Friday, 16 August 2013

علی ولی اللہ کی مخالفت کرنے والے حضرات کے شبھات و اعتراضات اور انکا رد قرآن و حدیث کی روشنی میں مومنین کے پیش خدمت ھے

نماز دین کا ستون ھے





علی ولی اللہ کی مخالفت کرنے والے حضرات کے شبھات و اعتراضات اور انکا رد قرآن و حدیث کی روشنی میں مومنین کے پیش خدمت ھے

شبہ واحد – نماز ایک توقیفی عبادت ھے

کم علمی پر مبنی کچھ اعتراضات عوام میں زبان زد عام کرنے کی مذموم کوشش کرنے والے مقصرین کا یہ کھناھے کہ نماز ایک توقیفی عبادت ھے یعنی نماز میں کسی صورت میں کمی یا بیشی نھیں کی جا سکتی لھذا ھمیں صرف اسی طرح تشھد پڑھنا چاھئے جیسے عام طور پر پڑھا جاتا ھے یعنی صرف اللہ و رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی گواھی جنھیں شھادتین یعنی دو گواھیاں بھی کھا جاتا ھے پر ھی اکتفا کرنا چاھئے ۔ اور ولایت علی علیہ السلام کی گواھی نماز کو باطل کر دیتی ھے معاذاللہ۔
مندرجہ بالا شبہ بھت بڑی لاعلمی پر مبنی ھے- نماز کا توقیفی عبادت ھونا اسکے ارکان اور مخصوص قرائت سے تعلق رکھتا ھے یعنی کسی رکن نماز میں کمی بیشی کا اختیار کسی کو حاصل نھیں ھے اور مثلا نماز میں سورت الحمد پڑھنا توقیفی ھے لیکن اس کے بعد کوئی بھی سورت پڑھی جاسکتی ھے اور یہ توقیفی نھیں – اسکی مثال کچھ یوں بھی سمجھی جا سکتی ھے کہ سجدہ کے اندر بعض لوگ تین مرتبہ “سبحان اللہ” پڑھتے ھیں اور “سبحان ربی الاعلی وبحمدہ” پڑھ کر درود پڑھ لیتے ھیں اور اسی طرح کچھ لوگ صرف “سبحان ربی الاعلی وبحمدہ پڑھ کر بھی درود پڑھ لیتے ھیں جبکہ بعض حضرات اسے ھی تین مرتبہ پڑھ کر درود پڑھتے ھیں- علاوہ ازیں کچھ لوگ درود پڑھے بغیر بھی سجدہ کرلیتے ھیں کیونکہ درود پڑھنا مستحب ھے۔  ان سب طریقوں سے نماز بھی صحیح رھتی ھے اور نماز کا توقیفی ھونا بھی برقرار رھتا ھے۔ یقینا ان سب طریقوں کے بارے میں احادیث معصومین بھی موجود ھیں ۔ اور سجدے کی حالت میں ھی بھت ساری دعائیں بھی مروی ھیں جو کہ مستحب ھیں- مزیدبرآں اس شبہ کے ازالہ کیلئے ھم شیخ صدوق کی کتاب من لا یحضرہ الفقیہ میں درج کردہ تشھد کی کچھ اقسام مومنین کی خدمت میں پیش کرتے ھیں ۔ یہ کتاب کتب اربعہ میں سے ایک ھے اور اس میں بیان کردہ تشھد کی اقسام پربظاھر تمام مخالفین کا بھی اعتماد ھے ۔
پھلا تشھد کچھ اسطرح بیان کیا گیا ھے ۔
بسم اللہ و باللہ والحمد للہ و الاسماء الحسنی کلھا للہ اشھد ان لا لہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ و اشھد ان محمدا عبدہ و رسولہ ارسلہ بالحق بشیرا و نذیرا بین یدی الساعہ
یہ تشھد روز مرہ پڑھے جانے والے تشھد سے اسطرح مختلف ھے کہ اس کے شروع میں “بسم اللہ و باللہ والحمد للہ و الاسماء الحسنی کلھا للہ” کا جملہ ھے اور آخر میں “ارسلہ بالحق بشیرا و نذیرا بین یدی الساعہ” کا جملہ ھے ۔ لھذا مخالفین کے اس شبہ کا رد اسی تشھد کی قسم کے ساتھ واضح طور پر ھو جاتا ھے اور اس سے یہ ثابت ھوتا ھے کہ تشھد کی صرف ایک قسم نھیں اور تشھد میں احادیث کی روشنی میں اسطرح کے اضافے سے نماز کے توقیفی ھونے پر کوئی اثر نھیں پڑتا ۔
اسی کتاب میں تشھد کی دوسری قسم کچھ یوں بیان کی گئی ھے
زرارہ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کرتے ھیں – جب چوتھی رکعت پڑھ چکو تو آخر میں تشھد پڑھو اور تشھد میں  یہ پڑھو ۔
بسم اللہ و باللہ والحمد للہ و خیر الاسماء کلھا للہ اشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ و اشھد ان محمد عبدہ و رسولہ – ارسلہ بالھدی و دین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ و لو کرہ المشرکون – اتحیات للہ والصلوات اطیبات اطاھرات الزاکیات النامیات الغادیات الرائحات المبارکات الحسنات للہ ۔ ما طاب و طھر و ذکی و خلص و نمی للہ وما خبث فلغیرہ ۔ اشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ و اشھد ان محمدا عبدہ و رسولہ ارسلہ بالحق بشیرا و نذیرا بین یدی الساعت ۔ و اشھد ان الجنت حق و ان النار حق و ان الساعت آتیت لا ریب فیھا و ان اللہ یبعث من فی القبور – و اشھد ان ربی نعم الرب و ان محمدا نعم الرسول ارسل و اشھد ان ما علی الرسول الا البلاغ المبین
اسکے بعد شیخ صدوق نے سلام بھی نقل کیا ھے جو کچھ اسطرح ھے ۔
السلام علیک ایھا النبی ورحمت اللہ و برکاتہ – السلام علی محمد بن عبداللہ خاتم النبیین – السلام علی الائمت الراشدین المھدیین – السلام علی جمیع انبیاء اللہ و رسلہ و ملائکتہ – السلام علینا و علی عباد اللہ الصالحین ۔
حوالہ:-من لا یحضرہ الفقیہ ص 179 ، شیخ صدوق
تشھد کی اس قسم سے بھی یھی ثابت ھوتا ھے کہ نماز کے تشھد کا نماز کے توقیفی عبادت ھونے سے کوئی تعلق نھیں ھے اور اس حدیث میں تو آئمہ کا نام اجمالی طور پر نماز کے سلام میں بھی لیا گیا ھے۔
تشھد کی اس قسم میں شھادتین اور دیگر باتوں کے علاوہ مندرجہ ذیل چیزوں کی بھی واضح طور پر گواھی دی گئی ھے ۔
- میں گواھی دیتا ھوں کہ جنت حق ھے -
- میں گواھی دیتا ھوں کہ دوزح حق ھے -
- میں گواھی دیتا ھوں کہ قیامت آنے والی ھے اور اس میں کوئی شک نھیں  -
- میں گواھی دیتا ھوں کہ اللہ قبروں میں سے مردے اٹھائے گا -
- میں گواھی دیتا ھوں کہ اللہ میرا بھترین رب ھے -
- میں گواھی دیتا ھوں کہ محمد بھترین رسول ھیں -
 نیز میں گواھی دیتا ھوں کہ رسول پر کھلم کھلا پھنچا دینے کے علاوہ اور کچھ نھیں ۔ -
لمحہ فکریہ یہ ھے کہ مخالفین کی نماز جنت و دوزخ، قیامت اور قبورسے مردے اٹھائے جانے کی گواھیاں دینے سے باطل نھیں ھوتی تو صرف ولایت علی کی گواھی انھیں ناگوار کیوں گذرتی ھے۔ لامحالہ طور پر یا تو یہ لوگوں کی جھالت اور لاعلمی ھے یا پھر واضح مقصریت، منافقت اور دشمنیئ اھلبیت ھے ۔
آخر ولایت علی علیہ السلام کے ساتھ یہ سوتیلا سلوک کیوں
تشھد کی ان دو اقسام سے ھی مخالفین و معاندین کے اس شبہ کا ازالہ ھو جاتا ھے۔ جب کہ دیگر شیعہ کتب میں تشھد کی اور بھی کئی اقسام کا ورود ھوا ھے،  جن میں ولایت علی علیہ السلام کی گواھی بھی شامل ھے۔
مثال کے طور پر کتاب فقہ مجلسی میں امام جعفر صادق علیہ السلام کا تشھد بیان کیا گیا ھے جس میں ولایت مولا علی علیہ السلام کی گواھی اس طرح موجود ھے۔
اشهد انك نعم الرّبّ و انّ محمّداً نعم الرّسول و انّ علیاً نعم الوصی و نعم الامام
ترجمہ: میں گواھی دیتا ھوں کے (اے اللہ) تو بھترین رب ھے اور محمد (ص) بھترین رسول ھیں اور علی علیہالسلامبھترین وصی اور بھترین امام ھیں ۔
نوٹ: بعض کم فہم حضرات کے نزدیک فقہ مجلسی کو فقط علامہ مجلسی سے نسبت دی جاتی ہے ۔ تو کیا نسبت دئے جانے سے کوئی کتاب کسی کی  نہیں رہتی ۔ آگر چل کر صراحت سے بیان کیا جائے گا کہ کتاب القطرہ و دیگر بہت ساری کتب سے یہی  روایت علامہ مجلسی سے منسوب کر کے لکھی گئی ہے ۔ علاوہ ازیں یہی روایت بحار الانوار میں بھی موجود ہے جس کے علامہ مجلسی کی کتاب ہونے میں کوئی شک نہیں ہے اور علامہ مجلسی کے والد علامہ تقی مجلسی نے بھی اسی روایت کو اپنی کتاب فقہ کامل میں درج کیا ہے ۔ جب والد ایک حدیث کو درج کر رہے ہیں تو بیٹا اس حدیث پر اعتماد کیوں نہیں کرتا ہو گا آخر؟
گفتگو کا ماحصل یہ ھے کہ نماز کے توقیفی ھونے کے بارے میں مخالفین کی یہ رائے  ھے کہ بالفرض نماز کی رکعات میں توقیفی ھونے کی وجہ سے رد و بدل نھیں ھو سکتا مثلا فجر کی دو رکعات کی بجائے تین نھیں پڑھیں جا سکتیں- یہ استدلال انتھائی غیرموزوں ھے کیونکہ واقعی احادیث میں بھی رکعات نماز کے ردّ و بدل کا حکم وارد  نھیں ھوا جب کہ تشھد کی مختلف اقسام تو احادیث سے ثابت شدہ ھیں- لھذا ولایت علی علیہ السلام کا پڑھا جانا بھی احادیث کی روشنی ھے اور شریعت میں اپنی مرضی سے ردّوبدل یا کمی بیشی نھیں ھے۔
احادیث میں نا صرف ولایت علی علیہ السلام کا اثبات وارد ھوا ھے بلکہ سلام میں بھی آئمہ پر سلام بھیجنے کی اجازت دی گئی ھے جو کہ شیخ صدوق کی کتاب میں درج کردہ سلام سے ثابت ھے۔

شبہ ثانی – ھمارے باپ دادا نے کبھی ولایت علی علیہ السلام کی گواھی نھیں دی


اولا توھمارے کسی شئے سے لاعلم ھونے سے شریعت کے احکام پرکوئی فرق نھیں پڑتا- بالفرض اگر آپ کے باپ دادا شریعت کے کسی حکم پر کسی بھی وجہ سے عمل درآمد نھیں کرسکے تو  اس بات کا بھانہ بنا کر شریعت کے کسی حکم کا انکار ھرگز نھیں کیا جاسکتا – ثانیاجیسا کہ پھلے وضاحت کی گئی ھے کہ شیخ صدوق کی کتاب میں درج کردہ دو تشھد یہ بتا رھے ھیں کہ تشھد صرف شھادتین تک محدود نھیں بلکہ اس کے علاوہ بھی بھت سارے جملے تشھد کا حصہ ھیں اور آئمہ سے باقاعدہ طور پر مروی ھیں۔ لھذا یا تو آپ کے باپ دادا نےبھی بنابرتقیہ اپنے باپ دادا کی طرح اسے نماز میں نھیں پڑھا یا پھر وہ اس سے تھے ھی لاعلم، لیکن ھر دو صورت میں شریعت میں ولایت علی علیہ السلام کے جواز پر کوئی فرق نھیں پڑتا۔ جیسا کہ آگے چل کر میں فرمان معصوم سے ثابت کیاجائے گا کہ ولایت علی علیہ السلام کی گواھی تشھد اور حتی اذان میں تقیہ کی بنا پر مستحب رھی ھے۔
ازالہ شبہ اول میں موجودمن لایحضرہ الفقیہ والے تشھد میں جنت دوزخ کی گواھیوں سے بھی آپ کے والدین لاعلم تھے تو کیا اس بات کا سھارا لے کر آپ کتب اربعہ کو غلط کھہ دیں گے یا اپنے باپ دادا کو مطعون اور مورد الزام ٹھرائیں گے یا پھر کیا آپ جنت دوزخ کی گواھیوں کو مبطل نماز ٹھرا دیں گے۔
اسکے علاوہ ازالہ شبہ اول میں بیان کردہ من لا یحضرہ الفقیہ میں نماز کے سلام میں آئمہ علیھم السلام پر سلام بھی بھیجا گیا ھے – ھوسکتا ھے آپ کے باپ دادا اس بات سے بھی لاعلم ھوں توکیا یہ روایت صرف اس وجہ سے غلط ھو جائے گی- نھیں، ایسا قطعانھیں ھے۔ لھذا ولایت علی علیہ السلام کی گواھی کو بھی صرف اس وجہ سے مبطل نماز نھیں کھا جاسکتا کہ آپ کے والدین یاباپ دادا اس سے بے خبر تھے۔

شبہ ثالث – ولایت علی علیہ السلام کی گواھی کا کتب اربعہ میں تذکرہ نھیں ملتا

اس شبہ کا ازالہ سب سے پھلے تو اس حقیقت سے ھو جاتا ھے کہ شیعہ مذھب کی تمام احادیث کتب اربعہ میں ھی نھیں ھیں اور پھر ان کتب کے اندر بھت ساری احادیث ایسی بھی ھیں جو کہ غلط بھی ھیں اور بعض روایتیں من و عن سنیوں کی روایتوں سے بھی ملتی جلتی ھیں – لھذا سارے کا سارا شیعہ مذھب کا علم کتب اربعہ تک محدود نھیں ھے
اور سب سے بڑھ کر جب شیخ صدوق کے نقل کردہ تشھد میں قیامت تک کی گواھی تشھد میں معصوم سے روایت کی گئی ھے تو اس سے صاف ظاھر ھوتا ھے کہ تشھد ایک معین کردہ عبادت نھیں ھے ۔ جسطرح قنوت معین کردہ عبادت نھیں ھے اور اسکا مقصد دعا مانگنا ھوتا ھے اسی طرح تشھد کا مقصد گواھیاں دینا ھوتا ھے اور معصومین سے روایت کردہ تشھد کی مزید اقسام میں ولایت علی علیہ السلام کی گواھی واضح طور پر موجود ھے -اسلئے فرامین معصومین کی روشنی میں جن جن چیزوں کی گواہیاں احادیث میں موجود ھیں سب کا تذکرہ تشھد میں کیاجا سکتا ھےاور اصول کافی میں امام محمد باقر علیہ السلام کا فرمان بھی موجود ھے جس میں صاف کھا گیا ھے کہ تشھد قنوت کی طرح معین کردہ عبادت نھیں ھےجسے آگے چل کر صراحت کے ساتھ بیان کیا جائے گا
رجال کے قواعد میں یہ بھی ایک مسلمہ قاعدہ ھے کہ قبول روایت کے لئے راوی میں یہ شرط نھیں اور یہ ضروری نھیں ھے کہ کتب اربعہ میں اس کا نام آیا ھو ۔ یعنی اگر کوئی روایت کسی بھی راوی سے دیگر معتبر شیعہ کتب میں بیان کی گئی ھے تو اس روایت کی قبولیت کے لئے یہ شرط ھر گز نھیں کہ وہ روایت من و عن کتب اربعہ میں موجود ھو اور نا ھی یہ شرط ھے کہ اس راوی کا ذکر کتب اربعہ میں موجود ھو تب ھی وہ روایت قبول کی جائے گی۔
علاوہ ازیں اسی کتاب میں بیان کئے گئے تشھد پر اگر آپ نے غور کیا ھے تو اس کے بعد بیان کئے گئے سلام میں آئمہ علیھم السلام پر بھی سلام بھیجا گیا ھے۔ اگر علی ولی اللہ کتب اربعہ میں موجود نھیں تو کم از کم اپنے سلام میں آئمہ پر سلام بھیجنا چاھئے کیونکہ یہ کتب اربعہ سے ثابت ھے ۔ دراصل منافقین کا ھر بھانہ سب سے پھلے لاعلمی اور پھر اھلبیت کی درپردہ مخالفت پر منحصر ھے ۔

شبہ رابع : تشھد کی روایات میں اختلاف ھے ۔

مخالفین کا ایک اور شک جسے وہ عام طور پر پیدا کرنے کی کوشش کرتے ھیں وہ یہ ھے کہ تشھد کی صرف ایک روایت صحیح ھے جو کہ عام طور پر مروج ھے باقی احادیث یا تو ضعیف ھیں یا غلط معاذاللہ ۔
یہ مقصرین کی علمی یتیمی کا منہ بولتا ثبوت ھے ۔ کیونکہ شیخ صدوق کی کتاب من لا یحضرہ الفقیہ میں ھی تشھد کی دو روایات نقل کی گئی ھیں جس سے خوب واضح ھوتا ھے کہ شیخ صدوق کے نزدیک بھی تشھد صرف روز مرہ عومی طور پر پڑھے جانے والے صیغوں کا نام نھیں تھا اور اسی طرح شیعہ کتب میں کل ملا کر تشھد کی 12 کے قریب اقسام پائی گئی ھیں ۔ اگر 11یا اس سے زیادہ اقسام غلط ھیں تو پھر تو مذھب شیعہ غلط اعتقادات والا مذھب کھلوائے گا معاذاللہ اور اس کے کثیر تعداد کے راوی غلط کار ثابت ھوتے ھیں ۔ سوال یہ ھے کہ اس ایک قسم کے تشھد کے صحیح ھونے کی کیا دلیل ھے اور بقیہ کے غلط ھونے کی کیا دلیل ھے۔
ذاتی قیاس کی بنیاد پر کثیر تعداد کے تشھدوں کو غلط کھنا مذھب شیعہ خیر البریہ پر حملہ کرنے کے مترادف ھے۔
اور جیسا کہ پھلے بیان کیا گیا ھے ۔ تشھد کے غیر معین ھونے پر امام باقر علیہ السلام کا قول دلالت کرتاھے جو کہ مندرجہ ذیل ھے۔
قلت لابی جعفر علیه السلام أی شیء أقول فی التشهد و القنوت قال قل بأحسن ما علمت فإنه لو كان موقناً لهلك الناس
میں نے ابی جعفر علیہ السلام سے سوال کیا کہ میں تشھد اور قنوت میں کیا پڑھوں ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ جو تم نے سب سے بھتر سیکھا ھو کیونکہ اگر تشھد معین ھوتا تو لوگ ھلاک ھو جاتے ۔

اس سے صاف ظاھر ھے کہ تقیہ کی وجہ سے اور لوگوں کی ھلاکت کی وجہ سے تشھد کو غیر معین رکھا گیا ھے اور تشھد کو قنوت کی طرح قراردیا گیا ھے
 بعض لوگ اس حدیث پر یہ اعتراض بھی کرتے ھیں کہ مرآت العقول میں علامہ مجلسی نے کافی کی اس حدیث کو مجھول لکھا ھے- واضح رھے کہ اسی حدیث کو بھت ساری کتب میں بیان کیا گیا ھے ۔ اور اسی مرآت العقول میں اسی کتاب کافی کی مندرجہ ذیل حدیث کو صحیح درج کیا ھے ۔
 مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ النُّعْمَانِ عَنْ دَاوُدَ بْنِ فَرْقَدٍ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ شُعَيْبٍ قَالَ قُلْتُ لأَبِي عَبْدِ الله (عَلَيْهِ الْسَّلام) أَقْرَأُ فِي التَّشَهُّدِ مَا طَابَ فَلله وَمَا خَبُثَ فَلِغَيْرِهِ فَقَالَ هَكَذَا كَانَ يَقُولُ عَلِيٌّ  (عَلَيْهِ الْسَّلام)
ترجمہ : میں نےحضرت ابوعبداللہ سے کھا: میں تشھد میں پڑھتا ھوں کہ جتنی اچھی باتیں ھیں وہ خدا کیلئے ھیں اور جتنی بری باتیں ھیں وہ اس کے غیر کے لئے ھیں پس انھوں نے فرمایا کہ ٹھیک ھے علی علیہ السلام یھی فرماتے ھیں
 (حوالہ فروع کافی جلد 3 ص337، خلاصت الحقائق جلد 1 ص 255)
اگر پھلی حدیث کا مجھول ھونا ایک لمحے کیلئے مان بھی لیا جائے تو بھی دوسری حدیث کے صحیح ھونے سے بھی یھی ثابت ھوتا ھے کہ تشھد کو صرف شھادتین تک ھی محدود نھیں کیا گیا ھے بلکہ اس میں بھت سے اور جملے مثلا “مَا طَابَ فَلله وَمَا خَبُثَ فَلِغَيْرِهِ”  وارد ھوئے ھیں یعنی تشھد معین اور مقرر نھیں ھے۔
یہ ایک حقیقت ھے کہ کسی شئے کے استحباب کیلئے ضعیف احادیث سے بھی فقہ میں استدلال جائز ھے-  لیکن ھم مخالفین سے اس حدیث کا مطالبہ کرتے ھیں کہ جس کی رو سے وہ تشھد کو معین اور مقرر ثابت کر سکتے ھیں – اگر ایسی کوئی ایک حدیث بھی دکھا دی جائے تو ھر شخص پر لازم ھو گا کہ وہ صرف شھادتین کے علاوہ ایک لفظ بھی تشھد میں مستحب کی نیت سے نا پڑھے لیکن فی الحقیقت ایسی ایک بھی حقیقت نھیں ھے اور تشھد میں بھت سارے جملے بطور استحباب وارد ھوئے ھیں-
انشاءاللہ ان سب احادیث پر جلد سیر حاصل تبصرہ کیا جائے گا۔

شبہ خامس :- تشھد کی روایت صرف فقہ رضا سے دیگر کتب میں لی گئی ھے اور فقہ رضا دشمن کی لکھی ھوئی کتاب ھے۔


یہ اعتراض انتھائی بے بنیاد ھے کیونکہ تشھد کی روایت کا تذکرہ بھت ساری کتب میں ملتا ھے اور ان کا ماخذ فقہ رضا کے علاوہ دیگر بھت ساری کتب ھیں- یہ دشمن کا وہ پراپیگنڈہ ھے جو اس نے اس کتاب کے خلاف کیا ھے اور دلیل کے طور پر ایسے لوگ اس کتاب میں سے کچھ غلط احادیث نکال کر پیش کرتے ھیں – جیسے کہ اس کتاب میں لکھا ھوا ھے کہ امام نے اپنے پاؤں کا مسح کرنے کی بجائے ان کو دھویا ۔ نجس جانور کا چمڑہ رنگ دینے سے اس میں نماز ھو سکتی ھے اورفصول اذان وغیرہ ۔ قارئین کو یہ بات ذھن نشین کر لینی چاھئے کہ غلط اور خلاف قرآن احادیث ھر کتاب میں موجود ھوتی ھیں جن میں سے بھت ساری سنی کتب سے لی گئی ھوتی ھیں-
حتٰی کہ کتب اربعہ جن میں کافی ، استبصار ، من لا یحضرہ الفقیہ اور تھذیب شامل ھیں ان کے اندر بھی غلط روایات موجود ھیں – کیا اس کا یہ مطلب ھے کہ کتب اربعہ پر عمل کرنا غیراسلامی ھو جائے گا۔ ھرگز نھیں ۔ ھم مثال کے طور پر شیخ صدوق کی ھی کتاب من لایحضرہ الفقیہ کا ایک حوالہ مومنین کی خدمت میں پیش کرتے ھیں
اور جمیل نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ھے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ کوئی حرج نھیں ھے کہ عورت آگے نماز پڑھ رھی ھو اور مرد پیچھے نماز پڑھ رھا ھو – اس لئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھا کرتے اور حضرت عائشہ آپ کے سامنے پاؤں پھیلائے حیض کی حالت میں لیٹی رھتی تھیں اور جب آپ سجدے کا ارادہ کرتے تو ان کے دونوں پاؤں کو اشارہ کرتے وہ اپنے دونوں پاؤں اٹھا لیتی تھیں تاکہ آپ سجدہ کرلیں – معاذاللہ – اور کوئی حرج نھیں اگر مرد اور عورت دونوں نماز پڑھیں اور ان دونوں کے درمیان ایک چھوٹا سا تکیہ یا کوئی چیز رکھی ھوئی ھو۔
اسکے علاوہ اسی کتاب میں ایسے کپڑے میں نماز پڑھنا بھی جائزقرار دیا گیا ھے کہ جس کے بارے میں خیال ھو کہ یہ خنزیر کے رنگے ھوئے چمڑے سے بنا ھوا ھے یا شراب آلود ھے اورامام محمد باقر علیہ السلام کا فرمان بتایا گیا ھے کہ خنزیر کا کھانا حرام ھے لیکن پھننا نھیں معاذاللہ۔
وسئل أبوجعفر وأبوعبدالله عليهما السلام فقيل لهما: ” إنا نشتري ثيابا يصيبها الخمر وودك الخنزير عند حاكتها انصلى فيها قبل ان نغسلها؟ فقالا: نعم لا بأس انما حرم الله اكله وشربه، ولم يحرم لبسه ومسه والصلاة فيه
حوالہ:- اردوترجمہ من لایحضرہ الفقیہ ص136، روایت 751، شیخ صدوق
“ولم يحرم لبسه ومسه والصلاة فيه” کا مطلب ھے کہ اللہ نے اس کا پھننا مس کرنا اور اس میں نماز ادا کرنا حرام نھیں کیا۔
علاوہ ازیں ایسی روایات کی ایک طویل فھرست پیش کی جا سکتی ھے جو کہ قرآن کے سراسر خلاف جاتی ھیں لیکن پھر بھی کتب اربعہ میں موجود ھیں – سوال یہ پیدا ھوتا ھے کہ کیا ان احادیث کی موجودگی کی وجہ سے ان کتب اربعہ کے خلاف بھی آیا اسی طرح پراپیگنڈہ ھونا چاھئے – فیصلہ قارئین کے ھاتھ ھے ۔
 اور یہ کھنا کہ کیونکہ قفہ رضا علیہ السلام کی سند ایک ھے جبکہ کتب اربعہ کی سندیں مختلف ھیں کوئی معنے نھیں رکھتا کیونکہ صرف ایک ھی سند سے ملنے والی روایات میں سے بھی کچھ بنابر تقیہ یا دیگر وجوھات کی بنا پر غلط ھو سکتی ھیں۔ اور غلطیوں سے پاک کتاب صرف قرآن مجید ھے۔
جب کہ حقیقت امر یہ ھے کہ فقہ رضا امام رضا علیہ السلام سے منسوب ضرور ھے لیکن اس میں دیگر راویوں کی روایات بھی موجود ھیں اور یہ ھم آگے چل کر علامہ مجلسی کے بیان سے ثابت کریں گے۔
مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں یہ بات اظھر من الشمس ھو جاتی ھے کہ کسی بھی روایت یا حدیث کا کتب اربعہ میں پایا یا نا پایا جانا اس کے صحیح یا غلط ھونے کی دلیل ھرگز نھیں ھے اور یھی رجال کا بھی اصول ھے، اور اگر ایسا ھے تو ایسا عقیدہ رکھنے والوں پر لازم آتا ھے کہ وہ بھی اپنی زوجہ کے پیروں والی جگہ کو سجدہ گاہ کے طورپراستعمال کریں اور خنزیر سےتیار کردہ ملبوس میں نماز پڑھیں۔
یہ احادیث قرآن کے سراسر خلاف ھیں – مقام حیرت یہ ھے کہ جب بھی اس مسئلے پر ولایت علی علیہ السلام کی حمایت میں کوئی حدیث ملتی ھے تومخالفین کو کبھی قیاس اور ذاتی رائے سوجھتی ھے، کبھی رجال کے دفاتر چھانے جاتے ھیں اور بے جا نقائص تلاش کئے جاتے ھیں اور اسکے علاوہ سوطرح کے بھانے تراشے جاتے ھیں لیکن قرآن کی بسم اللہ کی با سے لیکر والناس کی سین تک اور کتب اربعہ سے لیکر کسی چھوٹی سے چھوٹی شیعہ کتاب سے بھی وہ یہ حدیث نکال کر نھیں دکھا سکتے کہ جس میں اللہ یا معصومین علیھم السلام نے ولایت علی علیہ السلام کو شھادتین کے بعد مبطل نماز کھا ھو ۔ کیا چودہ سو سال گذر جانے کے بعد ھی یہ بات پتہ چلنی تھی کہ ولایت علی علیہ السلام کی گواھی تشھد میں بھی کلمے اور اذان کی طرح دی جاسکتی ھے اور ایسا کرنا معاذاللہ غلط ھے ۔ کیا ھمارے گیارہ ائمہ سے کبھی کسی نے اس بابت سوال نھیں کیا یا انھوں نے اس مسئلے میں ھماری راھنمائی فرمائی ۔ یہ وہ سوالات ھیں کہ جن کا جواب حاصل کرنے کی کوشش کی جائے تو مخالفین کے مذموم اور ناپاک ارادوں کا پول کھل کر سامنے آجائے گا۔ آجا کر مخالفین کے پاس شیخ صدوق کا ایک قول ھی رہ جاتا ھے جس کی حقیقت ھم آگے چل کر واضح کریں گے۔
اور جھاں تک فقہ رضا میں موجود پیروں کا مسح کرنے کی بجائے انھیں دھونے والے حکم کا تعلق ھے تو یہ سراسر جھوٹ ھے۔ فقہ رضا میں موجود صحیح روایت کے الفاظ اسطرح ھیں کہ “جبرئیل آنحضرت پر دو اعضاء یعنی چھرہ اور بازو دھونے اور سر اور پاؤں کا مسح کرنے کا حکم لے کرنازل ھوئے اس بچی ھوئی تری کے ساتھ جو وضو ھی کے پانی کی تیرے ھاتھ میں موجودھے”۔ اس پوری روایت میں پیر دھونے کا ذکر تک بھی نھیں ھے۔ جب فقہ رضا علیہ السلام میں صحیح وضو والی روایت ھے تو پاؤں دھونے والی روایت کو دلیل بنا کر کیوں کر اس کتاب کے خلاف لوگوں کا بھکایا جاسکتا ھے۔ اس صورت میں ھمیں یہ بات ذھن میں رکھنا ھے کہ ایسی بے شمار روایات کتب اربعہ میں بھی موجود ھیں۔ بنابر تقیہ ایسی بھی ایسی روایات بھت ساری کتب میں پائی گئی ھیں
اور جھاں تک خنزیر کے چمڑے میں نماز پڑھنے کا تعلق ھے تو یہ حدیث میں نے کتب اربعہ سے تو دکھائی ھے لیکن ایسی کسی بھی حدیث کا فقہ رضا علیہ السلام میں ذکر نھیں ھے۔ اگرچہ یہ حدیث ضرور موجود ھے۔
کذالک الجلد فان دباغتہ طھارتہ
یعنی چمڑے کا رنگ دینا اسکی طھارت ھواکرتی ھے – اس میں لفظ خنزیر کا ذکر تک نھیں ھے اور علامہ مجلسی نے بحار جلد 83، ص 227 میں اس کی شرح میں لکھا ھے کہ یھاں غیر مردار یعنی ذبح شدہ جانور کا چمڑہ مراد ھے۔
باقی رہ گئی فصول آذان کی تعداد تو وہ آذان کی واجب فصول کا تذکرہ ھے- فقہ رضا میں کھیں پر بھی یہ نھیں لکھا کہ مستحب سمجھ کر بھی ولایت علی علیہ السلام کو آذان واقامت میں نا پڑھا جائے۔
الغرض فقہ رضا علیہ السلام پر کئے جانے والے تمام اعتراضات جھوٹ کا ایک پلندہ ھیں جو چند جاھل مقصرین کی کتابوں سے لیکر زبان زد عام کر دیئے گئے ھیں۔

شبہ سادس:- فقہ رضا کتاب کا مؤلف نامعلوم ھے اور علماءنے اس پر اعتماد ظاھر نھیں کیا


الجواب: مندرجہ ذیل علماء نے فقہ رضا سے تشھد لے کر اپنی کتب میں لکھا ھے یا اس کے مستند ھونے کی سند فراھم کی ھے۔
 جامع احادیث الشیعہ ازقلم فقیہ اھلبیت سید بروجردی -
 مستدرک الوسائل ازقلم علامہ حسین نوری -
 حدائق الناضرہ ازقلم فقیہ اھلبیت یوصف بحرانی -
انوارالشریعہ درفقہ جعفریہ ازقلم فقیہ اھلبیت حسین بخش جھاڑا -
 بحارالانوار ازقلم علامہ محمد باقر مجلسی -
 مستندالشیعہ فی احکام الشریعہ از قلم فقیہ محمد مھدی نراقی -
 جواھرالاسلام فی شرح شرائع الاسلام ازقلم شیخ محمد حسن نجفی -
 منتقدالمنافع فی شرح المختصر النافع ازقلم شیخ حبیب اللہ کاشانی -
سب سے پھلے تو یہ بات ذھن نشین کر لینی چاھئے کہ جتنے بھی علماء نے فقہ رضا سے تشھد لیا ھے ان سب کے نزدیک یہ ایک معتبر کتاب ھے وگرنہ وہ اس کتاب سے ھرگزروایات نا لیتے کیونکہ کسی کتاب کا اپنی کتاب میں درج کرنا یا تو برائے تصدیق ھوتا ھے یا برائے تردید ھوتا ھے۔ اسی لئے جتنے بھی علماءنے اس کتاب سے تشھد لیا ھے ان میں سے ایک عالم کا قول بھی فقہ رضا کے ضعف پر نھیں دکھایا جاسکتاجو کہ اس امرپہ دلالت کرتا ھے کہ علماء تشیع کے اندر یہ کتاب مقبولیت کادرجہ رکھتی ھے- اس بات کی دلیل یہ بھی ھے کہ اس کتاب کے سرورق پر لکھا ھوا ھے “المؤتمر العالمي للامام الرضا عليه السلام” یعنی حرم امام رضا علیہ السلام میں موجود جو علماءکی کمیٹی ھے اس کا اس پر پورااعتمادظاھرکیاھے-
حرم امام رضا علیہ السلام میں اسی کتاب سے لے کر احادیث بھی لکھی گئی ھیں۔ مقام حیرت و فکر ھے کہ وھاں پر رھنے والے علماءنے تو کبھی ان احادیث کی حرم مطھر میں موجودگی پر اعتراض نھیں کیا – اور وھاں کی متعلقہ کمیٹی نے بھی یہ نھیں کھا کہ یہ کتاب ھمارے دشمن کی لکھی ھوئی ھے تو پھر اس کوکیوں کر ضعیف اور مشکوک بناکر پیش کیا جارھا ھے۔ دراصل یہ سوچی سمجھی سازش کانتیجہ ھے تاکہ لوگوں کے نزدیک جھوٹی باتیں پھیلاکر انھیں اس کتاب سے ھی متنفرکردیاجائےاور یقینا دشمن کا اس میں مفاد چھپا ھوا ھے۔ نوجوانان ملت تشیع کو اپنے مذھب کی تعلیمات سے لاعلمی کی بنیاد پر گمراہ کرنا ھمارے دشمن کا پھلااور آخری ھدف ھے جو انشاءاللہ کبھی پورا نھیں ھوگا۔
یہ وہ کتاب ھے جوکہ مولا امام رضا علیہ السلام نے خودنصیرالدین احمد بن جعفر بن زید بن امام زین العابدین کی درخواست پر املا کروائی تھی- اصل کتاب سن دوسوھجری میں سالہا سال پھلے لکھی گئی تھی جس میں امام رضا علیہ السلام اور دیگر راویوں کی تحریریں موجود تھیں اور یہ مکہ میں علامہ سید علی خان شیرازی کی لائبریری میں موجود تھی اور اس پر علامہ مجلسی ، قاضی امیر حسین اور فقیہ اھلبیت سید محمد مھدی بحرالعلوم نے مکمل اعتماد کا اظھار کیا ھے اور اسکے مستند ھونے کا اعلان کیا ھے۔ چنانچہ علامہ مھدی حسینی قذوینی نے اپنی کتاب میں فقہ رضا کے بارے میں لکھا ھے کہ
واحكم بحجیة فقه الرضوى ﻷنه معنى حديث قد روى و اعتمد القول به الفهامة بحر العلوم خالى العلامة
یعنی فقہ رضوی کے حجت ھونے کا حکم دیا جائے کیونکہ یہ بالکل روایت کردہ احادیث کا درجہ رکھتی ھے اور اس بات پر بحرالعلوم نے بھی اعتماد ظاھر کیا ھے۔
اب رہ گئی بات اس کے تشھد کی تو وہ بھی علماءفقہ کی نظر میں سو فیصدی صحیح ھے۔ چنانچہ شیخ محمد حسین نجٍفی اپنی کتاب جواھر الکلام شرح شرائع الاسلام میں لکھتے ھیں:
لو قرء القاری المروی عن فقه الرضا علی طوله زیادته علی خیر ابی بصیر لم یكن به باس
یعنی اگر کوئی پورا تشھد فقہ الرضا والی روایت کے مطابق بھی پڑھنا چاھے جو کہ ابو بصیر والے تشھد سے زیادہ لمبا ھے تو اس پر بھی کوئی اعتراض نھیں کیا جا سکتا۔

اور سب سے بڑھ کر اسی کتاب کو ھمارے جید شیعہ عالم علامہ مجلسی نے اپنی کتاب بحارالانوار کی پھلی ھی جلد میں مستند کھہ کر مخالفین کی گنجائش تنقید کو یکسر رد کردیا :ھے اور وہ فرماتے ھیں کہ
وكتاب فقه الرضا عليه السلام أخبرني به السيد الفاضل المحدث القاضي أميرحسين طاب ثراه بعد ما ورد إصفهان . قال : قد اتفق في بعض سني مجاورتي بيت الله الحرام أن أتاني جماعة من أهل قم حاجين ، وكان معهم كتاب قديم يوافق تاريخه عصر الرضا صلوات الله عليه وسمعت الوالد رحمه الله أنه قال : سمعت السيد يقول : كان عليه خطه صلوات الله عليه ، وكان عليه إجازات جماعة :كثيرة من الفضلاء ، وقال السيد
حصل لي العلم بتلك القرائن أنه تأليف الامام عليه السلام فأخذت الكتاب وكتبته وصححته فأخذ والدي قدس الله روحه هذا الكتاب من السيد واستنسخه وصححه – وأكثر عباراته موافق لما يذكره الصدوق أبوجعفر بن بابويه في كتاب من لا يحضره – الفقيه من غير سند ، وما يذكره والده في رسالته إليه وكثير من الاحكام التي ذكرهاأصحابنا ولا يعلم مستندها مذكورة فيه
بحار الانوار جلد اول طبع جدید ص 12
ترجمہ: کتاب فقہ الرضا علیہ السلام کے بارے میں مجھے سید فاضل محدث سید امیر حسین (طاب ثراہ) نے اصفھان میں وارد ھونے کے بعد خبر دی اور فرمایا جس زمانہ میں مکہ مکرمہ میں بیت اللہ شریف کا میں مجاور تھا تو میرے پاس اھل قم میں سے حاجیوں کی ایک جماعت وارد ھوئی اور ان کے پاس ایک قدیم کتاب تھی جس کی تاریخ امام رضا علیہ السلام کے زمانہ کی تاریخ کے موافق تھی اور میں نے اپنے والد محترم سے سنا ھے وہ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے سید مذکور سے سنا ھے کہ اس کتاب پر خود امام علیہ السلام کی تحریر تھی- اور اس پر بھت سے فاضل علماءکی اجازات علمیہ درج تھیں سید نے فرمایا کہ ان قرائن سے مجھ کو یہ علم حاصل ھو گیا کہ یہ کتاب حضرت امام رضا علیہ السلام کی تالیف ھے پس میں نے کتاب کو لیا اور نقل کیا اور نسخہ اصلیہ کے مطابق اس کی تصحیح کی- پس والد گرامی نے یہ کتاب سید مذکور سے لے کر اپنے پاس نقل کر لی اور اس کی تصحیح کر لی اور اس کی اکثر عبارات ان روایات کے مطابق ھیں جن کو شیخ صدوق اپنے والد کے رسالہ سے نقل کرتے ھیں اور بھت سے ایسے احکام جن کو ھمارے اصحاب نے ذکر کیا ھے اور ان کی سند معلوم نہ تھی وہ سب اس کتاب میں مذکور ھیں
مندرجہ بالا بیان سے یہ حقائق آشکار ھوتے ھیں کہ
اول) محدث سید امیر حسین نے اس کتاب پر فاضل شیعہ علماء کی اجازات علمیہ سے یہ یقین حاصل کیا کہ یہ مستند کتاب امام رضا علیہ السلام کی تالیف ھے۔
دوم) علامہ مجلسی کی طرح ان کے والد محترم بھی اس کتاب کے مستند ھونے کے قائل تھے
سوئم) اس کتاب کی احادیث بعینہ اس طرح ھیں جن میں سے بھت ساری احادیث کو شیخ صدوق نے اپنی کتاب من لا یحضرہ الفقیہ میں درج کیا ھے لیکن ان کی سند مھیا نھیں کی اور اس سے بھی اس کتاب کا معتبر ھونا ھی معلوم ھوتا ھے۔
علامہ مجلسی کی اس کتاب پر تحقیق انیق کے بعد یہ یقین پیدا ھوجاتا ھے کہ کتاب فقہ الرضا علیہ السلام معتبر شیعہ کتب میں سے ھے اور اس کی روایات پر عمل کرنا موجب اجر و ثواب ھے اور اسی لئے علامہ مجلسی سمیت دیگر علماء نے اس کتاب میں سے بے شمار شیعہ کتب میں روایات لے کر نقل کی ھیں۔
البتہ اس کتاب کے اندر بھی قلمی غلطیوں کے نتیجے میں کچھ ضعیف روایات ھو سکتی ھیں لیکن یہ پوری کتاب کو غلط نھیں بناتا کیونکہ غلطیوں سے پاک کتاب صرف قرآن ھے جس کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ نے لیا ھے اور اسی لئے ھر حدیث کے صحیح یاغلط ھونے کا معیار آئمہ نے صرف قرآن کو قراردیا ھے- لیکن کتب اربعہ کی غلط روایات سے میں نے ثابت کیا ھے کہ ان کی موجودگی پوری کتاب کو مشکوک نھیں بنادیتی جبکہ کتب اربعہ کی غلط احادیث قلمی غلطیاں نھیں ھیں بلکہ مصیفین کی اپنی نقل کردہ ھیں اور نا ھی کسی راوی یا روایت کا کتب اربعہ میں پایا یا نا پایا جانا مقبول قواعد کی رو سے عذر مانا جاسکتاھے۔
خوئی صاحب فقہ رضا کے موجودہ نسخے کو مکمل طور پر امام رضا علیہ السلام کی تصنیف نھیں سمجھتے تھے جبکہ ھمارے پاس علامہ مجلسی کی شھادت بھی موجود ھے اور وہ خوئی صاحب سے بھت پھلے کے عالم ھیں
مخالفین خوئی صاحب اور خمینی صاحب کے بیانات کو بنیاد بنا کر عوام کو دھوکا دینے کی کوشش کرتے ھیں جبکہ لاتعداد علماء تو اس کتاب میں دیگر راویوں کی روایات کے باوجود اسے مستند مانتے تھے اور خوئی صاحب کے نزدیک صرف یہ امام رضا علیہ السلام کی تالیف نھیں تھی اور اس بات سے ھمیں بھی انکار نھیں ھے کیونکہ اس کے پیچھے یہ مصلحت ھے کہ اگر ساری کی ساری کتاب امام علیہ السلام سے مروی ھوتی تو آج کوئی بھی اس میں قلمی غلطیوں یا ذرا سی تحریف کو بنیاد بنا کر ھم پر حجت قائم کر سکتا تھا۔
جھاں مخالفین اس کتاب پر اتنے اعتراضات اٹھاتے ھیں وھاں ناصبیوں کو بھی موقعہ مل جاتا کہ یہ شیعیوں کے امام علیہ السلام کی لکھی ھوئی کتاب ھے لھٰذا شیعیوں کو اس کا ایک ایک حرف ماننا چاھئے۔ جبکہ ناصبیوں اور مقصرین دونوں کو یہ بات اچھی طرح جان لینی چاھئے کہ یہ کتاب امام سے منسوب ضرور ھے لیکن یہ نسبت اسے معاذاللہ قرآن نھیں بنا دیتی کہ اس میں کوئی غلطی نا ھو، کیونکہ اس میں دیگر راویان کی روایات بھی موجود ھیں۔
 خوئی صاحب نے ان باتوں کی نشان دھی کی ھے کہ جو امام کا کلام نھیں ھو سکتیں ۔ بھر کیف اس پوری کتاب کو بخاری وغیرہ کی طرح کھنا ان کی اپنی رائے ھے کیونکہ علامہ مجلسی نے واضح کر دیا ھے کہ اس کتاب کے بھت سارے مندرجات دیگر شیعہ کتب جیسے کہ من لا یحضرہ سے ھوبھو ملتے جلتے ھیں لھذا اس کتاب کو بخاری کی طرح کھنا محض وھم و گمان ھے۔
اسی طرح حمینی صاحب کو بھی فقط اس کے مکمل طور پر امام رضا علیہ السلام کی تالیف ھونے پر اعتراض تھا جب کہ انھوں نے خود اس کتاب سے حوالہ لے کر اپنی کتاب حکومت اسلامیہ میں درج کیا ھے جس سے ثابت ھوتا ھے کہ انکے نزدیک بھی اس کی روایات اور اس کتاب کے مندرجات صحیح تھے۔

شبہ سابع:- فقہ مجلسی میں موجود تشھد کی روایت کی سند موجود نھیں ھے اور اسکے خلاف علماء کا اجماع منعقد ھے

اس اعتراض کے پیچھے ھرگز کوئی حقیقت نھیں ھے- پھلے مخالفین نے سادہ لوح عوام کے اذھان میں یہ جھوٹ ڈال دیا کہ یہ روایت صرف اور صرف فقہ رضا سے لے کا دوسری کتب میں نقل کی گئی ھے- جبکہ فقہ مجلسی وغیرہ میں یھی روایت امام جعفر صادق علیہ السلام سے بھی مروی ھے اور یہ روایت اختصار کے ساتھ مندرجہ ذیل ھے۔
..اشهد ان لا اله الّا الله وحده لا شریك له و اشهد انّ محمّداً عبده و رسوله ….. اشهد انك نعم الرّبّ و انّ محمّداً نعم الرّسول و انّ علیاً نعم الوصی و نعم الامام ….. الخ
(حوالہ فقہ مجلسی ص 29)
اس حدیث میں بیان کردہ تشھد میں یہ الفاظ واضح طور پر موجود ھیں
“اشهد انك نعم الرّبّ و انّ محمّداً نعم الرّسول و انّ علیاً نعم الوصی و نعم الامام”
یعنی میں گواھی دیتا ھوں کہ اے اللہ تو بھترین رب ھے اور بیشک محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم بھترین رسول اور بیشک علی علیہ السلام بھترین وصی اور امام ھیں
یہ روایت ثقہ راوی ابوبصیر سے مروی ھے جو امام جعفرصادق علیہ السلام کے معتمد صحابی تھے اورچند مقصرمولویوں کے علاوہ ھرگز ثابت نھیں کیا جا سکتا کہ اعلی پائے کے شیعہ علماءاس روایت کے خلاف ھیں – اس کی دلیل کے طور پر ھم مندرجہ ذیل علماء کی رائے پیش خدمت کرتے ھیں۔
فقیہ احمد المستنبط نے اسی کتاب سے لیکر تشھد کی روایت اپنی کتاب القطرہ میں بیان کی ھے اور اس کے اندر مولا علی علیہ السلام کی ولایت کی گواھی موجود ھے جو کہ مخالفین کے اجماع علماء شیعہ کے فسانے کو باطل ثابت کرنے کیلئے کافی ھے ۔
حوالہ کے لئے ملاحظہ کیجئے کتاب القطرہ جلد نمبر 1 ص 328۔
اسکے علاوہ یھی روایت تحفہ احمدیہ میں فقیہ ناصرالملت نے بھی لکھی ھے جن کے تحفہ پر برصغیر  کے لاتعداد شیعہ آزادی پاک و ھند سے پھلے بھی عمل کرتے تھے ۔ اسوقت کسی مجتھد کی توضیح کی بجائے شیعہ انکے تحفہ کے مطابق ھی اعمال بجالاتے تھے۔ نا تو ان شیعوں نے ھی کبھی ولایت علی علیہ السلام کی گواھی پر اعتراض کیا اور نا ھی اس وقت کے کسی بڑے علامہ نے ۔ تعجب در تعجب یہ ھے کہ ولایت کی گواھی آزادئ برصغیر پاک وھند سے پھلے کی کتب میں موجود ھے اس پر گذشتہ کچھ دھائیوں میں ھی اعتراضات کیوں متعارف کرائے گئے۔
کچھ مخالفین علامہ ناصر الملت کے تحفہ پر اعتراض کرتے ھوئے کھتے ھیں کہ اس تحفہ میں صرف تقریظ ان کی تھی جب کہ یہ لکھا کسی اور نے تھا۔ ھمارا مشورہ ایسے لوگوں کے لئے یہ ھے کہ وہ ایک بار اپنی آنکھوں سے اس تحفہ کا بغور مشاھدہ ضرور کر لیں کیونکہ اسی تحفہ کے سرورق پر ان کا نام ھے اور لکھا ھوا ھے “مصدقہ و معمولہ جناب صدر المحققین ناصر الملت والدین شمس العلماء ابوالفضل السید ناصر حسین صاحب قبلہ -  اپریل 1937 ” – یعنی یہ تحفہ ناصر الملت کا تصدیق شدہ ھے اور اس پر عمل بھی ان کے نزدیک جائز ھے۔
حوالہ کے لئے آپ تحفہ احمدیہ کا صفحہ نمبر 154 دیکھ سکتے ھیں۔
 
کتب اربعہ کے تشھد جن میں قیامت تک کی گواھی موجود ھے ان کو تو مستند تصور کیا جائے اور ولایت علی علیہ السلام والے تشھد کو ضعیف !! یہ کھاں کا انصاف ھے ۔
امام باقر علیہ السلام کے فرمان کی روشنی میں تقیہ کی وجہ سے ولایت علی علیہ السلام کی ایک مستحب عمل کے طور پر تبلیغ کی گئی ھے ۔ ایک لمحے کے لئے اگر مان بھی لیا جائے کہ فقہ مجلسی والی روایت ضعیف ھے ، حالانکہ ایسا ھرگز نھیں ھے تب بھی علم اصول فقہ کے ابتدائی طالب علم بھی یہ جانتے ھیں کہ مستند حوالہ اور مستند حدیث کی ضرورت اس وقت درپیش ھوتی ھے جب کہ کسی حکم کے وجوب یا حرمت کو ثابت کرنا مقصود ھو اور مستحبات و سنن کے اثبات کے لئے مرسل یا ضعیف حدیث سے بھی استدلال جائز ھے ۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا فرمان ھے۔
 عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الله (عَلَيهِ السَّلام) قَالَ مَنْ سَمِعَ شَيْئاً مِنَ الثَّوَابِ عَلَى شَيْ‏ءٍ فَصَنَعَهُ كَانَ لَهُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ عَلَى مَا بَلَغَهُ.
ترجمہ: جو شخص یہ سن کر کہ فلاں کام میں ثواب ھے اس پر امید ثواب سے عمل کرے تو اسکو ثواب ملے گا اگرچہ وہ فی الواقع اس طرح نہ ھو
حوالہ:- الکافی، ج2، ص87، باب: من بلغه ثواب من اللّه علی عمل، ح1

علم فقہ کے اس قاعدے کو “قاعدہ تسامح در ادلہ سنن” کے نام سے جانا جاتا ھے
اس سلسلے میں معصومین سے ایک نھیں بلکہ بہت سی روایات نقل ہوئی ہیں اور شیخ انصاری  نے جواز تسامح در ادلہ سنن کے متعلق مستقل رسالہ تحریر کیا ہے ۔
اس قاعدے کی مزید تصدیق مندرجہ ذیل کتب سے کی جا سکتی ھے۔
 الکافی ،محمد بن یعقوب کلینی ،ج۲،ص ۸۷،  -
المحاسن ،احمد بن محمد بن خالد البرقی ، ج۱،ص ۹۳،  -
ثواب الاعمال شیخ صدوق ،ص۱۳۲،  -
عدّة الداعی ، احمد بن فہد حلّی ،ص۱۳،  -
اقبال الاعمال سید ابن طاووس ، -
فلاح السائل سید ابن طاووس ،ص۱۲،  -
مفتاح الفلاح شیخ بہائی ،ص۴۰۶،  -
روضة المتقین ،محمد تقی مجلسی ،ج۱،ص ۴۵۵،  -
مدارک الاحکام ، العاملی ، ج۱،ص ۱۸۷،  -
وسائل الشیعہ ،حرعاملی ،ج۱،ص ۸۰،  -
بحار الانوار ،محمد باقر مجلسی ، ج۲،ص ۲۵۶،  -
مرآة العقول ،محمد باقر مجلسی ،ج۸،ص ۱۱۲ -
علمائے تشیع کی اکثریت اس قاعدے کی تصدیق کرتی ھے اور چند گنتی کے علما اگرچہ اس قاعدے کے ذاتی وجوھات کی بنیاد پر خلاف کرتے ھیں لیکن مخالفین اسے بنیاد بنا کر کثیر تعداد میں علما کے اجماع کو غلط نھیں قرار دے سکتے اور نا ھی ان احادیث کو رجال کی رو سے غلط ثابت کر سکتے ھیں۔
لھذا تشھد میں ولایت علی علیہ السلام کو مستحب کے طور پر بجا لانے کا نظریہ صرف ھمارا نھیں بلکہ ملت جعفریہ کے اکابر فقھا و علما کا ھے جن کے نام مندرجہ ذیل ھیں
علامہ محمد تقی مجلسی -
علامہ محمد باقر مجلسی -
علامہ شیخ محمد نجفی مصنف جواھر الکلام  -
سید محمد کاظم طباطبائی حاشیہ فقہ مجلسی  -
سید ناصر الملت سید ناصر حسین مصنف تحفہ احمدیہ  -
سید عبدالرزاق نجفی سرالایمان -
شیخ مرتضی آل یاسین نجفی سرالایمان ص 75 طبع نجف  -
سید احمد رضی الدین القطرہ ص221  -
علامہ حسین نوری مستدرک الوسائل ص 234  -
سید محمود شھروی فتوی مخصوصہ شھادت ثالثہ ص 234  -
فقیہ محمد شیرازی  -
فقیہ صادق شیرازی  -
 فقیہ محمد جواد تبریزی  -
شیخ حبیب اللہ کاشانی   -
 علامہ محمد حسن نجفی -
اسکے علاوہ دیگر لاتعداد شیعہ علما نے ولایت علی علیہ السلام کومطلق طور پر، ابوبصیر کے تشھد کے مطابق یا فقہ رضا علیہ السلام کے تشھد کے مطابق جائز قرار دیا ھے ۔
اتنے شیعہ علما کی کتب میں تشھد کی ان اقسام کی موجودگی اس بات پر دلالت کرتی ھے کہ جو لوگ نوجوانان ملت تشیع کو آج گمراہ کررھے ھیں وہ برسوں سے چلے آرھے شیعہ عقیدہ میں شکوک و شبھات صرف اس لئے پیدا کر رھے ھیں تاکہ مذھب کو تقسیم در تقسیم کرکے اور تعلیمات محمد و آل محمد کو پارہ پارہ کرکے تباہ وبرباد کردیا جائے ۔

شبہ ثامن: کسی آج کے دور کے مجتھد نے ولایت علی علیہ السلام کے جواز پر فتوی نھیں دیا۔

مقصرین کا یہ پیداکردہ شبہ بھی سراسر جھوٹ اور فریب پر مبنی ھے اور سادہ لوح شیعہ عوام کے دلوں میں ایک دوسرے کیلئے نفرت پیدا کرنے کا ایک انتھائی گراھوا حربہ ھے۔
سب سے پھلے ملاحظہ کیجئے فقیہ اھل بیت علیھم السلام صادق شیرازی کی ویب سائٹ کا حوالہ جس میں انھوں نے واضح طور پر ولایت علی علییہ السلام کے جواز اور استحباب پر فتوی دیا ھے۔
ان کی ویب سائٹ کے مندرجات ذیل میں دیئے گئے ھیں
:نماز کے تشهد میں سہادت ولایت امیر المومنین علی علیہ السلام
سوال: نماز کے تشهد میں شہادت ولایت امیر المومنین علی علیہ السلام کا حکم کیا ہے؟
جواب: وہ تشهد و سلام جس کو کتاب «جامع الأحادیث الشیعة: ج5، ص331، ح8» میں کتاب «مصباح شیخ طوسی» سے نقل کیا گیا ہے، جس میں شهادتین کے بعد عبارت «وأنّ علیاً نعم الولی» اور «السلام علیک ایها النبی ورحمة الله وبرکاته» کے بعد عبارت «السلام علی الأئمة الهادین المهدیین» نقل کی گئ ہے اس کے پڑھنے میں ،کوئی حرج نہیں ہے.
سید صادق شیرازی کے مطابق شھادت ثالثہ کی گواھی مطلق طور پر نماز میں جائز ھے اور اس بابت ان کے بھائی فقیہ سید محمد شیرازی کی بھی یھی رائے تھی اور وہ کوئی عام مجتھد نھیں تھے بلکہ نامور علماءمیں ان کا شمارکیا جاتا ھے اور ان کی تالیفات و تصنیفات کی تعداد 1200 سے بھی زیادہ ھے جو کہ ایک ریکارڈ کی حیثیت رکھتی ھے-
اسکے علاوہ بھی علماء و فقھا کی آرا ان کی کتب سے بیان کی جاچکی ھیں ۔
ضروری نوٹ: اکثر لوگ کہتے ہیں مصباح شیخ طوسی کے بعض نسخوں میں یہ عبارت موجود نہیں ہے یا پھر شیخ طوسی کی دوسری کتب میں ولایتِ علی (ع) کے بغیر تشہد نقل ہوا ہے تو ضروری نہیں ہے کہ شیخِ طوسی نے اپنی ہر کتاب میں ایک ہی تشہد نقل کیا ہو ۔ جس طرح فقہ کامل ، فقہ مجلسی وغیرہ میں ولایتِ علی (ع) والا تشھد درج ہوا ہے اور بعض کتب میں اس کے بغیر درج ہے تو ماننا پڑے گا کہ کم از کم چار سو سال پہلے کی کتب میں اس کا وجود تھا کیونکہ فقہ مجلسی اور فقہ کامل چار سو سال پہلے لکھی گئی کتب ہیں ، تو آپ ثابت کیجئے کہ آیا علامہ مجلسی اور ان کے والد نے کیا جھوٹ بولا تھا یا اپنی طرف سے یہ حدیث گھڑ کر اپنی کتب میں لکھی تھی ۔یقینا انہوں نے اسے شیعہ کتب میں پایا تبھی یہ حدیث لکھی ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ حدیث چار سو سال پہلے مصباح المتہجّد میں موجود تھی یا دیگر شیعہ کتب میں موجود تھی ۔ اس لئے کم از کم بھی مصباح المتہجّد کا کوئی چار سو سال سے بھی پہلے کا نسخہ مثلا پانچ یا چھ سو سال پہلے کا نسخہ آپ کو ثبوت کے طور پر پیش کرنا ہو گا کہ جس سے ثابت ہو جائے کہ اس کتاب  میں یہ روایت موجود نہیں تھی ۔ اور اگر موجود نہیں تھی تو علامہ مجلسی نے یہ تشہد کہاں سے لیا؟  یہی اعتراض محدّث سالار کی کتاب پر بھی کیا جاتا ہے اور اس کا بھی یہی جواب ہے۔
زندہ فقھاءمیں فقیہ اھل بیت یعسوب الدین رستگار بھی مطلقا ولایت علی علیہ السلام کی گواھی کے حامی ھیں – تفصیلات کیلئے ان کی توضیح المسائل دیکھی جا سکتی ھے۔
اور یھی نھیں بلکہ مخالفین کے منظور نظر مجتھد ناصر مکارم شیرازی جو کہ زندہ ھیں انھوں نے بھی ابوبصیر والی روایت کے مطابق تشھد پڑھے جانے کی اجازت دی ھے صرف ان علاقوں میں اس سے اجتناب کرنا چاھئے جھاں پر یہ دشمن کے ھاتھوں کا یتھیار بن جائے ۔ عکس فتویٰ ذیل میں دیا گیا ھے۔

ابھی تک دیئے گئے حقائق کی روشنی میں تشھد میں ولایت علی علیہ السلام کا استحباب روز روشن کی طرح واضح ھو جاتا ھے- مقصرین نا تو آئمہ کا بتایا ھوا تشھد پڑھتے ھیں اور نا ھی وہ سلام کہ جس میں آئمہ ھدیٰ علیھم السلام پر بھی سلام بھیجا گیا ھے اور جو کہ شیخ صدوق اور دیگر لاتعداد کتب سے ثابت ھے۔ اس سے صاف ظاھر ھوتا ھے عوام میں تفرقہ پھیلانے کی غرض سے ان کا ھر اس چیز سے انکار ھے کہ جو فضائل اھلبیت میں شیعہ کتب میں کثرت سے وارد ھوئی ھیں اور ان پر تمام صحیح العقیدہ علمائے مذھب حقہ کا اتفاق تو ھے ھی بلکہ ان کے من پسند مجتھدین سے بھی ان باتوں کی تائید وارد ھوئی ھے
حتیٰ کہ سیستانی نے بھی رکوع، سجدے  اور قنوت میں ذکر ولایت علی علیہ السلام کی اجازت پر فتویٰ جاری کیا ھوا ھے۔ ملاحظہ ھو سیستانی کا عکس فتویٰ جس میں واضح طور پر لکھا ھوا ھے کہ قنوت، رکوع اور سجود میں “الحمد للہ الذی جعلنا من متمسکین بولایت علی ابن ابی طالب علیہ السلام” کا پڑھنا جائز ھے۔
اب نماز کے توقیفی عبادت ھونے کا بھانہ بالکل بے بنیاد ثابت ھو کر رہ جاتا ھے ۔
اگر مخالفین اپنے دعوائے محبت اھلبیت میں سچے ھیں تو ان پر لازم ھے کہ نماز میں ولایت علی علیہ السلام کی گواھی کو اپنا شعار بنا لیں کیونکہ اس کا استحباب قرآن و سنت سے ثابت ھے۔ اگر یہ نھیں تو سلام میں آئمہ پر سلام بھیجیں کیونکہ یہ بھی کثیر احادیث صحیحہ سے ثابت ھے۔ اور اگر یھاں پر بھی علما کی اندھی تقلید کا عذر مانع ھوتا ھے تو کم از سیستانی کے فتویٰ کے مطابق اپنے قنوت، رکوع و سجود میں ھی ولایت علی علیہ السلام کا تذکرہ کیا کریں کیونکہ یہ بھی مستحب اور باعث ثواب ھے جبکہ تاریخ اور حقائق اس بات پر شاھد ھیں کہ شھادت ولایت علی علیہ السلام کا مستحب ھوتا فقط تقیہ کی وجہ سے تھا تا کہ مومنین اپنی اذان اور جھری نمازوں میں اس کی گواھی دے کر ظالم حکومتوں کے عتاب کا شکار نا بن جائیں۔ وگرنہ احادیث کی روشنی میں نماز کے سب اجزاء میں اجمالی طور پر آئمہ کے اسماء لینے کی اجازت دی گئی ھے۔
اسی طرح بیروت لبنان کے زندہ فقیہ اھلبیت الشيخ محمّد جميل حمُّود العاملي نے بھی ولایت علی علیہ السلام کو فقہ رضا علیہ السلام والی روایت کے بمطابق جائز قرار دیا ھے۔
ان کی ویب سائٹ کا لنک ذیل میں دیا گیا ھے۔
“المسائل الباكستانية” اور ایک سوال کے جواب میں وہ فرماتے ھیں
السؤال الثالث:هل أن ما ورد في خبر الإمام الرضا(عليه السلام)(وأشهد أن عليَّاً نعم المولى…)في التشهد والقنوت جائز أم مبطل للصلاة؟
:والجواب
هو جائز بل ومستحب أيضاً على نحو الجزئية أيضاً لما ورد ذلك في رواية فقه الرضا عن مولانا الإمام الرضا(عليه السلام) وقد ذكرها النوري الطبرسي في باب التشهد من كتابه مستدرك الوسائل، و هذه الرواية الشريفة تؤكد الإستحباب المطلق على الشهادة الثالثة الواردة في خبر القاسم بن معاوية سوآء أكانت الشهادة في الآذان أم الإقامة أم في تشهد  الصلاة ،فالإستحباب باقٍ على حاله للخبر  المتقدّم، فأينما ذُكِرَ الرسولُ الأكرمُ ذُكِرَ معه أميرُ المؤمنين سواء أكان الذكر في الصلاة أم في الآذان والإقامة أم في التشهد وغير ذلك…
ترجمہ:
سوال تین: تشھد اور قنوت میں جیسا کہ فقہ امام رضا علیہ السلام میں وارد ھوا ھے و اشھد ان علیا نعم المولیٰ پڑھنا جائز ھے یا مبطل نماز ھے۔
جواب: یہ جائز ھے بلکہ مستحب بھی ھے جزئیت کے اعتبار سے ایسا ھے اور اس بارے میں فقہ رضا میں امام رضا علیہ السلام سے روایت وارد ھوئی ھے اور اس کا نوری طبرسی نے تشھد کے باب میں کتاب مستدرک الوسائل میں بھی ذکر کیا ھے۔ اور یہ قاسم ابن معاویہ والی روایت شھادت ثالثہ کے کے استحباب مطلق کی تاکید کرتی ھے چاھے وہ اذان میں ھو اقامت میں یا بھی نماز کے تشھد میں ، پس اس کا استحباب باقی رھے گا (قاسم بن معاویہ والی روایت کے مطابق) ، لھذا جھاں کھیں بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کیا جائے ان کے ساتھ امیر المومنین کا ذکر بھی کیا جائے چاھے وہ نماز میں ھو اذان میں یا تشھد یا ان سب کے علاوہ
اسکے علاوہ بھی لاتعداد زندہ فقیہ ولایت علی والی روایات پر اعتماد ظاھر کرتے ھیں ۔
قبلہ تاج الدین حیدری مرحوم نور اللہ مرقدہ نے کل ساٹھ کے قریب زندہ و مردہ مجتھدین کے فتاویٰ پر مشتمل کتاب تحریر فرمائی تھی جس کا ویب لنک طالبان علم کو مھیا کیا جا سکتا ھے۔
مخالفین پر لازم ھے کہ صرف اپنے من پسند فقھا کی ھی نھیں بلکہ ان فقھا کی بھی عزت کریں کہ جن کی دوسرے لوگ تقلید کرتے ھیں- یا تو اپنے اندھی تقلید کے نعرے لگانے بند کر دیں اور یا پھر ولایت علی علیہ السلام کی مخالفت کو روک کر سچے مومن بن جائیں
یہ بات بھی شیعیت میں جائز ھے کہ آپ ایک سے زیادہ علما کی بھی تقلید کر سکتے ھیں کیونکہ یہ ضروری نھیں ھے کہ شریعیت کا سارے کا سارا علم ایک ھی عالم کے پاس ھو، جب شھید مرتضی مطھری اور محمد حسین جھاڑا و دیگر لاتعداد علما کے نزدیک تقلید اعلم اور ایک ھی مجتھد کی تقلید احادیث اھلبیت علیھم السلام سے ثابت نھیں ھے بلکہ انسان کو اختیار ھے کہ ایک ھی وقت میں دو یا اس سے زیادہ علما کی تقلید کی جا سکتی ھے۔

شبہ تاسع: تفسیر نورالثقلین میں موجود ولایت علی علیہ السلام والی روایت تشھد و نماز کیلئے نھیں بلکہ خلافت مولا علی علیہ السلام کے لئے ھے۔

اس شبہ پر تبصرہ سے پھلے میں یھی کھنا چاھوں گا کہ: اس سادگی پہ کون نا مر جائے اے خدا۔
تفسیر نورالثقلین کی روایت کچھ اسطرح ھے
عن جابر عن أبي جعفر (عليه السلام) قال: سألته عن تفسير هذه الآية في قول الله: ” ولا تجهر بصلوتك ولا تخافت بها وابتغ بين ذلك سبيلا ” قال: لا تجهر بولاية على فهو في الصلوة، ولا بما أكرمته به حتى آمرك به، وذلك قوله: ” ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها ” فانه يقول: ولا تكتم ذلك عليا، يقول: أعلمه بما أكرمته فأما قوله:” وابتغ بين ذلك سبيلا ” يقول: تسألنى ان آذن لك أن تجهر بأمر على بولايته، فأذن له باظهار ذلك يوم غدير خم، فهو قوله يومئذ: اللهم من كنت مولاه فعلى مولاه، اللهم وال من ولاه وعاد من عاداه
ترجمہ:- جابر امام باقر علیہ السلام سے روایت کرتے ھیں کہ میں نے ان سے اس آیت قرآن کی تفسیر کے بارے میں پوچھا  ” ولا تجهر بصلوتك ولا تخافت بها وابتغ بين ذلك سبيلا ” تو آپ نے فرمایا کہ اس سے مراد یہ ھے کہ ولایت علی علیہ السلام اونچی آواز سے مت پڑھو پس وہ نماز میں ھیں اور نا ھی اس ان کی فضیلت کا ذکر کرو جو انھیں دی گئی ھے یھاں تک کہ تمھیں اس چیز کا حکم نھیں مل جاتا اور  جو یہ قول ھے  ” ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها ” اس سے مراد ھے کہ تم اسے علی علیہ السلام سے مت چھپاؤ اور انھیں وہ کچھ بتا دو جس کی فضیلت انھیں دی گئی ھے۔ ” وابتغ بين ذلك سبيلا ” سے مراد یہ ھے کہ مجھ سے پوچھتے رھو تاکہ میں تمھیں ولایت علی علیہ السلام کے بالجھر پڑھنے کا حکم دوں ، پس انھیں اسکے اظھار کا یوم غدیر خم پر حکم دیا گیا۔ اور اس دن کا ان کا فرمان ھے کہ جس جس کا میں مولا تھا اس اس کے علی مولاھیں اے اللہ اس سے محبت رکھ جو علی علیہ السلام سے محبت رکھے اور دشمنی رکھ اس سے جو ان سے دشمنی رکھے۔

اکثر مخالفین یہ دلیل دیتے ھیں کہ تفسیر نور الثقلین والی روایت تفسیر عیاشی سے لی گئی ھے اور تفسیر عیاشی میں اس روایت میں لفظ “فی” موجود نھیں لیکن تفسیر نور الثقلین میں یہ موجود ھے۔  عربی میں اس کا مطلب ھوتا ھے “میں” ،لھذا نماز “میں” اس سے مولا علی علیہ السلام کا ذکر مراد نھیں ھے بلکہ اس سے مراد ان کی ظاھری ولایت ھے۔
سب سے پھلے تو صاحبان علم سے یہ بات مخفی نھیں ھے کہ جھر و اخفات کا نماز سے بھت گھرا تعلق ھے ۔ کچھ نمازیں بالجھر یعنی اونچی آواز سے پڑھنے کا حکم ھے اور کچھ بالاخفات یعنی ھلکی اور نیچی آواز میں۔
علاوہ ازیں سورہ بنی اسرائیل کو وہ آیت مومنین کی پیش خدمت ھے کہ جس کی تفسیر مندرجہ بالا کتب میں ھے۔ اس آیت کو پڑھ لینے سے آپ کو پتہ چل جائے گا کہ بات آیت اور تفسیر دونوں میں ھے نماز کی ھو رھی ھے کیونکہ آیت قرآن میں “بصلاتک” کا لفظ موجود ھے جسکا مطلب ھوتا ھے “اپنی نماز کے ساتھ یا اپنی نماز کو” ۔
وَلاَ تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلاَ تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلاً – بنی اسرائیل
ترجمہ : اور نا تو اپنی نماز کو بلند آواز سے پڑھو اور نا ھی ھلکی آواز سے بلکہ درمیانی راہ اختیار کرو۔
لھذا تفسیر نورالثقلین میں لفظ “فی” کا پایا جانا یا نا پایا جانا ایک برابر ھے کیونکہ آیت قرآنی میں نماز کا کھا گیا ھے -
مولا امام علی علیہ السلام کا “انا صلات المومنین” کا قول تو کتب میں ملتا ھے لیکن “انا صلات الرسول” کا فرمان کھیں سے بھی ثابت نھیں کیا جا سکتا جس سے ثابت ھوتا ھے کہ رسول اکرم صلی اللہ علی واٰلہ وسلم کو ولایت علی علیہ السلام کے نماز میں اخفات کے ساتھ یعنی ھلکی آواز سے پڑھنے کو اللہ تعالی نے حکم دیا تھا تا جس سے مولا علی علیہ السلام واقف تھے۔

شبہ عاشر:- من لا یحضرہ الفقیہ میں موجود حلبی والی روایت میں لفظ تشھد موجود نھیں ھے

من لا یحضرہ الفقیہ اور تھذیب الاحکام کی روایت کچھ یوں ھے۔
 وقال الحلبي له: ” أسمي الائمة عليهم السلام في الصلاة؟ قال: أجملهم “
اور حلبی نے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا کیا میں نماز میں آئمہ علیھم السلام کے نام لے سکتا ھوں -آپ نے فرمایا “سب کے نام خوبصورتی کے ساتھ یا اجمالی طور پر یا ملاکر لو”
کیونکہ مخالفین کے پاس احادیث معصومین نھیں ھیں لھذا ھمیشہ کی طرح وہ اس روایت میں بھی شکوک پیدا کرنے کی کوشش کرتے ھیں اور یہ کھتے ھیں کہ اس روایت میں یہ تو لکھا ھے کہ آئمہ کے نام نماز میں لئے جاسکتے ھیں لیکن اس میں تشھد کا لفظ موجود نھیں ھے ۔
تو ھمارا سوال یہ کہ آپ بتا دیں کہ نماز میں کھاں پر آئمہ کے نام لئے جاسکتے ھیں۔ تو اکثر مخالفین کا یہ جواب ھوتا ھے جو کہ سراسر دھوکادھی پر مبنی ھے کہ آئمہ علیھم السلام کے نام درود میں آل محمد کا تذکرہ کر دینے سے آ جاتے ھیں کیونکہ من لا یحٍضرہ الفقیہ کی شرح میں یہ لکھا ھے کہ آئمہ کے نام تشھد کے واجب درود میں آجاتے ھیں اس لئے ان سب کے نام علیحدہ سے لینے کی ضرورت نھیں ھے۔
سب سے پھلے تو آپ ان دو بیانات میں شدید تضاد ملاحظہ کیجئے – بمطابق بیان اول اس روایت کا تشھد نماز سے کوئی تعلق نھیں ھے کیونکہ اس میں “تشھد” کا لفظ نھیں آیا اور دوسرے ھی بیان کے مطابق اس کا تعلق تشھد نمازکے درود سے ھے۔ اس مقام پر ایک ھی بات سمجھ میں آتی ھے کہ
جو چاھے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے۔
جب اسکا تعلق تشھد نماز میں موجود واجب درود سے ھے تو پھلے بیان کو بنیاد بنا کر کیسے یہ اعتراض کیا جا سکتا ھے کہ اس میں تشھد کا لفظ موجود نھیں ھے
تبصرہ:آیئے اب روایت کے متن پر کچھ تبصرہ مومنین کی پیش نظر کرتے ھیں
راوی حلبی کا سوال یہ بتارھا ھےکہ
اول) وہ اللہ ورسول کانام نماز میں لیتے ھیں
دوم) وہ یہ جاننا چاھتے ھیں کہ کیاجھاں پر بھی اللہ اور رسول دونوں کا نام نماز میں جھاں پر لیاجاتا ھے کیا وھاں پر آئمہ کا نام بھی لیا جا سکتا ھے۔
پھلی بات عقائد امامیہ کی رو سے اظھر من الشمس ھے اور ایک شیعہ بچہ بھی اللہ و رسول کا نام نماز میں لئے جانے سے واقف ھے جبکہ بنابر تقیہ سائل امام سے اس بات کا سوال کر رھا ھے کہ کیا آپ اس بات کی اجازت بھی دیتے ھیں کہ آپ کے نام بھی نماز میں اللہ و رسول کے نام کے ساتھ لے لئے جائیں اور امام صادق علیہ السلام اس بات کی اجازت دے رھے ھیں۔ یعنی جھاں جھاں پر بھی اللہ و رسول کا نام لو وھاں آئمہ کا نام چاھے اکٹھا کر کے لو، خوبصورتی کے ساتھ لو یا اختصار کے ساتھ لو کیونکہ لفظ “اجملھم” کے لغت کے اعتبار سے یھی تین معنی بنتے ھیں۔ اگر نماز کے اندر اس کے علاوہ کسی صورت میں آئمہ علیھم السلام کا نام لیاجانا سائل کا مقصود نظر ھوتا تو وہ خود بھی بتادیتے اور امام بھی اس کی طرف اشارہ فرمادیتے یا کھہ دیتے کہ فلاں رکن میں تو اجازت ھے لیکن فلاں رکن میں تم ایسا نھیں کر سکتے۔ لھذا اس کے علاوہ عقلی طور پر آئمہ کے نام لئے جانے کی کوئی صورت نھیں ھے۔
اب اس کے بعد مسئلہ رہ جاتا ھے کہ آیا آئمہ کے نام درود میں لے لینے سے ان کے نام علیحدہ سے لینے کی ضرورت نھیں رھتی- تو ھماری گذارش یہ ھے اگر درود شھادت ولایت علی علیہ السلام کی گواھی کا نعم البدل ھے تو پھر تو پھلے اسے نبوت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گواھی کا نعم البدل بھی ھونا چاھئے کیونکہ پھلے درود محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بھیجا جاتا ھے اور اسکے بعد آل محمد علیھم السلام پریعنی کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام درود میں پھلے آجاتا ھے لھذا پھر تو مخالفین کے مندرجہ بالا کمزور استدلال کی رو سے ھمیں تشھد میں “اشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ” کھنے کی بھی کوئی ضرورت نھیں ھونی چاھئے۔
اس کے بعد اسی روایت کو تھذیب الاحکام میں بھی روایت کیا گیا ھے اور اس روایت کا رجال وسائل الشیعہ جو کہ ایک مستند کتاب ھے اس میں الشيخ محمد بن حسن الحر العاملي نے لکھا ھے اور اسے مندرجہ ذیل باب کے نیچے درج کیا ھے
باب استحباب ذكر الأئمة (عليهم السلام) وتسميتهم جملةفي القنوت وغيره
حوالہ: وسائل الشيعة » كتاب الصلاة » أبواب القنوت » باب استحباب ذكر الأئمة (عليهم السلام) وتسميتهم جملة في القنوت جلد 6، ص 285
کتاب کا لنک ذیل میں دیا گیا ہے
یعنی اس باب کے نام سے ھی معلوم ھو رھا ھے آئمہ علیھم السلام کے ناموں کا تذکرہ نماز کے رکن قنوت وغیرہ سب میں اللہ و رسول کے ناموں کے بعد کیا جا سکتا ھے۔ “وغیرہ” کا لفظ اس بات پر صاف دلالت کر رھا ھے کہ نام آئمہ کا تذکرہ قنوت کے علاوہ دیگر ارکان نماز میں بھی احادیث معصومین کی روشنی میں لینا بھرصورت جائز ھے- عربی میں اس لفظ کا مطلب ھوتا ھے “اور اس کے علاوہ”۔

شبہ حادی عشر:- مصباح المتھجد میں بیان کردہ تشھد میں ولایت علی علیہ السلام موجود نھیں اور اسکے پرانے نسخے میں اس کا ایزاد کیا گیاتھا۔

مخالفین کی چال بازیوں کا سلسلہ صرف فقہ رضا تک محدود نھیں بلکہ ان کے نزدیک شیخ طوسی کی لکھی ھوئی کتاب مصباح المتھجد کے پرانے نسخے یعنی طبع اول میں کسی نے تشھد کے اندر ولایت علی علیہ السلام کا ایزاد کر دیا تھااور اسے قدرے چھوٹے حروف میں لکھ کر تشھد میں شامل کر دیا گیا۔ اور اسی طرح فقیہ بروجردی کی کتاب جامع المسائل میں بھی اسماعیل معزّی ملایری نے غلطی سے ولایت علی علیہ السلام کو شامل کردیا تھا جسکی بعد میں انھوں نے تصحیح کردی۔
مقصرین کی فریب کاریوں کے جواب میں سب سے پھلے میں کھوں گا کہ کئی برس پھلے لکھے جانے والے مصباح المتھجد کے نسخے میں شھادت ولایت علی علیہ السلام میں شکوک و شبھات  پیدا کرنے والے حضرات کو پرانے اور نئے نسخے کا پھلے بغور مشاھدہ کر لینا چاھئے۔ پرانا نسخہ قلمی ھے اوربتقاضائے بشریت اگر کوئی بات رہ جائے تواسے چھوٹاکر عبارت کے اندر لکھ دیا جاتا ھے۔ مقصرین پر یہ الھام 2004 میں ھی کیونکر ھوا کہ برسوں سے چلے آنے والے نسخے میں غالیوں نے چیزوں کا اضافہ کیا ھوا ھے اور یھودی و سعودی سرمائے کے زور پر ولایت علی علیہ السلام کو پرانے نسخے میں آخر 2004 میں ھی آکر کیوں نکلوایا گیا ھے اور علمی خیانت اور تحریف لفظی کا ثبوت فراھم کیا گیا ھے۔ کیا اس سے پھلے کسی عالم کو یہ خیال نھیں آیا اور نا ھی اس نے کبھی اس بات پر کوئی تبصرہ کیا۔
اور مقصرین کی خیانت اور چوری اس بات سے ظاھر ھوتی ھے کہ 2004 والے طبع میں بھت ساری باتیں پرانے نسخے سے ایسی لی گئی ھیں کہ جو اس میں چھوٹی کر کے ھی لکھی گئی تھیں – اور اگر کسی غالی نے ھی چھوٹے حروف میں پرانے نسخے میں ایزاد کئے تھے تو پھر تو اس طرح کی کوئی بات بھی نھیں لینی چاھئے تھی جو چھوٹے حروف میں برسوں پرانے والے نسخے میں موجود ھو۔ لیکن 2004 والے نئے نسخے میں پرانے قلمی نسخے میں سے لکھی ھوئی چھوٹے حروف والی باتوں کا لیا جانا اس بات کی دلیل ھے کہ وہ کوئی ایزادات نھیں تھے بلکہ کتاب کا باقاعدہ حصہ تھے۔ 2004 میں علی ولی اللہ تو نکال دیا گیا لیکن اس کے ساتھ ساتھ اور بھت ساری باتوں کو لے لیا گیا۔
لیکن اگر کوئی مقصر اپنی بات پر اتنا ھی مصر ھے تو ھمیں مصباح المتھجد کا سب سے پرانا نسخہ ثبوت کے طور پر دکھائے جس میں علی ولی اللہ نھیں تھا۔ 2004 کے نسخے سے استدلال کرنا کھاں کی عقلمندی ھے اور کھاں کا قانون ھے۔
اس سے صرف یھی ظاھر ھوتا ھے کہ مخالفین اپنے ناپاک مقاصد کے حصول کے لئے شیعہ کتب میں شیطانی سرمائے کے زور پر ترمیم اور تحریف کرنے سے بھی باز نھیں آرھے۔
علاوہ ازیں جامع الاحادیث کے خلاف یہ جھوٹ عوام کے اذھان میں ڈالا جارھا ھے کہ یہ فقیہ بروجردی کی کتاب ھی نھیں بلکہ ملایری کی کتاب ھے اور فقیہ بروجردی کا اس کی تالیف میں کوئی حصہ نھیں بلکہ صرف خرچہ اور سرمایہ ان کا تھا۔
اپنی دکان داریاں چمکانے کے لئےشاید
 غالب یہ خیال اچھا ھے ۔۔
لیکن اس جھوٹ کا پول کتاب کے سرورق سے ھی کھل جاتا ھے کہ جھاں مؤلف کے آگے ملایری کا نھیں بلکہ فقیہ بروجردی کا ھی نام لکھا ھے کہ جن کی باقاعدہ طورپر سرپرستی میں یہ کتاب تالیف ھوئی لیکن ان کی وفات کے بعد اس میں اپنی مرضی کے مطابق تبدیلیاں کردی گئیں۔
اس کتاب میں مصباح المتھجد سے تشھد لے کر نقل کیا گیا تھا اور اس میں بھی ولایت علی علیہ السلام موجود تھی جس کو اب آکر نکال دیا گیا ھے۔
اگر بالفرض مان بھی لیا جائے کہ جامع الاحادیث فقیہ بروجردی کی نھیں بلکہ ملایری کی کتاب ھے تب بھی لوگوں کو بیوقوف بنانے کی مقصرین کی سعئ لاحاصل اس طرح ناکام ھو جاتی ھے کہ اسی کتاب جامع الاحادیث میں مصباح المتھجد والی حدیث سے اگلی حدیث ناصرف فقہ رضا علیہ السلام سے لی گئی ھے بلکہ وہ تشھد کے متعلق ھے اور اس میں ولایت علی علیہ السلام بھی موجود ھے
جامع الاحادیث کی یہ حدیث مندرجہ ذیل ھیں۔
مصباح الشيخ 34 – فإذا جلست للتشهد في الرابعة على ما وصفناه قلت
بسم الله وبالله ( وذكر مثله إلا أنه قال ) واشهد ان محمدا نعم الرسول وان عليا نعم الولي واشهد ان ما على الرسول الا البلاغ المبين اللهم صل على محمد وآل محمد وبارك على محمد وآل محمد وارحم (( وزاد بعد قوله الهادين المهديين كلمة الراشدين محمدا وآل محمد
فقه الرضا عليه السلام 8 – فإذا تشهدت في الثانية فقل بسم الله وبالله والحمد لله والأسماء الحسنى كلها لله اشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له واشهد ان محمدا عبده ورسوله أرسله بالحق بشيرا ونذيرا بين يدي الساعة ولا تزيد على ذلك
( إلى أن قال ع )
فإذا صليت الركعة الرابعة فقل في تشهده ( تشهدك – ظ ) بسم الله وبالله والحمد لله والأسماء الحسنى كلها لله اشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له واشهدان محمدا عبده ورسوله أرسله بالحق بشيرا ونذيرا بين يدي الساعة التحيات لله والصلوات الطيبات الزاكيات الغاديات الرائحات التامات الناعمات المباركات الصالحات لله ما طاب وزكى وطهر ونمى وخلص وما خبث فلغير الله اشهد انك نعم الرب وأن محمدا نعم الرسول وان علي بن أبي طالب نعم المولى ( الولي – ك ) وان الجنة حق والنار حق والموت حق والبعث حق وان الساعة آتية لا ريب فيها
وان الله يبعث من في القبور ( و خ ) الحمد لله الذي هدانا لهذا وما كنا لنهتدي لولا أن هدانا الله اللهم صل على محمد وآل محمد وبارك على محمد وآل محمد وارحم على محمد ( وارحم محمدا – ك ) وآل محمد أفضل ما صليت وباركت وترحمت وسلمت على إبراهيم وآل إبراهيم في العالمين انك حميد مجيد اللهم صل على محمد المصطفى وعلى المرتضى وفاطمة الزهراء والحسن والحسين وعلى الأئمة الراشدين من آل طه ويس . یھاں پر تو نمازیں بخشوانے کی خواھش تھی لیکن روزے بھی گلے پڑگئے۔
ان روایات میں واضح طور پر ولایت علی علیہ السلام موجود ھے اور یہ ثابت ھوتا ھے کہ مؤلف کا ناصرف ولایت علی علیہ السلام پر اعتقاد ھے بلکہ فقہ رضا پر بھی اعتماد اور اعتبار ھے۔
فقیہ حسن صادق نے بھی اپنی ویب سائٹ پر مصباح المتھجد والے تشھد کا حوالہ دے کر اس کی اجازت دی ھے۔ حیرت در حیرت یہ ھے کہ مقصرین کو تو 2004 میں پھنچ کر یہ علم ھوا ھے کہ مصباح اور جامع الاحادیث الشیعہ میں غلطیاں تھیں لیکن قوم کے اکابر علماء کو اس بات کا علم تک نھیں یا انھیں بتانے والا ھی کوئی نھیں کہ جن کا پورا خاندان صدیوں سے شیعہ عوام کی خدمت کرتا چلا آرھا ھے۔
صلائے عام ھے یاران نکتہ داں کے لئے ۔
فقیہ شیرازی کا ویب لنک مندرجہ ذیل ھے۔
خواندن شهادت ثالثه در تشهد نمازهای واجب
سؤال: آیا می توان در تشهد نماز بعد از نام مبارک پیامبر اکرم صلی الله علیه وآله، نام امیرالمؤمنین علی علیه السلام را آورد؟
جواب: خواندن تشهد و سلامی که در کتاب «جامع الأحادیث الشیعة: ج5، ص331، ح8» به نقل از کتاب «مصباح شیخ طوسی» نقل شده و در آن بعد از شهادتین عبارت «وأنّ علیاً نعم الولی» و بعد از «السلام علیک ایها النبی ورحمة الله وبرکاته» عبارت «السلام علی الأئمة الهادین المهدیین» دارد، اشکال ندارد.
نماز کے تشهد میں شهادت ولایت امیر المومنین علی علیہ السلام
سوال: نماز کے تشهد میں شهادت ولایت امیر المومنین علی علیہ السلام کا حکم کیا ہے؟
جواب: وہ تشهد و سلام جس کو کتاب «جامع الأحادیث الشیعة: ج5، ص331، ح8» میں کتاب «مصباح شیخ طوسی» سے نقل کیا گیا ہے، جس میں شهادتین کے بعد عبارت «وأنّ علیاً نعم الولی» اور «السلام علیک ایها النبی ورحمة الله وبرکاته» کے بعد عبارت «السلام علی الأئمة الهادین المهدیین» نقل کی گئ ہے اس کے پڑھنے میں ،کوئی حرج نہیں ہے.
 
Posted on March 5, 2012 by Syed A Shah
نبی اکرم صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم کی نماز میں ولایتِ علی۴ کا ثبوت
تحریر و تحقیق: قسورعبّاس
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
السلام علیکم
یا علی ؑ مدد
مقصرین ہم پر اعتراض کرتے ہیں کہ ہم نماز میں علی ولی اللہ پڑھتے ہیں اور وہ علی ولی اللہ کو مبطل نماز بھی کہتے ہیں (معاذاللہ)
جبکہ وہ یہ بات بھول گئے یا پڑھ کر بھی اسکو چھپا دیا کہ نبی نے بھی خود اپنی نماز میں مولا علی ؑ کی ولایت کی گواہی دی ہے۔
قرآن میں اللہ نے فرمایاھے:۔
ولا تجھربصلاتک ولا تخافت بھا وابتغ بین ذلک سبیلا۔
اے نبی اپنی نماز میں بلند آواز سے نا پڑھو اور نا ہی نیچی آواز سے بلکہ درمیانی راہ اختیار کرو۔
(پارہ ۱۵، سورہ بنی اسرا ئیل ، آیت ۱۱۰)
اسکی تفسیر محمد بن الحسن الصفار (امام حسن عسکری ؑ کے صحابی) نے اپنی کتاب میں لکھی کہ:
ابو حمزہ ثمالی کہتے ہیں کہ امام محمد باقرؑ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ولا تجھر بولایۃ علیؑ ۔۔۔ یعنی (اے نبی اپنی نماز میں) علی کی ولایت بلند آواز سے نا پڑھو۔۔۔
(بصا ئر الدرجات، صفحہ ۹۸،۹۹)
اب ذرا اس روایت کی سند بھی دیکھ لیں کیونکہ مقصر سند سند کا بہت شور مچاتے ہیں۔۔
اس کی سند کے راوی کچھ یوں ہیں:
محمد بن حسین عن نضر بن سوید عن خالد بن حماد و محمد بن فضیل عن ابو حمزہ ثمالی عن امام باقر ؑ
خالد بن حماد اور محمد بن فضیل ان دونوں نے ابو حمزہ ثمالی سے سنا کیونکہ خالد بن حماد و محمد بن فضیل ہے۔۔ ان کے درمیان”و” بتاتا ہے کہ ابو حمزہ ثمالی سے خالد بن حماد اور محمد بن فضیل نے سنا۔
تو اسکی سند کی شکل کچھ یوں بنتی ہے:
محمد بن حسین نے نضر بن سوید سے، نضر بن سوید نے خالد بن حماد اور محمد بن فضیل سے،
ان دونوں نے ابو حمزہ ثمالی سے ، ابو حمزہ ثمالی نے امام باقر ؑ سے سنا۔
اب ذرا علم رجال پر ایک نظر :
۱۔ محمد بن حسین:
جلیل بن اصحابنا ، عظیم القدر، کثیر الروایۃ، ثقہ۔
صحابہ میں جلیل اور عظیم القدر تھے، ان سے بہت سی روایات ہیں اور یہ ثقہ ہیں۔
(رجال النجاشی، صفحہ ۳۳۴)
۲۔ نضر بن سوید:
وھو ثقہ۔
ثقہ تھے۔
(رجال الطوسی، صفحہ ۳۴۵)
۳۔ خالد بن حماد اور محمد بن فضیل:
خالد بن حماد: ثقہ۔
(رجال ابن داود صفحہ ۸۷، مشا ئخ الثقات، صفحہ ۱۳۱)
محمد بن فضیل:ضا یرمی بالغلو۔ یہ راوی غالی تھا۔
(رجال ابن داود، صفحہ ۲۷۵)
۴۔ ابو حمزہ ثمالی:
یہ شخصیت کسی تعارف کی مھتاج نہیں ہیں۔ ان کے بارے میں مستدرک الوسائل میں امام صادق ؑ نے فرمایا کہ یہ اپنے زمانے میں سلمان فارسی کے مثل تھے۔
تو اب اگر اس سند میں سے محمد بن فضیل غالی کو نکال دیا جائے تب بھی ہمارے پاس سند پوری ہے کیونکہ خالد بن حماد انکی جگہ آجاتے ہیں۔
تو یہ صحیح السند روایت ہمارے پاس موجود ہے اور اسی روایت کو تفاسیر کی مستند کتب میں بھی نقل کیا گیا۔
جیسا کہ یہی روایت تفسیر عیاشی جلد ۲ صفحہ ۳۱۹ پر حضرت جابر سے مروی ہے۔
پھر تفسیر البر ھان جلد ۲ صفحہ ۲۰۹، ۲۱۰ پر ابو حمزہ ثمالی اور حضرت جابر سے مروی ہے۔
پھر تفسیر نور الثقلین جلد ۳ صفحہ ۲۳۵ پر تفسیر عیاشی سے نقل ہوئی اور حضرت جابر سے بھی مروی ہے۔
پھر تفسیر صافی جلد ۳ صفحہ ۲۲۸ پر بھی مروی ہے۔
اور علامہ مجلسی نے بھی بحار الانوار جلد ۳۶ صفحہ ۱۷۱ پر بصائر الدرجات سے نقل کر کے لکھی اور صفحہ ۱۰۵،۱۰۶ پر تفسیر البرھان اور تفسیر عیاشی سے نقل کی اور آگے اپنا بیان بھی دیا صفحہ ۱۰۶ پر کہ:
لما کانت الصلوۃ الکاملۃ فی علی علیہ السلام ولم یصدر کاملھا الا منہ۔
جیسا کہ مکمل نماز علی علیہ السلام کے با رے میں ہے اور ان کے بغیر اسکا کامل ہونا ظاھر نہیں ہوتا ۔
تو علامہ مجلسی نے اس روایت پر کوئی جرح نہیں کی بلکہ اس سے استدلال کیا ہے کے علی ؑ کے بغیر نماز کامل نہیں ہوتی۔۔۔
تو اب نبی کی نماز میں بھی علی ولی اللہ ثابت ہو گیا ہے تو مقصر ذرا ہوش کے ناخن لیں اور ہماری ضد میں ولایت علی ؑ کو نہ ٹھکرائیں ورنہ گھاٹے میں رہینگے۔
حی علی خیر العمل علی ولی اللہ

ایت علیؑ در اذان اور مقصرین کے پیدا کردہ شبہ کا رد

ولایت علیؑ در اذان ایک مسلمہ شیعہ عقیدہ ہے جس کے استحباب پر علما کا اجماع موجود ہے ۔ لیکن کچھ یزیدی ایجنٹوں نےعوام کی لاعلمی کا فائدہ اٹھا کر برسوں سے چلے آرہے شیعہ عقیدے پر اکیسیوں صدی میں آکر انتہائی پست درجے کے اعتراضات متعارف کرائے ہیں ۔ آئیے پہلے کچھ اصطلاحات کی تعریف دیکھتے ہیں۔
جزو: جزو کسی شئے کے حصے کو کہتے ہیں اور حصے کا ثبوت صحیح اور متواتر احادیث سے ملتا ھے ۔ مثال کے طور پر جیسے اللہ کی الوہیت اور نبی کی نبوت کی گواہی کا اثبات صحیح اور متواتر احادیث سے مل جاتا ہے۔
استحباب: کسی شئے کے استحباب کے لئے صحیح اور متواتر احادیث کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ عمومی روایات کی بنا پر بھی اسے مستحب کے طور پر کسی بھی عبادت میں بجا لایا جا سکتا ہے ۔ جیسے کہ ولایت علیؑ کے بارے میں عمومی اور خصوصی روایات سے اذان میں اس کے استحباب پر استدلال کیا جاتا ہے۔
جزو کے طور پر ولایت علیؑ کے احادیث میں وارد نا ہونے کی وجہ تقیہ ہے اور علما کے اس بارے میں کثرت سے بیانات وارد ہوئے ہیں ۔ علما نے صرف جزو کی نفی کی ہے تا کہ لوگوں میں کہیں یہ غلط تاثر نا پیدا ہو جائے کہ ولایت علیؑ جزو ہے کیونکہ اس ضمن میں متواتر احادیث تقیہ کی وجہ سے موجود نہیں ہیں۔ جزو کی مخالفت اسی وجہ سے کی جاتی ہے تا کہ جو حق ہے اسے بھی تسلیم کیا جائے اور ولایت علیؑ کو بھی تسلیم کیا جائے جو کہ متواتر روایات کی غیر موجودگی کے باوجود عمومی اور خصوصی روایات سے ثابت شدہ ہے اور کثرت کے ساتھ ایسی روایات ولایت علیؑ پر دلالت کرتی ہیں۔
سادہ الفاظ میں مقصرین جزولازم کی مخالفت کو استحباب اور جزو مستحب کی مخالفت ثابت کر کے ولایت علی ع کا معاذاللہ ثم معاذاللہ ایک اضافہ ثابت کرنا چاہتے ہیں جو کہ سراسر جہالت ہے۔ بعض جہلاء نے اسی بناء پر نعوذباللہ اس مقدّس گواہی کو الصلوۃ خیر من النوم کی طرح کا ایک اضافہ یعنی بدعت تک لکھا ہے۔ جب کہ جہاں پر ولایتِ علی ع کے جزو نہ ہونے کی بات کی گئی ہے یا شیعہ کتب میں موجود ہے تو اس سے مراد جزوِ لازم ہے نہ کہ جزوِ مستحب۔
اس سے پہلے کہ ہم اپنے دلائل کا آغاز کریں ہم وسائل الشیعہ سے امام جعفر الصادق علیہ اسلام کی ایک روایت نقل کرتے ہیں تاکہ اوپر والی روایت کا مقصد سمجھنے میں آسانی رہے۔
وفي (العلل): عن عبدالواحد بن محمد بن عبدوس، عن علي بن محمد بن قتيبة، عن الفضل بن شاذان، عن محمد بن أبي عمير، أنه سأل أبا الحسن (عليه السلام) عن حي على خير العمل، لم ترك من الأذان؟ قال: تريد العلة الظاهرة أو الباطنة؟ قلت: اريدهما جميعاً، فقال: أما العلة الظاهرة فلئلا يدع الناس الجهاد اتكالاً على الصلاة، وأما الباطنة فإن خير العمل الولاية، فأراد من أمر بترك حي على خير العمل من الأذان أن لا يقع حث عليها ودعاء إليها ۔ وسائل الشیعہ جلد ٥ صفحہ ٤٢٠، ابواب    الأذان والاقامت،ح١٦
ترجمہ امام صادق علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ کس لئے اذان سے حی علی خیر العمل کو نکال دیا گیا ؟ آپ نے فرمایا اس کی ظاہری وجہ پوچھنا چاہتے ہو یا باطنی ؟ عرض کیا گیا دونوں ، فرمایا اس کی ظاہری وجہ یہ تھی کہ لوگ نماز پر بھروسہ کرتے ہوئے جہاد کو نہ ترک دیں ، اور باطنی وجہ یہ تھی کہ چونکہ خیرالعمل سے مراد ولایت ہے تو اس کا مقصد یہ تھا کہ اسے اذان سے نکال کر لوگوں کو ولایت سے روکا جا سکے ۔
حوالہ کیلئے درج ذیل لنک ملاحظہ فرمائیں 
واضح رھے کہ علی ولی اللہ کی طرح حی علی خیرالعمل بھی بعض صحیح روایات میں موجود نہیں ہے جیسا کہ شیخ صدوق نے التوحید میں جو اذان درج فرمائی ہے اس میں یہ جملے موجود نہیں ہیں ۔ لیکن بعض روایات میں یہ موجود ہے ۔ اگر ولایت علی (ع) کی طرح یہ بھی کسی بھی صحیح روایت میں موجود نا ہوتا تو ہم مندرجہ بالا روایت کی بنا پر اسے بھی علی ولی اللہ کی طرح بطور استحباب اذان میں جزو مستحب کے طور پر پڑھتے ۔ لیکن خوش قسمتی سے ہمارے پاس اس کے بارے میں روایات موجود ہیں جو مشہور ہیں ۔ جب کہ ولایت علی (ع) کے بارے میں تقیہ حی علی خیر العمل سے کئی گنازیادہ سخت تھا اور اسی لئے اس کے بارے میں احادیث لوگوں میں مشہور نا ہو سکیں ۔ 
اور پھر امام صادق علیہ السلام کے اس عمومی فرمان ٫٫من قال لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ فلیقل علی ولی اللہ ،،سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ آئمہ اطہار علیہم السلام اور ان کے پیرو کارجہاں تقیہ کا مقام نہ ہوتا وہاں اس گواہی کا برملا اظہار کرتے رہتے تھے جیسا کہ بعض اوقات تقیہ کی وجہ سے حی علی خیر العمل کو بھی چھوڑ دیا جاتا جسے شیخ صدوق نے بھی ذکر کیا۔ کتاب التوحید صفحہ241، باب38
إنما ترك الراوي لهذا الحديث ذكر (حي على خير العمل) للتقية
یعنی اس (اذان کی روایت میں جو شیخ صدوق نے بیان کی ھے) میں راوی نے حی علی خیرالعمل تقیہ کی وجہ سے ترک کر دیا ھے
حوالہ کیلئے درج ذیل لنک ملاحظہ فرمائیں 
                                                        http://yasoob.org/books/htm1/m012/10/no1001.html
اسی طرح شیخ محمد رضا نجف اپنی کتاب ( العدة النجفیہ جو لمعہ کی شرح ہے ) میں لکھتے ہیں اذان میں شہادت ثالثہ کے نہ پڑھے جانے کاراز تقیہ ہے ۔ جہاں تک مقصرین کی اس بات کا تعلق ہے کہ یہ جزو اذان نہیں اور جو ایسا عقیدہ رکھتا ہے کہ یہ جزو اذان ہے تو وہ بدعت کرتا ہے اور اس سلسلے میں وہ شہید اول اور ثانی کا بیان بھی نقل کرتے ہیں۔ تو یہ بات درست ہے کہ یہ آذان کا جزو نہیں اور نہ اسے کوئی شیعہ جزو آذان سمجھ کر پڑھتا ہے بلکہ یہ مستحبات میں سے ہے اور ثواب کی نیت سے اور شیعیانِ علی کی پہچان کی نیت سے اسے آذان میں پڑھا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں ہم مجتہدین کے اقوال نقل کرتے ہیں تاکہ اس بات کو درست انداز میں سمجھا جا سکے۔

١۔ علامہ مجلسی

واقول لا یبعد کون الشہادة بالولایة من الاجزاء المستحبة للاذان۔۔۔۔۔۔۔۔۔ولو قا لہ الموذن او المقیم لا بقصد الجزئیة بل بقصد البرکة لم یکن آثما ۔۔۔۔(بحار الانوار جلد ٨١ صفحہ ١١١و١١٢،کتاب الصلاة ، باب الاذان والاقامة. ) اور میں کہتا ہوں کہ ولایت کی گواہی کا اذان کے مستحب اجزاء میں سے ہونا بعید نہیں ہے … اور اگر مؤذن یا مقیم اسے جزء تصور کئے بغیر برکت و ثواب کی نیت سے پڑھے تو وہ گنہگار نہیں ہو گا ،بے شک اہل سنت نے اذان و اقامت میں مطلقا کلام کرنے کوجائز قرار دیا ہے تویہ ( اشہد ان علیا ولی اللہ ) تو بہترین ذکر اور دعا ہے ۔
حوالہ کیلئے درج ذیل لنک ملاحظہ فرمائیں 
 

٢۔ علامہ طباطبائی

وہ اپنی کتاب تفسیر المیزان میں لکھتے ہیں کہ اہل بیت علیہم السلام کی محبت اور ولایت کے بغیر نماز کا کوئی فائدہ نہیں ہے اسی لئے ہم لوگ نماز سے پہلے اذان و اقامت میں ٫٫اشہد ان علیاولی اللہ ،،قرائت نماز میں ٫٫اھدنا الصراط المستقیم ،،اورتشھد میںدرود شریف پڑھ کر محمد وآل محمد کی محبت اور ولایت کا ثبوت پیش کرتے ہیں ۔ (تفسیر المیزان ١ ٤١.) ایک اور مقام پر لکھا ہے صل اذا ما اسم محمد بدا علیہ و الآل فصل لتحمدا واکمل الشھادتین باالتی قد اکمل الدین بھا فی الملة جب محمد ۖ کا نام لیا جائے تو ان پر اور ان کی آل پر صلوات پڑھو ، اورشہادتین کو اس شہادت کے ذریعہ کامل کرو جس سے ملت میں دین کامل ہوا ۔ منظومہ ، سنن و آداب اذان

٣۔ صاحب الجواہر

وہ لکھتے ہیں ٫٫ولا باس بذکر ذلک لا علی سبیل الجزئیة عملا بالخبر المزبور ۔۔۔بل لو لا تسالم الاصحاب لامکن دعوی الجزئیة بناء علی صلا حیةا لعموم لمشروعیة الخصوصیة ،،( جواہر الکلام ج 9 صفحہ 87.) یعنی مذکورہ روایت پر عمل کرتے ہوئے اذان میں شہادت ثالثہ کوجزء کی نیت کے بغیر پڑھنے میں کو ئی عیب نہیں ہے ۔۔۔ بلکہ اگر علماء کا اس کے جزء نہ ہونے پر اجماع نہ ہوتا تو اس کے جزء ہونے کا دعوی کرنا بھی ممکن تھا اس لئے کہ عام میں (کسی بھی عمل کی) خصوصی مشروعیت کی صلاحیت پائی جاتی ہے ۔ اور پھر اپنی کتاب ٫٫نجاة العباد ،، میں لکھا ہے یستحب الصلوات علی محمد وآل محمد عند ذکر اسمہ و اکمال الشھادتین بالشھادة لعلی بالولایة للہ و امرة المومنین فی الاذان و الاقامة وغیرہ ۔ جب محمد ۖ کا نام لیا جائے تو ان اور ان کی آل پر صلوات بھیجنامستحب ہے اور اسی طرح اذان و اقامت وغیرہ میں شہادتین کو علی کی ولایت اور ان کے امیر المومنین ہو نے کی گواہی سے کامل کرنا مستحب ہے ۔
حوالہ کیلئے درج ذیل لنک ملاحظہ فرمائیں 

٤۔ آیت اللہ العظمی خوئی

وہ فرماتے ہیں والشہادة بولایة امیرالمومنین علیہ السلام مکملة للشھادة بالرسالة و مستحبةفی نفسھاوان لم تکن جزء من الاذان و الاقامة ۔ (المسائل المنتخبة٨٧. ) علی علیہ السلام کی ولایت کی گواہی، ر سالت کی گواہی کومکمل کرنے والی ہے اور بذات خود مستحب ہے اگرچہ اذان و اقامت کا جزء نہیں ہے ۔
:علاوہ ازیں اپنی کتاب توضيح المسائل (فارسي)  کے صفحہ نمبر ۱۶۱ پر مسئلہ نمبر ۹۲۸ کے ذیل میں وہ فرماتے ہیں کہ
۔(مسأله 928) اشهد ان عليا ولي الله جزء اذان و اقامه نيست، ولى خوبست بعد ازأشهد ان محمدا رسول الله به قصد قربت گفته شود.
مسئلہ نمبر ۹۲۸ ۔ اشھد انّ علیّا ولیّ اللہ اذان و اقامت کا جزو نہیں ہے ۔ لیکن خوب ہے کہ اس کو اشھد انّ محمّدا رسول اللہ کے بعد قربت کی نیّت سے پڑھا جائے ۔
اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ ولایتِ علی علیہ السلام اذان میں مستحب ہے
حوالہ کیلئے درج ذیل لنک ملاحظہ فرمائیں 


 http://shiaonlinelibrary.com/%D8%A7%D9%


٥۔شیخ الفقھاء والمجتھدین آیت اللہ العظمی اراکی

اشہد ان علیاولی اللہ جزء اذان و اقامت نیست ولی خوب است بعد از اشہد ان محمد ا رسول اللہ ، بقصد قربت گفتہ شود ۔ اشہد ان علیا ولی اللہ اذان و اقامت کا جزء نہیں ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ اسے اشہد ان محمد رسول اللہ کے بعد ثواب کی نیت سے پڑھا جائے ۔ توضیح المسائل ١١٩،مسئلہ ٩١٢.

٦۔ مرحوم ملا احمد نراقی

انہوں نے اذان میں شہادت ثالثہ کو مکروہ جاننے والوں کو جواب دیتے ہوئے فرمایا وعلی ھذا فلا بعد فی القول باستحبابھا فیہ للتسامح فی أدلتہ، و شذوذ اخبارھا لا یمنع عن اثبات السنن بھا کیف وتراھم کثیرا یجیبون عن الاخبار بالشذوذ فیحملونھا علی الاستحباب ۔(مستند الشیعہ) اس بناء پر ادلہ تسامح کے ذریعہ شہادت ثالثہ کا اذان میں مستحب ہونا بعید نہیں ہے اور اخبار کا شاذ ہونا مستحبات کے اثبا ت میں مانع نہیں بن سکتا ، اور یہ کیسے ممکن ہے جبکہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ اکثر فقھاء اخبار شاذ کے ذریعہ جواب دیتے اور انہیں استحباب پر اطلاق کرتے ہیں۔

٧۔ آیت اللہ العظمی بروجردی

والشھادة لعلی (ع) لیست جزء من الاذان ولکن لا باس بالاتیان بھا بقصد الرجحان بعد الشھادة بالرسالة کامرمستقل ۔(المسائل الفقیة ، فتاوی آیت اللہ بروجردی .) علی علیہ السلام کی گواہی اذان کا جزء نہیں ہے لیکن رسالت کی گواہی کے بعد مستقل امر کے طور پر ثواب کی نیت سے بجا لانے میں کوئی عیب نہیں ہے ۔

٨۔ آیت اللہ العظمی گلپائیگانی

اشھد ان علیا ولی اللہ جزء اذان واقامت نیست ولی خوب است بعد ازاشھد ان محمد ا رسول اللہ بقصد قربت گفتہ شود ۔(توضیح المسائل ١٩٠، مسئلہ ٩٢٨.) اشہد ان علیا ولی اللہ اذان و اقامت کا جزء نہیں ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ اشہد ان محمدالرسول اللہ کے بعد ثواب کی نیت سے پڑھاجائے۔

٩۔ امام خمینی

اشھد ان علیا ولی اللہ جزء اذان واقامت نیست ولی خوب است بعد از اشھد ان محمدا رسول اللہ بہ قصد قربت گفتہ شود ۔(منتخب توضیح المسائل ١٠٣مسئلہ ٤٦٩ ) اشہد ان علیا ولی اللہ اذان واقامت کا جزء نہیں ہے لیکن اشہد ان محمدالرسول اللہ کے بعد ثواب کی نیت سے پڑھنا بہتر ہے ۔

١٠۔ آیت اللہ العظمی سید محسن حکیم

لا با س بالاتیان بہ بقصد الاستحباب المطلق ۔۔۔ ، بل ذلک فی ھذہ الاعصار معدود من شعائر الایمان ورمز التشیع ، فیکون من ھذہ الجھة راجحا شرعا ، بل قد یکون واجبا۔ ( مستمسک العروة جلد نمبر 5 صفحہ 545.) (اذان میں شہادت ثالثہ کے ) استحباب مطلق کی نیت سے بجا لانے میں کوئی حرج نہیں ہے …بلکہ اس زمانہ میں تو یہ شعائر ایمان اور تشیع کی علامت ہے پس اس اعتبار سے اس کا پڑھنا رجحان شرعی رکھتا ہے اور بسا اوقات تو اس کا پڑھنا واجب ہوجاتا ہے ۔

١١۔ سید علی خامنہ ای دام ظلہ العالی

اذان و اقامت میں شہادت ثالثہ کے بارے میں ہونے والے ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں ٫٫شرعا لیست جزء من الاذان ولاالاقامة ، ولکن لا مانع منھا اذا لم تکن بقصد الورود والجزئیة للاذان والاقامة ، بل تکون راجحة اذا کانت لمجرد اظھار الاعتراف والاذعان بما یعتقدہ فی خلیفة رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی اوصیاء ہ المعصومین ،، ( اجوبةالاستفتائات١١٣٩، سوال ٤٦٧ .) اذان اور اقامت کا جزء نہیں ہے لیکن جزء کی نیت کے بغیر پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے بلکہ اگر خلیفہ رسول اور ان کے اوصیاء معصومین کے بارے میں اپنے عقیدہ کااظہار کرنیکی خاطر ہو تو رجحان شرعی رکھتا ہے ۔

١٢۔ آیت اللہ العظمی بہجت

بعید نیست مستحب بودن اقرار بہ ولایت امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام در اذان مستحبی در صورتیکہ بہ نیت مطلوب بودن بہ عبارات مختلفی کہ در نہایہ و فقیہ و احتجاج نقل شدہ است کہ ان علیا ولی اللہ و یا علی امیر المومنین ویا بہ عبارت اشھد ان علیا ولی اللہ باشد واما اقرار بہ ولایت در ھر جا اگرچہ در غیر اذان باشد خوب است پس احتیاج بدلیل مخصوص بہ اذان ندارد وکاملترین عبارتی کہ در اینجا گفتہ می شود آن است کہ اقرار بہ خلیفہ بودن یا وصی بودن حضرت امیرالمومنین (ع) وآئمہ طاہرین علیہم السلام در آن باشد ۔ (رسالہ توضیح المسائل ١٢٢،مسئلہ ٧٢٢.) مستحب اذان میں امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کی ولایت کا ان عبارات کے ساتھ جو نہایہ ، فقیہ اور احتجاج میں نقل ہوئی ہیں کہ أنّ علیّا ولی اللہ یا علی أمیر المؤمنین یا أشھد أنّ علیّا ولی اللہ کا اقرار کرنا مستحب ہے . البتہ ولایت کا اقرار اگرچہ اذان کے علاوہ بھی ہو تب بھی بہتر ہے پس اذان میں اس کے اقرار کے لیے کسی خاص دلیل کی ضرورت نہیں ہے .اور اس مقام پر کامل ترین عبارت یہ ہے کہ حضرت امیرالمؤمنین اور آئمہ طاہرین علیہم السلام کے وصی یا خلیفہ( رسولۖ) ہونے کا اقرار کیا جائے .

١٣۔ آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی

اشھد ان علیا ولی اللہ جزء اذان و اقامت نیست ولی خوب است بعد ازاشھد ان محمد ا رسول اللہ بہ قصد تبرک گفتہ شود لکن بہ صورتی کہ معلوم شود جزء آن نیست ۔ ( توضیح المسائل ١٦٠، مسئلہ ٨٤٣. ) اشھد ان علیا ولی اللہ اذان و اقامت کا جزء نہیں ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ اشھد ان محمد ارسول اللہ کے بعد ثواب کی نیت سے پڑھا جائے مگر اس طرح کہ اس کا جزء نہ ہونا معلوم ہو ۔

١٤۔ آیت اللہ العظمیٰ شبیری زنجانی

أشھد أنّ علیّا ولی اللہ جزء اذان و اقامت نیست البتہ ولایت امیرالمؤمنین وآئمہ معصو مین علیہم السلام از ارکان ایمان است و اسلام بدون آ ن ظاہری بیش نیست وقالبی از معنیٰ تہی است و خوب است کہ پس از أشھد أنّ محمد ا رسول اللہ بہ قصد تیمن وتبرک شہادت بہ ولایت وامامت امیرالمؤمنین و سایر معصومین علیہم السلام بہ نحوی کہ شبیہ اذان و اقامہ نگردد ، ذکر گردد. أشہد أنّ علیّا ولی اللہ اذان و اقامت کا جزء نہیں ہے البتہ امیر المؤمنین اور آئمہ معصومین علیہم السلام کی ولایت ایمان کا رکن ہے اور اس کے بغیر اسلام ایک ظاہر اور معنی سے خالی قالب کے سواکچھ اور نہیں ہے ، اور بہتر یہ ہے کہ أشھد أنّ محمد ا رسول اللہ کے بعد تبرک اور ثواب کی نیّت سے امیر المؤمنین اور تمام معصومین علیہم السلام کی خلافت بلا فصل کی گواہی اس طرح سے دی جائے کہ اذان واقامت کے جملات کے مشابہ نہ ہو. رسالہء توضیح المسائل ١ ٢٢٣،مسئلہ ٩٢٨

١۵۔ الشیخ لطف اللہ صافی 

 الشیخ لطف اللہ صافی اپنی توضیح المسائل(فارسی) کے صفحہ نمبر ۱۹۰ پر مسئلہ نمبر ۹۲۸ کے ذیل میں لکھتے ہیں کہ 
 مسأله 928 - أشهد أن عليا ولي الله جزو اذان و اقامه نيست، ولى خوبست بعد ازأشهد أن محمدا رسول الله به قصد قربت گفته شود۔
ترجمہ: اشھد انّ علیا ولی اللہ اذان و اقامت کا جزو نہیں ہے ، لیکن یہ خوب ہے کہ اشھد انّ محمّدا رسول اللہ کو قصدِ قربت کے ساتھ کہا جائے ۔ 
حوالہ کیلئے درج ذیل لنک ملاحظہ کیجئے
 http://shiaonlinelibrary.com/%D8%A7%D9%84

اور جہاں تک اس حوالے میں شیخ صدوق کا قول نقل کیا جاتاہے کہ جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ان جملوں کو آذان میں داخل کرنا مفوضہ اور غالیوں کی گھڑی ہوئی باتیں ہیں تو اولا تو شیخ صدوق علیہ الرحمة نے تمام شہادت ثالثہ پڑھنے والوں کو مفوضہ نہیں کہا بلکہ ان کی مراد وہ لوگ ہیں جو اذان میں جزء کی نیت سے پڑھتے ہیں جبکہ تمام فقہاء کا نظریہ یہ ہے کہ شہادت ثالثہ اذان کا جزء نہیں ہے پس شیخ صدوق کا یہ قول شیعہ فقہاء کے بارے میں نہیں ہے ۔ اور اسے مان بھی لیا جائے تب بھی ان کا شہادت ثالثہ کے راویوں کو مفوضہ یا غالی کہنا یہ روایت نہیں ہے بلکہ اسے درایت کہتے ہیں اور جس کی پیروی کرنا لازم ہے وہ ثقہ افراد کی روایت ہے نہ کہ ان کی درایت ،جیسا کہ صاحبان علم اس حقیقت سے آشنا ہیں ۔ پس ہم شیخ صدوق علیہ الرحمة کی اس بات کو تو قبول کریں گے کہ شہادت ثالثہ کے بارے میں ہم تک روایات پہنچی ہیں لیکن ان کی اس بات کو قبول نہیں کریں گے کہ ان روایات کے راوی غالی یا مفوضہ ہیں اس لئے کہ انہوں نے نہ تو ان راویوں میں سے کسی ایک کا نام ذکر کیا ہے اور نہ ہی ان کو مفوضہ کہنے کی دلیل بیان فرمائی ہے لہذا اصل مسئلہ نظریات میں سے ہے نہ کہ بدیھیات میں سے،اور بدیہیات کو قبول کرنا ضروری ہوتا ہے جبکہ نظریات میں ایک شخص کا نظریہ دوسرے کے لئے حجت نہیں ہوتا ہے ۔ ثانیا ممکن ہے کہ وہ راوی عصمت نبیۖ و معصومین کے قائل ہوں اس وجہ سے شیخ صدوق نے انہیں مفوضہ کہا ہو چونکہ وہ خود سہو نبی کے قائل تھے۔ بہر حال شیخ صدوق ، شیخ طوسی، فاضل اور شہید ثانی وغیرہ سے شہادت ثالثہ کے جواز کے بارے میں جو روایات نقل ہوئی ہیں وہی درست اور مسلم ہیں اور قرآن وسنت اور اجماع و عقل کے مخالف بھی نہیں ہیں بلکہ ان کی تائید ان روایات سے بھی ہو جاتی ہے جو شیعہ و اہل سنت کتب میں ذکر ہوئی ہیں ۔
اب ہم جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آذان میں علی ولی اللہ سے متعلق تائید دکھاتے ہیں تاکہ اسے بدعت کہنے والوں کے منہ پر ولایت علی کا طمانچہ ثبت ہو کر رہ جائے۔ ساتویں صدی ہجری کے معروف عالم اہل سنت علّامہ عبداللہ مراغی مصری اپنی کتاب ( السلافة فی أمر الخلافة ) میں تحریر فرماتے ہیں ٫٫واقعہ غدیر کے بعد ایک دن صحابی رسولۖ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے اذان میں أشھد أنّ علیاولی اللہ پڑھا تو ایک صحابی دوڑتا ہوا رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچااور عرض کیا یا رسول اللہۖ ! آج میں نے ایک ایسی بات سنی ہے جو اس سے پہلے نہیں سنی تھی .رسول خداۖ نے فرمایا وہ کیا بات ہے ؟ عرض کرنے لگا سلمان نے اذان میں شھادتین کے بعد علی کی ولایت کی بھی گواہی دی ہے . رسول خداۖ نے فرمایا سمعتم خیرا. تم نے اچھی بات سنی ہے،، .(الشھادة الثالثہ المقدسة معدن الاسلا م الکامل وجوہر الایمان الحق٣٢٣.) اسی طرح علّامہ مراغی لکھتے ہیں ایک دن حضرت ابو ذرر ضی اللہ عنہ نے اذان میں أشھد أنّ علیّا ولی اللہ پڑھا تو ایک صحابی نے رسول خداۖ سے عرض کیا ابوذر نے اذان میں علی کی ولایت کی گواہی دی ہے . رسول خداۖ نے فرمای کذالک . اسی طرح ہے . اور پھر فرمایا ٫٫ أو نسیتم قولی فی غدیر خم من کنت مولاہ فعلی مولاہ ؟! کیا غدیر خم والا میرا یہ فرمان تم نے بھلا ڈالا کہ جس جس کا میں مولا ہوں اس اس کے علی مولاہیں . اور پھر فرمایا من ینکث فانما ینکث علی نفسہ . جس نے عہد وپیمان کو توڑا تو وہ اپنے کو نقصان پہنچائے گا .(اجماعیات فقہ الشیعہ واحوط الأقوال من احکام الشریعة ١ ٢٤٣. ) احتمال یہ ہے کہ پیغمبرۖ کا آخری جملہ سوال کرنے والے کے نفاق کی طرف اشارہ ہے .اذان شعاراسلام ٢٨، تالیف محمد اسماعیل نوری.
مندرجہ بالا روایات سے یہ ثابت ہو گیا کہ علی اللہ کے ولی بھی ہیں مومنوں کے امیر بھی اور رسول خداۖ کے خلیفہ بلا فصل بھی . اب رہ گیا مسئلہ یہ کہ کیا اس جملہ کا اذان میں پڑھنا جائز ہے یا نہیں ؟تو اس کا جواب بھی ذکر کر دیتے ہیں ۔ حضرت ابوذر اور حضرت سلمان کا اذان میں علی مولا کی ولایت کی گواہی دینا اور رسو ل خدا ۖ کا اس کی تائید بلکہ اس کے انکار کرنے والے کو سر زنش کرنا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یا تورسول خدا ۖ نے خود انہیں اس بات کا حکم دیا تھا یا یہ کہ ان دو جلیل القدر صحابیوں نے آنحضرت کی احادیث سے یہ نتیجہ نکالا کہ اس گواہی کا ادا کرنا رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشنودی کا باعث ہے. اورپھر رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اس گواہی کی تائید فرمانا یہ خود سنت رسول ۖ شمار ہو گا اس لیے کہ اگر اذان میں علی کی ولایت کی گواہی درست نہ ہوتی تو اللہ کے رسول ، بانی شریعت اسے روک دیتے . حقیقت تو یہ ہے کہ اذان و اقامت میں أشھد أنّ علیّا ولی اللہ پڑھنے کے لیے دلیل کی ضرورت ہی نہیں ہے جیساکہ حضرت آیت اللہ العظمیٰ بہجت فرماتے ہیں . توضیح المسائل ١٢٢، مسئلہ نمبر ٧٢٢.
اس کے علاوہ باقی فقہاء کا بھی یہی نظریہ ہے . اور اگر دلیل لانا چاہیں تو وہ بھی موجود ہے چونکہ جس طرح اذان عبادت ہے اسی طرح ذکر علی بھی عبادت ہے اس لیے کہ حضرت عائشہ نے رسولۖ سے نقل کیا ہے کہ آپۖ نے فرمایا علی کا ذکر عبادت ہے. تو اذان کے اندر یہ گواہی عبادت کے اندر عبادت شمار ہو گی اور اس گواہی کے اذان میں باطل ہونے پر بھی کوئی دلیل نہیں ہے اس لیے کہ ایک عبادت کو دوسری عبادت میں بجا لانا جائز ہے مگر یہ کہ اس کی نفی پر کوئی دلیل موجود ہو .جیسا کہ حضرت علی علیہ السلام نے حالت رکوع میں زکوة دی اور ان کی اس فضیلت پر آیت بھی نازل ہوئی . اب اگر ایسی روایات سے اور جزو اور مستحب کے فرق کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنی راگنی الاپنا شروع بھی کر دیں تو بھی ان کی آواز نقار خانے میں طوطی کی آواز سے زیادہ بلند نہیں ہو سکتی۔



“نیاز امام الجعفر الصادق علیہ السلام “٢٢ رجب کونڈوں کی نیاز 
 یہ نیاز کونڈوں کی نیاز سے جانی جاتی ہے ، کونڈے وہ برتن ہے جس میں پاک و پاکیزہ کھانے پینے کی چیزیں رکھی جاتی ہیں ، علامہ الباقر المجلسی کی کتاب “حلیتہ المتقین ” جس کا اردو ترجمہ مولانا مقبول احمد صاحب نے کیا ، اشاعت : افتخار بک ڈیپو والوں کی طرف  سے ہوئی کے صفحہ ٦١ پر علامہ باقر مجلسی بسند معتبر مولا امام جعفر الصادق علیہ السلام کے مطلق روایت کرتے ہیں
حضرت امام جعفر الصادق علیہ السلام اکثر عمدہ روٹیوں ، نفیس فرینی اور لذیذ حلوہ لوگوں کو کھلایا کرتے تھے اور یہ فرماتے تھے جب خدا ھمارے لئے فراخی کرتا ہے تو ہم بھی فراخ دلی سے لوگوں کو کھلاتے ہیں اور جس وقت کم میسر آتا ہے اس وقت ہم بھی کفایت برتتے ہیں 
 اسی کتاب کے اسی صفحہ ٦١ کے آخر پہ  مولا امام جعفر الصادق علیہ السلام کا ہی فرمان موجود ہے ”عمدہ کھانا پکاؤ ، اپنے یاروں دوستوں کو بلاؤ اور ان کے ساتھ کھاؤ اور کھلاؤ “
 پھر مولا امام زین العابدین علیہ السلام فرماتے ہیں
 عنه، عن أبيه، عن حماد، عن إبراهيم، عن أبي حمزة، عن علي بن الحسين (عليهما السلام) قال: من أطعم مؤمنا من جوع أطعمه الله من ثمار الجنة، ومن سقى مؤمنا من ظمأ سقاه الله من الرحيق المختوم.
 ترجمہ : جو بھی کسی بھوکے مومن کو کھلاۓ تو الله اسے جنت کے پھلوں سے کھلاۓ  گا اور جو کسی پیاسے مومن کو پانی پلاۓ تو الله اسے رحیق المختوم پلاۓ گا <جنت کی پاکیزہ شراب جس کے پینے سے نشہ نہیں ہوتا
 حوالہ : الكافي – الشيخ الكليني – ج ٢ – الصفحة ٢٠١ حدیث ٥ / بہار الانوار- المجلسی -ج ٧١ -الصفحہ ٣٧١ ، حدیث ٦٧
پھر مولا امام جعفر الصادق علیہ السلام فرماتے  ہیں
  من موجبات المغفرة إطعام المسلم السغبان….
ترجمہ : مغفرت کا سبب بننے والی چیزوں  میں سے <ایک > بھوکے مسلمانوں کو کھانا کھلانا ہے 
 حوالہ : ثواب الاعمال-الشیخ الصدوق – الصفحہ ١٣٦ / ارشاد القلوب حسن ابن ابی الحسن الدیلمی – ج ١-الصفحہ ١٤٧
 یہ ایک جھلک ہے اقوال المعصومین علیہ السلام کی ، کہ آئمہ علیہ السلام کھانا کھلانا ، دوسروں کے ساتھ مل کر کھانا اور طعام کا اہتمام کرنا کتنا پسند کرتے ہیں .تو چاہے مولا امام حسین علیہ السلام کی نذر و نیاز ہو یا کسی نیاز کو مولا امام جعفر الصادق علیہ السلام سے نسبت ہو تو ثواب کی نیت سے یہ عمل جائز اور موجب ثواب ہیں
 کیوں کہ مولا امام جعفر الصادق علیہ السلام فرمتے ہیں
 علي بن إبراهيم، عن أبيه، عن ابن أبي عمير، عن هشام بن سالم، عن أبي عبد الله (عليه السلام) قال: من سمع شيئا من الثواب على شئ فصنعه، كان له، وإن لم يكن على ما بلغه.
ترجمہ : جو شخص یہ سن کر کہ فلاں کام میں ثواب ہے اس پر امید ثواب سے عمل کرے ، تو اس کو ثواب ملے گا اگرچہ فی الواقع ایسا نہ ہو 
حوالہ : الكافي – الشيخ الكليني – ج ٢ – الصفحة ٨٧ (باب) * (من بلغه ثواب من الله على عمل) * حدیث ١ / الوسائل الشیعہ-العاملی-جلد ١-الصفحہ ٦٠ -حدیث ١ / الحبل المتین -البھائی العاملی-الصفحہ ٥
 تو ٢٢ رجب المرجب کی نیاز پہ اعتراضات کرنے والے صرف اسی بات کو ہی مد نظر رکھ لیں تو حق بجانب ہوجائیں گے .ویسے بھی یہ نظر و نیاز صدیوں سے جاری ہے اور شیعہ  عقائد و قرآن کے ہرگز منافی نہیں اور آج تک کسی فقہیہ نے اس پہ کوئی اعتراض نہیں کیا سواے شریر مولوی محمّد حسین ڈھکو کے ، حالانکہ وہ خود “اصلاح الرسوم الصفحہ ١٤٧” پر ارشاد المعصوم لکھتا ہے
 ہر چیز جائز ہے ہے کہ جب تک اس کے مطلق کوئی شرعی ممانعت وارد نہ ہو
پھر اسی  اصلاح الرسوم الصفحہ ١٥ پر لکھا کہ جس چیز کے اصل جواز پر کوئی شرعی دلیل موجود ہے مگر وہ طریقہ کار اپنانا جس کی عہد رسالت میں ضرورت نہ تھی لیکن  اب ہے ، وہ بدعت نہیں ہے ، مثال کے طور پے   اصلاح الرسوم الصفحہ ١٦ پر “‘دینی مجالس و محافل کا انعقاد بھی درج ہے
 تو جو احادیث ہم نے پیش کی ان کے مطابق مومنین کو کھانا کھلانا ، یا اہتمام کرنا اور مل کر بھیٹنا ، ذکر آل محمّد کرنا کیا دینی محافل کا حصہ نہیں ؟؟ خود ڈھکو میاں ایسی مجالس کا انعقاد مان رہے ، پھر بطور ثواب کی نیت کے مومنین کو کھلانا بھی ثابت ہے .
 پھر بھی پتا نہیں کیوں ڈھکو کی اپنی باتوں میں تضاد ہے ، اور “اصلاح الرسوم الصفحہ ٢٨٣ پر لکھتا ہے
“من جملہ ان غلط رسوم کے ایک ٢٢ رجب کے کونڈے بھی ہیں یہ رسم پہلے ہندوستان سے نکلی اور رفتہ رفتہ مختلد ممالک میں پھیل گے “
نوٹ : اب افسوس اور حیف ہے ڈھکو  صاحب پر کہ پہلی بات آپ نے خود مانا کہ جواز محتاج دلیل نہیں ہوتا ، پھر دینی محافل کا انعقاد بھی  مانا   تو جناب جب جواز محتاج دلیل نہیں اور دینی محافل بھی جائز ہیں ، بقول مولا صادق علیہ السلام ثواب کی نیت سے انجام دیۓ جانے  والے  عمل کا ثواب بھی ملے گا  تو پھر اس کو غلط رسوم کے زمرے میں کیسے شامل کر دیا ؟
اور پھر ڈھکو کی جانب سے جو بھی اعتراض مذہب حق شیعہ خیر البریہ پر ہوتا تو اس کا جواب علامہ حسنین السابقی مرحوم دیتے تھے جیسا کہ ڈھکو کی ایک تصنیف “اصول الشریعہ ” کا سب سے پہلا جواب “جواہر الاسرار ” کی صورت میں علامہ نے ہی دیا تھا جب کہ اس وقت اپ کی عمر صرف ٢٢ سال تھی . اسی طرح بدنام زمانہ کتاب اصلاح الرسوم کا بھی جواب “رسوم الشیعہ فی المیزان الشریعہ ” کی صورت میں دیا ، تو علامہ حسنین السابقی ٢٢ رجب کی نیاز پر ڈھکو کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوےرسوم الشیعہ الصفحہ ٢٧٦ پر  تحریر فرماتے ہیں
ہماری تحقیق یہ ہے کہ یہ نیاز آئمہ اطہار علیہ السلام ہی کے زمانے سے جاری ہے لیکن علما کی تحقیقات کی وجہ اس کی تاریخوں میں رد و بدل ہوتا رہا ھمارے قدیمی موحدث اجل سرکار  علامہ الشیخ  مفید علیہ الرحمہ ٤١٣ ہجری نے اپنی کتاب “مسار الشیعہ ” مطلب شیعہ کی خوشیاں کے الصفحہ ٧٠،  ٧١ < جو میرے پاس موجود ہے اس کے صفحہ ٣٤ پر >  فرمایا
 كان هلاك معاوية بن ابى سفيان لعنه الله …… وهو يوم مسرة لاهل الايمان وحزن لاهل الكفر والطغيان وفى يوم النصف سنه کہ ١٢ رجب خوشی  کا دن ہے کیوں کہ اس تاریخ کو دشمن امیر المومنین علی علیہ السلام کا دشمن معاویہ ابن ابی سفیان کی ہلاکت ہوئی یہ دن اہل ایمان کے لئے خوشی اور اہل کفر و سر کشی کے لئے غم کا دن ہے .
لطف کی بات ڈھکو “اصلاح الرسوم الصفحہ ٢٨٣” پر ہی کونڈوں کے بارے میں لکھتا ہے
کہ اگر کسی دشمن خدا و مصطفیٰ  و آل عبا کی ہلاکت پر خوشی کا مظاہرہ کرتے ہوے یا کسی امام عالی مقام کی بارگاہ میں ہدیہ ثواب پیش کرتے ہوے کچھ حلوہ پوری پکا لیا جائے یا اہل ایمان کو کھلا دیا جائے تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہے بلکہ کئی اعتبار سے بجا آوری اچھا کام ہے
 نوٹ : پڑھ لیا جناب ؟؟ ڈھکو صاحب دشمن آل محمّد کی ہلاکت پر خوشی کے طور پے بطور ہدیہ ثواب حلوہ پوری کا پکانا اچھا کام سمجھتے ہیں ، یعنی خود ڈھکو صاحب نے خوشی کے موقع پے خصوصی طور پے حلوہ پوری پکانے کی حمایت کی تو جناب کو کونڈوں پے کیا اعتراض ہے ؟ مومنین بھی تو خوشی و عقیدت کے ملے جلے جذبات بطور ثواب ہی مومنین کو بلا کر کھلاتے ہیں ، تو آپ کو کیوں موت پڑتی ہے ؟
ایک تو یہ ١٢ رجب کی تحقیق تھی ایک اور تحقیق کہ شیعہ مولا امام جعفر الصادق علیہ السلام کے فرمان کے مطابق “‘عمل ام داود ” ١٣ ، ١٤ اور ١٥ کو بجا لاتے ہیں ، ان ایام کو ایام بیض کہتے ہیں جس کے مخصوص اعمال  کا ذکر مفاتیح الجنان اردو الصفحہ ٢٨٩-٢٨٨ پر تحریر ہیں ، اسی طرح علامہ السابقی نے “رسوم الشیعہ الصفحہ ٢٧٧ ” پر مزید ١٥ رجب  مورخین کے حوالے سے عقد جناب سیدہ سلام الله علیھا ، تحویل کعبہ اور مولا امام سجاد علیہ السلام کی آمد کا بھی ذکر کیا <منقول روایتوں کی بنیاد پر > ، سو جیسا کہ آپ جانتے ہیں ڈھکو صاحب خوشی کے اظہار کے لئے خصوصی طور پے حلوہ پوری کا نام لے کے پکانے کو اچھا کام کہا ہے ….اسی لئے علامہ حسنین السابقی نے فریقین کی کتاب کے حوالے سے “معاویہ ” کی ہلاکت بھی ١٥ رجب ایک اور روایت کے مطابق بیان کی ، تو ڈھکو صاحب کے الفاظ اوپر بیان کر دے گے ہیں ، مسرت کے موقع پر چوں کہ “نظر و نیاز ” دینا ثابت ہے تاریخ سے تو شیعہ بھی صدیوں سے اس پر عمل پیرہ ہیں .
پھر ایک اور بات کہ ایک انکشاف ہوا کہ ١٥ رجب بی بی ام المصائب زینب سلام الله علیھا کا یوم وفات بھی ہے جیسا کہ علامہ نقدی نے زینب الکبریٰ  الصفحہ ١٢٢ پے درج کیا ، سردار کربلا اردو الصفحہ ٨٤٠ پے علامہ اسمعیلی یزدی “اخبار زینبیات ” کے حوالے سے درج کی ، لکھتے ہیں کہ “اخبار زینبیات ” وہ کتاب ہے جس پر علامہ شیرستانی نے اعتماد کیا ہے <سردار کربلا اردو الصفحہ ٨٤١ > ، اس انکشاف کے بعد نجف و کربلا میں تبدیلی آیئ اور ١٥ رجب کو یوم غم منایا گیا ، مجالس و ماتم کا انعقاد کیا گیا ، اس وجہہ سے پاک و ہند میں بھی تبدیلی رونما ہوئی اور یہ نظر و نیاز ١٥ سے ٢٢ رجب کو منتقل کر دی گیی، کیوں کہ ایک قول کے مطابق ٢٢ رجب بھی مرگ معاویہ ہے ،
حق نواز جھنگوی <شیعوں کا قاتل> اپنی کتاب <جواہر الحق الصفحہ ١٣٤ پر ڈھکو کی طرح اعتراض کرتے ہوے ٢٢ رجب کو ہی معاویہ کی ہلاکت تسلیم کرتا ہے
 Darulifta-deoband.org
 پر ٢ فتوے موجود ہیں ایک کی نشان دیہی ہم کر دیتے ہیں انگلش سوال نمبر ٢٤٦٢٢ اور فتویٰ نمبر
ہے ، کیا لکھا ہے ملاحظہ ہے(Fatwa: 1266/996/D=1431)

According to Shariah, it has no importance. Rawafiz have introduced wrong notions among the Ahl al-Sunnah. On 22nd Rajab, Hadhrat Amir Muavia (رضي الله عنه) who was a great sahabi died. Rawafiz hated him, hence, out of hatred towards him, they cooked tasty meals and fed people and introduced it among Ahl al-Sunnah. They presented it as the fatiha of Hadhrat Jafar Sadiq (رضى الله عنه) and named it Konda. The custom of Konda is baseless. It is the sign of Rawafiz’s hatred towards sahaba who are the enemies of Sahaba. Hence, we should shun it completely.Allah (Subhana Wa Ta’ala) knows Best
Darul Ifta,
Darul Uloom Deoband 
یهنی یہ گواہی ہے کہ کونڈوں کی نیاز کا یا تو ڈھکو میاں مخالف ہے یا پھر مرکز دیوبند کیوں کہ ان کے پیر و مرشد کی ہلاکت کا ان کو بیحد افسوس ہے
 اس کے علاوہ یہ بات کہ کوئی دن مقرر کرنا جائز ہے یا نہیں تو شریعت اس کے بارے میں کوئی ممانعت نہیں کرتی ہے
 رجب کے روزوں کے مطلق شیخ الصدوق “ثواب الاعمال اردو باب ١٣٢ حدیث ١ ” مولا امام جعفر الصادق علیہ السلام سے ہی روایت کرتے ہیں کہ “رجب کی پہلی تاریخ کو جو شخص روزہ رکھے گا اسے جہنم سے ١ سال کی مسافت جتنا دور کر دیا جائے گا ، جو ٧ دن روزہ رکھے گا اس سے جہنم کے ٧ دروازوں کو چھپا لیا جائے گا اور جو ٨ دن روزہ رکھے گا اس کے لئے جنت کے ٨ دروازے کھول دے جائیں گے ، اور جو ١٥ دن روزہ رکھے گا اس کی حاجت بر آے گی.
پھر جو شخص نماز فجر کو انجام دے اور ١١ مرتبہ “قل ھو الله ” کی تلاوت کرے تو وہ اس دن کسی گناہ میں مبتلا نہیں ہوگا چاہے شیطان اپنی ناک رگڑ لے .حوالہ : الوسائل الشیعہ جلد ٦ الصفحہ ٤٧٩ ، حدیث ٨٤٩٢ / بہار الانوار جلد ٨٣ الصفحہ ١٣٥ حدیث ١٨ ، اس کے علاوہ مفاتیح الجنان مخصوص ایام کے مخصوص اعمال سے بھری پڑی ہے ، اور فقھ کا ابتدائی طالب علم بھی جانتا ہے کہ مستند حوالہ اس وقت ضرورت ہوتا ہے جب کسی چیز کا وجوب یا حرمت ثابت کرنا مقصود ھو ، فضائل و مناقب و مستحب اعمال یا جو موجب ثواب اعمال ہوں ان کے لئے ضعیف حدیث بھی کافی ہوتی ہے ، جیسا کہ علامہ حسنین السابقی نے لکھا “رسوم الشیعہ الصفحہ ٢٧٩ ” پر لکھا کہ یوم المبعث  ٢٧ رجب کو زیارت امیر علیہ السلام کو جانا شیعوں کا معمول  رہا ہے مگر  علامہ باقر مجلسی فرماتے  ہیں
أقول: لم اطلع على سند هذه الزيارة ولا على استحباب زيارته عليه السلام في خصوص هذا اليوم لكنه من المشهورات بين الشيعة والاتيان بالاعمال الحسنة في الأزمان الشريفة موجب لمزيد المثوبة فزيارته صلوات الله عليه …
 ترجمہ : آج تک میں اس زیارت کی سند اور مستحب ہونے کے بارے میں کسی حدیث پر مطلع نہیں ہوا لیکن یہ زیارت مخصوص اس دن کے  شیعوں میں مشہور ہے اور اچھے اوقات میں اعمال صالحہ بجا لانا ثواب ہے .
حوالہ :بحار الأنوار – العلامة المجلسي – ج ٩٧ – الصفحة ٣٨٣
تو علامہ باقر المجلسی نے سند نہ ہونے کے باوجود اس زیارت مخصوص پر کوئی اعتراض نہیں کیا اور موجب ثواب کہا ہے ، پتا نہیں ڈھکو صاحب کو ہر جائز کام بدعت کیوں لگتا ہے
باقی آخر پر رہ گیی بات معجزہ < لکڑ ہارے والا >جو کہ اس نیاز پر پڑھا جاتا ہے تو اس پر بھی اعتراض بےسود ہے کیوں کہ یہ معجزہ ، تو معجزہ نجف اشرف سے بھی شایع ہوتا ہےجس کے عربی متن کا عکس “رسوم الشیعہ الصفحہ ٢٨١ ” پر موجود ہے

9 comments:

  1. صادق شیرازی کے والد محترم تھے
    اور انکے ایک بھای لبنان میں دوسرے بھای عراق میں واصل جھنم ہوے ملعون سید صادق شیرازی خود نجس فاسق فاجر انسان ہے جس کو صرف آپ کی طرح انگریز کی نجس پیداوار ھی قبول کرتی ہے جو صرف شیعوں کے قتل میں ملوث ہیں و جو صرف تبرہ اور گالی کا دین لوگوں کو کھلاتے ہیں جن سے سواے گوہ خوریوں کے اور کسی اچھی بات کی توقع نھیں رکھی جاسکتی
    سید صادق شیرازی اور اسکے ماننے والوں پر لعنت ہو بے شمار
    لبیک یا حسین اور جو نہ مانے اسکے دین پہ لعنت ہو

    ReplyDelete
    Replies
    1. محترم برادر کیا پوری تحریر میں آپکو سید صادق شیرازی ہی نظر آئے باقی درجنوں علماء و مجتہدین پر نظر نہیں پڑی ؟

      Delete
    2. شرم آ نی چاہیے تمہیں ایک مجتہد کے بارے میں اول فول بکتے ہوئے....تم آیت اللہ صادق شیرازی اور ان کے خاندان کے بارے جانتے کیا ہو؟

      Delete
  2. ماشااللہ ۔ بہت ہی عمدہ تحریر و تحقیق ھے مولا بحقِ معصومین ع آپکو اسکا اجرِ عظیم عطا کرے ۔ آمین الہی آمین

    ReplyDelete
  3. I endorse your creed; faith in Imam Ali a.s & reciting his sacred nsme in the call of prayer (Azan) & in prayer ( Namaz) is a part of the righteous & pristine Shiite faith.

    ReplyDelete
  4. آیت اللہ سید صادق شیرازی کو اللہ اپنے حفظ و امان میں رکھے ایک ہی فقیہ عامل ھے جو تشیع کی سب بڑی ڈھال ھے انہی کی بدولت مغربی ممالک میں تشیع آگ کی طرح پھیل رہی ھے اور مخالفین کی نیندیں حرام ہیں

    ReplyDelete
  5. اللہ تعالی بحق چہاردہ معصومینؑ کے صدقے سلامت رکھے

    ReplyDelete