت کی یہ کس چیز کا اثر تھا ؟ یہ
بلندی کس چیز کے سبب حاصل ہوئی؟ یہ صرف اور صرف قرآن کا ظاہری اثر تھا
آپ غور فرمائیں تو اس سے انکار ممکن ہی نہیں ہے کہ اس وقت سب مسلمان شروع اسلام میں بہت با معرفعت نہیں تھے چند ایک کے علاوہ ۔یہ قرآن کے ظاہری ترجمے کا اثر تھا کہ مسلمان چاہے فقیر و غریب تھے مگر قرآن کے حامی تھے لہذا کبھی ناکام نہ ہوئے ۔ مگر اسلام کے پھیلنے کے بعد جو اسلامی ممالک بڑی طاقتوں کے ساتھ مل گئے یا ان پر دشمنان اسلام کا قبضہ ہوا وہ تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں ۔ تو اس کا سبب یہی ہے کہ انہوں نے قرآن و اسلام کو چھوڑ دیا ہے ۔
مقصد قرآن کو چھوڑ کر قرآن کو مرُدوں اور قبروں پر پڑھنے کے لیے رکھ چھوڑا ہے رنگین جز دانوں اور غلافوں میں رکھنے یا صرف ثواب کا ذریعہ بنا لیا ۔ انسان کی ہدایت کو سرے سے ہی فراموش کر دیا ۔
الیکٹرانک میڈیا سے منسلک افراد کو یہ بات نہ بھولی ہوگی کہ جب سرزمین ایران میں رضا شاہ پہلوی کے مغربی افکار سے زہر آلودہ آب وہوا میں پلنے والی مادر پدر آزاد نسل کو گمراہی سے نکالنے اور ہدایت کی جانب لانے کے لیے مقصد قرآن کے حامی خمینی علیہ الرحمہ نے قیام کیا ۔ جدوجہد کی تکالیف برداشت کیں تو انہوں نے قرآن سے مددلی ۔
قرآن کے ترجمے کوواپس معاشرے میں لائے قرآن کو قبرستانوں اور مردوں کی ایصال ثواب کی مجالس سے واپس لا کر ہر گھر میں ہی نہیں بلکہ ہر دل تک پہنچایا ۔ کہ اس قرآن کا مقصد سمجھو پھر نعمتِ ہدایت سے مستفید ہونا تمہارے لیئے کوئی مشکل نہیں ہوگا ۔
پھر دنیا نے دیکھا کہ خمینی علیہ الرحمہ ا ور ان کے ساتھی جو قرآن کے حامی تھے تو قدرت کی طرف سے انہیں وہ زبردست کامیابی حاصل ہوئی کہ پوری دنیا پر ا انقلابِ ا یران کی ہیبت بیٹھ گئی اور آج بھی دشمن اسلام امریکہ و اسرائیل اور ان کے حواری صرف اسی ملک سے ہی خوفزدہ ہیں ۔
صرف قرآن کو ثواب کی خاطر پڑھنے والے تمام اسلامی ممالک ان کے زیر نگر ہی نہیں ہیں بلکہ امریکہ جیسے دشمن اسلام کے آگے بچہ جمہورہ کی طرح سرجھکانے پر مجبور ہیں ۔
حسبنا کتاب اﷲ کی فکر کو ترویج دینے والے ۔ ما اتا کم الرسول فخذوہ ۔ میرا رسول (صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم )تمہیں جو دے وہ لے لو کے ارشاد الہی کے مصداق کے نسخہ کیمیاء ا نی تارک فیکم الثقلین کتا ب اﷲ عترتی و اھلبیتی ما ا ن تمسکتم بھما لن تضلوا بعدی حتی یرد الی الحوض ۔ میں تمہارے درمیان دو ہم وزن چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ایک اﷲ کی کتاب اور دوسری عترت جو میری اہلبیتؑ ہے اگر تم نے ان دونوں کا دامن تھامے رکھا تو میرے بعدہرگز ہرگز گمراہ نہ ہو گے یہانتک کہ یہ دونوں ( قرآن و ا ہلبیت ؑ ) تمہیں حو ض کوثر پر مجھ تک لے آئیں گے ۔ پر عمل پیرا ہوکردنیا پر حکمرانی کرنے کی بجائے فرمان نبوی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی
نا فرمانی کرکے خود ہی طاغوت کی غلامی کا طوق گلے میں ڈالنا پسند کیا ۔ جس کی سزا آج بھی امت مسلمہ بھگت رہی ہے اور اﷲ ہی بہترجانتا ہے کہ اس شبِ ظلمت کا اندھیراکب چھٹے گا ۔
نا فہم حکمرانوں کی غلطی کا نوحہ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ؒ نے ان لفظوں میں پڑھتے ہوئے ہر طالب حق و آخرت کو دعوت عمل دی ہے ۔
کی محمدؐسے وفا تو نے تو ہم تیر ے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیر ے ہیں۔( اقبال ؒ )
اب بھی وقت ہے اگر معاشرے کی زہر آلود آب و ہوا سے اپنی نسلوں کو بچانا ہے تو سب سے پہلے اپنے گھروں کے ماحول کو قرآن اور وارثانِ قرآن کے فرامین کی نورانیت سے طاغوتی ظلمت کو مٹا کر روشن کرنا ہوگا ۔ قرآن کی تلاوت کو آداب و شرائط اور مقاصد حقیقی کے ساتھ معمول حیات بنائیں ۔ تاکہ آپ کے بچے اس نورانی ماحول سے منور ہوکر منتظرین امام زمانہ ؑ بن سکیں ۔
مقصد قرآن ۰۰۰۰۰ قرآن کی نگاہ میں
یہ کتاب ہم نے آپ کی جانب نازل کی تاکہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے نور کی جانب نکال کرلے جائیں ان کے رب کے حکم سے جو زبردست قدرت والے اورتمام خوبیوں والے کی راہ ہے ۔ ( سورہ ابراہیم ۱)
یہ مبارک کتاب ہم آپ کی جانب نازل کی تاکہ لوگ اس کی آیات میں غور وفکر( تدبر) کریں اور عقل والے اس کو سمجھیں ۔ ( سورہ ص ۲۹ )
بے شک یہ قرآن ہدایت کرتاہے اس راہ کی جو ہمیشہ رہنے والی ہے ۔ ( بنی اسرائیل ۔ ۹ )
یہ قرآن ( کی آیات ) متقیوں ( اور پرہیز گاروں ) کے لیے ہدایت کا باعث ہے ۔ ( بقرہ ۔ ۲ )
فوائد تلاوت قرآن مجید
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ جس گھر میں تلاوت قرآن ہوتی ہے ۔ وہ گھر اہل آسمان کو اسطرح چمکتا ہوا نظر آتا ہے جس طرح اہل ارض کو آسمان پر ستارے جگمگاتے نظر آتے ھیں ۔ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا جس گھر میں قرآن کی تلاوت ہوتی ہے اور ذکر خدا ہوتا ہے اس گھر کی برکت میں اضافہ ہوتا ہے ۔ ملائکہ ( رحمت ) کا نزول ہوتا ہے ۔ شیطان اس گھر سے بھاگ جاتاہے اور جس گھر میں تلاوت قرآن نہیں ہوتی اور ذکرخدا نہیں ہوتا اس گھرکی برکت کم ہو جاتی ہے ۔ ملائکہ اس گھرکو چھوڑجاتے ہیں اور وہ گھرشیاطین کا اڈہ بن جاتا ہے ۔
حضرت محمد مصطفی صلی اﷲعلیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اپنے گھروں کو تلاوت قرآن سے منور رکھا کرویہودونصاری کی طرح گھروں کو تاریک رکھ کے صرف گرجوں تک محدود نہ رکھو ۔
سعد خفاف نے امام محمد باقر ؑ سے روایت کی ہے ۔ کہ آپ ؑ نے فرمایا قرآن سیکھو قیامت کے دن قرآن اﷲ کے دربار میں ایک انتہائی حسین و جمیل شکل میں پیش ہو گا ۔ ذات احدیث کی طرف سے نداء آئے گی آئے میرے سچے کلام آئے روئے عرض پہ میری حجت کلام کر آج تو جس کی شفاعت کرے گا قبول ہوگی ۔یہ بتا میری مخلوق نے تجھ سے کیا سلوک کیا تھا ۔ ؟ قرآن عرض کرے گا بار الہا کچھ لوگوں نے میرا تحفظ کیا اور کچھ نے مجھے ضائع کیا ۔ کچھ نے میری تعلیمات پر عمل کیا کچھ نے میری حقوق کی توہین کی اور مجھے جھٹلایا ۔ ذات احدیت کی طرف سے ارشاد ہوگا مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم ہے آج میں تیری وجہ سے جسے ثواب عطا کروں گا وہ بھی بے مثال ہوگا اورجسے معذب کروں گا تو بھی عذاب بے مثال ہو گا ۔
معاذ نے نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی ہے کہ جو شخص اپنے بچوں کو قرآن کی تعلیم دلائے گا قیامت کے دن اﷲ اس کے والدین کو شاہانہ لباس عطا کرے گا کہ اہلِ محشر نے اس جیسا لباس کبھی نہ دیکھا ہو گا ۔ پھر فرمایا قرآن حبل اﷲ ( اﷲ کی رسی ) ہے ۔ قرآن نور مبین ہے قرآن سے تمسک رکھنے والوں کے لیے قرآن تحفظ کا ضامن ہے ۔ اتباع قرآن کرنے والوں کے لیے قرآن نجات ہے ۔ جب معلم بچے کو بسم اﷲالرحمن الرحیم پڑھاتا ہے تو اﷲ اس بچے کو اس کے والدین اور اس کے معلم کے لیے آتش جہنم سے براْت لکھ دیتا ہے ۔
آپ غور فرمائیں تو اس سے انکار ممکن ہی نہیں ہے کہ اس وقت سب مسلمان شروع اسلام میں بہت با معرفعت نہیں تھے چند ایک کے علاوہ ۔یہ قرآن کے ظاہری ترجمے کا اثر تھا کہ مسلمان چاہے فقیر و غریب تھے مگر قرآن کے حامی تھے لہذا کبھی ناکام نہ ہوئے ۔ مگر اسلام کے پھیلنے کے بعد جو اسلامی ممالک بڑی طاقتوں کے ساتھ مل گئے یا ان پر دشمنان اسلام کا قبضہ ہوا وہ تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں ۔ تو اس کا سبب یہی ہے کہ انہوں نے قرآن و اسلام کو چھوڑ دیا ہے ۔
مقصد قرآن کو چھوڑ کر قرآن کو مرُدوں اور قبروں پر پڑھنے کے لیے رکھ چھوڑا ہے رنگین جز دانوں اور غلافوں میں رکھنے یا صرف ثواب کا ذریعہ بنا لیا ۔ انسان کی ہدایت کو سرے سے ہی فراموش کر دیا ۔
الیکٹرانک میڈیا سے منسلک افراد کو یہ بات نہ بھولی ہوگی کہ جب سرزمین ایران میں رضا شاہ پہلوی کے مغربی افکار سے زہر آلودہ آب وہوا میں پلنے والی مادر پدر آزاد نسل کو گمراہی سے نکالنے اور ہدایت کی جانب لانے کے لیے مقصد قرآن کے حامی خمینی علیہ الرحمہ نے قیام کیا ۔ جدوجہد کی تکالیف برداشت کیں تو انہوں نے قرآن سے مددلی ۔
قرآن کے ترجمے کوواپس معاشرے میں لائے قرآن کو قبرستانوں اور مردوں کی ایصال ثواب کی مجالس سے واپس لا کر ہر گھر میں ہی نہیں بلکہ ہر دل تک پہنچایا ۔ کہ اس قرآن کا مقصد سمجھو پھر نعمتِ ہدایت سے مستفید ہونا تمہارے لیئے کوئی مشکل نہیں ہوگا ۔
پھر دنیا نے دیکھا کہ خمینی علیہ الرحمہ ا ور ان کے ساتھی جو قرآن کے حامی تھے تو قدرت کی طرف سے انہیں وہ زبردست کامیابی حاصل ہوئی کہ پوری دنیا پر ا انقلابِ ا یران کی ہیبت بیٹھ گئی اور آج بھی دشمن اسلام امریکہ و اسرائیل اور ان کے حواری صرف اسی ملک سے ہی خوفزدہ ہیں ۔
صرف قرآن کو ثواب کی خاطر پڑھنے والے تمام اسلامی ممالک ان کے زیر نگر ہی نہیں ہیں بلکہ امریکہ جیسے دشمن اسلام کے آگے بچہ جمہورہ کی طرح سرجھکانے پر مجبور ہیں ۔
حسبنا کتاب اﷲ کی فکر کو ترویج دینے والے ۔ ما اتا کم الرسول فخذوہ ۔ میرا رسول (صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم )تمہیں جو دے وہ لے لو کے ارشاد الہی کے مصداق کے نسخہ کیمیاء ا نی تارک فیکم الثقلین کتا ب اﷲ عترتی و اھلبیتی ما ا ن تمسکتم بھما لن تضلوا بعدی حتی یرد الی الحوض ۔ میں تمہارے درمیان دو ہم وزن چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ایک اﷲ کی کتاب اور دوسری عترت جو میری اہلبیتؑ ہے اگر تم نے ان دونوں کا دامن تھامے رکھا تو میرے بعدہرگز ہرگز گمراہ نہ ہو گے یہانتک کہ یہ دونوں ( قرآن و ا ہلبیت ؑ ) تمہیں حو ض کوثر پر مجھ تک لے آئیں گے ۔ پر عمل پیرا ہوکردنیا پر حکمرانی کرنے کی بجائے فرمان نبوی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی
نا فرمانی کرکے خود ہی طاغوت کی غلامی کا طوق گلے میں ڈالنا پسند کیا ۔ جس کی سزا آج بھی امت مسلمہ بھگت رہی ہے اور اﷲ ہی بہترجانتا ہے کہ اس شبِ ظلمت کا اندھیراکب چھٹے گا ۔
نا فہم حکمرانوں کی غلطی کا نوحہ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ؒ نے ان لفظوں میں پڑھتے ہوئے ہر طالب حق و آخرت کو دعوت عمل دی ہے ۔
کی محمدؐسے وفا تو نے تو ہم تیر ے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیر ے ہیں۔( اقبال ؒ )
اب بھی وقت ہے اگر معاشرے کی زہر آلود آب و ہوا سے اپنی نسلوں کو بچانا ہے تو سب سے پہلے اپنے گھروں کے ماحول کو قرآن اور وارثانِ قرآن کے فرامین کی نورانیت سے طاغوتی ظلمت کو مٹا کر روشن کرنا ہوگا ۔ قرآن کی تلاوت کو آداب و شرائط اور مقاصد حقیقی کے ساتھ معمول حیات بنائیں ۔ تاکہ آپ کے بچے اس نورانی ماحول سے منور ہوکر منتظرین امام زمانہ ؑ بن سکیں ۔
مقصد قرآن ۰۰۰۰۰ قرآن کی نگاہ میں
یہ کتاب ہم نے آپ کی جانب نازل کی تاکہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے نور کی جانب نکال کرلے جائیں ان کے رب کے حکم سے جو زبردست قدرت والے اورتمام خوبیوں والے کی راہ ہے ۔ ( سورہ ابراہیم ۱)
یہ مبارک کتاب ہم آپ کی جانب نازل کی تاکہ لوگ اس کی آیات میں غور وفکر( تدبر) کریں اور عقل والے اس کو سمجھیں ۔ ( سورہ ص ۲۹ )
بے شک یہ قرآن ہدایت کرتاہے اس راہ کی جو ہمیشہ رہنے والی ہے ۔ ( بنی اسرائیل ۔ ۹ )
یہ قرآن ( کی آیات ) متقیوں ( اور پرہیز گاروں ) کے لیے ہدایت کا باعث ہے ۔ ( بقرہ ۔ ۲ )
فوائد تلاوت قرآن مجید
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ جس گھر میں تلاوت قرآن ہوتی ہے ۔ وہ گھر اہل آسمان کو اسطرح چمکتا ہوا نظر آتا ہے جس طرح اہل ارض کو آسمان پر ستارے جگمگاتے نظر آتے ھیں ۔ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا جس گھر میں قرآن کی تلاوت ہوتی ہے اور ذکر خدا ہوتا ہے اس گھر کی برکت میں اضافہ ہوتا ہے ۔ ملائکہ ( رحمت ) کا نزول ہوتا ہے ۔ شیطان اس گھر سے بھاگ جاتاہے اور جس گھر میں تلاوت قرآن نہیں ہوتی اور ذکرخدا نہیں ہوتا اس گھرکی برکت کم ہو جاتی ہے ۔ ملائکہ اس گھرکو چھوڑجاتے ہیں اور وہ گھرشیاطین کا اڈہ بن جاتا ہے ۔
حضرت محمد مصطفی صلی اﷲعلیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اپنے گھروں کو تلاوت قرآن سے منور رکھا کرویہودونصاری کی طرح گھروں کو تاریک رکھ کے صرف گرجوں تک محدود نہ رکھو ۔
سعد خفاف نے امام محمد باقر ؑ سے روایت کی ہے ۔ کہ آپ ؑ نے فرمایا قرآن سیکھو قیامت کے دن قرآن اﷲ کے دربار میں ایک انتہائی حسین و جمیل شکل میں پیش ہو گا ۔ ذات احدیث کی طرف سے نداء آئے گی آئے میرے سچے کلام آئے روئے عرض پہ میری حجت کلام کر آج تو جس کی شفاعت کرے گا قبول ہوگی ۔یہ بتا میری مخلوق نے تجھ سے کیا سلوک کیا تھا ۔ ؟ قرآن عرض کرے گا بار الہا کچھ لوگوں نے میرا تحفظ کیا اور کچھ نے مجھے ضائع کیا ۔ کچھ نے میری تعلیمات پر عمل کیا کچھ نے میری حقوق کی توہین کی اور مجھے جھٹلایا ۔ ذات احدیت کی طرف سے ارشاد ہوگا مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم ہے آج میں تیری وجہ سے جسے ثواب عطا کروں گا وہ بھی بے مثال ہوگا اورجسے معذب کروں گا تو بھی عذاب بے مثال ہو گا ۔
معاذ نے نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی ہے کہ جو شخص اپنے بچوں کو قرآن کی تعلیم دلائے گا قیامت کے دن اﷲ اس کے والدین کو شاہانہ لباس عطا کرے گا کہ اہلِ محشر نے اس جیسا لباس کبھی نہ دیکھا ہو گا ۔ پھر فرمایا قرآن حبل اﷲ ( اﷲ کی رسی ) ہے ۔ قرآن نور مبین ہے قرآن سے تمسک رکھنے والوں کے لیے قرآن تحفظ کا ضامن ہے ۔ اتباع قرآن کرنے والوں کے لیے قرآن نجات ہے ۔ جب معلم بچے کو بسم اﷲالرحمن الرحیم پڑھاتا ہے تو اﷲ اس بچے کو اس کے والدین اور اس کے معلم کے لیے آتش جہنم سے براْت لکھ دیتا ہے ۔
حامل ِ قرآن کی اقسام
* امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا کہ تلاوت قرآن کرنے والوں کی تین ۳ اقسام ہیں
۱۔ ایسا شخص جو قرآن کو ذریعہ معاش اور لوگوں پر فخر کرنے کے لیے تلاوت کرتاہے ۔
۲۔ ایسا شخص جو الفاظ قرآن حفظ کرکے حدود قرآن ضائع کرتا ہے ۔
( دعا ہے اﷲ قاریوں کی تعدادمیں اضافہ نہ کرے ۔)
۳ ۔ ایسا شخص جو تلاوت قرآن کو دوا سمجھ کر اس سے اپنے قلبی امراض کا علاج کرتا ہے ۔ مسجد میں تلاوت کرتاہے بستر پر تلاوت کرتا ہے ۔ یہی وہ افراد ہیں کہ جن کی بدولت عذاب خدا ٹلا رہتا ہے ۔ انہی کی بدولت دشمنان خدا منہ کی کھاتے ہیں ۔ انہی کی بدولت بارش ہوتی ہے ۔ بخدا ایسے قاریان قرآن کبریت احمر سے بھی زیادہ کامیاب ہونگے۔
حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص قرآن پڑھنے کے بعد اس پر عمل نہ کرے اور محبت دنیا کو ترجیح دے وہ ہمیشہ اﷲ کی ناراضگی میں رہے گا اور ان یہود و نصاری کے ساتھ ہو گا جو کتاب الہی کو پس پشت ڈال دیتے تھے ۔ جو شخص تلاوت قرآن کو عوام الناس میں تعریف کی خاطر پڑھے گا اور حصول زر کا ذریعہ بنالے قیامت کے دن اس کے چہرے پر گوشت نام کو بھی نہ ہو گا۔
جو شخص تلاوت قرآن کرے مگر اس پر عمل نہ کرے قیامت کے دن اسے نابینا محشور کیا جائے گا۔ وہ عرض کرے گا بارِِ الہادنیا میں تو میں بینا تھا اب مجھے نابیناکیوں محشور کیا گیا ہے ؟ ارشاد قدرت ہوگا جس طرح دنیا میں تونے میری آیات کو بھلا دیا تھا اس طرح آج تجھے بھلا دیا گیاہے ۔ پھر حکم ہوگا اسے جہنم میں داخل کردو ۔ جو شخص تعلیم قرآن کو ذریعہ شہرت جہلا پر فخر علماء کے سامنے ذریعہ مباہات اور ذریعہ کسب بنائے گا قیامت کے دن اﷲ اس کے اعضائے بدن کو جدا جدا کر کے جہنم میں ڈال دے گا ۔
جہنم میں اس شخص سے زیادہ معذب کوئی بھی نہ ہو گا ۔ جہنم میں ایک ایسی وادی آتش ہے جس میں رہنے والے روزانہ سترہزار مرتبہ فریاد کریں گے ۔ پوچھا گیا قبلہ اس وادی میں کون ہو گا �آآپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا حاملین قرآن میں سے شرابی اور تارک نماز۔
جو شخص تلاوت قرآن رضائے الہی اور دین فہمی کے لیے کرے گا ۔ اﷲ اسے تمام ملائکہ اور انبیائے مرسلین ؑ کے برابر ثواب عنایت فرمائے گا ۔ حضرت علی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ تلاوت قرآن بغیر وضو کے نہیں کرنی چاہیے تلاوت کی ابتداء اعوذ باﷲ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم سے کرو ۔ اسے صحیح حرکات وسکنات سے پڑھو ۔
حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔ تلاوت قرآن عربی لہجہ میں کیا کرو ۔ اہل فسق اور گناہانِ کبیرہ کے مرتکب افراد کے لہجہ میں تلاوت نہ کیا کرو ۔ میرے بعد ایسے لوگ آینگے کہ وہ تلاوت قرآن جاہلانہ راہبوں اور غناء کے سے انداز میں کریں گے ۔ قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ۔ انہیں سن کر خوش ہونے والے بھی ان جیسے ہی ہوں گے ۔
مندرجہ بالا قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں فیصلہ کر سکتے ہیں کہ ہمیں کیا کرنا تھا جوہم نے نہیں کیا ۔اور جو جو نہیں کرنا چاہیے تھا وہ ھم نے کئی مرتبہ انجام دیا آخر کیوں ؟
جو ہو چکا ہے اس پر ہم یقیناًشرمندہ تو ہیں ہی اور یہ بھی ہما ری خوش قسمتی ہے کہ ہمارا نامہ اعمال ابھی کھلا ہوا ہے ۔ ہم جو صفحات زیست سیاہ کر چکے ہیں اسے سارعوا الی المغفرۃ کہ توبہ کی طرف دوڑ کر آؤ کی آیہ مبارکہ پر عمل کرکے فرمان خداوندی لا تقنطوا من رحمۃ اﷲ۔ مجھ اﷲ کی رحمت سے مایوس نہ ہو کے فرمان کریمانہ سے فائدہ اٹھا کر بد بختی کو خوش بختی میں بدل سکتے ہیں
ناکامی کو کامیابی میں بدلنے کی بہترین صورت نما ز ہے ۔ ہمارے خالق نے قرآن میں ہماری تخلیق کا مقصد وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون اور نہیں پیدا کیا جنوں اور انسانوں کو ماسوائے اس کے کہ وہ ( جن و انس ) میری عبادت کریں کی آیہ مبارکہ کے ذیل میں عبادت قرار دیا ہے اور نماز کو عبادتوں کی سردار عبادت قرار دیا گیا ہے ۔ نماز تلاوت قرآن اور ذکر الہی کا بہترین مجموعہ ہے ۔ اﷲتعالی کے قرب حاصل کرنے کا بہترین وسیلہ نماز ہی ہے۔
مروی ہے کہ جب خاتم الانبیاءؑ مبعوث ہوئے تو ابلیس کا لشکر اسکے اطراف جمع کر کہنے لگا کہ اﷲ نے ایک پیغمبرکوبھیجا ہے جسکی ایک امت قرار دی گئی ہے ۔ ابلیس نے کہا کہ کیا اسکی امت دنیا کو دوست رکھے گی ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں اس وقت ابلیس نے کہا کوئی پرواہ نہیں ۔ وہ بت پرستی نہیں کرتے نہ کریں میں رات دن ان کو اسی مشغلہ میں لگاؤں گا کہ مال خلاف حق حاصل کرکے بیجا طورپر صرف کریں اور حقدار کو نہ دیں ۔ پس ان میں اسی وجہ سے تمام خرابیاں پیدا ہو جائیں گی ۔
فرمان رسالتمآب صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلمہے کہ دو ۲ بھوکھے کبھی بھی سیر نہیں ہونگے ۔علم کا بھوکا ‘ مال کا بھوکا ۔
ایک مرتبہ اپنے اصحاب سے فرمایاکہ میں تمہارے فقر سے نہیں ڈرتا ہوں بلکہ تمھاری مالداری سے خوف کرتا ہوں کہ دنیا تمھاری طرف رخ کرے جیسا کہ تم سے پہلوں کی طرف اس نے رخ کیا ہے پھر تم اس پر رغبت کرو جیسا کہ ان لوگوں نے اس کے ساتھ رغبت کی پس یہ تم کو ہلاک کرے جیسا کہ ان لوگوں کو ہلاک کیا ۔آگاہ ہو جاو کہ جو کوئی دنیا پر مائل ہو ااور اس کے کاروبار نے دنیا میں طول کھینچا ہو حق تعالی اس کے دل کو اندھا کرتا ہے جس قدردنیاکی خواہش زیادہ ہوتی ہے اس قدراس کے دل کا اندھا پن زیادہ ہوتا ہے ۔ جو کوئی دنیاسے دوری اختیار کرتا ہے اپنی امید کو کم کرتا ہے حق تعالی اس کوعلم عطا کرتا ہے بغیر اس کے کہ کوئی دوسرا اس کی رہنمائی کرے۔
ایک روز فرمایا میرے بعد قریب ہے کہ ایک قوم پیدا ہوگی جو پاکیزہ غذا کھائیں گے اور خوبصورت عورتیں کریں گے نفیس لباس پہنیں گے آرام دہ اور خوبصورت و قیمتی سواریوں پر سوار ہونگے ۔ ان کے پیٹ کبھی نہ بھریں گے ۔ ان کا نفس کبھی قناعت نہ کریگا ۔ رات دن دنیاکے کاموں میں مشغول رہیں گے اسکی پرستش کرینگے اپنی خواہشات کی اطاعت کریں گے ۔
پھر فرمایا کہ قیامت میں ایک گروہ کو لایا جائے گا جن کے اعمال نیک تہامہ کے پہاڑکے مثل ہونگے حکم خداوندی ہو گا کہ ان کو جہنم میں لے جاو ۔ بعض نے کہا کیا یہ لوگ نماز پڑھنے والے نہ ہونگے ۔ ؟ فرمایا کہ نماز پڑھنے والے اور روزہ رکھنے والے اور راتوں کو بیداری کرنے والے ہو نگے لیکن طالبِ دنیا ہونگے ۔
’’مذمت دنیا کے بارے میں لا تعداداحادیث مبارکہ ملتی ہیں جبکہ قرآن مجید میں زین للناس حب الشھوات من ا لنساء والبنین والقناطیرالمقنطرۃ من الذھب والفضۃ والخیل المسومۃ والانعام والحرث متاع الحیاۃ الدنیاخواہشات نسوانی اولاد سونے چاندی کے ڈھیر گھوڑے چارپائے زراعت ان سب کی محبت انسانوں کے لیے مزین کی گئی ہے پس یہی چیزیں متاع حیات دنیا ہیں ‘‘ کے لفظوں میں یاد کیاگیا ہے تو پھر دنیا بری کیسے ہو گئی ؟
اس کا جواب معصومین ؑ ان الفا ظ میں ارشاد فرما رہے ہیں ۔ دنیا دو۲قسم کی ہے ۔
۱ ۔ وہ دنیا جو بقدر کفایت و ضرورت حاصل کی جائے ۔ ۲ ۔ وہ دنیا جو ملعون ہے ۔ حضرت امام علی زین العابدین علیہ السلام نے فرمایاکہ جو کوئی اپنی فراغتی ووسعت عیال اورہمسایوں پر احسان کرنے کیلیے دنیا میں روزی طلب کرے تو وہ خدائے عزوجل سے اس حالت میں ملاقات کریگا جب کہ اس کا منہ مثل چودھویں رات کے چاند کے روشن ہوگا ۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک شخص نے عرض کی مولا ؑ میں دنیا کو طلب کرتا ہوں اور دوست رکھتا ہوں کہ میری طرف متوجہ ہو ۔ حضرت نے فرمایا کہ تیری اس سے غرض کیا ہے ؟ اس نے عرض
۱۔ ایسا شخص جو قرآن کو ذریعہ معاش اور لوگوں پر فخر کرنے کے لیے تلاوت کرتاہے ۔
۲۔ ایسا شخص جو الفاظ قرآن حفظ کرکے حدود قرآن ضائع کرتا ہے ۔
( دعا ہے اﷲ قاریوں کی تعدادمیں اضافہ نہ کرے ۔)
۳ ۔ ایسا شخص جو تلاوت قرآن کو دوا سمجھ کر اس سے اپنے قلبی امراض کا علاج کرتا ہے ۔ مسجد میں تلاوت کرتاہے بستر پر تلاوت کرتا ہے ۔ یہی وہ افراد ہیں کہ جن کی بدولت عذاب خدا ٹلا رہتا ہے ۔ انہی کی بدولت دشمنان خدا منہ کی کھاتے ہیں ۔ انہی کی بدولت بارش ہوتی ہے ۔ بخدا ایسے قاریان قرآن کبریت احمر سے بھی زیادہ کامیاب ہونگے۔
حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص قرآن پڑھنے کے بعد اس پر عمل نہ کرے اور محبت دنیا کو ترجیح دے وہ ہمیشہ اﷲ کی ناراضگی میں رہے گا اور ان یہود و نصاری کے ساتھ ہو گا جو کتاب الہی کو پس پشت ڈال دیتے تھے ۔ جو شخص تلاوت قرآن کو عوام الناس میں تعریف کی خاطر پڑھے گا اور حصول زر کا ذریعہ بنالے قیامت کے دن اس کے چہرے پر گوشت نام کو بھی نہ ہو گا۔
جو شخص تلاوت قرآن کرے مگر اس پر عمل نہ کرے قیامت کے دن اسے نابینا محشور کیا جائے گا۔ وہ عرض کرے گا بارِِ الہادنیا میں تو میں بینا تھا اب مجھے نابیناکیوں محشور کیا گیا ہے ؟ ارشاد قدرت ہوگا جس طرح دنیا میں تونے میری آیات کو بھلا دیا تھا اس طرح آج تجھے بھلا دیا گیاہے ۔ پھر حکم ہوگا اسے جہنم میں داخل کردو ۔ جو شخص تعلیم قرآن کو ذریعہ شہرت جہلا پر فخر علماء کے سامنے ذریعہ مباہات اور ذریعہ کسب بنائے گا قیامت کے دن اﷲ اس کے اعضائے بدن کو جدا جدا کر کے جہنم میں ڈال دے گا ۔
جہنم میں اس شخص سے زیادہ معذب کوئی بھی نہ ہو گا ۔ جہنم میں ایک ایسی وادی آتش ہے جس میں رہنے والے روزانہ سترہزار مرتبہ فریاد کریں گے ۔ پوچھا گیا قبلہ اس وادی میں کون ہو گا �آآپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا حاملین قرآن میں سے شرابی اور تارک نماز۔
جو شخص تلاوت قرآن رضائے الہی اور دین فہمی کے لیے کرے گا ۔ اﷲ اسے تمام ملائکہ اور انبیائے مرسلین ؑ کے برابر ثواب عنایت فرمائے گا ۔ حضرت علی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ تلاوت قرآن بغیر وضو کے نہیں کرنی چاہیے تلاوت کی ابتداء اعوذ باﷲ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم سے کرو ۔ اسے صحیح حرکات وسکنات سے پڑھو ۔
حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔ تلاوت قرآن عربی لہجہ میں کیا کرو ۔ اہل فسق اور گناہانِ کبیرہ کے مرتکب افراد کے لہجہ میں تلاوت نہ کیا کرو ۔ میرے بعد ایسے لوگ آینگے کہ وہ تلاوت قرآن جاہلانہ راہبوں اور غناء کے سے انداز میں کریں گے ۔ قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ۔ انہیں سن کر خوش ہونے والے بھی ان جیسے ہی ہوں گے ۔
مندرجہ بالا قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں فیصلہ کر سکتے ہیں کہ ہمیں کیا کرنا تھا جوہم نے نہیں کیا ۔اور جو جو نہیں کرنا چاہیے تھا وہ ھم نے کئی مرتبہ انجام دیا آخر کیوں ؟
جو ہو چکا ہے اس پر ہم یقیناًشرمندہ تو ہیں ہی اور یہ بھی ہما ری خوش قسمتی ہے کہ ہمارا نامہ اعمال ابھی کھلا ہوا ہے ۔ ہم جو صفحات زیست سیاہ کر چکے ہیں اسے سارعوا الی المغفرۃ کہ توبہ کی طرف دوڑ کر آؤ کی آیہ مبارکہ پر عمل کرکے فرمان خداوندی لا تقنطوا من رحمۃ اﷲ۔ مجھ اﷲ کی رحمت سے مایوس نہ ہو کے فرمان کریمانہ سے فائدہ اٹھا کر بد بختی کو خوش بختی میں بدل سکتے ہیں
ناکامی کو کامیابی میں بدلنے کی بہترین صورت نما ز ہے ۔ ہمارے خالق نے قرآن میں ہماری تخلیق کا مقصد وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون اور نہیں پیدا کیا جنوں اور انسانوں کو ماسوائے اس کے کہ وہ ( جن و انس ) میری عبادت کریں کی آیہ مبارکہ کے ذیل میں عبادت قرار دیا ہے اور نماز کو عبادتوں کی سردار عبادت قرار دیا گیا ہے ۔ نماز تلاوت قرآن اور ذکر الہی کا بہترین مجموعہ ہے ۔ اﷲتعالی کے قرب حاصل کرنے کا بہترین وسیلہ نماز ہی ہے۔
مروی ہے کہ جب خاتم الانبیاءؑ مبعوث ہوئے تو ابلیس کا لشکر اسکے اطراف جمع کر کہنے لگا کہ اﷲ نے ایک پیغمبرکوبھیجا ہے جسکی ایک امت قرار دی گئی ہے ۔ ابلیس نے کہا کہ کیا اسکی امت دنیا کو دوست رکھے گی ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں اس وقت ابلیس نے کہا کوئی پرواہ نہیں ۔ وہ بت پرستی نہیں کرتے نہ کریں میں رات دن ان کو اسی مشغلہ میں لگاؤں گا کہ مال خلاف حق حاصل کرکے بیجا طورپر صرف کریں اور حقدار کو نہ دیں ۔ پس ان میں اسی وجہ سے تمام خرابیاں پیدا ہو جائیں گی ۔
فرمان رسالتمآب صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلمہے کہ دو ۲ بھوکھے کبھی بھی سیر نہیں ہونگے ۔علم کا بھوکا ‘ مال کا بھوکا ۔
ایک مرتبہ اپنے اصحاب سے فرمایاکہ میں تمہارے فقر سے نہیں ڈرتا ہوں بلکہ تمھاری مالداری سے خوف کرتا ہوں کہ دنیا تمھاری طرف رخ کرے جیسا کہ تم سے پہلوں کی طرف اس نے رخ کیا ہے پھر تم اس پر رغبت کرو جیسا کہ ان لوگوں نے اس کے ساتھ رغبت کی پس یہ تم کو ہلاک کرے جیسا کہ ان لوگوں کو ہلاک کیا ۔آگاہ ہو جاو کہ جو کوئی دنیا پر مائل ہو ااور اس کے کاروبار نے دنیا میں طول کھینچا ہو حق تعالی اس کے دل کو اندھا کرتا ہے جس قدردنیاکی خواہش زیادہ ہوتی ہے اس قدراس کے دل کا اندھا پن زیادہ ہوتا ہے ۔ جو کوئی دنیاسے دوری اختیار کرتا ہے اپنی امید کو کم کرتا ہے حق تعالی اس کوعلم عطا کرتا ہے بغیر اس کے کہ کوئی دوسرا اس کی رہنمائی کرے۔
ایک روز فرمایا میرے بعد قریب ہے کہ ایک قوم پیدا ہوگی جو پاکیزہ غذا کھائیں گے اور خوبصورت عورتیں کریں گے نفیس لباس پہنیں گے آرام دہ اور خوبصورت و قیمتی سواریوں پر سوار ہونگے ۔ ان کے پیٹ کبھی نہ بھریں گے ۔ ان کا نفس کبھی قناعت نہ کریگا ۔ رات دن دنیاکے کاموں میں مشغول رہیں گے اسکی پرستش کرینگے اپنی خواہشات کی اطاعت کریں گے ۔
پھر فرمایا کہ قیامت میں ایک گروہ کو لایا جائے گا جن کے اعمال نیک تہامہ کے پہاڑکے مثل ہونگے حکم خداوندی ہو گا کہ ان کو جہنم میں لے جاو ۔ بعض نے کہا کیا یہ لوگ نماز پڑھنے والے نہ ہونگے ۔ ؟ فرمایا کہ نماز پڑھنے والے اور روزہ رکھنے والے اور راتوں کو بیداری کرنے والے ہو نگے لیکن طالبِ دنیا ہونگے ۔
’’مذمت دنیا کے بارے میں لا تعداداحادیث مبارکہ ملتی ہیں جبکہ قرآن مجید میں زین للناس حب الشھوات من ا لنساء والبنین والقناطیرالمقنطرۃ من الذھب والفضۃ والخیل المسومۃ والانعام والحرث متاع الحیاۃ الدنیاخواہشات نسوانی اولاد سونے چاندی کے ڈھیر گھوڑے چارپائے زراعت ان سب کی محبت انسانوں کے لیے مزین کی گئی ہے پس یہی چیزیں متاع حیات دنیا ہیں ‘‘ کے لفظوں میں یاد کیاگیا ہے تو پھر دنیا بری کیسے ہو گئی ؟
اس کا جواب معصومین ؑ ان الفا ظ میں ارشاد فرما رہے ہیں ۔ دنیا دو۲قسم کی ہے ۔
۱ ۔ وہ دنیا جو بقدر کفایت و ضرورت حاصل کی جائے ۔ ۲ ۔ وہ دنیا جو ملعون ہے ۔ حضرت امام علی زین العابدین علیہ السلام نے فرمایاکہ جو کوئی اپنی فراغتی ووسعت عیال اورہمسایوں پر احسان کرنے کیلیے دنیا میں روزی طلب کرے تو وہ خدائے عزوجل سے اس حالت میں ملاقات کریگا جب کہ اس کا منہ مثل چودھویں رات کے چاند کے روشن ہوگا ۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک شخص نے عرض کی مولا ؑ میں دنیا کو طلب کرتا ہوں اور دوست رکھتا ہوں کہ میری طرف متوجہ ہو ۔ حضرت نے فرمایا کہ تیری اس سے غرض کیا ہے ؟ اس نے عرض
کیاکہ میں اور میرے عیال اس سے فائدہ اٹھائیں صلہ رحم بجا لائیں تصدق کریں حج وعمرہ عمل میں لائیں ۔ فرمایا یہ دنیا کی طلب نہیں ہے بلکہ طلب آخرت ہے ۔
حضرت لقمان نے اپنے فرزند کو نصحیت کی اور کہا کہ اے فرزند دنیا کو آخرت کے لیے بیچ ڈال کہ دونوں سے فائدہ حاصل کیا جائے اورآخرت کو دنیا کے لیے نہ بیچ ۔ آئے فرزند تیرے سامنے آدمی اولاد کے واسطے بہت سا مال جمع کرتے رہے مگر نہ مال ان کے واسطے باقی رہا اور نہ اولاد ۔ اے فرزند بہ تحقیق تو ایک بندہ مزدورہے تجھ کو ایک کام کا حکم دیا گیا ہے اورمزدوری کا وعدہ کیا گیا ہے ۔ پس اپنا کام کر اور مزدوری لے ۔ دنیا میں مثل جانور کے بسر نہ کر کہ کھیت میں گرے اس کو کھائے اور موٹا ہو آخر اس کا موٹاپن اس کے ذبح کا سبب ہوجائے ۔
آئے فرزند تجھ کو پروردگار کے سامنے چار۴ چیزوں کا حساب دینا ہے ۔
۱ ۔ جوانی کو کن چیزوں میں صرف کیا ۔ ۲ ۔ عمر کو کس میں برباد کیا ۔
۳ ۔ مال کہاں سے پیدا کیا ۔ ۴ ۔ مال کوکس طرح خرچ کیا ۔
ایک امیر شخص نے کسی بوڑھے سے جس کی عمر ایک سو بیس ۱۲۰ برس کی تھی سوال کیا کہ آپ نے دنیا کو کیوں کر دیکھا ؟ اس نے جواب دیا کہ چند سال سختی وبلا میں اورچند سال آسانی میں گزرے اور یہ قلت مال کے ساتھ بھی گذر جاتے ہیں ۔ کیونکہ ایک دنیا میں آتا ہے دوسرا دنیا سے جاتا ہے ۔ اگر کوئی دنیا میں نہ آتا تو آدمی تمام ہو جاتے اور اگر آدمی نہ مرتے تو آدمیوں کے لیے دنیا کی جگہ تنگ ہوتی ۔ اس امیر نے کہا مجھ سے کسی چیز کی خواہش کر ۔ تواس نے کہا میری عمر گذشتہ کو واپس کر دے اور آنے والی مو ت کو دور کر۔ امیر نے کہا یہ میری قدرت میں نہیں ہے پس اس نے کہاکہ مجھ کو بھی تجھ سے کوئی کام نہیں ہے ۔
مندرجہ بالا فرامین کی روشنی سے یقیناًیہ ثابت ہو گیا ہوگا کہ دوستان خدا نے دنیا کو منزل نہیں بلکہ گذرگاہ سمجھا ہے ۔ اس سے سوائے توشہ کے کچھ نہیں چاہا اپنی دنیا کو خراب کیا اور آخرت کو معمور و آباد کیا ۔ دنیا ملعون کی مثال ۔ اس دنیا کی ابتدا لطیف ہے اور انجام خبیث وکثیف ہے ۔ یعنی کھانے کے قبل لطیف وپاکیزہ ہے جب کھانے کے تھوڑی دیر بعد وہ تمام غذا ایسی کثیف ونجس ہو جاتی ہے کہ آدمی اس کو دیکھنے سے نفرت کرتا ہے ۔
پس اپنی عمر کو معلوم کرکے گزرے ہوئے زمانے کا عوض ادا کرو آج کے کام کو کل پر نہ رکھو ۔ جو لوگ ہلاک ہوئے اس طرح ہلاکت کو پہنچے ہیں وہ اپنی زندگی کو آرزو میں گزارتے رہے ۔ تاخیر سے کام لیا یکایک حکم خدا پہنچا کوچ کا وقت آیا تو وہ بستر غفلت پر سوئے ہوئے تھے ۔ پھر یکایک خوشنماء محلوں سے قبر کی تاریکی میں لے گئے۔ حصول ِ نجات کا دروازہ ان پر بند کیا گیا ان کے رشتہ دارکنا رہ کش ہو گئے ان کا مال و اسباب آپس میں تقسیم کر لیا گیا ۔
مندرجہ بالا واقعات و فرامین خداوندِ کریم اور چہاردہ معصومین ؑ کی روشنی میں ہم پر اپنی گذاری ہوئی زندگی کے لمحات کو گناہوں کی سیاہی سے تاریک دیکھتے ہیں تو ہلاکت ابدی کے مستحق سمجھتے ہیں ۔ لیکن اس کریم مطلق کے فضلِ خاص ( ولائے محمدؐ و آلِ محمدؐ ) کی وجہ سے اور اس کے بے کنار رحم وکرم کے سمندر سے مستفید ہونے کی اُمید مایوسی کی وادی سے نکلنے میں مدد دے کر ہمیں ایک ہی سبق دیتی ہے ۔ دنیا کی ٹھوکروں سے ا یک ہی سبق سیکھا ہے ا قبال
تمام مشکلوں کا حل اک سجدہ ِ خدا میں چُھپا ہے ۔ ( اقبال ؒ )
اﷲتعالیٰ کے لاتعداد احسانات میں ایک احسان عظیم یہ بھی ہے کہ اس نے ہمیں چہاردہ معصومین ؑ جیسے رہبر و ہادی عطا کیے ہیں کہ جنہوں نے ہمیں زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے پہلوؤں سے روشناس کرایا ہے تاکہ ہم شیطان کے شکنجوں سے بچنے میں کامیاب ہو جائیں ۔
اب ہمارا کام یہ ہے کہ ان کے فرامین جو حقیقت میں فرمان خداوندی ہیں پر عمل پیرا ہوکر اپنی بدبختی کے گذارے ہوئے لمحات کو سیرت جناب حر علیہ السلام پر عمل کر کے شفاعتِ چہاردہ معصومین ؑ سے مستفید ہوسکیں ۔
درج ذیل احادیث طیبہ پر عمل کرکے یقیناًہم خوش بختی کی معراج حاصل کرسکتے ہیں ۔
فرامین حضرت محمد مصطفےٰ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم*۔۔۔ ہر نیکی صدقہ ہے ۔ صدقہ بُری موت سے بچاتا ہے ۔ چھپا ہوا صدقہ اﷲکے غضب کو
بُجھاتاہے ۔ افضل صدقہ رشتہ داروں سے اچھائی کرنا ہے ۔انسان اپنے صدقہ کی چھاؤں
میں محفوظ رہتا ہے جبتک لوگوں کے درمیان فیصلہ نہ کرے ۔ صدقہ گناہوں کو اس طرح
بُجھاتاہے جس طرح سے پانی آگ کو بُجھاتا ہے ۔
*۔۔۔ انسان کادل اس پر کی مانند ہے جو جنگل میں کسی درخت پر اٹکا ہوا ہو اور ہواکے چلنے سے ہر وقت اوپر نیچے ہوتا رہتا ہے ۔
*۔۔۔ مومن کے دروازے پر آنے والاسائل اﷲتعالیٰ کی جانب سے مومن کے لیے تحفہ ہے ۔
*۔۔۔ مومن کی مثال شہد کی مکھی کی طرح ہے جو سوائے پاک چیز کے علاوہ اور کچھ نہیں کھاتی
ا ور پاکیزہ چیزکے علاوہ اور کچھ نہیں بناتی ۔
*۔۔۔ نیک کاموں کی ہدایت خود نیک کام کرنے کی مانند ہے ۔
*۔۔۔ سچائی دل کو سکون پہنچاتی ہے اور جھوٹ شک اور پریشانی پیدا کرتا ہے ۔
*۔۔۔ جو کوئی چالیس دن خدا کی خاطر زندگی گزارے تو حکمت کے چشمے اس کے دل سے زبان پر
جاری ہوجاتے ہیں ۔
*۔۔۔ چھپ کر گناہ کرنا گناہگار کو نقصان پہچاتا ہے اور کھلم کھلا گناہ کرنا معاشرے کو ۔
*۔۔۔ جو شخص دن کو روزہ رکھے رات کو عبادت کرے لیکن بداخلاق ہو وہ جہنمی ہے ۔
*۔۔۔ خدا صر ف اسی عمل کو قبول کرتا ہے جو خلص اسی کی خاطر انجام دیا گیا ہو ۔
*۔۔۔ جب تمہیں خوشی نصیب ہو تو ساز و آواز کے ذریعے اسے خدا کی ناراضگی کا سبب نہ بننے دو
*۔۔۔ جسے خدا راہِ راست پر لائے اسے دنیا کی کوئی طاقت گمراہ نہیں کرسکتی اور جسے خدا کی طرف
سے ہدایت کی توفیق حاصل نہ ہو اسے کوئی شخص راہِ راست پر نہیں لا سکتا
حضرت لقمان نے اپنے فرزند کو نصحیت کی اور کہا کہ اے فرزند دنیا کو آخرت کے لیے بیچ ڈال کہ دونوں سے فائدہ حاصل کیا جائے اورآخرت کو دنیا کے لیے نہ بیچ ۔ آئے فرزند تیرے سامنے آدمی اولاد کے واسطے بہت سا مال جمع کرتے رہے مگر نہ مال ان کے واسطے باقی رہا اور نہ اولاد ۔ اے فرزند بہ تحقیق تو ایک بندہ مزدورہے تجھ کو ایک کام کا حکم دیا گیا ہے اورمزدوری کا وعدہ کیا گیا ہے ۔ پس اپنا کام کر اور مزدوری لے ۔ دنیا میں مثل جانور کے بسر نہ کر کہ کھیت میں گرے اس کو کھائے اور موٹا ہو آخر اس کا موٹاپن اس کے ذبح کا سبب ہوجائے ۔
آئے فرزند تجھ کو پروردگار کے سامنے چار۴ چیزوں کا حساب دینا ہے ۔
۱ ۔ جوانی کو کن چیزوں میں صرف کیا ۔ ۲ ۔ عمر کو کس میں برباد کیا ۔
۳ ۔ مال کہاں سے پیدا کیا ۔ ۴ ۔ مال کوکس طرح خرچ کیا ۔
ایک امیر شخص نے کسی بوڑھے سے جس کی عمر ایک سو بیس ۱۲۰ برس کی تھی سوال کیا کہ آپ نے دنیا کو کیوں کر دیکھا ؟ اس نے جواب دیا کہ چند سال سختی وبلا میں اورچند سال آسانی میں گزرے اور یہ قلت مال کے ساتھ بھی گذر جاتے ہیں ۔ کیونکہ ایک دنیا میں آتا ہے دوسرا دنیا سے جاتا ہے ۔ اگر کوئی دنیا میں نہ آتا تو آدمی تمام ہو جاتے اور اگر آدمی نہ مرتے تو آدمیوں کے لیے دنیا کی جگہ تنگ ہوتی ۔ اس امیر نے کہا مجھ سے کسی چیز کی خواہش کر ۔ تواس نے کہا میری عمر گذشتہ کو واپس کر دے اور آنے والی مو ت کو دور کر۔ امیر نے کہا یہ میری قدرت میں نہیں ہے پس اس نے کہاکہ مجھ کو بھی تجھ سے کوئی کام نہیں ہے ۔
مندرجہ بالا فرامین کی روشنی سے یقیناًیہ ثابت ہو گیا ہوگا کہ دوستان خدا نے دنیا کو منزل نہیں بلکہ گذرگاہ سمجھا ہے ۔ اس سے سوائے توشہ کے کچھ نہیں چاہا اپنی دنیا کو خراب کیا اور آخرت کو معمور و آباد کیا ۔ دنیا ملعون کی مثال ۔ اس دنیا کی ابتدا لطیف ہے اور انجام خبیث وکثیف ہے ۔ یعنی کھانے کے قبل لطیف وپاکیزہ ہے جب کھانے کے تھوڑی دیر بعد وہ تمام غذا ایسی کثیف ونجس ہو جاتی ہے کہ آدمی اس کو دیکھنے سے نفرت کرتا ہے ۔
پس اپنی عمر کو معلوم کرکے گزرے ہوئے زمانے کا عوض ادا کرو آج کے کام کو کل پر نہ رکھو ۔ جو لوگ ہلاک ہوئے اس طرح ہلاکت کو پہنچے ہیں وہ اپنی زندگی کو آرزو میں گزارتے رہے ۔ تاخیر سے کام لیا یکایک حکم خدا پہنچا کوچ کا وقت آیا تو وہ بستر غفلت پر سوئے ہوئے تھے ۔ پھر یکایک خوشنماء محلوں سے قبر کی تاریکی میں لے گئے۔ حصول ِ نجات کا دروازہ ان پر بند کیا گیا ان کے رشتہ دارکنا رہ کش ہو گئے ان کا مال و اسباب آپس میں تقسیم کر لیا گیا ۔
مندرجہ بالا واقعات و فرامین خداوندِ کریم اور چہاردہ معصومین ؑ کی روشنی میں ہم پر اپنی گذاری ہوئی زندگی کے لمحات کو گناہوں کی سیاہی سے تاریک دیکھتے ہیں تو ہلاکت ابدی کے مستحق سمجھتے ہیں ۔ لیکن اس کریم مطلق کے فضلِ خاص ( ولائے محمدؐ و آلِ محمدؐ ) کی وجہ سے اور اس کے بے کنار رحم وکرم کے سمندر سے مستفید ہونے کی اُمید مایوسی کی وادی سے نکلنے میں مدد دے کر ہمیں ایک ہی سبق دیتی ہے ۔ دنیا کی ٹھوکروں سے ا یک ہی سبق سیکھا ہے ا قبال
تمام مشکلوں کا حل اک سجدہ ِ خدا میں چُھپا ہے ۔ ( اقبال ؒ )
اﷲتعالیٰ کے لاتعداد احسانات میں ایک احسان عظیم یہ بھی ہے کہ اس نے ہمیں چہاردہ معصومین ؑ جیسے رہبر و ہادی عطا کیے ہیں کہ جنہوں نے ہمیں زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے پہلوؤں سے روشناس کرایا ہے تاکہ ہم شیطان کے شکنجوں سے بچنے میں کامیاب ہو جائیں ۔
اب ہمارا کام یہ ہے کہ ان کے فرامین جو حقیقت میں فرمان خداوندی ہیں پر عمل پیرا ہوکر اپنی بدبختی کے گذارے ہوئے لمحات کو سیرت جناب حر علیہ السلام پر عمل کر کے شفاعتِ چہاردہ معصومین ؑ سے مستفید ہوسکیں ۔
درج ذیل احادیث طیبہ پر عمل کرکے یقیناًہم خوش بختی کی معراج حاصل کرسکتے ہیں ۔
فرامین حضرت محمد مصطفےٰ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم*۔۔۔ ہر نیکی صدقہ ہے ۔ صدقہ بُری موت سے بچاتا ہے ۔ چھپا ہوا صدقہ اﷲکے غضب کو
بُجھاتاہے ۔ افضل صدقہ رشتہ داروں سے اچھائی کرنا ہے ۔انسان اپنے صدقہ کی چھاؤں
میں محفوظ رہتا ہے جبتک لوگوں کے درمیان فیصلہ نہ کرے ۔ صدقہ گناہوں کو اس طرح
بُجھاتاہے جس طرح سے پانی آگ کو بُجھاتا ہے ۔
*۔۔۔ انسان کادل اس پر کی مانند ہے جو جنگل میں کسی درخت پر اٹکا ہوا ہو اور ہواکے چلنے سے ہر وقت اوپر نیچے ہوتا رہتا ہے ۔
*۔۔۔ مومن کے دروازے پر آنے والاسائل اﷲتعالیٰ کی جانب سے مومن کے لیے تحفہ ہے ۔
*۔۔۔ مومن کی مثال شہد کی مکھی کی طرح ہے جو سوائے پاک چیز کے علاوہ اور کچھ نہیں کھاتی
ا ور پاکیزہ چیزکے علاوہ اور کچھ نہیں بناتی ۔
*۔۔۔ نیک کاموں کی ہدایت خود نیک کام کرنے کی مانند ہے ۔
*۔۔۔ سچائی دل کو سکون پہنچاتی ہے اور جھوٹ شک اور پریشانی پیدا کرتا ہے ۔
*۔۔۔ جو کوئی چالیس دن خدا کی خاطر زندگی گزارے تو حکمت کے چشمے اس کے دل سے زبان پر
جاری ہوجاتے ہیں ۔
*۔۔۔ چھپ کر گناہ کرنا گناہگار کو نقصان پہچاتا ہے اور کھلم کھلا گناہ کرنا معاشرے کو ۔
*۔۔۔ جو شخص دن کو روزہ رکھے رات کو عبادت کرے لیکن بداخلاق ہو وہ جہنمی ہے ۔
*۔۔۔ خدا صر ف اسی عمل کو قبول کرتا ہے جو خلص اسی کی خاطر انجام دیا گیا ہو ۔
*۔۔۔ جب تمہیں خوشی نصیب ہو تو ساز و آواز کے ذریعے اسے خدا کی ناراضگی کا سبب نہ بننے دو
*۔۔۔ جسے خدا راہِ راست پر لائے اسے دنیا کی کوئی طاقت گمراہ نہیں کرسکتی اور جسے خدا کی طرف
سے ہدایت کی توفیق حاصل نہ ہو اسے کوئی شخص راہِ راست پر نہیں لا سکتا
* فرامین مولا ئے کا ئنات علی علیہ السلام *
*۔۔۔ آخرت کا ثواب دنیا کی نعمتوں سے بہتر ہے ۔
*۔۔۔ اگر تم اﷲ کی عبادت نہیں کرسکتے تو گناہ کرنا بھی چھوڑدو ۔
*۔۔۔ دوستی کی زینت ایک دوسرے کی بات کو برداشت ہے ۔
*۔۔۔ بے عیب دوست تلاش مت کرو ورنہ اکیلے رہ جاؤ گے ۔
*۔۔۔ صبر ایک ایسی سواری ہے سوار کو گرنے نہیں دیتی ۔
*۔۔۔ زندگی کو ضروریات میں رکھو خواہشات کی طرف نہ لے جاؤ ۔ ضروریات فقیروں کی بھی
پُوری ہوجاتیں ہیں اور خواہشات بادشاہوں کی بھی باقی رہ جاتیں ہیں ۔
*۔۔۔ اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی دعا کی قبولیت میں روکاوٹ ہے ۔
*۔۔۔ بعض دفعہ ایک گناہ بہت ہوتا ہے اور اس کے مقابلے میں ہزار اطاعت بھی کم ہوتی ہے ۔
*۔۔۔ تیرا بہترین دوست وہ ہے جو اچھائی میں تمہارا مددگار بنے ۔
*۔۔۔ تم اپنے دین میں خرابی کی ابتداء امانت (میں خیانت کرنے سے)کرو گے اور انتہا نماز
سے کرو گے ۔
*۔۔۔ دین میں نمازکا وہی مقام ہے جو بدن میں سر کا مقام ہے ۔
*۔۔۔ اﷲ تعالیٰ کو جس کی بھلائی مطلوب ہوتی ہے اسے دین کی سمجھ عطا کر دیتا ہے ۔
*۔۔۔ عالم وہ ہے جو اپنی قدرو منزلت کو پہچانے اور جاہل وہ ہے جو خود کو نہ جانے۔
*۔۔۔ گناہوں پر پشیمان ہونا ہی دراصل توبہ و استغفار ہے ۔
*۔۔۔ آخرت کا ثواب دنیا کی نعمتوں سے بہتر ہے ۔
*۔۔۔ اگر تم اﷲ کی عبادت نہیں کرسکتے تو گناہ کرنا بھی چھوڑدو ۔
*۔۔۔ دوستی کی زینت ایک دوسرے کی بات کو برداشت ہے ۔
*۔۔۔ بے عیب دوست تلاش مت کرو ورنہ اکیلے رہ جاؤ گے ۔
*۔۔۔ صبر ایک ایسی سواری ہے سوار کو گرنے نہیں دیتی ۔
*۔۔۔ زندگی کو ضروریات میں رکھو خواہشات کی طرف نہ لے جاؤ ۔ ضروریات فقیروں کی بھی
پُوری ہوجاتیں ہیں اور خواہشات بادشاہوں کی بھی باقی رہ جاتیں ہیں ۔
*۔۔۔ اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی دعا کی قبولیت میں روکاوٹ ہے ۔
*۔۔۔ بعض دفعہ ایک گناہ بہت ہوتا ہے اور اس کے مقابلے میں ہزار اطاعت بھی کم ہوتی ہے ۔
*۔۔۔ تیرا بہترین دوست وہ ہے جو اچھائی میں تمہارا مددگار بنے ۔
*۔۔۔ تم اپنے دین میں خرابی کی ابتداء امانت (میں خیانت کرنے سے)کرو گے اور انتہا نماز
سے کرو گے ۔
*۔۔۔ دین میں نمازکا وہی مقام ہے جو بدن میں سر کا مقام ہے ۔
*۔۔۔ اﷲ تعالیٰ کو جس کی بھلائی مطلوب ہوتی ہے اسے دین کی سمجھ عطا کر دیتا ہے ۔
*۔۔۔ عالم وہ ہے جو اپنی قدرو منزلت کو پہچانے اور جاہل وہ ہے جو خود کو نہ جانے۔
*۔۔۔ گناہوں پر پشیمان ہونا ہی دراصل توبہ و استغفار ہے ۔
فرامین جناب سیدہ فاطمۃالزہرا سلام اﷲ علیھا
*۔۔۔ خداوندِ عالم نے تمہاری روح کی پاکیزگی اور رزق کی زیادتی کے لیے زکوٰۃ قرار دی ہے ۔
*۔۔۔ خداوندِ عالم نے صبر و استقامت کو جزاء حاصل کرنے کے لیے قرار دیا ہے ۔
*۔۔۔ جس کا ظلم و زیادتی بڑھ جائے سمجھ لو کہ اس کی ہلاکت و تباہی قریب ہو چکی ہے ۔
*۔۔۔ بد ترین انسان وہ ہے جو ظلم کی حمایت کرے اور مظلوم کی مخالفت کرے ۔
*۔۔۔ جو اپنے ہمسایوں کو رُسوا کرے گا عزت نہیں پا سکے گا ۔
*۔۔۔ افسوس ہے ان لوگوں پر جو غلط باتوں پر کان دھرتے ہیں اور بُرے کاموں پر ڈٹے رہتے ہیں۔
*۔۔۔ معرفعت کے باوجود حقدار کو اس کے حق سے محروم کرنا دل کی خباثت کو ظاہر کرتا ہے اور
ایساکرنے والے پر خدا کا غضب نازل ہو گا ۔
*۔۔۔ شیطان کی آواز پر لبیک کہنے والے دین کے روشن چراغ بُجھا کر سنت نبوی
صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کو پامال کرنے کے مرتکب ہوتے ہیں ۔
*۔۔۔ والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنا خدا کے غضب وناراضگی کو دور کرتا ہے ۔
*۔۔۔ اگر لوگ پیغمبر اکرمؐ کی صحیح معنی میں معرفعت حاصل کرتے اور اس معرفت کے بعد ان کی
عزت و عظمت کا پاس انہیں ہوتا تو وہ ہماری محبت بھی دل میں رکھتے اور ہمارا بھی احترام
کرتے۔
*۔۔۔ عورتوں کی عزت و عظمت اس میں ہے کہ وہ مردوں کے جسموں پر نظر نہ ڈالیں اور اسی طرح
مردوں کی شرافت کا راز اس میں چُھپا ہوا ہے کہ وہ عورتوں کے جسموں پر آنکھیں نہ دھریں
*۔۔۔ اگر میں اپنے شوہرسے اس چیز کی فرمائش کروں جو وہ پوری نہ کرسکتا ہو تو میں خدا کو کیا منہ
دکھاؤں گی۔
*۔۔۔ اگر تمہارے گھر کوئی مہمان آئے اوروہ بُھوکاچلا جائے تو گویا وہ کسی قبرستان میں آیا تھا۔
*۔۔۔ خداوندِ عالم نے صبر و استقامت کو جزاء حاصل کرنے کے لیے قرار دیا ہے ۔
*۔۔۔ جس کا ظلم و زیادتی بڑھ جائے سمجھ لو کہ اس کی ہلاکت و تباہی قریب ہو چکی ہے ۔
*۔۔۔ بد ترین انسان وہ ہے جو ظلم کی حمایت کرے اور مظلوم کی مخالفت کرے ۔
*۔۔۔ جو اپنے ہمسایوں کو رُسوا کرے گا عزت نہیں پا سکے گا ۔
*۔۔۔ افسوس ہے ان لوگوں پر جو غلط باتوں پر کان دھرتے ہیں اور بُرے کاموں پر ڈٹے رہتے ہیں۔
*۔۔۔ معرفعت کے باوجود حقدار کو اس کے حق سے محروم کرنا دل کی خباثت کو ظاہر کرتا ہے اور
ایساکرنے والے پر خدا کا غضب نازل ہو گا ۔
*۔۔۔ شیطان کی آواز پر لبیک کہنے والے دین کے روشن چراغ بُجھا کر سنت نبوی
صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کو پامال کرنے کے مرتکب ہوتے ہیں ۔
*۔۔۔ والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنا خدا کے غضب وناراضگی کو دور کرتا ہے ۔
*۔۔۔ اگر لوگ پیغمبر اکرمؐ کی صحیح معنی میں معرفعت حاصل کرتے اور اس معرفت کے بعد ان کی
عزت و عظمت کا پاس انہیں ہوتا تو وہ ہماری محبت بھی دل میں رکھتے اور ہمارا بھی احترام
کرتے۔
*۔۔۔ عورتوں کی عزت و عظمت اس میں ہے کہ وہ مردوں کے جسموں پر نظر نہ ڈالیں اور اسی طرح
مردوں کی شرافت کا راز اس میں چُھپا ہوا ہے کہ وہ عورتوں کے جسموں پر آنکھیں نہ دھریں
*۔۔۔ اگر میں اپنے شوہرسے اس چیز کی فرمائش کروں جو وہ پوری نہ کرسکتا ہو تو میں خدا کو کیا منہ
دکھاؤں گی۔
*۔۔۔ اگر تمہارے گھر کوئی مہمان آئے اوروہ بُھوکاچلا جائے تو گویا وہ کسی قبرستان میں آیا تھا۔
فرامین امام حسن مجتبےٰ علیہ السلام*۔۔۔ دنیا کی چھوٹی چھوٹی چیزوں کو اہمیت دینے والا شخص کبھی عزت نہیں پا سکتا ۔
*۔۔۔ دوستی میں خیانت کرنا ذلت و پستی کا دوسرا نام ہے ۔
*۔۔۔ اچھے کام کرنا اور بُرے کاموں سے دوری اختیار کرنا ہی حقیقی معنی میں عظمت و بزرگی ہے ۔
*۔۔۔ گھٹیا و پست صفت افراد کے ساتھ میل جول رکھنا اور گمراہ لوگوں کی صحبت اختیار کرنا
سب سے بڑی بیوقوفی ہے ۔
*۔۔۔ جاہل لوگوں سے تمہیں کچھ حاصل نہ ہوگا اور اگر کچھ سیکھنا چاہتے ہو تو اہل علم اورصاحبان
دانش کے پاس بیٹھو ۔
* ۔۔۔ جو رشتہ دار تمہارے بارے میں دوستی ومحبت کے جذبات ہی نہیں رکھتا اسے اپنا قرابتدار
مت سمجھو ۔
*۔۔۔ جو شخص دنیا کو دین پر مقدم رکھے اس سے زیادہ بدبخت اور کون ہو سکتا ہے ۔
*۔۔۔ جب کوئی کام کرنا چاہو تو سب سے پہلے یہ دیکھو کہ آیا اس میں اﷲ تعالیٰ کی مرضی و
خوشنودی شامل ہے یا نہیں ۔
*۔۔۔ خدا پر یقین حاصل ہو جائے تو دنیا و آخرت سنور سکتی ہے ۔
*۔۔۔ شیطان تمہاری تاک میں ہے اس کے مقابلے کے لیے ہمیشہ تیار رہو ۔
*۔۔۔ جو شخص خدا کی نافرمانی کا عادی ہو جائے وہ شیطان کے گروہ میں شامل ہوگیا ۔ اور ہمیشہ
ذلت کا شکار رہے گا ۔
*۔۔۔ خدا نے انسان کو کسی عمل میں مجبور قرار نہیں دیا بلکہ اپنی طرف سے حجت تمام کرنے کے بعد
جزاء وسزا کا نظام مقررکر دیا ہے جو کہ اس کی عدالت کا واضح ثبوت ہے ۔
*۔۔۔ دوستی میں خیانت کرنا ذلت و پستی کا دوسرا نام ہے ۔
*۔۔۔ اچھے کام کرنا اور بُرے کاموں سے دوری اختیار کرنا ہی حقیقی معنی میں عظمت و بزرگی ہے ۔
*۔۔۔ گھٹیا و پست صفت افراد کے ساتھ میل جول رکھنا اور گمراہ لوگوں کی صحبت اختیار کرنا
سب سے بڑی بیوقوفی ہے ۔
*۔۔۔ جاہل لوگوں سے تمہیں کچھ حاصل نہ ہوگا اور اگر کچھ سیکھنا چاہتے ہو تو اہل علم اورصاحبان
دانش کے پاس بیٹھو ۔
* ۔۔۔ جو رشتہ دار تمہارے بارے میں دوستی ومحبت کے جذبات ہی نہیں رکھتا اسے اپنا قرابتدار
مت سمجھو ۔
*۔۔۔ جو شخص دنیا کو دین پر مقدم رکھے اس سے زیادہ بدبخت اور کون ہو سکتا ہے ۔
*۔۔۔ جب کوئی کام کرنا چاہو تو سب سے پہلے یہ دیکھو کہ آیا اس میں اﷲ تعالیٰ کی مرضی و
خوشنودی شامل ہے یا نہیں ۔
*۔۔۔ خدا پر یقین حاصل ہو جائے تو دنیا و آخرت سنور سکتی ہے ۔
*۔۔۔ شیطان تمہاری تاک میں ہے اس کے مقابلے کے لیے ہمیشہ تیار رہو ۔
*۔۔۔ جو شخص خدا کی نافرمانی کا عادی ہو جائے وہ شیطان کے گروہ میں شامل ہوگیا ۔ اور ہمیشہ
ذلت کا شکار رہے گا ۔
*۔۔۔ خدا نے انسان کو کسی عمل میں مجبور قرار نہیں دیا بلکہ اپنی طرف سے حجت تمام کرنے کے بعد
جزاء وسزا کا نظام مقررکر دیا ہے جو کہ اس کی عدالت کا واضح ثبوت ہے ۔
فرامین سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام
*۔۔۔ جو شخص خدا کی عبادت بجا لائے اور اس کی پرستش کا پورا حق ادا کرے خدا اسے اس کی
ضرورت اور طلب سے کہیں زیادہ عطا کرتا ہے ۔
*۔۔۔ جو شخص پیغمبر اکرم ؐ اور آپ ؐ کے اہلبیت ؑ کی معرفعت حاصل کرکے ان کی اطاعت کا صحیح
حق ادا کرے تو قیامت کے دن اسے خوشخبری دی جائے گی کہ بہشت میں جو جگہ چاہے
تجھے اختیار ہے
*۔۔۔ جو شخص لوگوں کو خدا و رسول خداؐ کی اطاعت اور اعمال صالحہ بجالانے کی دعوت دے وہی
حقیقی معنی میں مسلمان کہلا سکتا ہے اور جو سچا مسلمان ہو وہ کبھی خدا کی معصیت کا مرتکب
نہیں ہوسکتا ۔
*۔۔۔ جو شخص تجھے برائی سے روکے وہی حقیقت میں تیرا دوست ہے اور جو شخص تجھے غلط کاموں
کی ترغیب دلائے وہ تیرا سب سے بڑا دشمن ہے اسی معیار پر دوست اور دشمن کی پہچان کرو ۔
*۔۔۔ یاد رکھو تمہارے نفوس کی قیمت جنت کے سواکچھ بھی نہیں تم انہیں اس سے کم قیمت پر نہ بیچو ۔
*۔۔۔ اس سے بُرا کوئی نہیں جو خدا کو ناراض کرکے بندوں کو راضی کرتا پھرے ۔
*۔۔۔ موت اہل ایمان کے لیے ایک پُل کی طری ہے جو انہیں سختیوں پریشانیوں اور مشکلات سے
نکال کر بہشت بریں اور ابدشی نعمتوں کی سمت لے جانے کا ذریعہ ہے لہذا دنیا سے دل لگانے
کے بجائے آخرت کی فکر کرو اور اس کے لیے زادِ راہ تیار کرو ۔
*۔۔۔ شیطان کے غلبے سے بچو کیونکہ وہ ورغلا کر انسان کو خدا سے دور کر دیتاہے ۔ اور اس کے دل
سے خدا کی یاد محو کر دیتا ہے ۔
*۔۔۔ جو لوگ ہم اہلبیت ؑ کے حق سے انکار کریں وہ قیامت کے دن پیغمبر اکرم ؐ سے اس حالت
میں ملیں گے کہ آنحضرت ؐ ان پر غضبناک ہوں گے اور اﷲ تعالیٰ کا عذاب بھی ان پر چھایا ہوا
ضرورت اور طلب سے کہیں زیادہ عطا کرتا ہے ۔
*۔۔۔ جو شخص پیغمبر اکرم ؐ اور آپ ؐ کے اہلبیت ؑ کی معرفعت حاصل کرکے ان کی اطاعت کا صحیح
حق ادا کرے تو قیامت کے دن اسے خوشخبری دی جائے گی کہ بہشت میں جو جگہ چاہے
تجھے اختیار ہے
*۔۔۔ جو شخص لوگوں کو خدا و رسول خداؐ کی اطاعت اور اعمال صالحہ بجالانے کی دعوت دے وہی
حقیقی معنی میں مسلمان کہلا سکتا ہے اور جو سچا مسلمان ہو وہ کبھی خدا کی معصیت کا مرتکب
نہیں ہوسکتا ۔
*۔۔۔ جو شخص تجھے برائی سے روکے وہی حقیقت میں تیرا دوست ہے اور جو شخص تجھے غلط کاموں
کی ترغیب دلائے وہ تیرا سب سے بڑا دشمن ہے اسی معیار پر دوست اور دشمن کی پہچان کرو ۔
*۔۔۔ یاد رکھو تمہارے نفوس کی قیمت جنت کے سواکچھ بھی نہیں تم انہیں اس سے کم قیمت پر نہ بیچو ۔
*۔۔۔ اس سے بُرا کوئی نہیں جو خدا کو ناراض کرکے بندوں کو راضی کرتا پھرے ۔
*۔۔۔ موت اہل ایمان کے لیے ایک پُل کی طری ہے جو انہیں سختیوں پریشانیوں اور مشکلات سے
نکال کر بہشت بریں اور ابدشی نعمتوں کی سمت لے جانے کا ذریعہ ہے لہذا دنیا سے دل لگانے
کے بجائے آخرت کی فکر کرو اور اس کے لیے زادِ راہ تیار کرو ۔
*۔۔۔ شیطان کے غلبے سے بچو کیونکہ وہ ورغلا کر انسان کو خدا سے دور کر دیتاہے ۔ اور اس کے دل
سے خدا کی یاد محو کر دیتا ہے ۔
*۔۔۔ جو لوگ ہم اہلبیت ؑ کے حق سے انکار کریں وہ قیامت کے دن پیغمبر اکرم ؐ سے اس حالت
میں ملیں گے کہ آنحضرت ؐ ان پر غضبناک ہوں گے اور اﷲ تعالیٰ کا عذاب بھی ان پر چھایا ہوا
ہوگا۔
*۔۔۔ میں شہید جور و جفاہوں جب کوئی مومن میرا ذکر کرے گا تو اس کی آنکھوں سے آنسو
جاری ہو جائیں گے۔ مظلوم پر آنسو بہانے سے خدا کی رضا و خوشنودی حاصل ہوتی ہے ۔
*۔۔۔ غیبت کرنا سننا اور اس پر خوش ہونا سب گناہ ہونے میں برابر ہیں ۔
*۔۔۔ انسان کس قدر عاجز وناتواں ہے کہ جو کچھ وہ چاہتا ہے وہ اسے نہیں ملتا اور جو کچھ
اسے ناپسندہے وہ اسے اپنے سے دور کرنے پر قادر نہیں ۔
*۔۔۔ میں شہید جور و جفاہوں جب کوئی مومن میرا ذکر کرے گا تو اس کی آنکھوں سے آنسو
جاری ہو جائیں گے۔ مظلوم پر آنسو بہانے سے خدا کی رضا و خوشنودی حاصل ہوتی ہے ۔
*۔۔۔ غیبت کرنا سننا اور اس پر خوش ہونا سب گناہ ہونے میں برابر ہیں ۔
*۔۔۔ انسان کس قدر عاجز وناتواں ہے کہ جو کچھ وہ چاہتا ہے وہ اسے نہیں ملتا اور جو کچھ
اسے ناپسندہے وہ اسے اپنے سے دور کرنے پر قادر نہیں ۔
نام کتاب عقلمند کون ؟
مؤلف سید علی ذوالقرنین نقوی
مؤلف سید علی ذوالقرنین نقوی
رابطہ نمبرز 03154412514
03317723534
03007816653
03427277014
No comments:
Post a Comment